کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خلشِ غمزۂ خوں ریز

رشید امجد


یہ خواہش تو بچپن ہی سے تھی کہ رات کو اپنے بستر میں سوتے ہوئے کسی اَن دیکھے سفر پر نکل جائے اور صبح کہیں کا کہیں پہنچ جائے۔ خاص طور پر جب ماں سے ڈانٹ پڑتی اور ردِ عمل کے اظہار پر مار پڑنے کا ڈر ہوتا تو چاہتا تھا کہ صبح جب ماں اسے جگانے لگے تو بستر میں موجود نہ ہو۔ ماں آوازیں دے، ڈھونڈے اور پھر پریشان ہو کر باؤ لوں کی طرح اِدھر اُدھر بھاگے اور وہ دور کہیں سے ’’ہاؤ‘‘ کہہ کر اسے ڈرا دے، یا پھر کسی دن سکول کا کام مکمل نہ ہونے پر اس ڈر سے کہ ماسٹر صاحب کے بید ہتھیلیوں پر خون جما دیں گے، اس کا دل چاہتا کہ صبح وہ اپنے بستر سے برآمد نہ ہو۔ لیکن یہ سب دل کی باتیں تھیں ، روز اسی طرح سونا اور اسی طرح ڈانٹ کھا کھا کر آنکھیں ملتے اٹھنا اور نیم سوتے نیم جاگتے میں سکول ڈرل میں حصہ لینا۔

          وہ ایک عام آدمی کا بیٹا تھا۔ عام گھر میں پیدا ہوا تھا جہاں بچپن کی خواہشیں ساری عمر سایوں کی طرح پیچھا کرتی ہیں۔ اس کی یہ خواہش بھی عمر کے ساتھ پھیلتی گئی، بڑا ہوا تو امتحانوں میں مقابلہ شروع ہو گیا اور آگے نکلا تو نوکریوں کی دوڑ شروع ہو گئی۔ ہر بار اس کا جی چاہتا کہ مقابلہ والے دن وہ اپنے بستر سے برآمد نہ ہو، بس رات کو سوتے ہوئے دور کہیں نکل جائے، لیکن عام آدمی مسائل سے بچ کر کہیں نہیں جا سکتا۔ اس کی خوشیاں بھی خوف سے لبریز ہوتی ہیں اور خوف میں بھی طرح طرح کے وسوسے ڈرمیں اضافہ کرتے رہتے ہیں ، سو دن بھر کی بک بک جھک جھک کے بعد رات ہی تنہائی کا ساتھی تھی لیکن اس میں بھی یہ خواہش کہ سوتے ہوئے کہیں دور نکل جائے اور صبح۔۔۔ 

          یہ خواہش شادی کے ابتدائی عرصہ میں کچھ مدھم پڑ گئی کہ جیسے ہی تنہائی کا،  کہیں دور چلے جانے کا احساس سر ابھارتا، نقرئی چوڑیوں کی کھنک، اور گرم گداز جسم کی گرماہٹ بکل میں دبا لیتی، بیوی کے شانوں پر سر رکھ کر زندہ رہنے کا ایک احساس ہوتا اور چاہتا کہ صبح وہ اپنے بستر ہی سے نمودار ہو۔ شیو کرتے، ناشتے میں چائے کی چسکیاں لیتے،  کوئی ہمدرد پیار بھری آواز قدم قدم پر آگے جانے کا حوصلہ دیتی، پھر بچوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ پہلے بچے نے خوب جگایا، بچے عام طور پر یہی کرتے ہیں ، دن کو سوتے ہیں ، راتوں کو جاگتے ہیں۔ اب رات رات بھر جاگیں ، دودھ کے لیے روئیں تو نیند کہاں اور نیند نہ ہو تو سوتے ہوئے کہیں دور نکل جانے کا خیال کہاں ، سو ہر صبح نیم بیزاری کے ساتھ اپنے ہی بستر سے برآمد ہونا مقدر ٹھہرا۔ لیکن یہ صورتِ حال ہمیشہ کے لیے نہیں تھی، بچے ذرا بڑے ہوئے تو کہیں دور نکل جانے کے خیال نے کئی صورتیں بنا لیں۔ یہ سوتے میں کہیں دور نکل جانے کا خیال بچپن سے اس کے ذہن میں چپکا ہوا تھا، اس کی صورتیں البتہ بدلتی رہتی تھیں۔ ایک زمانے میں ماں کی ڈانٹ،  سکول نہ جانے کا بہانہ اور پھر گھر کی مجموعی بیزاری۔۔۔  لیکن زمانے کے ساتھ ساتھ حالات میں بہتری ہوئی تو دور جانے کے خیال نے بھی اپنی صورتیں بدل لیں۔ خاص طور پر مرشد سے ملنے کے بعد اس کے معنی بدل گئے۔ مرشد نے پہلی بار اس موجود دنیا کے اندر مستور ایک اور دنیا کے معنوں سے آشنا کیا۔ اب خواہش تھی کہ رات کو اپنے بستر میں سوتے سوتے کسی اَن دیکھے سفر پر نکل جائے اور صبح کہیں کا کہیں پہنچا ہوا ہو۔۔۔  یہ کہیں اسی موجود کے اندر ہی کوئی اَن دیکھی جگہ تھی یا اس سے پرے، دور کسی خلا میں ،  اس کا ابھی پتہ نہ تھا۔ بس ایک خواہش تھی کہ یہ سفر کسی ان دیکھے اسرار پر ختم ہو۔

          ’’ان دیکھے اور دیکھے میں کتنا فرق ہے؟‘‘ اس نے مرشد سے پوچھا۔

           ’’ہلکی سی سرمئی دھند سے بھی کم۔‘‘مرشد نے جواب دیا۔

          ’’اور موجود دنیا کے اندر جو دوسری دنیا ہے۔۔۔ ‘‘

          ’’اس کی مثال چھلکے کی طرح ہے، جیسے ایک بعد دوسرے اور آخر میں کچھ نہیں رہتا۔‘‘

          ’’تو پھر تو کچھ فرق نہ ہوا۔‘‘اس نے حیرت سے کہا۔

          ’’یہ فرق محسوس کرنے والا ہے۔اس سیمرغ کی کہانی تو تم نے سنی ہی ہو گی جو حقیقت کو دریافت کرنے نکلا تھا اور طویل سفر کے بعد جب وہ آئینہ حقیقت کے سامنے پہنچا تو اسے اس میں اپنا آپ ہی نظر آیا،  سو ہم ہی حقیقت ہیں اور ہم ہی غیر حقیقت!‘‘

          ’’اور سامنے ایک ان دیکھا سفر ہے، جسے طے کر کے کسی صبح اَن جانی دنیا میں پہنچنا ہے۔‘‘ اس نے سونے سے پہلے سوچا۔

          پہنچتے تو سب وہیں ہیں مگر اس کا احساس کتنوں کو ہوتا ہے کہ کہاں پہنچتے ہیں اور کیوں ؟

          ’’سب اٹھ کر نہیں بیٹھ جائیں گے۔‘‘مرشد نے کہا۔

          اس نے استعجاب سے اسے دیکھا۔

          ’’جس کے اندر حقیقت کو جاننے کی شمع روشن ہے، روشنی اسے ہی نظر آئے گی۔‘‘

          ’’اور یہ ہجوم؟‘‘

          ’’خاک خاک سے مل جاتی ہے، روح روح سے، عین الحقیقت، ایک تیز چمک ہے جس کے سامنے ہر شے ماند ہے۔‘‘

          زندگی تو کئی رُخی ہے، ہر رخ کی ایک جہد ہے۔۔۔  لمحے اسی جہد میں گزر جاتے ہیں ، وقت کی دھار کے سامنے بے بس وجود، ماضی، حال اور مستقبل کے سرابوں سے گزرتا ہوا، ایک ان دیکھے سفر کا طالب۔۔۔ 

          ’’طالب و مطلوب و مقصود بھی عجب سلسلے ہیں۔‘‘ اس نے سوچا۔

          بچپن میں چھوٹے مسائل اور خوف سے بھاگ کر کہیں چلے جانے کی خواہش،  پھر بڑھتے مسائل اور زندگی کی مسلسل تگ و دو سے نکل کر چند لمحوں کے لیے عافیت اور سکون کی خواہش، پھر ذمہ داریوں سے کسی حد تک فارغ ہونے کے بعد یہ خواہش کہ اب سچ کو جانا جائے اور سچ ہے کیا؟

          ’’خود کو سمجھنا۔‘‘مرشد نے سر ہلایا۔

          ’’اور سمجھتے سمجھتے خاک ہو جانا۔‘‘وہ ہنسا۔

          ’’خاک ہو کر بھی خاک نہ ہونا، ہونے کا احساس ہے۔‘‘مرشد بولا۔

          یہ ہونے کا احساس ہی تو ساری گڑ بڑ ہے، ورنہ عمر کے اس حصہ میں اسے کوئی بڑی فکر نہ تھی۔ بچوں نے اپنی اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں ، بیوی پہلے سے زیادہ خیال رکھتی تھی۔ آرام سے اٹھنا، ناشتہ کرنا، اخبار پڑھنا، جی چاہا تو بازار سے کچھ خرید لانا، ورنہ گھر میں ان کاموں کے لیے نوکر موجود تھا۔ ساری زندگی مالی مشکلات کی وجہ سے بیوی سے جو تلخی رہی تھی، وہ بھی ختم ہو گئی تھی۔ سو وہ بے چینی اور کسی ان جانے سفر پر نکل کر کہیں اور پہنچ جانے کی خواہش کئی صورتیں بدل کر اب عین الحقیقت کو جاننے کی تمنا میں بدل گئی تھی۔

          ’’آدمی زندگی کے کسی بھی حصہ میں کسی بھی صورت میں ہو پریشانی اس کا مقدر ہے۔‘‘ اس نے مرشد سے کہا۔

          ’’لیکن یہی پریشانی تو ہونے کی نشانی ہے۔‘‘ مرشد نے جواب دیا۔

          ’’یہی شاید میرے ہونے کی دلیل ہے‘‘ اس نے سوچا۔۔۔  ’’اور میرا اَن جانے سفر پر نکل جانے کا شوق بھی اسی کا حصہ ہے۔‘‘

          لیکن اب سفر کہاں۔۔۔  ایک زمانہ تھا کہ رات گئے تک گھر آنے کو جی نہیں چاہتا تھا، اور اب گھر سے نکلنے کی خواہش نہ ہوتی۔ بیوی کہتی بھی کہ کسی محفل میں ہو آؤ، دوستوں سے مل آؤ، لیکن وہ صوفے میں دھنسا، اخبار پڑھتا یا ٹی وی کے چینل بدلتا رہتا۔

          ’’شاید سب کچھ ایک نقطہ پر اَٹک گیا ہے۔‘‘اس نے مرشد سے کہا۔

          ’’تیز رفتاری کے بعد کہیں ایک نقطہ پر اَٹکنا آگے جانے کے لیے ایک لمبا سانس لینے کا وقفہ ہے۔‘‘مرشد نے جواب دیا، پھر نقطہ سمٹنے لگا۔ اس نے لمبا سانس لیا اور اس رات مرشد کے ساتھ ایک لمبی زقند لگا کر اَن دیکھے سفر پر نکل پڑا۔ ایک نئی دنیا کی تلاش میں۔

          صبح بیوی نے حسب معمول جگایا تو وہ اٹھا ہی نہیں۔

٭٭٭