کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

فتادگی میں ڈولتے قدم

رشید امجد


وہ مرشد کے ہمراہ ساحل کے ساتھ ساتھ اپنی جڑیں تلاش کرنے نکلا تھا، روانہ ہوتے ہوئے اس نے کہا تھا۔۔۔  ’’حال کی صورت تو یہ ہے کہ نہ میری رائے کوئی اہمیت رکھتی ہے نہ میری محنت کے کوئی معنی ہیں ، چلو دیکھیں شاید ماضی میں میری کوئی پہچان ہو۔‘‘

          مرشد بولا۔۔۔  ’’حال ٹھیک نہ ہو تو ماضی کی پہچا ن کوئی معنی نہیں رکھتی۔‘‘

          اس نے کوئی جواب نہ دیا، دونوں ساحل کے ساتھ ساتھ بادبانی کشتی میں اپنی جڑوں کی تلاش میں کہاں جا رہے تھے، اسے اس کی کچھ خبر نہ تھی۔ کشتی تیز ہوا کے رقص میں کسی ایسی منزل کی طرف رواں تھی، جس کے بارے میں گمان تھا کہ اس کی جڑیں وہاں ہیں۔

          برسوں پہلے اسی طرح کی کشتی میں وہ اِدھر آیا تھا، واپس جانے کے ارادے سے، لیکن وہ واپس نہیں گیا، یہیں رہ گیا اور برسوں تک یہی سمجھتا رہا کہ اب اس کی جڑیں یہیں ہیں۔

          ہوا کے رقص میں ذرا ٹھہراؤ آیا تو کشتی کی رفتار سست پڑ گئی۔

          مرشد بولا۔۔۔  ’’ہر قوم جس کے پاس اپنے وقت کے نئے نظریات ہوتے ہیں ، اپنے حال کی تعمیر کرتی ہے اور جب یہ نظریات پرانے ہو جاتے ہیں اور وہ قوم تازہ ہواؤں کے دریچے بند کر دیتی ہے تو تاریخ کے قبرستان میں دفن ہو جاتی ہے۔‘‘

          ’’تاریخ کا قبرستان‘‘ اس نے حیرت سے پوچھا۔

          ’’ہاں تاریخ کا بھی اپنا ایک قبرستان ہے،‘‘مرشد نے کہا۔۔۔  ’’جہاں اَن گنت قومیں دفن ہیں اور ان کے ناموں کی تختیاں اب صرف تاریخی نام ہیں۔‘‘

          دونوں اس قبرستان میں گئے۔ قطار در قطار قبروں پر ناموں کی تختیاں آویزاں تھیں۔ مرشد بولا۔۔۔  ’’یہ سب اپنے اپنے وقت میں اپنی پہچان رکھتی تھیں ، لیکن انہوں نے اپنے قدم وقت کی رفتار کے ساتھ نہیں ملائے، سو ان کی جگہ وہ آ گئے جو وقت کی صدا کو سن رہے تھے اور انہوں نے اس کا ساتھ دیا۔‘‘

          اسے یاد آیا، جب وہ اِدھر آیا تھا تو بے شک ایک بے سر و سامانی کا عالم تھا، لیکن ان کے خیالات تازہ تھے، جینے کا جواز تھا اور بہت کچھ کرنے کا حوصلہ، انہوں نے بہت کچھ کیا بھی، لیکن ساڑھے چھ سو سال کی حکمرانی نے انہیں دیمک کی طرح اندر ہی اندر چاٹ لیا، پھر ایک طویل ریگ زار،  وہاں سے نکلے تو اسی ریگ زار کی بدلی ہوئی صورت مقدر بنی، اب معلوم نہیں اس میں قصور کس کا تھا۔ ان کی تگ و دو کی سمت کا، یا نوے سال کی غلامی کا کہ وہ آزاد ہو کر بھی غلام ہی رہے۔ وہی چند خاص آدمی خاص رہے اور وہ جو عام آدمیوں کی طرح تھا، عام آدمی ہی رہا۔ نسل در نسل عام آدمی۔۔۔  جس کے خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوتے۔

          تاریخ کے اس قبرستان کے ایک کونے میں کھڑے کھڑے اس نے مرشد کو دیکھا، جو تختیوں پر لکھے نام پڑھ رہا تھا۔        

          ’’وقت کیا شے ہے؟‘‘مرشد بڑبڑایا۔۔۔  ’’فنا کا ایک ریلا جو ہر شے کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔‘‘

          ’’صرف نام اور پہچان باقی رہ جاتی ہے۔‘‘ وہ بولا۔۔۔  ’’لیکن میری تو پہچان بھی گم ہو گئی ہے اور نام۔۔۔  میرا نام میرے مشکوک ہونے کی علامت بن گیا ہے۔‘‘

          اسی شک کو دور کرنے وہ اپنی جڑوں کی تلاش میں نکلا تھا۔۔۔  اور جڑیں تو بہت دور دور تک پھیلی ہوئی تھیں ، ساحل کے ساتھ آبادیوں میں وہ موجود تھا اور نہیں بھی تھا۔ کہیں وہ تھا لیکن قبول نہیں کیا جا رہا تھا اور کہیں قبول تھا لیکن وہ خود قبول ہونا نہیں چاہتا تھا۔

          ’’یہ کیا اسرار ہے، میں کہاں ہو اور کہاں نہیں ہوں۔‘‘اس نے اپنے آپ سے پوچھا۔

          مرشد نے اس کی سوچ کو محسوس کر لیا۔۔۔  ’’تم نہ ماضی ہو نہ حال اور جن کا ماضی حال نہ ہو مستقبل بھی ان کا نہیں ہوتا۔‘‘

          وہ بہت دیر تک چپ رہا، پھر بولا۔۔۔  ’’میرے ساتھ جو ہوا سو ہوا لیکن میرے بچوں کا کیا بنے گا، ان کی پہچان کیا ہے؟

          کشتی ایک جگہ رک گئی۔

          سمندر کے متلاطم سینے سے ابھرتی ایک بہت بڑی صلیب انہیں اپنی طرف بلا رہی تھی، اس نے حیرت سے دیکھا اور بولا۔۔۔  ’’یہ صلیب اور یہ جگہ۔‘‘

          مرشد ہنسا۔۔۔  ’’اس کا آرکیٹکچر ان سے ہاتھ کر گیا۔‘‘

          ’’ان کو آخر تک معلوم نہیں ہوا؟‘‘اس کی حیرت اور بڑھ گئی۔

مرشد آہستہ سے بولا۔۔۔  ’’اب دیکھو نا، تیل ان کے پاس ہے لیکن اسے نکالنا کا طریقہ انہیں نہیں آتا اور نہ یہ اسے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔‘‘

          اس نے سر ہلایا۔

          ’’اور وہ ان سے ہر بار ہاتھ کر جاتے ہیں۔‘‘ قدرے توقف کے بعد وہ بڑبڑایا۔

          ’’یہ ہاتھ تو تمہارے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔‘‘

          اس نے سوالیہ نظروں سے مرشد کو دیکھا۔

          ’’تمہارا شاہی محل بھی تو آٹھ کے ہندسے کی علامت ہے۔‘‘ مرشد ہنسا۔

          اسے محسوس نہ ہوا کہ اس ہنسی میں طنز ہے یا تاسّف۔ لیکن یہ تاسّف تو تاریخ کے ہر صفحہ پر موجود ہے۔

          اسے سوچ میں گم دیکھ کر مرشد نے پوچھا۔۔۔  ’’کس سوچ میں گم ہو؟‘‘

          ’’ایک بات یاد آ گئی ہے۔‘‘

          مرشد نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

          ’’جس لڑائی میں ہماری قسمت کا فیصلہ ہوا، اس کی روداد بھی عبرتناک ہے، ہمارے سپاہیوں کی تعداد اکسٹھ ہزار تھی اور ان کے پاس اکیس ہزار تھے، ان میں سے بھی چودہ ہزار کرائے کے تھے، وہ خود صرف سات ہزار تھے۔‘‘

          وہ چپ ہو گیا، بہت دیر چپ رہا، مرشد نے کچھ نہ پوچھا، وہ خود ہی بولا۔۔۔  ’’ترپال یہاں کی ایجاد ہے لیکن اُس رات بارش میں ہم بارود پر ترپا ل ڈالنا بھول گئے اور انہوں نے اپنا بارود ڈھک لیا، صبح بارود توپوں میں ڈالا تو۔۔۔  ؟‘‘ وہ پھر چپ ہو گیا۔

          مرشد کچھ دیر اس کی دیکھتا رہا کہ شاید وہ کچھ کہے، لیکن جب وہ کچھ نہ بولا تو مرشد نے کہا۔۔۔  ’’بھول نہیں گئے، خیموں کی بزم آرائیوں میں اس کا خیال ہی نہیں رہا۔‘‘

          ’’ہزیمت۔۔۔  ’’زوال ایک دفعہ آغاز ہو جائے تو پھر ہر قدم ہزیمت کی طرف ہی اٹھتا ہے۔‘‘وہ بڑبڑایا۔

          دونوں کافی دیر خاموش رہے، پھر اس نے پوچھا۔۔۔  ’’یہ عروج و زوال کیا ہے؟‘‘     

          ’’جب قومیں وقت کی آواز کو سنتی اور اس پر عمل کرتی ہیں تو یہ عروج ہے اور جب وہ وقت کی آواز کو سننے سے انکار کر دیتی ہے تو یہ زوال ہے۔‘‘مرشد نے کہا۔

          ’’یہ انکار معذوری ہے یا کوتاہی؟‘‘اس نے پوچھا۔

          ’’دونوں ہی‘‘ مرشد نے جواب دیا۔۔۔  ’’دیکھو نا جیسے ہر قبر اپنا مردہ طلب کرتی ہے، تاریخ کے قبرستان کی ہر قبر بھی اپنی قوم طلب کرتی ہے۔

          ’’تو عروج صرف ایک عرصہ ہے۔‘‘و ہ بولا۔۔۔  ’’اوّل و آخر فنا ہی ہے۔‘‘

          اسے کچھ سکون سا ملا، ’’یہ سبھوں کے ساتھ ہوتا ہے، پھر میں یہ رونا کیوں رو رہا ہوں۔‘‘

          ’’کیونکہ تم اپنے زوال کو ذہنی طور پر قبول نہیں کر رہے۔‘‘

          ’’میں تو صرف اپنی جڑوں کو تلاش کر رہا ہوں کہ جان سکوں کہ میں ہوں کون اور وقت کے اس سیلِ رواں میں میرے لیے آگے کیا ہے؟‘‘

          جڑوں کی تلاش کا یہ سفر ساحلوں کی ریت چاٹتا، شہروں کی روشنیاں سمیٹتا، اب کھلے سمندر میں آ نکلا تھا، چاروں طرف موجیں مارتا پانی، اوپر کھلا آسمان اور چھوٹی سی کشتی، جس میں وہ اور مرشد چپ چاپ بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ کشتی نیم ڈولتی نیم چلتی بڑے سمندر سے نکل کر پانی کی ایک اور راہداری میں آ گئی اور گزرتے گزرتے کالی بھوری مٹی ملی ریت کے ساتھ آ لگی، رات نے ابھی اپنا بادبان کھولا ہی تھا، اس نے سر اٹھا کر دور۔۔۔  بہت دور ٹمٹماتی سی روشنیوں کو دیکھا، معلوم نہیں روشنیاں تھیں بھی یا اس کا وہم تھا۔

          ’’وہ دور ٹمٹماتے دئیے۔‘‘وہ بڑبڑایا۔

          مرشد نے دیکھا،  لیکن بتایا نہیں کہ اسے بھی یہ دئیے نظر آ رہے ہیں یا نہیں۔

          ’’یہ بھی میرا ماضی ہے۔‘‘وہ بولا۔۔۔  ’’سات سو سال ہم وہاں رہے لیکن یا عبرت!۔۔۔  پھر ایک ہزار سال تک دریائے کبیر کی لہروں نے اذان کی آواز نہیں سنی۔‘‘

          ’’وقت کے ہر لمحہ پر عبرت کا نشان موجود ہے۔‘‘مرشد نے کہا۔۔۔  ’’لیکن صرف ان کے لیے جو اسے دیکھ سکتے ہیں۔‘‘

          ’’یہ میری تاریخ ہے‘‘ اس نے جیسے خود سے کہا۔

          ’’لیکن جغرافیہ کے بغیر تاریخ کے کوئی معنی نہیں۔‘‘ مرشد بولا۔۔۔  ’’اور کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ جغرافیہ کے باوجود تاریخ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔‘‘

          اس نے سر اٹھا کر مرشد کی طرف دیکھا، مرشد اس کی آنکھوں میں ٹمٹماتے سوال کو پڑھ لیا اور بولا۔۔۔  ’’تاریخ گم ہو جائے تو جڑوں کو تلاش کرنا پڑتا ہے۔‘‘

          ’’یہ تلاش بھی عجب شے ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔۔۔  ’’ہم ہمیشہ کچھ نہ کچھ تلاش کرتے رہتے ہیں ،  مجھے دیکھو، میں کبھی حقیقت الحقیقت کی تلاش میں تھا اور اب خود کو ڈھونڈ رہا ہوں۔‘‘

          مرشد ہنسا۔۔۔  ’’یہ تو بھول بھلیاں ہیں ، اپنی تلاش، اس کی تلاش، سب ایک ہی سفر کے مختلف مرحلے ہیں۔‘‘

          کچھ دیر چپ رہا پھر بولا۔۔۔  ’’لیکن یہ اپنی جڑوں کی تلاش، اپنی تلاش نہیں بلکہ اپنے ڈولتے وجود کو سہارا دینے کی کوشش ہے۔‘‘

          ’’میرا وجود گملے میں نہیں اُگا، میری جڑیں زمین میں ہیں۔‘‘ اس نے جھنجلاہٹ سے کہا۔۔۔  ’’میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ یہ جڑیں پھیلتے پھیلتے کہاں کہاں پہنچی ہیں ، کیسے کیسے تناور درخت بنی ہیں۔‘‘

          ’’اور پھر یہ درخت کیسے کیسے اور کس کس خزاں کا شکار ہوئے ہیں۔‘‘

          مرشد کے لہجے میں طنز تھا۔

          اس نے اس طنز کو محسوس نہیں کیا، اپنی روانی میں بولتا رہا۔۔۔  ’’مشرق سے مغرب تک میری نشانیاں کہیں نہ کہیں موجود ہیں۔‘‘

          مرشد خاموش رہا۔

          سمندر کے دوسرے کنارے ٹمٹماتی روشنیاں موجود تھیں یا نہیں ، لیکن اس نے انہیں دیکھا، دیکھتا رہا، پھر بولا۔۔۔  ’’یہ سات سو سال بھی عروج و زوال کی نہ بھولنے والی داستان ہیں ، اس داستان میں بھی دو بڑے کردار ہیں ، ایک کو یورپ والے لے گئے اور وہ ابوالعلم کہلایا، میں نے اسے نہیں اپنایا، جسے میں نے اپنایا اس نے مجھے کل اور جزو میں ڈال کر واہمات میں دھکیل دیا۔‘‘

          ’’تم نے صرف اپنے اندر جھانکا۔‘‘ مرشد نے کہا۔۔۔  ’’اور باہر سے بے خبر ہو گئے۔‘‘

          ’’لیکن اب میں جاگ گیا ہوں۔‘‘

          ’’تمہارا جاگنا، ان درویشوں کا جاگنا ہے جو اپنے کتے کے ساتھ غار میں سو گئے تھے، جب جاگے تو دنیا ہی بدل چکی تھی۔‘‘

          اس نے سوالیہ نظروں سے مرشد کی طرف دیکھا۔

          ’’پرانے حلیہ کے ساتھ غار سے نکل کر شہر میں آؤ تو اجنبی ہو جاتے ہیں اور اجنبیوں سے ہر کوئی بدکتا ہے۔‘‘

          وہ سوچ میں پڑ گیا۔۔۔  ’’میں تو اپنی جڑیں تلاش کرنے نکلا تھا اور مرشد مجھے اجنبی بنانے پر تُلا ہوا ہے۔‘‘

          ’’میں اجنبی کیسے ہوں ؟‘‘ اس نے پوچھ ہی لیا۔

          ’’پچھلے چھ سو سالوں سے تم نے علم کی دنیا میں ایک کومے کا بھی اضافہ نہیں کیا۔‘‘

          مرشد نے جواب دیا۔۔۔  ’’صرف اپنی ذات کے تالاب میں ڈوبے رہے، اس تالاب پر کتنی کائی جم چکی ہے تمہیں اس کا اندازہ ہی نہیں۔‘‘

          ’’تو میں ایک مینڈک ہوں جو اپنی ذات کے تالاب میں ٹرائے جا رہا ہے۔‘‘وہ بڑبڑایا۔

          بہت دیر خاموشی رہی، دور۔۔۔  بہت دور ساحل پر ٹمٹماتی روشنیاں رات کے گہرے بادبان میں چھپ گئی تھیں ، لہروں پر ڈولتی کشتی ساحل کے ساتھ لگی کچھ دیر کے لیے ساکت ہو گئی تھی۔

          اس نے دیکھا،  ستاروں بھرے آسمان کے نیچے،  کشتی میں اس کے سامنے بیٹھا مرشد ہیولہ سا لگ رہا تھا۔

          ’’واپس چلتے ہیں۔‘‘اس نے کہا۔۔۔  ’’میری جڑیں وہیں ہیں جہاں سے میں آیا ہوں۔‘‘

          مرشد نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔  ’’پہلے اپنے آپ کو تو ٹھیک کر لو، پھر دنیا میں انقلاب لانے نکلنا۔‘‘

          وہ خاموش رہا۔

          کشتی واپسی کے سفر پر چل پڑی۔

٭٭٭