کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دائرے سے باہر

رشید امجد


ہرن چوکڑیاں بھرتے ہوئے جان بچانے کی آخری کوشش کر رہا تھا،  اس کی بوٹی بوٹی پھڑک رہی تھی اور ساری طاقت ٹانگوں میں آ گئی تھی،  اس سے ذرا ہی پیچھے شکاری اور اس کے گھوڑے کی بھی یہی کیفیت تھی،  دفعتہً یوں لگا سامنے ایک مہین سا پردہ آگیا ہے،  ہرن اور اس کے پیچھے پیچھے شکاری اور اس کا گھوڑا پلک  جھپکنے میں اس مہین سے پردے میں پڑی دراڑ میں سے گزر گئے۔

ادھر صورت ہی اور تو تھی۔

مہکتا لہکتا بے انت شہر اپنی چوڑی چوڑی سڑکوں اور قطاروں میں دوڑتی گاڑیوں ،  فٹ پاتھوں پر تیز تیز چلتے لوگوں ،  جن کے لباس شکاری کے لیے اجنبی تھے، کے ساتھ میلوں میل پھیلا ہوا تھا۔ ہرن غائب تھا اور گھوڑا بھی گاڑی میں بدل گیا تھا۔ وہ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر تھا اور اگلی سیٹ پر بیٹھا ڈرائیور پوچھ رہا تھا۔ ’’کہاں جانا ہے؟‘‘

لفظوں کی خاصی نا مانوسیت اور لہجے کی اجنبیت کے باوجود اسے بات سمجھ آ گئی، لیکن جواب کیا دیتا۔ اسے خود معلوم نہیں تھا کہ کہاں جانا ہے اور کیوں ؟وہ تو دوستوں کے ساتھ شکار کھیلنے نکلا تھا۔ جنگل میں خوش گپیاں کرتے وہ آگے پیچھے چل رہے تھے کہ ہرن سامنے آگیا، دوڑ شروع ہو گئی،  ہرن بہت تیز رفتار نکلا،  اس کا پیچھا کرتے وہ ساتھیوں کو دور پیچھے چھوڑ آیا اور پھر،

اب نہ ہرن تھا نہ جنگل نہ ساتھیوں کا اتہ پتہ۔ یہ دنیا ہی اور تھی۔ شہر تھا لیکن اس کے شہر سے بالکل ہی مختلف اور اب پوچھا جا رہا تھا کہ کہاں جانا ہے۔وہ کیا بتائے کہ اسے خود معلوم نہیں کہ یہ سب کیا اور کیسے ہوا تھا۔ اس کا شہر اور یہ شہر۔

ڈرائیور نے چند لمحے اس کے جواب کا انتظار کیا،  پھر کچھ بتائے بغیر گاڑی سٹارٹ کر دی،  اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ گھوڑے کے بغیر یہ ڈبہ سا اتنی تیزی کے ساتھ کیسے چل رہا ہے۔ تھوڑے فاصلے کے بعد سڑک کنارے لگے ڈنڈے پر سرخ بتی جل گئی گاڑی رک گئی۔ لمحہ بھر میں آگے،  پیچھے،  دائیں ،  بائیں ،  گاڑیوں کی قطار لگ گئی۔ پھر پیلی اور سبزی بتی جلی،  قطاریں چل پڑیں۔ اس طرح کی کئی بتیوں سے گزر کر ڈرائیور نے گاڑی ایک طرف موڑی اور ایک بڑی سی عمارت کے سامنے روک دی۔

اس نے رد عمل کا اظہار نہ کیا تو ڈرائیور نے عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’ہوٹل‘‘

اس نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پھر بولا۔ ’’ سرائے‘‘

اسے سرائے کے معنی معلوم تھے۔ اترنے لگا تو ڈرائیور نے ہاتھ پھیلا دیئے۔ شکار پر نکلتے ہوئے اس نے کچھ روپے پاس رکھ لیے تھے۔ بغیر سمجھے اور سوچے اس نے ایک سکہ نکال کر ڈرائیور کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ڈرائیور نے سکے کو غور سے دیکھا،  اس کے چہرے پر بشاشت کی لہر دوڑ گئی۔

’’اہلاً سہلاً۔۔ مرحبا ‘‘۔ اس نے کئی بار دہرایا اور گاڑی میں بیٹھ کر یہ جا وہ جا۔

وہ فٹ پاتھ پر کھڑا،  اپنے پیچھے عمارت کو اور کبھی سامنے سے گزرتی تیز رفتار ٹریفک کو دیکھتا اور حیران ہوتا کہ یہ سب کچھ کیا ہے۔ دفعتہً کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ مڑ کر دیکھا تو مرشد تھا،  جان میں جان آئی۔

تم کہاں تھے۔ یہ سب کچھ کیا ہے۔ میں کہاں ہوں ؟

مرشد نے تھپکی دینے والے انداز سے اس کے کندھے کو سہلایا،  پھر بولا، 

’’تم وقت کی دراڑ سے گزر کر مستقبل میں آ گئے ہو۔‘‘

اس نے حیرت سے مرشد کو دیکھا۔

’’وہ ہرن نہیں تھا وقت کی ایک جھلک تھا ‘‘۔

وہ اسی حیرت سے مرشد کو دیکھتا رہا۔

مرشد کہنے لگا۔ ’’وقت خود تو آگے پیچھے ہو سکتا ہے لیکن کسی اور شے کو آگے پیچھے نہیں ہونے دیتا۔ ‘‘

’’تو پھر میں ؟‘‘

مرشد ہنسا۔ ’’تم اس کے ساتھ ایسے چپکے کہ اس کی چوکڑی کے ساتھ ہی چوکڑی بھر لی‘‘۔

’’اور اب ‘‘ اس نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔

’’وقت میں پیچھے جانے کا کوئی راستہ نہیں ،  جو جہان ہے وہیں رہتا ہے‘‘

’’لیکن‘‘ اس کی گھبراہٹ نے جملہ مکمل نہ ہونے دیا۔

’’بس ایسا کبھی کبھی ہو جاتا ہے۔ بہت ہی کبھی کبھی ‘‘ مرشد بولا۔ ’’ایسا ہو جاتا ہے

تو ہو جاتا ہے،  پھر جو جہاں ہے وہیں ہے، آؤ رات گزارنے کی کوئی سبیل کریں۔ ‘‘

رات بڑی بے چینی سے گزری،  ہر شے نئی تھی۔ اگلا دن بھی اجنبیت کی بغل میں لیٹا ہوا تھا۔ پیر زمین پر ٹکتے ہی نہیں تھے۔ لیکن دوسرے تیسرے دن پیروں نے زمین پکڑنی شروع کر دی۔ جیب میں سونے کے جو سکے تھے ان کی عوض اتنے پیسے مل گئے کہ برسا برس آرام سے گزارے جا سکتے تھے، شہر سے مانوسیت ہونے لگی،  مرشد قدم قدم پر سہارا دیتا،  اس کے سوالوں کے جواب دیتا،  بس اس نے اس شہر میں رہنا شروع کر دیا۔ اور کرتا بھی کیا؟

 

٭

 

اور یہ میں ہوں !

جو ہجرت کر کے اس شہر میں آیا،  سرحدوں پر خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ لوگ قافلوں کی صورت گھروں سے نکل آئے تھے لیکن میرا شہر ان ہنگاموں سے دور تھا۔ تنگ گلی میں چھجے والے گھر کی کھڑکی سے میں اسے روز دیکھتا تھا،  بغیر لفظوں کے ہزاروں باتیں ،  جن کے کوئی معنی نہیں تھے لیکن بہت معنی تھے، لگتا تھا اطمینان اور سکون پاؤں پسارے بیٹھے ہیں لیکن اچانک سارا گھر جانے کے لیے تیار ہو گیا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ساتھ آنا پڑا۔

یہ نیا شہر اجنبی در و دیوار۔ اور دور بہت دور پہاڑوں کے اس پار وہ،  جس سے بغیر لفظوں کے ہزاروں باتیں ہوتی تھیں ، اگلا راستہ،  شکستہ،  منزل نامعلوم۔ سفر کا آغاز بڑی مشکلوں سے ہوا۔ اب میں ستر سال کا ہوں ،  پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو دھند ہی دھند ہے، دکھوں اور آنسوؤں کی ایک طویل کہانی ہے جس میں خوشی کے لمحے گنتی کے ہیں پڑھ کر ملازمت، ادھوری تعلیم تھی،  ملازمت کے دوران بھی پڑھنا،  شادی،  بچے،  بچوں کے لیے جدوجہد،  ریٹائر ہوا تو سکون کا لمبا سانس لیا۔ بچے اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔ بیوی کہتی ہے اب بے فکری کے دن ہیں۔ صبح آرام سے اٹھو،  مزے سے ناشتہ کرو  اور اخبار پڑھو۔

بظاہر یہ سب کچھ ٹھیک بھی ہے۔ دوست کہتے ہیں ’’تم نے بھر پور زندگی گذاری ہے،  اب ہر طرح سیٹ ہو کوئی فکر نہیں۔

میں خود سے پوچھتا ہوں۔ کیا مجھے واقعی کوئی فکر نہیں ،  خبریں اسی طرح ہیں جیسی دوسروں کو دکھائی دیتی ہیں ‘‘۔

میری بیوی میرا بڑا خیال رکھتی ہے، دوست کہتے ہیں۔ ’’ یہ بھی تمہاری خوش قسمتی ہے کہ ایسی عورت ملی جو تمہیں سمجھتی ہے۔‘‘

کیا کوئی دوسرے کو سمجھ سکتا ہے؟ کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جہاں آپ تنہا ہوتے ہیں ، ان لمحوں میں کوئی شیئر نہیں کرتا،  نہ کر سکتا ہے، میری زندگی میں بظاہر تمام تر سکون کے باوجود ایسے لمحے بہت ہیں ، اور یہ میرا وجود۔ یہ کیا ہے؟ میرا نام میرا لفظی وجود ہے،  میری تصویر میرا صوری وجود ہے اور میرا موجود ہونا میرا مادی وجود ہے، لیکن کیا میں واقعی موجود ہوں۔ اور وہ جو دور بہت دور بیٹھا ساری دوڑیں ہلا رہا ہے،  وہ کیا ہے۔

مرشد کہتا ہے۔ ’’ وہ وجود حقیقی ہے۔ ‘‘

’’اور میرا وجود کیا ہے‘‘ میں پوچھتا ہوں۔

’’یہ وجود ضعیف ہے‘‘ مرشد مسکراتا ہے۔ ’’اور ضعف کا انجام فنا ہے‘‘۔

’’میرا وجود اگر فنا ہے تو یہ وقت کا حصار کیا ہے‘‘ میں سوال کرتا ہوں ‘‘

’’یہ وہ سرحد ہے جسے پار کر کے آگے جانا ہے لیکن اپنی اپنی باری پر، اپنے وقت سے پہلے کوئی اسے پار نہیں کر سکتا ‘‘

’’تو کیا وجود حقیقی وقت سے ماوراء ہے‘‘

’’وہ خود وقت ہے،  حصار بھی ہے اور بے انت بھی۔‘‘

سو اپنی باری کے انتظار میں ،  میں صبح لمبی سیر کر کے اطمینان سے ناشتہ کرتا اور دیر تک اخبار پڑھتا ہوں۔ بظاہر اطمینان ہی اطمینان ہے لیکن اندر ہی اندر ایک بے چینی،  کوئی میرے اندر بیٹھا،  اندر ہی اندر مجھے کھودے جا رہا ہے۔ بیوی کبھی کبھی پوچھتی ہے۔ تمھیں کیا دکھ ہے۔ بیٹھے بیٹھے اداس ہو جاتے ہو۔ اسے کیا بتاؤں کہ یہ میں نہیں جو نظر آتا ہے۔ میرا وجود لفظی بھی ہے،  صوری بھی اور مادی بھی،  لیکن میں ہو کر بھی نہیں ہوں۔ یہ کوئی اور ہے جو میری طرح دکھائی دیتا ہے۔ کون ؟ یہ مجھے بھی معلوم نہیں۔

 

٭

 

برسوں بعد اب وہ اسی شہر کا ہو گیا ہے۔ شادی کر لی بچے جوان ہو کر اپنے اپنے کاموں میں لگ گئے ہیں۔ بڑھاپے کے دن فرصت کے ہوتے ہیں ،  بیوی کے ساتھ طویل عرصہ گزارنے کے بعد احساس کے اظہار کے لیے لفظوں کی ضرورت نہیں رہتی۔ وہ چپ چاپ بیٹھی اپنے کام کرتی رہتی ہے اور وہ اخبار پڑھتا یا ٹی وی دیکھتا رہتا ہے۔ خاموشی خود ایک زبان ہے جو اظہار کرنا جانتی ہے، لیکن چہرے کبھی کبھی اندر کی کیفیت کو باہر نکال لاتے ہیں ، ایسے موقعوں پر جب اس کی بیوی پوچھتی ہے کہ۔ ’’کیا بات ہے، کچھ اداس اداس سے لگ رہے ہو۔‘‘

تو وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ اسے کیا بتائے کہ اب بھی وہ اس ہرن کو یاد کرتا ہے جو اسے کسی اور دنیا سے اس دنیا میں لے آیا تھا۔ اور دور کہیں بہت دور، وقت کے اس پردے سے ادھر شائد اب بھی کوئی اس کا منتظر ہے۔

اس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

٭٭٭