کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک اداس سی کہانی

رشید امجد


یہ احساس تو بچپن ہی سے تھا کہ کوئی اس کے تعاقب میں ہے اور دبے پاؤں پیچھے پیچھے آ رہا ہے،  لیکن اب اس کے قدموں کی چاپ صاف سنائی دینے لگی تھی اور محسوس ہو رہا تھا کہ لمحہ بہ لمحہ فاصلہ کم ہوا جا رہا ہے۔ پہلے پہلے اس احساس کے ساتھ ایک مسرت بخش اسرار تھا،  کچھ جاننے کا،  کچھ سمجھنے کا،  لیکن اب ایک خوف تھا کہ کسی بھی لمحے پیچھے پیچھے آنے والا اس کے برابر آ جائے گا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کسی انجانی دنیا میں اتر جائے گا،  اس انجانی دنیا کے بارے میں ہمیشہ ہی ایک تذبذب رہا کہ ہے یا نہیں۔

’’کیا مرنے کے بعد سب زندہ ہو جاتے ہیں ؟‘‘ اس نے مرشد سے پوچھا۔

مرشد چند لمحے چپ رہا،  پھر بولا۔۔۔ ’’ سب نہیں صرف چند‘‘

’’ اور یہ چند کون ہیں ‘‘

’’جنہیں اپنے ہونے کا احساس ہے، باقی سب مٹی کے ساتھ مٹی۔ ‘‘

’’مجھے تو اپنے ہونے کا احساس ہے‘‘ اس نے خود سے کہا۔۔۔  ’’لیکن یہ خوف کیسا ہے؟’’

’’جانا تو ہو گا ہی ‘‘ مرشد مسکرایا

’’جانے سے ڈر نہیں لگتا ‘‘ اس نے کہا۔۔۔  ’’کچھ خواہشیں ہیں جو ادھوری رہ جائیں گی۔ ‘‘

ان خواہشوں کی فہرست بہت طویل تھی،  ان میں سب سے بڑی خواہش دنیا کو دیکھنا تھا،  وہاں جانا تھا جہاں برف ہی برف ہے،  یا جہاں چھ مہینے کا دن اور چھ مہینے کی رات ہے اور حالت یہ تھی کہ جس ملک میں پیدا ہوا تھا اس کے بھی دو چار بڑے شہروں کے سوا کچھ نہیں دیکھا تھا۔

’’اب احساس ہوتا ہے کہ کائنات تو ایک طرف،  میں تو اس دنیا کے بھی ایک چھوٹے سے نقطے تک محدود رہا ہوں۔ ‘‘ اس نے مرشد سے کہا۔۔۔  ’’کیا میں اسی طرح چلا جاؤ ں گا۔‘‘

’’تم نے نقطے کو نقطہ ہی سمجھا،  جز میں کل دیکھنے کی کوشش نہیں کی۔‘‘

اسے بڑا غصہ آیا۔ ’’خبر میں کل دیکھنے کے لیے بھی وسائل کی ضرورت ہوتی ہے اور میں ایک عام آدمی ہوں ،  جو ایک عام آدمی کے گھر پیدا ہوا۔ ‘‘

’’اور عام آدمی ہی کی طرح چپ چاپ ختم ہو جائے گا۔‘‘ مرشد نے اسے چڑایا۔

’’عام آدمی کی قسمت کیا ہے‘‘ وہ بڑبڑایا۔۔۔  ’’آنکھ کھلنے سے بند ہونے تک مسلسل جدوجہد،  نقطے سے بھی چھوٹے دائرے میں وحشیانہ رقص اور بس۔ ‘‘

مرشد اسے دیکھتا رہا،  دیکھتا رہا،  پھر بولا۔۔۔  ’’ سب کے ساتھ یہی ہوتا ہے،  ہر عام آدمی کا مقدر ایک ہی ہے۔ ‘‘

اسے عام آدمی کی بے بسی اور حدود کا احساس تھا لیکن اس نے اس میں بھی لذت کے کچھ پہلو ڈھونڈ لیے اور کسی نہ کسی درز سے تازہ ہوا کے جھونکوں کی ٹھنڈک محسوس کر لیتا تھا لیکن اب، جب پیچھے پیچھے آنے والے کی چاپ قریب ہوتی محسوس ہو رہی تھی،  ایک عجیب احساس زیاں اسے اپنی بکل میں سمیٹ رہا تھا۔

’’میری زندگی کے تو کوئی معنی ہی نہیں ‘‘ اس نے مرشد سے کہا ’’یوں لگتا ہے میں نے ایسا سفر کیا ہے جو جس نقطے سے شروع ہوا تھا اسی نقطے کے اندر ہی رہا، میری دنیا کتنی چھوٹی سی ہے،

احساس زیاں تو زندگی بھر رہا،  جو بننا چاہتا تھا،  بن نہ سکا،  جو کرنا چاہتا تھا،  کر نہ سکا اور اس کی وجہ ایک ہی تھی کہ عام آدمی تھا،  عام گھر میں پیدا ہوا۔

’’کولہو کے بیل کو پتہ ہوتا ہے کہ اس کے دائرے کے باہر بھی ایک دنیا ہے ؟‘‘ اس نے مرشد سے پوچھا۔

’’پتہ لگ جائے تو وہ کولہو کا بیل نہیں رہتا۔ ‘‘

’’کولہو کا بیل نہیں رہتا تو کیا کر لیتا ہے ‘‘ اس نے مایوسی سے کندھے جھٹکے۔۔’’یہی نا کہ اسے اپنے ہونے کا احساس ہو جاتا ہے۔ ‘‘

’’ہونے کا احساس ہونا بڑی بات ہے ‘‘

’’کیا بڑی بات ہے ‘‘ اس نے جھنجلا کر پوچھا۔۔ ’’یہ احساس اسے اس عذاب سے تو نہیں نکال سکتا‘‘

’’بلکہ عذاب کے احساس کو بڑھا دیتا ہے ‘‘ مرشد نے ہنس کر کہا، اسے مرشد کی ہنسی زہر کی طرح لگی۔

’’یہ عجیب گورکھ دھندا ہے جس میں تم مجھے پھنسا دیتے ہو ‘‘ اس نے مرشد پر گویا طنز کیا۔۔۔’’ اپنی خواہشوں کے پیچھے پیچھے بھاگتے بھاگتے میں ادھ موا ہو گیا ہوں ،  جو چاہا اس کا عشر عشیر بھی نہیں ملا،  اور اب تم مجھے ایک نئی دنیا کے خواب دکھا رہے ہو۔‘‘

’’خواب دیکھنا ہر ہمہ شمہ کے بس میں نہیں۔ مرشد نے سکون سے کہا۔۔۔  ’’خواب دیکھنا ایک نعمت ہے۔‘‘

’’اس عمر میں خواب دیکھنے کا کیا فائدہ ‘‘ اس نے اسی جھنجلاہٹ سے جواب دیا۔۔۔  ’’ایک عمر تھی کہ شائد خوابوں کی کوئی تعبیر مل بھی جاتی،  لیکن میں ایک عام۔۔۔ ‘‘

’’یہ کیا تم نے عام عام کی رٹ لگا رکھی ہے۔ مرشد کو غصہ آگیا۔۔۔ ’’تم نہیں جانتے کہ عام آدمی ہی اصل آدمی ہے۔‘‘

’’اور یہ خاص آدمی ‘‘ اس نے استفسار کیا

’’خاص ایک جعلی اصطلاح ہے ‘‘

وہ کچھ دیر چپ رہا پھر بولا۔۔۔  ’’یہ بتاؤ روح کا وجود ہے ؟‘‘

’’ہے بھی اور نہیں بھی ‘‘ مرشد کا چہرہ سپاٹ تھا

’’یہ کیا بات ہوئی،  چلو یہ بتاؤ کہ روح کا احساس انفرادی ہوتا ہے یا اجتماعی؟‘‘

مرشد نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔

’’میرا مطلب ہے کہ کیا روح کی بھی انفرادی ’’میں ‘‘ ہوتی ہے۔ ‘‘

’’ہوتی ہے اور نہیں بھی ہوتی‘‘

’’یہ کیا جواب ہے؟‘‘ اس نے جھنجلا کر کہا

مرشد قدرے چپ رہا پھر بولا۔۔۔  ’’زندگی میں اگر ’میں ‘ کا احساس موجود ہے تو روح میں بھی یہ احساس برقرار رہے گا اور اگر زندگی ہی میں اپنے ہونے کا علیحدہ احساس نہیں تو آگے بھی یہی ہو گا۔‘‘

اس نے سوچا کیا مجھ میں اپنے ہونے کا احساس ہے،  ایک لمحے کے لیے سکون سا ملا لیکن دوسرے ہی لمحے خیال آیا کہ میری مثال تو اس مینڈک کی سی ہے جو ایک چھوٹے سے تالاب کے چھوٹے سے حصہ میں ٹرٹرا کر زندگی گزار دیتا ہے۔ دوسرے تالاب تو درکنار وہ اپنے تالاب کے سارے حصوں میں بھی نہیں جا پاتا اور تالابوں سے آگے دریا اور دریاؤں سے آگے سمندر ہیں۔

’’کیا سوچ رہے ہو؟‘‘ مرشد نے پوچھا۔

’’میں جو ایک عام مینڈک ہوں ، اپنے چھوٹے سے تالاب کے بھی سارے حصوں میں نہ جا سکا،  میری حیثیت کیا ہے۔ اس تالاب سے آگے کئی تالاب،  ان سے آگے کئی دریا اور دریاؤں سے آگے کئی سمندر،  میں کیا ہوں ؟‘‘

مرشد قدرے خاموش رہا،  پھر بولا۔۔’’مینڈک عام اور خاص نہیں ہوتے،  مینڈک ہی ہوتے ہیں ان کے نیچے چھوٹے چھوٹے جرثومے ہیں جنہیں وہ کھا جاتا ہے اور اس سے اوپر مگر مچھ ہیں جو اسے کھا جاتے ہیں اور ان سے اوپر۔۔ یہی زندگی کا سلسلہ ہے

ہر شے اپنے سے بڑی شے کا لقمہ بنتی ہے۔

’’اور لقمہ بننے سے پہلے پیچھے آتی چاپ نمایاں اور قریب آ جاتی ہے،  پھر دفعتہً پیچھے آنے والا برابر میں آ کر دبوچ لیتا ہے اور کسی انجانے پاتال میں اتر جاتا ہے ‘‘ اس نے مایوسی سے سر ہلایا۔/

دونوں بہت دیر چپ رہے، پھر اس نے پوچھا۔۔۔ ’’اس پاتال کا بھی کوئی آسمان ہے؟‘‘

مرشد نے فوراً جواب نہیں دیا، یوں لگا وہ کچھ سوچ رہا ہے،  بولا۔۔ ’’آسمان تو ہمارا اپنا قیاس ہے جہاں ہم فرض کر لیتے ہیں کہ آسمان ہے وہاں آسماں بن جاتا ہے اور جہاں ہم اسے فرض نہیں کرتے وہاں نہیں ہوتا۔‘‘

آج تمھاری باتیں عجیب ہیں ‘‘ اس نے مرشد کی آنکھوں میں جھانکا۔۔۔ ’’کچھ سمجھ نہیں آتا کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو۔اچھا یہ بتاؤ قبر کا عذاب کیا ہے ؟‘‘

’’خواب کی کیفیت‘‘

’’کیا مطلب؟‘‘

خواب اچھے اور سکون بخش بھی ہوتے ہیں ،  ڈراؤنے اور اذیت دینے والے بھی،  خواب ہمارے خیالات اور خواہشیں ہیں۔‘‘

اس نے پھو سوالیہ نظروں سے مرشد کی طرف دیکھا۔

مرشد نے قدرے توقف کیا،  پھر بولا۔۔۔ ’’اچھے شخص کے ساتھ دنیا جو بھی سلوک کرے، اسے اطمینان ہوتا ہے کہ وہ اچھا ہے،  اسے خواب میں طمانیت ملے گی۔ برے شخص کو دنیا کتنا ہی آسمان پر اٹھائے اس کے اپنے ضمیر میں خلش رہتی ہے کہ وہ برا ہے،  سو اسی کے خواب ڈراؤنے اور اذیت ناک ہوں گے۔ ‘‘

’’یہی جزا اور سزا ہے۔ ‘‘وہ بڑبڑایا۔۔۔ یعنی نیند کا اطمینان اور بے اطمینانی۔‘‘

مرشد نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’خواب کا تعلق جسم سے ہے یا روح سے ‘‘اس نے پھر سوال کیا۔

’’جسم تو مٹی ہے، مٹی کے ساتھ مٹی ہو جاتا ہے۔ ‘‘

’’اور روح کی حقیقت ؟‘‘ اس نے پوچھا۔

مرشد کے ہشاش بشاش چہرے پر سایا سا لہرایا۔۔۔’’حقیقت تہہ در تہہ ہوتی ہے اور ورائے حقیقت، اس تک رسائی بہت مشکل ہے۔‘‘

’’ورائے حقیقت بھی ایک خواہش ہی ہے۔‘‘ اس نے سوچا۔ لیکن اصل حقیقت تو یہ ہے کہ دبے پاؤں پیچھے آنے والا ایک دن برابر آ جاتا ہے اور جو کچھ کرنا ہوتا ہے،  جو کچھ سوچا ہوتا ہے سب دھرےا دھرا رہ جاتا ہے۔‘‘

’’کیا سوچ رہے ہو۔‘‘ مرشد نے پوچھا۔

’’کچھ نہیں سوچ رہا،  بس ایک احساس ملال میں گرفتار ہوں کہ ساری زندگی میں نے کچھ بھی نہیں کیا۔‘‘

’’یہ احساس بھی کسی کسی کو ہی ہوتا ہے۔‘‘ مرشد نے گویا اسے تسلی دی۔

وہ کچھ نہیں بولا۔ مرشد کو احساس ہوا کہ اس کی بات سے وہ مطمئن نہیں ہوا اور ایسا شائد پہلی بار ہوا تھا۔

’’معلوم نہیں مضطرب ہونا سزا ہے یا جزا ‘‘ اس نے اپنے آپ سے کہا

مرشد نے جیسے اس کے ذہن کو پڑھ لیا،  بولا۔۔’’ مضطرب ہونا زندگی کی علامت ہے۔‘‘

وہ جیسے ایکدم مطمئن ہو گیا۔۔ ’’تو اس کا مطلب ہے کہ مجھے اپنے ہونے کا احساس ہے اور تم کہتے ہو کہ آگے بھی رہے گا جسے یہاں اپنے ہونے کا احساس ہے۔‘‘

مرشد نے اثبات میں سر ہلایا۔

وہ چلتے چلتے رک گیا اور پیچھے مڑ کر زور دار آواز میں کہنے لگا۔۔۔ ’’یار تیز تیز آؤ میں جست لگانے کے لیے تیار ہوں۔ ‘‘

لیکن اندر ہی اندر کوئی شے مسلسل ٹوٹ رہی تھی اور چاروں طرف پھیلتی بے یقینی کی دھند آہستہ آہستہ گہری ہوتی چلی جا رہی تھی۔

٭٭٭