کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

وراثت

ایم مبین


ردّی والا اُن ساری کتابوں  کو تول کر تھیلے میں  بھر رہا تھا جو اُنھوں  نے گذشتہ تیس چالیس سالوں  میں  جمع کر رکھی تھیں  اور وہ حسرت سے اُن کتابوں  کو ردّی والے کے تھیلوں  میں  گم ہوتے دیکھ رہے تھے۔

ردّی والا جب بھی کوئی کتاب اپنے ترازو میں  رکھتا،اُس کتاب کے سر ورق پر نظر پڑتے ہی اُس سے وابستہ ایک کہانی ذہن میں  اُبھر آتی۔

یہ کتاب اُنھوں  نے دہلی سے منگوائی تھی۔

اِس کتاب کو انھوں  نے کلکتہ سے خریدا تھا۔

یہ کتاب مصنف نے خود اُنھیں  تحفہ کے طور پر دی تھی۔

یہ کتاب اُنھیں  انعام میں  ملی تھی۔

یہ کتاب اُنھوں  نے ایک لائبریری سے چرائی تھی۔ کیونکہ یہ نایاب تھی لیکن اِس کتاب سے اُن کے علاوہ کوئی بھی فیض حاصل نہیں  کر سکتا تھا۔ یہ لائبریری میں  پڑی دھول کھا رہی تھی۔ اُنھیں  لگا وہی اِس کتاب کو اپنے پاس رکھ کر اس کا بہتر استعمال کر سکتے ہیں۔ اس لئے اِس کتاب کو چرانا بھی کوئی گناہ محسوس نہیں  ہوا تھا۔ ان کتابوں  میں  اُن کی اپنی لکھی ہوئی کتابیں  بھی تھیں ،کچھ اچھی حالت میں  کچھ خراب حالت میں۔ شاید وہ آخری جلدیں  تھیں  لیکن پھر بھی اِنہیں  ردّی میں  فروخت کرتے ہوئے اُنھیں  کوئی دُکھ محسوس نہیں  ہو رہا تھا۔

اُنھوں  نے اپنے دِل پہ جیسے ایک پتھر رکھ دیا تھا۔

گذشتہ تیس چالیس سالوں  میں  اُنھوں  نے جتنا پیار، محبت اُن کتابوں  کو دیا تھا، ایک لحظہ میں  سب ختم کر لی تھیں۔

کبھی گھر کا کوئی فرد کسی کتاب کو غلط جگہ پر رکھ دیتا تھا تو وہ بھڑک اُٹھتے تھے۔

اگر کسی سے کتاب کا کوئی ورق پھٹ جاتا تو اُس کی تو شامت ہی آ جاتی تھی۔

گھر میں  اکثر اُن کی کتابوں  اور کاغذات کو اِدھر اُدھر رکھنے پر تنازعہ پیدا ہوتا رہتا تھا۔

لیکن آج اُنھیں  اُن ساری کتابوں  کو گھر سے وداع کرنا پڑ رہا تھا۔

کتابوں  کے ساتھ کاغذات کا ایک ڈھیر بھی ردّی والے کے تھیلوں  میں  جا رہا تھا۔ وہ کاغذات اُن کی ادھوری کہانیاں ، نوٹس وغیرہ تھے۔ کسی کتاب کو پڑھ کر اُنھوں  نے جو نوٹس لکھے تھے یا پھر کسی افسانے کو لکھنے سے پہلے جو خاکے تیّار کئے تھے۔

اس کے علاوہ اخبارات اور رسائل کی کٹنگ کا ایک ڈھیر تھا۔

اِس ڈھیر میں  اُن کے مضامین بھی تھے اور کچھ یادگار اور کارآمد مضامین بھی جن کے تراشے اُنھوں  نے برسوں  سے سنبھال کر رکھے تھے۔

اُن کی نظر میں  اِن تراشوں  کی حیثیت بہت کارآمد تھی۔ لیکن شاید دُنیا کی نظر میں  بیکار ردّی کے ٹکڑے۔

کچھ مشہور ادبی رسائل کے گذشتہ دس پندرہ سالوں  کے تمام شمارے جو شاید اہلِ ذوق کے لئے قیمتی ہوں ، لیکن اب وہ ردّی کے مول بک رہے تھے۔

وہ کُرسی پر بیٹھے ردّی والے کو اُن چیزوں کو تولتا دیکھ رہے تھے۔ وقفہ وقفہ سے بہو اور بیٹا آ کر ایک اُچٹتی سی نظر اِس کاروائی پر ڈال جاتے تھے۔

وہ بار بار یہ دیکھنے کے لئے آتے تھے کہ کون سی چیزیں  فروخت ہو رہی ہیں  اور کون کون سی باقی ہیں۔

بڑی سی کتابوں  کی الماری کی کتنی جگہ خالی ہو رہی ہے۔

اُنھوں  نے بھی دِل پر پتھر رکھ لیا تھا اور طے کر لیا تھا کہ آج وہ اپنا کاغذ کا آخری پرزہ بھی بیچ دیں  گے اور روزانہ کے ذہنی تناؤ اور اُٹھ کھڑے ہونے والے تنازعات سے ہمیشہ کے لئے نجات پالیں  گے۔

اُنھیں  پورا یقین تھا۔

گھر کا کوئی بھی فرد آ کر اُنھیں  ایسا کرنے سے نہیں  روکے گا۔

"ابا،یہ ساری چیزیں  آپ نے گذشتہ تیس چالیس سالوں  میں  جمع کی تھیں۔ اِتنے سالوں  سے انہیں  سنبھال کر رکھا۔ اپنی جان سے زیادہ اِن کی حفاظت کی، پھر آج یہ سب کیوں  فروخت کر رہے ہیں  ؟

یا پھر کسی چیز کو فروخت کرنے سے روکے۔

"آپ اِسے کیوں  فروخت کر رہے ہیں  ؟ اِسے تو آپ اپنی زندگی کا انمول سرمایہ مانتے تھے۔"

اُنھیں  یقین تھا کہ گھر کے افراد تو اِس سے خوش ہو رہے ہوں  گے، گھر میں  بہت بڑی جگہ خالی ہو رہی ہے۔ اب اِس جگہ وہ اپنی پسند کی کوئی آرائش کی چیز رکھ سکیں  گے۔

اُنھوں  نے خطوط کا بڑا سا بکس بھی نکال رکھا تھا۔ ان خطوط کے بارے میں  بھی اُنھوں  نے ردّی والے سے پوچھا تھا۔

"نہیں  صاحب ! یہ تو میرے کسی کام کے نہیں  ہیں۔ اِس بوجھ کو میں  یہاں  سے لے جا کر کیا کروں  گا ؟"

ردّی والے کا جواب سُن کر اُنھوں  نے اُسے بھی ٹھکانے لگانے کا راستہ سوچ لیا تھا۔

آج وہ اُن تمام خطوط کو جلا دیں  گے۔

وہ ملک کے مشہور عالم اور مشاہیر کے خطوط تھے۔ گذشتہ تیس چالیس سالوں  میں  اُنھوں  نے ملک کے جن ادیب، دانش وروں  سے خط و کتابت کی تھیں  اور جو خطوط اُن کی نظر میں  تاریخی اہمیت کے حامل تھے، اُنھوں  نے اُنھیں  بڑے جتن سے سنبھال کر رکھا تھا۔

لیکن جب اُن کے بعد اِن چیزوں  کا کوئی قدر دان اور اُنھیں  سنبھال کر رکھنے والا ہی نہیں  ہو گا تو پھر اِنہیں  گھر میں  رکھ کر کیا فائدہ، گھر والوں  کی نظر میں  تو وہ کوڑا کرکٹ ہی ہے۔

اِس لئے وہ اُن تمام خطوط کو جلا کر اہلِ خانہ کو کوڑے کرکٹ سے نجات دلا دیں  گے۔

اُنھوں  نے یہ بھی طے کر لیا تھا کہ اب وہ اپنے پسند کا کوئی بھی اخبار، رسالہ یا کتاب گھر نہیں  لائیں  گے۔

وہ جانتے تھے کہ اُن کے اِن اقدامات سے گھر والوں  کو بے حد خوشی ہو گی۔

آج جو وہ قدم اُٹھا رہے تھے، اُس سے وہ گھر والوں  کے چہروں  پر خوشی کے تاثرات بھی دیکھ رہے تھے۔

گھر والوں  کی خوشی میں  ہی اُن کی خوشی تھی۔

آخر وہ زندگی بھر گھر والوں  کی خوشیوں  کے لئے ہی تو سب کچھ کرتے رہے تھے۔

زندگی بھر اُنھوں  نے اِن سب کا خیال رکھا تھا۔

ہمیشہ یہ کوشش کی کہ انہیں  کسی بات کی کمی نہ ہو۔ اِس کمی کو پورا کرنے کے لئے وہ بارش، دھوپ، سردی، گرمی میں  جدوجہد کرتے رہے۔

اب جب آخری عمر میں  اُنھوں  نے ساری خوشیاں  اپنے گھر والوں  کے دامن میں  ڈال دی ہیں  تو اِن کی آخری چھوٹی سی خوشی کیوں  نہ پوری کریں  ؟

ڈرائنگ روم میں  رکھی ان کی بڑی سی کتابوں  کی الماری اور اُس الماری میں  آویزاں  پرانی بوسیدہ کتابوں  سے اتنے اچھے سجے سجائے ڈرائنگ روم کا شو خراب ہوتا ہے۔

گھر والوں  کے جو بھی ملنے والے گھر آتے ہیں ، ناگواری سے اُس الماری کی طرف دیکھتے ہیں ، اُس الماری کا مذاق اُڑاتے ہیں  اور اُنھیں  اُن کی وجہ سے خفّت اُٹھانی پڑتی ہے۔

مجبوری یہ ہے کہ اتنے بڑے گھر میں  ان کتابوں  کو رکھنے کے لئے کوئی اور جگہ نہیں  ہے اور ان کا خیال ہے کہ کتابیں  ڈرائنگ روم کی زینت ہوتی ہیں۔ اُنھیں  دیکھ کر ہی آنے والا صاحبِ خانہ کی علم دانی، اُس کے رُتبے کا اندازہ لگا لیتا ہے۔ اِس لئے کتابیں  ڈرائنگ روم میں  ہی رکھی ہونی چاہئیے۔

انہی سوچوں  کا ٹکراؤ آئے دِن گھر کا سکون غارت کئے رہتا تھا۔

اپنی کوئی کتاب یا رسالہ نہ ملنے پر وہ چراغ پا ہوتے تھے۔ پہلے اُن کے غصے سے ہر کوئی ڈر جاتا تھا۔

لیکن اب اُن کے غصے سے کوئی بھی نہیں  ڈرتا، اُن سے اُلجھ جاتا ہے اور اُنھیں  باتیں  سنانے لگتا ہے۔

"اپنے کوڑے کرکٹ کی خود ہی حفاظت کیا کریں۔ ہمیں  اِن میں  کوئی دلچسپی نہیں  ہے۔ سارا کوڑا کرکٹ جمع کر کے اِتنے اچھے ڈرائنگ روم کے شو کو خراب کر رکھا ہے۔"

یہ سُن کر اُن کے دِل کو ایک ٹھیس لگتی تھی۔

گویا اُن کا خواب اب گھر والوں  کی نظر میں  کوڑا کرکٹ ہے۔

برسوں  تک اُنھوں  نے ایک خواب دیکھا تھا۔

اُن کا ایک بڑا اچھا سا گھر ہو۔ جس میں  ایک بڑا سا سجا سجایا ڈرائنگ روم ہو۔ اُس ڈرائنگ روم میں  اُن کی ایک بڑی سی الماری ہو۔ جس میں  اُن کی ساری کتابیں  اور سارا علمی سرمایہ سجا ہو۔

تاکہ ہر آنے والے پر آشکار ہو، اُنھوں  نے کیا کیا سرمایہ اور خزینہ جمع کر رکھا ہے اور اسے اُن کے خزینے پر رشک ہو۔

ساری زندگی ایک چال کے ایک چھوٹے سے کمرے میں  کٹی تھی جس کے ایک کونے میں  اُن کی کتابوں  کا ڈھیر بے ترتیبی سے پڑا رہتا تھا۔ وہ ڈھیر بڑھتا بھی تو کسی کو محسوس نہیں  ہوتا تھا۔ وہ اپنی ضرورت کی چیز اِس ڈھیر سے بخوبی ڈھونڈ کر نکال لیتے تھے۔ اور غیر ضروری چیز کو اُس ڈھیر میں  شامل کر دیتے تھے۔

اُن کے چھوٹے سے ٹیبل پر صرف تازہ کتابیں ، رسائل اور لکھنے کا سامان ہوا کرتا تھا، تب وہ خواب دیکھا کرتے تھے۔

کبھی نہ کبھی تو اُن کی زندگی میں  ایسا وقت آئے گا جب اِن کتابوں  کا یہ ڈھیر اُن کے ڈرائنگ روم میں  سلیقے اور قرینے سے سجا ہو گا۔

وہ وقت بھی آیا تو ریٹائرمنٹ کے بعد۔

مضافات میں  ایک اچھے فلیٹ کا سودا ہو گیا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد جو گریجویٹی، پی ایف ملنے والا تھا اور پرانے کمرے کی جو قیمت آ رہی تھی، اُن روپیوں  سے ایک اچھا فلیٹ مل گیا۔

تب اُنھیں  لگا، اُن کے برسوں  کے خواب کی تعبیر کا وقت آگیا۔

اُس گھر کو ہر کسی نے اپنی پسند کے مطابق سنوارا تھا۔

بیٹے بہو نے اپنے انداز میں  اپنا کمرہ سجایا تھا۔ بیٹی اور چھوٹے بیٹے نے بھی اس گھر میں  خوب صورت رنگ بھرے تھے۔

اُنھوں  نے ڈرائنگ روم میں  اپنے اور اپنی کتابوں  کے لئے ایک بڑی سی الماری بنائی تھی۔

اُن کا تو اور بھی ایک خواب تھا، اُن کا اپنا ایک کمرہ ہو، جہاں  بیٹھ کر وہ لکھنے پڑھنے کا کام کر سکیں۔ لیکن جتنا پیسہ اُن کے پاس تھا، اُس میں  یہ ممکن نہیں  تھا۔ اِس لئے اُنھوں  نے اپنے لئے ڈرائنگ روم کو ہی پسند کیا۔

جب اس فلیٹ کا کام چل رہا تھا تو انھیں  فاطمہ کی بہت یاد آتی تھی۔اس طرح کے خوب صورت گھر کا خواب اُن کے ساتھ فاطمہ نے بھی دیکھا تھا اور پھر زندگی بھر اُس نے اس خواب کی تعبیر کی جدوجہد میں  ہاتھ بٹایا تھا۔

لیکن اُن کا یہ خواب پورا نہیں  ہوسکا۔

آخر اُن کے ریٹائرمنٹ سے ایک سال قبل اُس نے اُن کا ساتھ چھوڑ دیا۔ وہ بیماری اُس کے لئے جان لیوا ثابت ہوئی تھی جو اُس نے اُن سے زندگی بھر چھپائے رکھی تھی۔

فاطمہ کی موت کے بعد وہ بہت اکیلے ہو گئے تھے۔

اِس اکیلے پن کو اُنھوں  نے ادب کے ذریعہ دُور کرنے کی کوشش کی تھی۔ اِس دوران اُنھوں  نے اِتنا لکھا اور اِتنا اچھا لکھا جو وہ برسوں  میں  نہیں  لکھ پائے تھے۔

ویسے بھی ادب اُن کے لئے اُن کی زندگی اور رُوح تھی۔

اُنھوں  نے زندگی میں  صرف تین باتوں  پر توجہ دی تھی۔ اپنی نوکری، گھر اور ادب۔ اُن کی زندگی اُنہی کے گرد گردش کرتی تھی۔ ڈیوٹی پر جاتے، ڈیوٹی سے آ کر گھر، بیوی بچوں  پر توجہ دیتے، پھر مطالعہ یا لکھنے میں  غرق ہو جاتے۔

وہ آخری عمر تک اپنے بیوی بچوں  کو ایک اچھا گھر تو نہیں  دے سکے لیکن اُنھوں  نے اپنے بچوں  کو اچھی تعلیم دی تھی اور اُنھیں  کبھی کسی چیز کی کمی نہیں  ہونے دی تھی۔

دونوں  لڑکے برسرِ روزگار ہو گئے تھے۔ بڑے کی شادی بھی ہو گئی تھی، بہو بھی گھر آ گئی تھی، چھوٹے کی ایک اچھے خاندان میں  بات پکی ہوئی تھی۔ لڑکی کالج کے آخری سال میں  تھی، بس ایک ہی فکر باقی تھی، اُس کے رشتے کی۔

اُس گھر کو لینے میں  اُنھوں  نے اپنی زندگی کی ساری کمائی صرف کر دی تھی، لیکن پھر بھی اُنھیں  اعتماد تھا۔ اگر لڑکی کے لئے کوئی اچھا سا رشتہ آ جائے تو وہ اُس کی شادی فوراً کر سکتے ہیں۔ فاطمہ نے بچپن سے لڑکی کے لئے جہیز جمع کر رکھا تھا۔

لیکن نیا گھر جیسے اُن کو راس نہیں  آسکا۔

وہاں  آنے کے بعد وہ اپنے تمام ادبی غیر ادبی دوستوں  سے ٹوٹ گئے تھے۔ شاید ہی کوئی دوست اُن سے ملنے کے لئے اُن کے گھر آ پاتا تھا۔ بھلا اُن سے ملنے کے لئے اِتنی دُور مضافات کے اِس علاقے میں  کون جاتا ؟

اُنھیں  ہی اپنے دوستوں  سے ملنے اور اپنے ذوق کی آبیاری کرنے کے لئے پرانی جگہ جانا پڑتا تھا۔

ورنہ اکیلے ہی گھر میں  رہنا پڑتا تھا۔

دونوں  لڑکے تو سویرے ہی اپنے آفس چلے جاتے تھے۔ لڑکی کالج چلی جاتی تھی۔ گھر میں  اکیلی بہو اور وہ رہتے تھے۔ بہو بھی کبھی سامان لینے جب بازار جاتی تھی تو دو دو، تین تین گھنٹہ واپس نہیں  آتی تھی۔

ایسے میں  اُنھیں  اکیلے گھر میں  کوفت ہوتی تھی۔ اُن کی دیرینہ رفیق کتابیں  بھی اُن کا دِل نہیں  بہلا پاتی تھیں  اور کوشش کرنے کے باوجود وہ ایک لفظ بھی نہیں  لکھ پاتے تھے۔ اپنی حالت کو دیکھ کر اُنھیں  محسوس ہونے لگا کہ جیسے اُنھوں  نے جو کچھ سوچ رکھا تھا یا جو خواب دیکھے تھے وہ خواب ہی تھے۔

ابھی وہ اِس سے اُبھر بھی نہیں  پائے تھے کہ نئے تنازعات اُٹھ کھڑے ہوئے،

گھر کے ہر فرد کو ڈرائنگ روم میں  رکھی اُن کی کتابوں  کی الماری پر اعتراض تھا۔ اُن کا کہنا تھا یہ ڈرائنگ روم کا شو خراب کر رہی ہیں۔ پہلے اگر وہ بیٹوں  سے تھوڑی اونچی آواز میں  بات کرتے تھے تو ڈر سے بچے کانپنے لگتے تھے اور اُن کی ہر بات پر سر تسلیم خم کر دیتے تھے۔

لیکن جب سے وہ کمانے لگے تھے، اُنھیں  یہ محسوس ہوا بچے بھی نہ صرف اونچی آواز میں  بولنے لگے ہیں  بلکہ اُن کی آواز کو دبانے کی کوشش کر کے اُن پر اپنی مرضی لادنے لگے ہیں۔

سب کا یہی کہنا تھا یہ کتابیں  وغیرہ بے کار ہیں۔ اِنھیں  ڈرائنگ روم سے ہٹا دیا جائے۔ پرانے گھر میں  ایک کونے میں  پڑی رہتی تھیں  تو کسی کا اُس پر دھیان نہیں  جاتا تھا لیکن اب یہ آنکھوں  میں  جیسے چبھنے لگی ہیں۔ روز روز کے تنازعات اور جھگڑوں  سے تنگ آ کر ایک دِن اُنھوں  نے سنجیدگی سے سوچا۔

زندگی بھر اُنھوں  نے بچوں  کو خوشیاں  دیں  اور اِس کے لئے برسرِ پیکار رہے۔ اب زندگی کے آخری پڑاؤ پر اُنھیں  دُکھ کیوں  دیا جائے ؟ اُن پر اپنی مرضی لادنے کے بجائے اُن کی مرضی مان لینا چاہئے۔ اگر اُنھیں  ان کی کتابوں  پر اعتراض ہے تو گھر سے ساری کتابیں  ہٹا لینی چاہئے۔

اِس فیصلے پر پہنچنے کے بعد اُنھوں  نے سوچا ساری کتابیں  کسی لائبریری کو دے دی جائیں  تاکہ لوگ اُن کے خزانے سے فیض یاب ہوں۔

لیکن سارا شہر ڈھونڈنے کے بعد بھی اُنھیں  کوئی ایسی لائبریری نظر نہیں  آئی جسے وہ اپنی ساری کتابیں  دے سکیں۔

ایک دو لائبریری والوں  سے جب اُنھوں  نے اِس سلسلے میں  بات کی تو اُنھیں  جواب ملا۔

"ہمارے پاس جگہ کی بہت تنگی ہے، پھر آپ جس طرح کی کتابیں  دینا چاہ رہے ہیں  اُس طرح کی کتابیں  پڑھنے والے لوگ تو ہمارے یہاں  ہیں  ہی نہیں ، اِس لئے ہم آپ کی وہ بے کار سی کتابیں  لے کر اپنی جگہ کیوں  پھنسائیں  ؟"

اِس کے بعد ہی اُنھوں  نے اپنی ساری کتابیں  ردّی میں  فروخت کر دینے کا فیصلہ کر دیا۔

اور اس وقت جب اُن کی کتابیں  بک رہی تھیں  تو بھی اُنھیں  کوئی افسوس یا ملال نہیں  ہو رہا تھا۔ کیونکہ اُنھوں  نے اپنے دِل پر پتھر جو رکھ لیا تھا۔

ڈرائنگ روم کا وہ حصہ خالی ہو گیا تھا تو بہو بیٹوں  اور بیٹیوں  نے اسے اپنے ڈھنگ سے سجالیا۔ اور جب وہ اپنی سجاوٹ کو دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے تھے تو اُنھیں  اطمینان محسوس ہو رہا تھا کہ چلو شکر ہے۔ اُنھوں  نے بچوں  کی ایک بات مان کر اُنھیں  ایک خوشی تو دی۔

ایک ہفتے کے بعد اُنھیں  ایک دوست کا فون آیا۔

"کیا بات ہے یار .... ! میں  نے سنا تم نے اپنی ساری کتابیں  ردّی میں  دے ڈالیں  ؟"

"ہاں  .... ! "

"مگر کیوں  ..... ؟"

"اِس لئے کہ ہماری اولاد اور نئی نسلوں  کے دِل میں  ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں  ہے۔ ان کے لئے وہ بیکار سی چیز ہے۔ ہم نے اپنی وراثت میں  اپنی آنے والی نسلوں  کو ہر طرح کی خوشیاں ، آسودگی، تعلیم تو دی لیکن نہ تو اُنھیں  کتاب آشنا بنایا نہ اُنھیں  کتابوں  کی عظمت، اہمیت، افادیت اور ضرورت کے بارے میں  بتا کر اُنھیں  کتابوں  کی قدر کرنا سکھایا۔ جب ہم نے اُنھیں  اپنی یہ عظیم وراثت دی ہی نہیں  تو وہ کتابوں  کی اہمیت کس طرح سمجھیں  گے۔ اُن کے لئے تو وہ بے کار کاغذ کے بوسیدہ پُرزے ہیں۔ ان کا گھر میں  رکھنا، گھر میں  کوڑا کرکٹ رکھنے جیسا ہے۔

اِس لئے اُن کتابوں  کو ردّی میں  فروخت کرنے کے علاوہ کوئی راستہ بھی نہیں  تھا۔"