کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

مسیحائی

ایم مبین


"شاید آپ لوگوں  کو مریض کی جان کی کوئی پرواہ نہیں  ہے۔"

ڈاکٹر بابو جی کو چیک کر کے اُن پر بھڑک اُٹھا۔

"اِن کو ایڈمٹ کرنا بے حد ضروری ہے۔ اِن کا فوراً خون، شُوگر، یورین ٹیسٹ کیجئے، سٹی اسکین کرنے کی ضرورت ہے۔ بدن کی سونو گرافی اور چھاتی کے ایکسرے کی رپورٹ آنے کے بعد صحیح طور پر علاج کرنا ممکن ہو گا۔ میں  ابتدائی علاج شروع کروا دیتا ہوں۔"

ڈاکٹر نے کہتے ہوئے دو تین پُرزے اُن کی طرف بڑھا دئے۔

اور مڑ کر اپنے پاس کھڑی نرسوں  کو ہدایتیں  دینے لگا۔ نرسوں  نے وارڈ بوائز کو آواز دی اور اِس کے بعد وارڈ بوائز کی ہلچل شروع ہو گئی۔

وہ ایک اسٹریچر لے آئے اور پیروں  پر چل کر اسپتال آنے والے بابو جی کو اسٹریچر پر ڈال کر لے جایا جانے لگا۔

"ڈاکٹر جنرل وارڈ میں  جگہ نہیں  ہے۔ " ایک نرس نے آ کر اطلاع دی۔

"ٹھیک ہے مریض کو کسی پرائیویٹ روم میں  شفٹ کر دو۔ " ڈاکٹر نے حکم دیا۔

"افسوس ڈاکٹر کوئی پرائیویٹ روم بھی خالی نہیں  ہے۔ " نرس بولی۔

"اوہو ! مریض کو ایڈمٹ کر کے اس کا علاج کرنا بہت ضروری ہے، ٹھیک ہے ! کسی اے۔ سی روم میں  ہی شفٹ کرد و۔ " ڈاکٹر بولا

ڈاکٹر کی بات سن کر نرس اُس کا منہ دیکھنے لگی۔

"اِس طرح میرا منہ کیوں  دیکھ رہی ہو ؟ " ڈاکٹر چِڑ کر بولا۔

"اے۔ سی روم کے چارجز .... ! آپ مریض کے رشتہ داروں  سے بھی تو پوچھ لیجئے .... ! "نرس رُک رُک کر بولی

"اب پوچھنے کی کیا ضرورت ہے ؟ " ڈاکٹر غصہ سے بولا۔ " مریض میرا ہے، میں  مریض کی پوزیشن اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ یہ لوگ مریض کا علاج کرنے کے لئے یہاں  آئے ہیں۔ اگر وہ فوراً اِس سلسلے میں  کوئی فیصلہ نہیں  کرتے ہیں  تو مریض کی جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔"

کہتا وہ تیز تیز قدموں  سے ایک طرف چل دیا۔

وہ سب ایک دُوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔

اِس درمیان وارڈ بوائز بابو جی کو لے کر پتہ نہیں  کہاں  چلے گئے تھے۔ ڈاکٹر کے چلے جانے کے بعد اُنھیں  ہوش آیا کہ ابھی تک اُنھیں  اِس بات کا بھی علم نہیں  ہے کہ بابو جی کو کہاں  ایڈمٹ کیا گیا ہے۔ تو وہ گھبرا کر ایک طرف دوڑ پڑے۔ اور اُنھوں  نے ایک نرس کو روک کر پوچھا۔

"سسٹر ! ہمارے بابو جی کو کہاں  ایڈمٹ کیا گیا ہے ؟"

"بابو جی کو اوپر والے فلور پر اے۔ سی روم نمبر ۱۰ میں  ایڈمٹ کیا گیا ہے۔ دو اسپشلسٹ ڈاکٹر آئے ہیں  اور وہ آپ کے بابو جی کی جانچ کر رہے ہیں۔ ابھی آپ اُن سے نہیں  مل سکتے، اُن کا علاج شروع ہو چکا ہے۔ " نرس بولی۔ نرس کی بات سن کر وہ سب ہکّا بکّا رہ گئے۔

"ہے بھگوان ! اُنھیں  کیا ہو گیا ہے ؟ ابھی تک تو اچھے بھلے تھے۔" ماں  نے اپنا دِل تھام لیا۔

اور وہ یہ طے نہیں  کرپا رہا تھا کہ بابو جی سچ مچ اچھے تھے یا اُن کی حالت اِتنی غیر ہو گئی تھی کہ اگر وہ تھوڑی دیر اور اُنھیں  یہاں  نہیں  لاتے تو اُن کی جان کو خطرہ پیدا ہو جاتا ؟

دو دِن سے بابو جی کی طبیعت ٹھیک نہیں  تھی۔

ویسے وہ جب سے ریٹائر ہوئے تھے، تب سے ہی اُن کی طبیعت نرم گرم رہتی تھی۔ اِس بار بھی طبیعت خراب ہوئی تو اِسی ڈاکٹر کی دوائی شروع کی تھی جس کا وہ علاج کرنے آئے تھے۔

سویرے بابو جی نے بتایا۔

"اِس بار مجھے کوئی فرق محسوس نہیں  ہو رہا ہے۔ تکلیف بڑھتی جا رہی ہے، سانس لینے میں  دُشواری ہو رہی ہے، سر درد سے پھٹا جا رہا ہے، بار بار آنکھوں  کے سامنے اندھیرا سا چھا جاتا ہے اور کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ " بابو جی کی بات سُن کر اُس نے اُن کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سے بات کی۔

"دیکھئے عمر کا تقاضہ ہے۔ اِس طرح کی بیماریاں  اور شکایتیں  تو ہوں  گی، اِس کی وجہ کوئی بڑی بیماری بھی ہوسکتی ہے۔ اچھا ہے آپ کسی بڑے اسپشلسٹ کو دِکھا دیں۔ میں  ایک ڈاکٹر کے نام چٹ لکھ دیتا ہوں ، وہ مرض کو بہت جلدی پرکھ لیتا ہے۔"

اور وہ بابو جی کو اُس ڈاکٹر کے پاس لے کر آئے تھے۔

پورے تین گھنٹے تک لائن میں  بیٹھ کر اُنھوں  نے اپنی باری کا انتظار کیا تھا۔

جب اُن کا نمبر آیا تو آدھے گھنٹے تک ڈاکٹر نے طرح طرح کے آلات سے بابو جی کو اچھی طرح سے چیک کیا تھا اور اُن سے اور بابو جی سے سیکڑوں  سوالات کئے تھے۔

اور اِس کے بعد فیصلہ صادر کر دیا تھا۔

بوجھل قدموں  سے چلتے وہ اوپر کے فلور پر آئے اور روم نمبر ۱۰ کے سامنے ایک بنچ پر بیٹھ گئے۔ ماں  زار و قطار رو رہی تھی۔ پونم اور وِدےّا اُسے تسلّی دے رہی تھیں۔

"ماں  جی ! آپ اپنے آپ کو سنبھالئے، بابو جی کو کچھ نہیں  ہوا ہے، وہ جلد ٹھیک ہو جائیں  گے، اُن کی تکلیف دُور کرنے کے لئے ہی تو ہم اُنھیں  اسپتال میں  لائے ہیں۔ ایک دو دِن میں  وہ بالکل ٹھیک ہو جائیں  گے۔"

وہ اور اشوک ایک دُوسرے کا منہ تک رہے تھے۔ چاہ کر بھی ایک دُوسرے سے کچھ کہہ نہیں  پارہے تھے۔

سوچا کہ رینوکا اور وِشاکھا کو بھی بابو جی کی حالت سے مطلع کیا جائے۔

لیکن ماں  نے اُنھیں  منع کر دیا۔

"بابو جی کی بیماری کی خبر سُن کر دونوں  پریشان ہو جائیں  گی۔ اور بال بچوں  کو چھوڑ کر دوڑی آئیں  گی۔ وِشاکھا تو خیر ۱۰ کلومیٹر دُور رہتی ہے، لیکن رینوکا ۱۰۰ کلومیٹر دُور رہتی ہے۔۔ اُنھیں  پریشان نہ کیا جائے۔"

"ماں  تمہارا کہنا دُرست ہے، لیکن بعد میں  وہ ہم پر الزام لگائیں  گی کہ بابو جی کی طبیعت اِتنی خراب ہو گئی اور ہم نے اُنھیں  مطلع بھی نہیں  کیا۔ " پونم اور وِدیّا بولیں  

اور اُن کے چہروں  کو کچھ اِس طرح تاکنے لگیں ، جیسے اُن سے سوال کر رہی ہو کہ اِس بات کی روشنی میں  وہ دونوں  فوراً کوئی فیصلہ لیں۔

اندر ایک گھنٹے تک پتہ نہیں  کیا کیا چلتا رہا۔ کبھی کوئی نرس باہر آتی .... تو کوئی اندر جاتی،کبھی کوئی ڈاکٹر کسی نرس کو ہدایتیں  دیتا باہر آتا تو کبھی دُوسراکوئی ڈاکٹر نرس سے باتیں  کرتا کمرے میں  جاتا۔

ڈیڑھ گھنٹے کے بعد جب اُنھیں  بابو جی کو دیکھنے کی اجازت ملی تو بابو جی کو دیکھ کر اُن کا کلیجہ دھک سے رہ گیا اور ماں  تو دہاڑیں  مار مار کر رونے لگیں۔

بابو جی بے ہوش پلنگ پر لیٹے تھے۔ اُن کی ناک پر ماسک لگا ہوا تھا۔ آس پاس ایک دو مشینیں  لگی تھیں ، جن کے وائر اُن کے دماغ اور دِل کے قریب کے مقامات سے جڑے تھے۔مشینوں  پر ایک برقی رو بجلی سی لہرا رہی تھی۔ دونوں  ہاتھوں  میں  سرنج لگی تھی۔

"شش! ماں  جی آپ شور مت کیجئے، مریض کو تکلیف ہو گی، آپ انھیں  دیکھ کر چلے جائیے۔ اُن کی دیکھ بھال کرنے کے لئے ہم موجود ہیں۔ "نرس نے ماں  کو پیار سے ڈانٹا۔ اُنھیں  زیادہ دیر بابو جی کے پاس رُکنے نہیں  دیا گیا۔

ایک نرس دواؤں  کی ایک لمبی لسٹ اُسے تھما گئی۔

"یہ دوائیں  فوراً لے آئیے۔ نیچے میڈیکل میں  مل جائیں  گی۔"

اُس نے وہ لسٹ اشوک کی طرف بڑھا دی۔ اشوک دوائیں  لانے کے لئے نیچے چلا گیا۔

آدھے گھنٹے بعد وہ واپس آیا۔

"کیا بات ہے ؟ " اُس نے اشوک سے پوچھا

"دوائیوں  کا بل ساڑے چار ہزار روپیہ ہوا ہے۔" اشوک بولا۔ " اور میری جیب میں  اِس وقت صرف تین ہزار روپے ہی ہیں۔"

اُس نے جیب میں  ہاتھ ڈال کر پیسے نکالے اور ۱۵سوروپے گن کر اشوک کی طرف بڑھا دئے

اشوک کے جانے کے بعد ایک نرس ایک چٹھی لے کر آئی۔

"آپ مسٹر دیا نند بھارگو کے بیٹے ہیں  ؟"

"جی ہاں  ! "

"آپ ۱۵ ہزار روپے کیش کاؤنٹر پر جمع کرا دیں۔ اِس اسپتال میں  مریض کو داخل کرنے کے ساتھ ۱۵ ہزار روپے پیشگی جمع کرنا ضروری ہوتا ہے۔"

"لیکن میں  تو اِتنے پیسے لے کر نہیں  آیا ہوں  ؟ ....." وہ ہکلایا۔

"تو گھر جا کر لے آئیے۔ ہمارا کیش کاؤنٹر رات میں  ۱۲ بجے تک کھلا رہتا ہے۔"

"لیکن سسٹر رات کے ۱۰ بج رہے ہیں ، اِتنی بڑی رقم گھر میں  تو موجود نہیں  ہوسکتی جو میں  جا کر لے آؤں  ؟ کل بینک کھلنے پر رقم میں  لا کر جمع کرا دوں  گا۔ " وہ بولا۔

"دیکھئے ! آپ کا مریض ایڈمٹ کر لیا گیا ہے، اِس لئے اُصولوں  کے مطابق پیشگی رقم جمع کرانا بہت ضروری ہے۔ آپ کسی سے اُدھار لے آئیے، سویرے اسے لوٹا دینا۔ اگر ممکن نہیں  ہے تو آپ ڈاکٹر سے بات کریں۔ " نرس کہہ کر چلی گئی۔

نہ تو گھر میں  اتنی بڑی رقم تھی اور نہ ہی اِتنی بڑی رقم کا انتظام ممکن تھا۔

اس نے اِس سلسلے میں  ڈاکٹر سے بات کرنی ہی مناسب سمجھی۔ ڈاکٹر سے اس نے جب اِس سلسلے میں  بات کی اور یقین دِلایا کہ سویرے گیارہ بجے تک وہ ۱۵ ہزار روپے لا کر جمع کرا دے گا تو ڈاکٹر نے اُسے رعایت دے دی۔

ایک گھنٹے کے بعد اُنھیں  گھر جانے کے لئے کہا گیا۔ نرسوں  کا کہنا تھا کہ مریض کے پاس کسی کو بھی رُکنے کی ضرورت نہیں۔ مریض کی دیکھ بھال کے لئے وہ ہیں۔ لیکن جب اُنھوں  نے بہت زیادہ اصرار کیا تو وہ اِس بات کے لئے راضی ہو گئے کہ چاہے تو وہ یا اشوک رات کو اسپتال میں  بابو جی کے پاس رُک سکتے ہیں۔

اشوک نے اُسے گھر جانے کے لئے کہا۔ وہ بابو جی کے پاس رُک گیا۔ وہ، پونم، وِدیّا اور ماں  گھر واپس آ گئے۔

ماں  بابو جی کے پاس رُکنے کے لئے ضد کر رہی تھی۔ بڑی مشکل سے اُنھوں  نے اُسے سمجھایا۔

دُوسرے دِن ۱۲بجے کے قریب وہ پیسوں  کا انتظام کر کے اسپتال گیا۔ اُ س نے ۱۵ ہزار روپے کیش کاؤنٹر پر جمع کرا دئے اور اشوک سے بابو جی کی طبیعت کے بارے میں  پوچھا۔

"رات بھر تو بے ہوش رہے یا سوتے رہے، کچھ سمجھ میں  نہیں  آسکا۔ سویرے ہوش آیا تو اُن کا سٹی اسکین اور سونو گرافی اور ایکسرے لیا گیا، خون وغیرہ تو رات میں  ہی ٹیسٹ کر لیا گیا تھا۔ سب کی رپورٹ شام تک آ جائے گی۔ ڈاکٹر نے کہا ہے کہ شام کو وہ ان رپورٹوں  کی بنیاد پر صحیح طور پر بتا سکے گا کہ بابو جی کو کیا بیماری ہے ؟"

"ٹھیک ہے اب تم گھر جاؤ، میں  بابو جی کے پاس رہتا ہوں۔ " اُس نے اشوک سے کہا۔

"گھر جا کر بھی کیا کروں  گا ؟ " اشوک بولا۔ " آج تو آفس سے چھٹی ہی لینی پڑی۔ دوپہر تک رُکتا ہوں۔"

اُسے بھی آفس سے چھٹی کرنی پڑی تھی۔ جب تک بابو جی اسپتال میں  ہیں  تب تک آفس جانے کے بارے میں  وہ دونوں  سوچ بھی نہیں  سکتے تھے۔

سویرے وِشاکھا اور رینوکا کو بھی بابو جی کی بیماری کے بارے میں  مطلع کر دیا گیا تھا۔

شام تک دونوں  بھی آ گئیں۔

رات کو ایک بار پھر پورا خاندان اسپتال میں  جمع ہو گیا۔ بابو جی اُس وقت سورہے تھے، دوپہر میں  جاگے تھے۔ اُس سے ایک دو باتیں  بھی کی تھیں  لیکن پھر شاید دواؤں  کے غلبہ سے پھر اُنھیں  نیند آ گئی۔

رات میں  ڈاکٹر رپورٹ دینے والا تھا۔

دس بجے کے قریب ڈاکٹر اُنھیں  خالی ملا تو سب نے اُسے گھیر لیا۔

"ہاں  مجھے سب رپورٹیں  مل گئی ہیں۔ دراصل آپ کے بابو جی کے دماغ میں  ایک گانٹھ ہے جس سے اُن کے دماغ کو خو ن کی سپلائی رُک جاتی ہے۔ اگر اس کا وقت پر علاج نہیں کیا جاتا تو اس سے برین ہیمریج ہونے کا بھی خطرہ تھا۔اس کی وجہ سے آپ کے بابو جی کو یہ تکلیفیں  تھیں۔ ہم نے علاج شروع کر دیا ہے۔ بھگوان نے چاہا تو آپ کے بابو جی آٹھ دس دِن یہاں  رہنے کے بعد ٹھیک ہو جائیں  گے۔"

اور دو دِن کس طرح گزرے کچھ سمجھ میں  نہیں  آیا۔ گھر کا ہر فرد اسپتال کے چکّر لگاتا تھا۔ بابو جی کبھی بے خبر سوئے رہتے کبھی ہوش میں  آتے تو چیخنے لگتے۔

"تم لوگوں  نے مجھے یہاں  کیوں  ایڈمٹ کر رکھا ہے ؟ میں  بالکل ٹھیک ہوں ، مجھے گھر لے چلو۔،

تیسرے دِن نرس نے تین دِنوں  کے اخراجات کا بل اُسے تھما دیا۔ اُس کے مطابق اس وقت تک کل ۱۹ ہزار روپے بل ہو چکا تھا۔ ابھی مریض کو اور آٹھ دس دِن اسپتال میں  رہنا تھا۔ اِس لئے وہ فوراً اور ۱۵ ہزار روپے جمع کر دیں۔ اس نے حساب لگایا اس وقت تک ۲۴ ہزار سے زائد خرچ ہو چکا تھا اور آٹھ دس دِن رہنا ہے، اُس کے حساب سے جو حاصل جمع خرچ آیا۔ اُسے دیکھ کر اُسے چکّر سے آنے لگے۔

اِدھر بابو جی نے سارا اسپتال اپنے سر پر لے لیا تھا۔

وہ یہی کہتے تھے۔

"میں  بالکل ٹھیک ہوں ، مجھے کچھ نہیں  ہوا ہے۔ تم لوگ میری جان کے دُشمن بنے ہوئے ہو، تم مجھے مارنے کے لئے یہاں  لے آئے ہو۔ مجھے فوراً یہاں  سے نکال کر گھر لے چلو۔"

خرچ اور بابو جی کی ضد کو دیکھتے ہوئے اُنھوں  نے بابو جی کو اسپتال سے گھر لے جانے کا فیصلہ کر لیا۔

لیکن ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا کہ وہ مریض کو ایسی حالت میں  گھر لے جانے نہیں  دے گا۔ اگر مریض کو کچھ ہو گیا تو اس کا دمہ دار کون ؟

چِڑ کر اُس نے اشوک سے کہہ دیا کہ ساری ذمہ داری وہ اپنے سر لیتے ہیں۔

اس کے پاس اِتنا مہنگا علاج کرنے کے لئے اور پیسہ نہیں  ہے۔ اگر ڈاکٹر نے زبردستی بابو جی کو اسپتال میں  رکھا تو وہ اب ایک پیسہ بھی بل ادا نہیں  کر سکتے۔

اُن کی دو ٹوک بات سن کر ڈاکٹر نے بابو جی کو اسپتال سے ڈسچارج کر دیا۔

بابو جی گھر آئے تو بھلے چنگے تھے۔

وہ دونوں  اِس بات کا حساب لگا رہے تھے کہ بابو جی کے علاج پر جو پیسہ خرچ ہوا ہے، اُنھوں  نے کتنے دِنوں  میں  ایک ایک پیسہ جوڑ کر جمع کیا تھا....

ایک دِن پھر بابو جی کی حالت خراب ہوئی۔

پھر بابو جی کو ایک ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑا۔

"شاید آپ لوگوں  کو مریض کی جان کی کوئی پرواہ نہیں  ہے ؟ " ڈاکٹر بابو جی کو چیک کر کے ان پر بھڑک اُٹھا۔ " ان کو فوراً ایڈمٹ کرنا بے حد ضروری ہے۔ ان کا فوراً خون، شوگر، یورین ٹیسٹ کیجئے۔ سٹی اسکین کرنے کی ضرورت ہے۔ بدن کی سونوگرافی اور چھاتی کے ایکسرے کی رپورٹ آنے کے بعد ہی صحیح طور پر علاج کرنا ممکن ہو پائے گا۔ میں  ابتدائی علاج شروع کروا دیتا ہوں  ...... ! "