کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

اذان

ایم مبین


شاید وہ رات کا آخری پہر ہو گا۔ معمول کے مطابق آنکھ کھل گئی تھی۔ اُس نے اندازہ لگایا، شاید ۴  بج رہے ہوں  گے۔ آج آنکھ معمول سے کچھ پہلے ہی کھل گئی ہے۔

اب آنکھ بند کر کے لیٹے رہنا بھی لاحاصل تھا۔ نیند تو آنے سے رہی۔ صبح تک کروٹیں  بدلنے سے بہتر ہے کہ باہر آنگن میں  بیٹھ کر صبح کی ٹھنڈی ہواؤں  کے جھونکوں  سے لُطف اندوز ہوا جائے۔ اُس نے بستر چھوڑا اور گھر کے باہر آیا۔

چاروں  طرف تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ گھر کے باہر بندھے جانوروں  نے تاریکی میں  بھی اُس کی آہٹ سُن لی یا شاید اُنھوں  نے اُس کی مانوس بُو سونگھ لی ہو۔ وہ اپنی اپنی زُبانوں  میں  اُسے آوازیں  دے کر اپنی موجودگی کا احساس دِلانے لگے۔

"اچھا بابا ! مجھے پتہ ہے تم لوگ جاگ رہے ہو، آتا ہوں۔ " کہتا وہ مویشی خانے کے پاس آیا۔ اُسے دیکھ کر گائے نے منہ سے آواز نکالی۔

"اب چپ بھی ہو جا۔" اُس نے گائے کی پیٹھ تھپتھپائی تو وہ زُبان نکال کر اُس کا ہاتھ چاٹنے لگی۔ اُس کے بعد بھینس، بیل، بکریاں  اور بھیڑیں  شور مچانے لگے۔

وہ اُن کو آوازیں  دیتا چپ رہنے کے لئے کہنے لگا۔

تھوڑی دیر بعد سب چپ ہو گئے تو وہ آنگن میں  رکھی کھاٹ پر آ کر بیٹھ گیا اور تمباکو نکال کر چلم بھرنے لگا۔

چلم کا ایک کش لے کر اُس نے دُور گاؤں  کی طرف ایک نظر ڈالی۔ اندھیرے میں  ڈوبا گاؤں  اُسے کسی آسیبی حویلی کی طرح دِکھائی دے رہا تھا۔وقت دھیرے دھیرے سرک رہا تھا اور اُفق پر ہلکی ہلکی سُرخی نمودار ہو رہی تھی۔لیکن ماحول پر سکوت کا وہی عالم تھا۔ اُس کے کان اُس سکوت کو توڑنے والی ایک آواز کے منتظر تھے۔

اُس سکوت کو سب سے پہلے توڑنے والی اللہ بخش کی اذان کی آواز۔

لیکن اُفق پر پَو پھٹ گئی۔ ہنومان، وِشنو، جلرام، شنکر کے مندروں  کی گھنٹیاں  بجنے لگیں۔ ساتھ بجنے والی تمام منادر کی گھنٹیوں  سے ایک بے ہنگم شور نے سنّاٹے کے سینے کو درہم برہم کر دیا۔

اور پھر وہ بھی خاموش ہو گئے۔

لیکن اللہ بخش کی آواز نہ تو فضا میں  اُبھری اور نہ اُسے اللہ بخش کی اذان کی آواز سنائی دی۔

ایک لمبی سانس لے کر اُس نے اپنے سر کو جھٹک دیا۔

وہ بھی کتنا بے وقوف ہے۔

وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ اللہ بخش اپنے بچے ہوئے خاندان کے ساتھ اُس گاؤں  کو چھوڑ کر جا چکا ہے۔ جس مسجد کے آنگن سے وہ اذان دیتا تھا وہ مسجد اب کھنڈر میں  تبدیل ہو چکی ہے۔ اُس کے اندر اب ہنومان کی مورتی رکھی ہوئی ہے۔پھر بھلا اُسے اللہ بخش کی اذان کی آواز کس طرح سُنائی دے سکتی ہے۔

اب تو اللہ بخش کو گاؤں  چھوڑے مہینوں  ہو گئے ہیں۔ پھر بھی اُس کے کان اللہ بخش کی اذان کے منتظر کیوں  رہتے ہیں؟

شاید اِس لئے کہ وہ گذشتہ چالیس برسوں  سے اللہ بخش کی اذان کی آواز سُن رہا تھا۔

دِن کے شور میں  تو اُسے اللہ بخش کی اذان کی آواز سُنائی نہیں  دیتی تھی۔لیکن فجر میں  اور عشاء میں  اُس کی اذان کی آواز ہر کوئی صاف صاف سُن سکتا تھا۔

اُسے اذان کی آواز سُن کر ایک قلبی سکون ملتا تھا۔ یہ سوچ کر کہ میری طرح میرا دوست بھی جاگ گیا ہے اور وہ اپنے خدا کی عبادت میں  لگا ہے اور عبادت میں  شریک ہونے کے لئے دُوسرے بندوں  کو پکار رہا ہے۔

چالیس سالوں  میں  ایسے بہت کم مواقع آئے تھے جب اُس نے اللہ بخش کی اذان نہ سُنی ہو۔اِن موقعوں  میں  وہ دِن تھے جب وہ کسی کام سے گاؤں  سے باہر گیا ہو یا پھر اللہ بخش کسی کام سے باہر گیا ہو گا۔

چالیس سالوں  سے وہ اذان کی آواز سُن رہا تھا۔ لیکن گذشتہ ۱۶۰ سالوں  سے وہ اللہ بخش کو جانتا تھا۔ایسا کوئی بھی دِن نہیں  گزرا تھا جب اُس کا اور اللہ بخش کا سامنا نہیں  ہوا ہو یا بات چیت نہ ہوئی ہو یا دونوں  نے مل کر ساتھ تمباکو نہ پی ہو۔

لیکن وہی اللہ بخش ایک دِن اُسے، اِس گاؤں  کو چھوڑ کر چلا گیا، جس میں  وہ پیدا ہوا تھا، پلا بڑھا تھا، جہاں  اُس کا گھر تھا، کھیت تھے، مسجد تھی۔ جسے اُس نے اپنے ہاتھوں  سے بنایا تھا۔

اور وہ جاتے ہوئے اُسے روک نہیں  سکا تھا۔

اُس میں  اللہ بخش کو روکنے کی ہمّت بھی نہیں  تھی۔ وہ کس منہ سے اُس سے کہتا۔

"اللہ بخش اِس گاؤں  کو چھوڑ کر مت جاؤ ! یہ گاؤں  تمہارا ہے، تم یہیں  پیدا ہوئے ہو۔ ہم ساتھ کھیلے ہیں ، بڑے ہوئے ہیں ، یہاں  تمہاری اولادیں  پیدا ہوئی ہیں ، اِس گاؤں  کے قبرستان میں  تمہارے ماں  باپ اور کئی رشتہ دار دفن ہیں۔ اِس گاؤں  کو چھوڑ کر مت جاؤ۔"

اُسے پتا تھا کہ اگر وہ ایسا کہتا تو اللہ بخش کا ایک ہی جواب ہوتا۔

"رام بھائی ... ! اِس گاؤں  نے میرا جوان بیٹا چھین لیا، میرا دُوسرا بیٹا اپاہج ہو گیا، میری بہو کی طرف ناپاک ہاتھ بڑھے، لیکن میری بہو نے اُن ناپاک ہاتھوں  کو اپنے جسم کا لمس دینے سے قبل اپنی جان دے دی،اِس گاؤں  میں  میری بیٹیوں  کی عصمت تار، تار ہونے ہی والی تھی، خدا نے کسی طرح اُنھیں  بچا لیا، میرے اس کھیت کو جلا کر راکھ کر دیا گیا جو چار مہینے تک اپنے خون سے سینچ، سینچ کر میں  نے لہلہائے۔ اِس گاؤں  میں  میرے پیار کے شِوالے، میرے گھر کو توڑ دیا تھا، مسجد کو کھنڈر بنا کر اُس میں  ہنومان کی مورتیاں  رکھ دی گئیں۔ اب آگے اِس بات کی کیا گیارنٹی ہے کہ میرے کسی بیٹے کی جان لینے کی کوشش نہیں  کی جائے گی، میری بیٹیوں  کی طرف ہوسناک نظریں  نہیں  اُٹھیں  گی۔ میری عبادت گاہ مسمار نہیں  کی جائے گی ؟"

اللہ بخش کی اِس بات کا کسی کے پاس جواب نہیں  تھا۔

اُس کی آنکھوں  کے سامنے سب کچھ ہوا تھا۔ مسجد توڑی گئی تھی اور اُس میں ہنومان کی مورتیاں  رکھی گئی تھیں ، اُس کے کھیت اور گھر جلائے گئے تھے، اُس کے بیٹوں  کو ترشولوں  سے وار کر کے مارا گیا تھا۔

اُس کی بہو، بیٹیوں  کی طرف ہوسناک ہاتھ بڑھے تھے۔

وہ چپ چاپ تماشہ دیکھتا رہا تھا۔

کسی کو روک نہیں  سکا تھا۔ گاؤں  کے کسی بھی فرد نے ان بلوائیوں کو روکنے کی کوشش نہیں  کی تھی۔

جن لوگوں  نے یہ سب کچھ کیا وہ سب اِس کے اپنے تھے، اِسی گاؤں  کے لوگ، جو اِس گاؤں  میں  پل کر جوان ہوئے تھے، وہ اللہ بخش کی گود میں  کھیلے تھے، اُس کے کھیتوں  سے آم چرا کر اُنھوں  نے کھائے تھے۔

جسے وہ اللہ بخش چاچا کہتے تھے، اُن ہی لوگوں  نے اُس کے خاندان کے ساتھ یہ سب کیا تھا۔

وہ اور اُس کے جیسے سیکڑوں  لوگ تماشہ دیکھتے رہے تھے اور اللہ بخش کو پُرسہ دینے، اپنی دوستی، تعلقات کا یقین دِلانے کے لئے اُس وقت پہنچے تھے جب اُس کا سب کچھ لُٹ گیا تھا۔

جس وقت وحشت کا یہ ننگا ناچ ہوا تھا، اُس وقت اللہ بخش گاؤں  میں  نہیں  تھا۔

وہ کسی کام سے شہر گیا تھا۔ جب وہ شہر سے لوٹا تو سب کچھ برباد ہو گیا تھا۔

اگر اللہ بخش گاؤں  میں ہوتا اور اُس کے سامنے یہ سب کچھ ہوتا تو وہ شاید زندہ نہیں  رہتا۔

یا تو وہ اُس کے بڑے بیٹے کی طرح مار دیا جاتا یا پھر یہ سب اپنی آنکھوں  سے دیکھنے کے بعد خود مر جاتا۔

اِس کے بعد وہ گاؤں  میں  نہیں  رہ سکا، اُسے اپنے زخمی خاندان کو لے کر شہر سے جانا پڑا۔

شہر سے آنے کے بعد تو اُس کا گاؤں  میں  رہنا اور بھی مشکل ہو گیا۔ اُسے دھمکیاں  ملنے لگیں۔ گاؤں  چھوڑ کر چلے جاؤ ورنہ گذشتہ بار جو نہیں  ہوا اِس بار وہ ہو گا۔ اِس بار کوئی نہیں  بچ پائے گا۔

اِس گاؤں  میں  پیدا ہوئے، پلے، بڑھے اللہ بخش کے ہزاروں  دوست، شناسا تھے، ہر کوئی اُسے جانتا تھا، ہر کسی کے اُس کے ساتھ تعلقات تھے۔

سب اللہ بخش کو تسلّی دینے گئے تھے۔

"جو ہوا بہت برا ہوا۔"

"اگر وہ برا ہو رہا تھا تو آپ لوگوں  نے اُسے روکا کیوں  نہیں  ؟"

اللہ بخش جب اُن سے سوال کرتا تو سب لاجواب ہو جاتے۔

اِس لئے جب اُس نے اپنے خاندان کے ساتھ گاؤں  چھوڑنے کا فیصلہ کیا تو چند ہی لوگوں  نے اُسے روکنے کی کوشش کی۔

"میں  مانتا ہوں ، لیکن جو دھمکیاں  مجھے روزانہ مل رہی ہیں ، اُن کا کیا ہو گا ؟ اِس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جو کچھ میرے خاندان کے ساتھ ہوا دوبارہ نہیں  ہو گا،ہم اِس گاؤں  میں  پہلے ہی کی طرح محفوظ رہیں  گے ؟"

لیکن اِس بات کی کوئی بھی ضمانت نہیں  دے سکا۔

"وہ بچے ہیں  اور بہک گئے ہیں ، اِس طرح بہک گئے ہیں  یا بہکا دئے گئے ہیں  کہ اُن کو راہ پر لانا ناممکن ہے اور تم تو جانتے ہو ؟ آج کل کے نوجوان کسی کی نہیں  سنتے ہیں۔ " اللہ بخش کو جواب ملتا۔

"تو اِس کا مطلب یہی ہے کہ مجھے اپنے خاندان والوں  کے ساتھ یہ گاؤں  چھوڑنا پڑے گا۔ تمہارے بچے نہیں  چاہتے ہیں  کہ ہم لوگ اِس گاؤں  میں  رہیں ، جو میرا اپنا گاؤں  ہے۔ تم میں  اپنے بچوں  کو روکنے کی طاقت نہیں  ہے، اِس کا مطلب بھی صاف ہے کہ تم بھی اپنے بچوں  کے جرم میں  برابر کے شریک ہو۔ تو ٹھیک ہے، اب میں  کوئی خطرہ نہیں  لینا چاہتا۔ مجھے اور میرے خاندان کو کہیں  نہ کہیں  تو پناہ مل ہی جائے گی۔ اللہ کی زمین بہت بڑی ہے۔"

جس دِن اللہ بخش کا خاندان گاؤں  چھوڑ کر گیا، اُسے اور اُس کے جیسے چند لوگوں  کو بہت دُکھ ہوا، لیکن گاؤں  میں  جشن منایا گیا۔ اللہ بخش کے گھر کی اینٹوں  کو تو ڑ، توڑ کر، مسجد کو توڑ کر اپنی کامیابی، فتح پر رقص کیا گیا۔ اللہ بخش کے کھیت پر قبضہ کر کے اُس کے حصّے بخرے کئے گئے۔

وہ چلا گیا، لیکن اُس کے جانے کے ساتھ اُس سے وابستہ سالوں  کی یادیں  نہیں  جاسکیں۔

وہ اللہ بخش جس کے ساتھ بچپن سے وہ کھیلتا، کودتا آیا تھا۔

جو اُس کے ساتھ ساتھ گاؤں  کی اسکول میں  پڑھا تھا۔

جس کے ساتھ وہ گاؤں ، کھیت سے وابستہ ہر مسئلے پر بحث کرتا تھا اور اللہ بخش کے نیک مشورے قبول کرتا تھا۔

عید، بقر عید کے دِن وہ جس اللہ بخش کے گھر شیر خرمہ کھانے جاتا تھا، محرم کے ایّام میں  شربت اور کھچڑا کھانے جاتا تھا، دیوالی، نو راتری پر جس کو وہ اپنے گھر بلاتا تھا۔

نو راتری کے تہوار پر جب اللہ بخش کاٹھیاواڑی لباس پہن کر ڈانڈیا کھیلتا تو کوئی اُسے پہچان نہیں  پاتا تھا کہ اللہ بخش ہے، جو مسلمان ہے، گاؤں  کی اکلوتی مسجد کا مؤذّن ہے، پیش اِمام ہے، گاؤں  کے مسلمان بچوں  کو عربی کی تعلیم دیتا ہے اور اُنھیں  دین کی باتیں  بتاتا، سکھاتا ہے۔

سویرے جاگنے کے بعد اللہ بخش کی اذان کی آواز اُسے بہت بھلی لگتی تھی۔ رات میں  جب تک اذان کی آواز اُس کے کانوں  میں  نہیں  پڑتی تھی تب تک اُسے میٹھی گہری نیند نہیں  آتی تھی۔

ایک دِن اُس نے اللہ بخش سے پوچھا تھا۔

"بھائی اللہ بخش ! تم اِس اذان میں  کیا پکارتے ہو ؟"

"اِس اذان میں  اللہ کی تعریف اور اللہ کی عبادت کے لئے آنے کا بلاوا ہوتا ہے۔"

اُس کا لڑکا شہر سے ٹیپ ریکارڈر لے آیا تھا۔

ایک دِن جب اللہ بخش کسی کام سے اُس کے گھر آیا تو وہ اُس سے بولا۔

"اللہ بخش ! تم اذان پکارو میں  تمہاری اذان کو ٹیپ کرنا چاہتا ہوں۔"

"نہیں  رام بھائی ! اذان کسی بھی وقت نہیں  دی جاتی، اِس کے اوقات مقرر ہیں۔ اُن ہی اوقات میں  اذان دی جاتی ہے۔"

لیکن جب وہ اللہ بخش سے بہت زیادہ اصرار کرنے لگا کہ وہ اُس کی اذان کو ٹیپ کرنا ہی چاہتا ہے تو اللہ بخش نے اذان دی اور اُس نے اُسے ٹیپ کر لی۔

"میں  نے آج تمہارے گھر میں  اذان دی ہے۔ دیکھنا اِس اذان کی قوت سے تمہارے گھر میں  جو بلائیں ، آسیب، شیطان، بھوت، پریت آتما ہوں  گی ؟ بھاگ جائیں  گی۔"

اور کچھ دِنوں  بعد سچ مچ اُسے محسوس ہوا کہ اُس کے گھر میں  واقعی بہت نمایاں  تبدیلی ہوئی ہے۔ جن بلاؤں ، آسیب کا گھیرا اُس کے گھر میں  تھا، اللہ بخش کی اذان سے وہ دُور ہو گیا۔

گذشتہ پچاس سالوں  میں  کئی بار پورا ملک فسادات میں  جھلسا، لیکن اُن کی گرم ہوا کبھی بھی اُن کے چھوٹے سے گاؤں  کو نہیں  چھو سکی۔ لیکن وہ گذشتہ چار پانچ سالوں  سے بڑی شدّت سے محسوس کر رہا تھا کہ اُن کی آل اولاد کے خیالات میں  بڑی تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے۔ اُن کی نسل کے لوگ کبھی بھی اللہ بخش اور اُس کے مذہب کے لوگوں  کے بارے میں  باتیں  نہیں  کرتے تھے۔

لیکن یہ نئی نسل اب صرف اللہ بخش اور اُس کے مذہبی بھائیوں  کے بارے میں  ہی باتیں  کرتے ہیں  اور اُن کی باتوں  میں  نفرت کا زہر بھرا ہوتا ہے۔ گاؤں  کا ہر چھوٹا بڑا اللہ بخش کی عزت کرتا تھا لیکن یہ چھوٹے موقع ملنے پر بات بات پر اللہ بخش کی توہین کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اُس سے اور اُس کے خاندان سے اُلجھتے ہیں۔

کبھی کبھی اللہ بخش بڑے دُکھ سے کہتا تھا۔

"رام بھائی ! کچھ سمجھ میں  نہیں  آ رہا ہے۔ گذشتہ پچاس سالوں  میں  جو میرے یا میرے خاندان کے ساتھ اِس گاؤں  میں  نہیں  ہوا، وہ ہو رہا ہے۔"

"چھوٹی چھوٹی باتوں  پر دِل کیوں  چھوٹا کرتے ہو اللہ بخش ! ہم ہیں  نا، یہ سب تو چلتا رہتا ہے۔ " وہ اُسے سمجھاتا۔

اور اُس دِن وہ سب کچھ ہو گیا۔

اچانک ہوا یا پہلے سے طے شدہ تھا۔ اِس بارے میں  وہ کچھ بھی نہیں  جانتا تھا۔

اور اللہ بخش کو گاؤں  چھوڑ کر جانا پڑا۔

اب گاؤں  میں  صرف اللہ بخش کی یادیں  اور اُس کی کھنڈر سی نشانیاں  ہیں۔ اُس کا ٹوٹا ہوا گھر، جلی ہوئی مسجد جس میں  ہنومان کی مورتیاں  رکھی ہیں۔ کھیتی جس پر پتہ نہیں  کتنے لوگوں  کا قبضہ ہے۔

جنھوں  نے یہ سب کیا تھا کیا شاید وہ بھول بھی گئے ہوں  گے ؟

لیکن وہ اُسے نہیں  بھول سکا۔

اُسے بار بار یہ محسوس ہوتا ہے اللہ بخش جیسے اُس کی رگ، رگ میں  بسا ہوا ہے۔ اُسے اللہ بخش کی ایک ایک بات یاد آتی ہے۔ اللہ بخش کے ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ یاد آتا ہے۔ اُسے ہر جگہ اللہ بخش کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ پتا نہیں  اُن لوگوں  کو اللہ بخش کی کمی محسوس ہوتی بھی ہے یا نہیں ، جنھوں  نے اُسے گاؤں  چھوڑنے پر مجبور کیا تھا۔ اُسے گاؤں  چھوڑنے پر مجبور کر کے پتا نہیں  اُن کے کس جذبۂ اَنا کو تسکین ملی ؟

وہ روزانہ جاگتا ہے تو اُس کے کان اللہ بخش کی اذان سننے کے لئے بیتاب رہتے ہیں۔ اُسے پتا تھا کہ اللہ بخش کی اذان کی آواز سنائی نہیں  دے گی۔کیونکہ اللہ بخش یا کوئی اور میاں  بخش اِس گاؤں  میں  نہیں  رہتا ہے۔ پھر بھی اُس کے کان اذان کی آواز سننا چاہتے تھے۔

اُسے اللہ بخش کی اذان سن کر ایک ذہنی سکون ملتا تھا۔

لیکن اب اُسے وہ آواز سنائی نہیں  دیتی ہے تو دِن بھر ایک بے چینی کا شکار رہتا ہے۔

جب اُس کی بے چینی حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہے تو وہ ٹیپ ریکارڈر کے پاس جاتا اور اُس میں  وہ کیسیٹ لگاتا جس میں  اُس نے ایک دِن اللہ بخش کی اذان ٹیپ کی تھی۔

اور جب وہ پورے والیوم میں  اللہ بخش کی اذان سنتا تو اُس کے دِل کو بڑا سکون ملتا تھا۔

حیّٰ علی الفلاح، حیّٰ علی الفلاح.......