کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تریاق

ایم مبین


رات بارہ بجے کے قریب میٹنگ سے جب وہ گھر آئے تو اُنھوں  نے شاکرہ کو بے چینی سے ڈرائنگ روم میں  ٹہلتا ہوا پایا۔ اُس کی حالت دیکھ کر اُن کا دِل دھک سے رہ گیا اور ذہن میں  ہزاروں  طرح کے وسوسے سر اُٹھانے لگے۔ شاکرہ کی بے چینی سے اُنھوں  نے اندازہ لگایا تھا کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہے جس کی وجہ سے شاکرہ اِتنی بے چین ہے۔

وہ کمرے میں  داخل ہوتے تو شاکرہ نے سر اُٹھا کر اُن کو دیکھا، اُس کے ہونٹوں  پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ اُبھری اور پھر اُس نے اپنا سر جھکا لیا۔

جیسے وہ بہت کچھ اُن سے چھپانا چاہتی ہو۔ اگر نظریں  مل گئیں  تو اُسے ڈر ہے کہ وہ اُس کی آنکھوں  سے سب کچھ پڑھ لیں  گے۔

"کیا بات ہے، تم ابھی تک سوئی نہیں  ؟ " اُنھوں  نے شاکرہ سے پوچھا۔

"نہیں ، نیند نہیں  آرہی ہے۔" شاکرہ نے جواب دیا۔

"سب ٹھیک تو ہے ؟ " اُنھوں  نے اپنے دِل پر جبر کر کے پوچھا۔

"عادل کی حالت بگڑتی جا رہی ہے۔ " شاکرہ نے ایک ایک لفظ کو چبا کر کہا۔ "مسلسل دو گھنٹے سے چیخ چیخ کر اُس نے سارے بنگلے کو سر پر اُٹھا لیا تھا۔ پڑوس کے بنگلوں  تک اُس کی چیخیں  جا رہی تھیں  اور وہ لوگ بھی انکوائری کے لئے آ رہے تھے۔ کمرے کی ہر چیز کو اُس نے تہس نہس کر دیا ہے۔ مجبوراً ڈاکٹر کو بلا کر اُسے نیند کا انجکشن دینا پڑا، لیکن ڈاکٹر کہتا ہے اِس انجکشن سے مضبوط سے مضبوط آدمی دس گھنٹوں  تک سویا رہتا ہے، لیکن عادل کی جو حالت ہے، وہ جس اسٹیج میں  ہے،مجھے ڈر ہے کہ دو گھنٹے بعد ہی اِس انجکشن کا اثر ختم ہو جائے گا اور اِس کی حالت پھر اُسی طرح سے ہو جائے گی۔ میرا مشورہ ہے کہ اب اس پر اور زیادہ جبر نہ کیا جائے۔ وہ جو ڈوز لیتا ہے اسے دے دیا جائے اسی سے وہ نارمل ہوسکتا ہے ایسی حالت میں  زیادہ دِنوں  تک رہنے سے اُس کی جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے"

شاکرہ کی باتیں  سن کر اُن کا دِل ڈوبنے لگا۔ اُنھوں  نے شاکرہ کو کوئی جواب نہیں  دیا اور بے اِختیار عادل کے کمرے کی طرف بڑھ گئے۔

عادل پلنگ پر بے خبر سورہا تھا۔

اُس کی اور کمرے کی حالت دیکھ کر وہ کانپ اُٹھے۔

کمرے میں  کوئی بھی چیز ٹھکانے پر نہیں  تھی۔ ہر چیز بکھری یا ٹوٹی ہوئی تھی۔ عادل کے سر کے بال نچے ہوئے تھے اُس کے چہرے اور جسم پر کئی مقام پر زخموں  کے نشانات تھے۔

اُنھیں  پتہ تھا جنون کے عالم میں  عادل نے اپنے آپ کو ہی زخمی کیا ہو گا۔ ایسی حالت میں  خود کو اذیّّت پہنچانے سے ہی اُسے سکون ملتا ہے۔

زیادہ دیر وہ اور عادل کو دیکھ نہیں  سکے اور تیزی سے کمرے کے باہر آ گئے۔ شاکرہ کے ضبط کا باندھ ٹوٹ گیا تھا۔ اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اُس نے اپنے دونوں  ہاتھوں  سے اپنا چہرہ چھپا لیا تھا۔

"خدا کے لئے اب عادل پر اور کوئی جبر مت کیجئے۔ وہ جس حالت میں  جیتا ہے اُسے اُسی حالت میں  زندہ رہنے دیجئے۔ کم سے کم وہ ہماری آنکھوں  کے سامنے تو رہے گا۔ ورنہ ایسی حالت میں  وہ ایک دِن مر جائے گا۔ اگر اُسے کچھ ہو گیا تو میرا کیا ہو گا ؟ میری ایک ہی تو اولاد ہے۔ یہ ہماری زمین، جائداد، دھن، دولت سب عادل ہی کا تو ہے۔ وہ اکیلا ہی اِن سب کا وارث ہے، جب وہی نہیں  ہو گا تو پھر اِن چیزوں  کا کیا فائدہ ؟ آپ نے کس کے لئے یہ سب کمایا ہے، عادل کے لئے ہی نا ؟ پھر عادل کی زندگی کے دُشمن کیوں  بن رہے ہیں ، وہ جو چاہتا ہے اُسے دے دیجئے۔"

"تم مجھے عادل کی زندگی کا دُشمن کہہ رہی ہو ؟"

شاکرہ کی بات سن کر اُن کی آنکھوں  میں  آنسو آ گئے۔

"عادل میری اکلوتی اولاد ہے۔ یہ سب کچھ میں  نے اُسی کے لئے تو کمایا ہے۔مجھ سے اپنی اولاد کا پل پل مرنا دیکھا نہیں  جاتا۔ اُس کی پل پل موت میرے لئے اِتنی بڑی سزا ہے جسے میں  بیان نہیں  کر سکتا۔ مجھ سے اِس کی تڑپ دیکھی نہیں  جاتی اور بس اِسی لئے اپنے آپ پر جبر کرتا ہوں ، باپ ہوں  نا۔سوچتا ہوں  وہ اسی طرح تِل تِل مرنے کے بجائے ایک بار مر جائے تو اسے بھی اس عذاب سے نجات مل جائے اور ہم بھی صبر کر لیں  گے۔"

"آپ ایسا کیوں  سوچتے ہیں  ؟ خدا ہمارے بچے کو شفا دے گا۔"

اُن کی بات سن کر شاکرہ تڑپ اُٹھی۔

"اگر خدا ہمارے بچے کو کوئی بیماری دیتا تو اُس کی ذات سے ہمیں  شفا یابی کی اُمید ہوتی۔ لیکن یہ روگ تو ہمارے بیٹے نے خود پالا ہے اور میں  سمجھتا ہوں ، اِس کا ذمہ دار ہے تمہارا بے جا لا ڈ و پیار اور میری کاروباری مصروفیات.....

میرے کاروبار نے مجھے اِتنا وقت نہیں  دیا کہ میں  اپنے کاروبار کے ساتھ ساتھ اپنی توجہ اپنے بیٹے پر بھی دے سکوں  اور تمہارے لئے تو وہ تمہاری اکلوتی اولاد تھی۔ اُس کی ہر جائز، ناجائز فرمائش تمہارے سر آنکھوں  پر تھی۔ بس یہی زہر تھا جو اُس کی شریانوں  میں  بہتا گیا اور اُس کے وجود کا ایک حصّہ بن گیا۔"

شاکرہ نے کوئی جواب نہیں  دیا وہ سسکتی رہی۔

اُنھوں  نے اندازہ لگا لیا تھا عادل کی کیا حالت ہو گی۔

ڈوز کا وقت پورا ہو گیا تھا اور اُسے اس کی سخت ضرورت تھی۔

وہ ٹال رہے تھے،چاہ رہے تھے کہ عادل خود میں  قوتِ اِرادی پیدا کرے اور وہ اس نشے کی گرفت سے باہر نکلنے کی کوشش کرے۔

دو دِن سے عادل اُن کے سامنے گڑگڑا رہا تھا۔

"ڈیڈی ! مجھے پیسے چاہیے، مجھے پانچ ہزار روپیوں  کی سخت ضرورت ہے۔ پلیز مجھے پانچ ہزار روپے دے دیجئے، میں  آپ سے وعدہ کرتا ہوں ، میں  مہینہ بھر آپ سے پیسہ نہیں  مانگوں  گا۔"

لیکن اُنھوں  نے پیسہ نہیں  دیا۔

اِس بار اُنھوں  نے اِس بات کا بھی خاص خیال رکھا تھا کہ عادل کے پاس کوئی قیمتی چیز نہ رہے، جسے فروخت کر کے وہ پانچ ہزار روپے حاصل کر لے اور اُس سے اپنی من چاہی مراد حاصل کر لے۔

اُنھوں  نے شاکرہ کو بھی سخت تاکید دے رکھی تھی۔

"خبردار ! اگر تم نے اُسے پیسے دئے تو۔ اگر مجھے پتہ چلا کہ تم نے اُسے پیسے دئے تو میں  تمہیں  گھر میں  نہیں  رکھوں  گا۔"  وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ عادل اِس زہر کے بنا کتنے دِنوں  تک رہ سکتا ہے۔

لیکن ایک دِن میں  ہی عادل کی وہ حالت ہو گئی تھی کہ اُسے دیکھ کروہ خود بھی گھبرا گئے تھے۔

اُنھوں  نے ڈاکٹر کو فون کر کے اِس سلسلے میں  گفتگو کی۔

"باقر صاحب ! آپ کی کوشش بے کار ہے، عادل آخری حدوں  کو پار کرچکا ہے۔ اب وہ زہر ہی اُسے زندہ رکھے گا۔ آپ اپنے بیٹے کی زندگی چاہتے ہیں  تو اسے وہ زہر دے دیجئے۔ اُس کی زندگی بڑھ جائے گی۔ آپ جتنے دِنوں  تک اُسے اس زہر سے دُور رکھیں  گے، اُس کی زندگی کم سے کم ہوتی جائے گی۔"

"ڈاکٹر ! قیمتی سے قیمتی نشہ آور شراب، گرد، چرس، افیم اور اسمیک . کیا کسی سے بھی کام نہیں  چل پائے گا ؟"

"باقر صاحب ! ناگ کے زہر میں  جو نشہ ہوتا ہے وہ ایک ہزار شراب کی بوتلوں  میں  بھی نہیں  ہوتا۔ اور جو شخص ناگ کے زہر کے نشے کا عادی ہو آپ اُسے شراب کی بوتل سے بہلانے کی کوشش کر رہے ہیں  ؟ آپ کی یہ کوشش بے کار ہے باقر صاحب ! اپنے بیٹے کی زندگی سے مت کھیلئے۔ اگر آپ اُسے زندہ دیکھنا چاہتے ہیں  تو اُسے زہر دیجئے ... زہر ..... ناگ کا زہر...... ! "

عادل کے لئے اُنھوں  نے دُنیا کے بڑے بڑے ڈاکٹروں  سے رابطہ قائم کیا تھا۔

لیکن اُنھیں  ہر طرف مایوسی ہی ملی تھی۔ ایک دو ڈاکٹروں  نے دِلاسہ دیا تھا مگر اِس بات کی اُمید نہیں  دِلائی تھی کہ عادل اچھا ہو جائے گا۔

اپنے کمرے میں  آنے کے بعد وہ کمرے میں  ٹہلنے لگے۔

نیند اُن کی آنکھوں  سے کوسوں  دُور تھی۔ شاکرہ بستر پر لیٹی تھی، نیند اُس کی آنکھوں  میں  بھی نہیں  تھی۔

اُنھیں  پتا تھا سوکر کوئی فائدہ نہیں۔

تھوڑی دیر بعد ہی اُنھیں  اُٹھنا پڑے گا۔

نیند سے جاگنے کے بعد عادل وہ ہنگامہ مچائے گا کہ سارا محلہ جاگ جائے گا۔

سب کچھ کیسے ہو گیا۔ اب سوچتے ہیں  تو کچھ بھی سمجھ میں  نہیں  آتا۔ڈاکٹروں  کا کہنا ہے کہ عادل کو ۱۲، ۱۵  سال کی عمر سے نشہ کی لت ہے۔

وہ باقاعدگی سے اسکول اور کالج جاتا تھا۔ دِن، دِن بھر گھر سے غائب رہتا تھا اور رات دیر سے گھر آتا تھا، ماں  پوچھتی تو بتا دیتا تھا کہ اس دوست کے ساتھ تھا یا اُس دوست کے ساتھ تھا۔ شاکرہ عادل کی یہ آوارگیاں  اُن سے چھپاتی رہتی تھی۔

عادل کو خرچ کے لئے وہ بھی پیسے دیتے تھے اور شاکرہ بھی۔بس ان ہی پیسوں  کی وجہ سے وہ غلط صحبت میں  پڑ گیا۔

پہلے دوستوں  نے اُسے بیئر پلائی پھر وہسکی۔

پھر اسے چرس، افیون، گانجا، اسمیک اور گرد کا چسکہ لگایا۔ ایل۔ ایس۔ ڈی اور دُوسری نشہ آور چیزوں  کے ٹیکے وہ لینے لگا۔

اور انھیں  اِس کا پتہ ہی نہیں  چل سکا۔

اسکول میں  کبھی فیل ہوتا تو کبھی ان کے رسوخ، وسیلے سے پاس ہو جاتا۔

کالج میں  بھی یہی حال تھا۔ اُنھوں  نے اُسے کوئی ٹیکنیکل یا بڑے کورس میں  داخل نہیں  کیا تھا۔

وہ اُس کی ذہنی سطح سے اچھی طرح واقف تھے۔

اِن کا خیال تھا اگر عادل گریجویشن بھی کر لے اور اُن کا کاروبار اگر سنبھال نہ سکے تو کم از کم اس میں  اُن کا ہاتھ ہی بٹائے تو کافی ہے۔ اُنھوں  نے اُسے اچھے کالج میں  داخل کیا تھا۔

لیکن اس کی کارکردگی مایوس کن ہی رہی۔ ایک ہی کلاس میں  دو دو تین تین سالوں  کا قیام اس کا معمول بن گیا۔

جب وہ اُس کے بارے میں  اپنے دوستوں  سے بات کرتے تو دوست اُسے تسلّی دیتے تھے۔

"بچوں  میں  جب تک ذمہ داری کا احساس نہ ہو وہ دِل سے کوئی کام نہیں  کر پاتے ہیں۔ ہمارے بچوں  کو پتہ ہے کہ پڑھنے کے بعد کچھ کر کے ہی وہ اپنا اور ہمارا پیٹ بھر پائیں  گے۔ اِس لئے وہ پڑھائی میں  دھیان لگاتے ہیں۔ عادل کے ساتھ ایسا کچھ نہیں  ہے، اُسے پتہ ہے کہ اُس کے باپ نے اُس کے لئے اتنا کمایا ہے کہ اُس کی سات پشتیں  بھی بیٹھ کر کھائیں  گی۔ اس لئے لا پرواہ ہو گیا ہے۔پڑھائی میں  دھیان نہیں  دیتا۔ کاروبار میں  لگا دو .... سب ٹھیک ہو جائے گا۔

لیکن اُنھیں  عادل کو کاروبار میں  لگانے کی نوبت نہیں  آسکی۔

اِس دوران اُنھیں  پتا چلا کہ عادل ڈرگس لیتا ہے اور نشے کا عادی ہو گیا ہے۔

کئی بار نشے کی وجہ سے یا نشہ نہ ملنے کی وجہ سے اس کی حالت خراب ہوئی۔

ڈاکٹروں  کو بتایا گیا۔ کئی بار اسے اسپتال میں  داخل کیا گیا تھا۔ لیکن ڈاکٹروں  نے صاف جواب دے دیا تھا۔

"عادل نشے کی آخری حد پار کر چکا ہے، اُس سے نشہ چھڑانا بہت مشکل ہے۔ اب اگر یہ کوشش کی گئی تو اُس کی زندگی کو خطرہ پیداہوسکتا ہے۔

ایک دو بار مہنگے اسپتالوں  میں  رکھ کر عادل کے نشے کی لت چھڑانے کی کوشش کی گئی۔

جب تک وہ اسپتال میں  رہا،نشے سے دُور رہا، لیکن گھر آتے ہی سب کی نظریں  بچا کر آخر نشے کے اڈّے پر وہ پہنچ ہی گیا اور سارے کئے کرائے پر پانی پھیر گیا۔

وہ بڑی اُلجھن میں  تھے۔

عادل پر توجہ دیتے تو کاروبار بدنظمی کا شکار ہوتا۔

کاروبار پر توجہ دیتے تو عادل کی حالت بگڑتی جاتی تھی۔

شاکرہ کو تو وہ بالکل خاطر میں  نہیں  لاتا تھا۔ کئی بار وہ اُس پر ہاتھ اُٹھا کر جانوروں  کی طرح مار چکا تھا۔ یہ بات شاکرہ نے اُن سے چھپائی تھی۔ نشے میں  اُسے کچھ ہوش نہیں  رہتا تھا۔ کہ سامنے اُس کی ماں  ہے یا باپ ہے۔ اور نشہ نہ ملنے پر بھی وہ پاگل ساہو جاتا تھا۔

شاکرہ سے وہ نشہ کے لئے پیسہ لیا کرتا تھا۔شاکرہ بھی ترس کھا کر اُس کو پیسے دے دیتی تھی۔ کم سے کم نشے میں  تو وہ سکون سے رہے، لیکن آخر وہ نشے کی آخری حد کو پہونچ گیا۔

نشہ حاصل کرنے کے لئے وہ اپنے آپ کو ناگ سے ڈسوانے لگا۔

ناگ سے ڈسوانے کے بعد ایک ماہ تک وہ بالکل نارمل رہتا۔ ناگ کے زہر کا نشہ ایک ماہ تک اُسے مسرور رکھتا ہے لیکن زہر کا اثر ختم ہوتے ہی اُس کی حالت پاگلوں  سی ہونے لگتی اور جب تک وہ اپنے آپ کو ناگ سے ڈسوا نہیں  لیتا اُسے سکون نہیں  ملتا تھا۔

اور خود کو ناگ سے ڈسوانے کے لئے وہ پانچ پانچ ہزار روپیہ تک دیتا تھا۔

پچھلی بار اُس نے جب خود کو ناگ سے ڈسوایا ہو گا اُسے شاید ایک ماہ ہو گیا ہو گا۔ نشہ اُتر گیا تھا اِس لئے اُس کی حالت پاگلوں  سی ہو رہی تھی........

دو گھنٹے بعد انجکشن کا اثر ختم ہو گیا تھا۔

عادل پھر جاگ اُٹھا تھا اور اُس نے ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا۔

اُنھوں  نے اُسے کمرے میں  ہی بند کر کے رکھا۔

وہ جانتے تھے کہ اکیلا کمرے میں  بند ہونے پر وہ اپنے آپ کو مار مار کر زخمی کر لے گا۔

لیکن اُسے کھلا چھوڑنا اُس سے بھی زیادہ خطرناک ہو گا۔ وہ سویرا ہونے کی راہ دیکھنے لگے۔

دِن نکلتے ہی جیسے ہی اُنھوں  نے عادل کے کمرے کا دروازہ کھولا، عادل اُن کا گلا دبانے کے لئے دوڑا۔

"عادل ... ! چلو ..... میں  تمھیں  ناگ سے ڈسوانے لے چلتا ہوں۔"

یہ سنتے ہی عادل کا سارا غصہ، جوش ٹھنڈا پڑ گیا۔

وہ اُسے کار میں  بٹھا کر چل پڑے۔ عادل اُنھیں  راستہ بتاتا رہا۔

ایک جھونپڑپٹّی کے پاس تنگ و تاریک گلیوں  سے ہو کر وہ ایک ٹوٹے جھونپڑے کے پاس پہونچے۔

"ارے عادل سیٹھ ! اِس بار لیٹ ہو گیا ؟"

"چلو جلدی لاؤ ! مجھ سے برداشت نہیں  ہو رہا ہے۔ " عادل چیخا۔

"پہلے مال نکال .... ! " وہ آدمی بولا۔ عادل نے اُن کی طرف دیکھا۔ اُنھوں  نے پانچ ہزار روپے اُس آدمی کی طرف بڑھا دئے۔

وہ آدمی اندر گیا، واپس آیا تو اُس کے ہاتھ میں  ایک سانپ کی پٹاری تھی۔ عادل زبان باہر نکال کر کھڑا ہو گیا۔

اُس آدمی نے پٹاری کا ڈھکن کھولا۔اُس میں  سے ایک کالے ناگ نے پھن اُٹھایا، اُس نے چاروں  طرف دیکھا اور پھر عادل کی زُبان پر ڈس لیا۔

اُن کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

عادل کے منہ سے بھی چیخ نکلی مگر یہ مسرت اور لذت بھری چیخ تھی، وہ سر سے پیر تک پسینے میں  نہا گیا اور پھر لہراتا ہوا اُن کے ساتھ چل دیا۔

اُنھوں  نے جاتے ہوئے مڑ کر اُس آدمی اور پٹاری کے ناگ کو دیکھا۔

جس کا زہر اُن کے بیٹے کے لئے تریاق تھا۔