کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

۳۰ بچوں کی ماں

ایم مبین


گھر سے نکلنے میں  صرف ۱۰منٹ کی تاخیر ہوئی تھی اور سارے معمولات بگڑ گئے تھے۔

اُسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اب وہ پورے ایک گھنٹہ تاخیر سے ڈیوٹی پر پہونچے گی اور اِس ایک گھنٹہ میں  کیا کیا فسانے بن گئے ہوں  گے، اُسے اِس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا۔

سندھیا سے کسی بات کی توقع نہیں  تھی کہ وہ کچھ ایسا کرے جس سے کوئی نئی کہانی نہ بن پائے۔

چنٹو نے رو رو کے پورا کمرہ سر پر اُٹھا رکھا ہو گا۔ رونے کی وجہ سے اُس کی آنکھیں  سُرخ ہو کر سوج گئی ہوں  گی جو شام تک سوجی رہے گی۔

اُس کی آنکھوں  کو دیکھتے ہی شوانی اُس پر برس پڑے گی۔

"آج پھر چنٹو کو رُلا دیا ؟ میں  تم کو الگ سے پیسے کس بات کے دیتی ہوں  ؟ اگر تم چنٹو کے ساتھ بھی عام بچوں  کا سا سلوک کرو تو پھر عام بچوں  میں  اور چنٹو میں  فرق کیا ہے؟ میں  تمہاری سسٹر سے شکایت کر دوں  گی کہ تم مجھ سے الگ سے پچاس روپے لیتی ہو۔"

دھمکی ایسی تھی کہ جس کے تصور سے ہی وہ کانپ اُٹھتی تھی۔

اگر سسٹر کو پتہ چلا کہ وہ شوانی اور دُوسری عورتوں  سے بھی الگ سے پیسہ لیتی ہے تو وہ ایک لمحہ بھی اُسے کیئر ہوم میں  رکھنے نہیں  دے گی۔

اُس کی نوکری جاتی رہے گی۔ اور نوکری چلی گئی تو .... ؟

اس تصور سے ہی اُس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں  اُبھر آئیں۔ چنٹو کی عادت سی بن گئی تھی کہ وہ جیسے ہی ماں  سے بچھڑتا تھا، دہاڑیں  مار مار کر رونے لگتا تھا۔ صرف اُسی کی گود میں  بہل پاتا تھا۔

آج شوانی اُسے سندھیا کے پاس یہ سوچ کر چھوڑ گئی ہو گی کہ وہ تو تھوڑی دیر میں  آ جائے گی اور روتے چنٹو کو بہلا لے گی۔

لیکن بدقسمتی سے وہ آج ایک گھنٹہ لیٹ پہونچ رہی ہے۔

تھوڑی دیر سے آنکھ کھلی جس کی وجہ سے گھر سے نکلنے میں  دس منٹ لیٹ ہو گئی تھی جس کی وجہ سے جو بس اُسے ریلوے اسٹیشن تک لے جاتی تھی،چھوٹ گئی۔

دُوسری بس آنے میں  ۱۵منٹ لگ گئے۔

اسٹیشن پہونچی تو لوکل چھوٹ گئی تھی۔ دُوسری ٹرین ۱۵۔ ۲۰منٹ لیٹ آئی جو راستے میں  دس منٹ لیٹ ہو گئی۔ پھر ریلوے اسٹیشن سے کیئر ہوم کے لئے بس کا انتظار.....

ہر جگہ تاخیر .... تاخیر .... تاخیر!

اُسے پتا تھا اُس کے دیر سے آنے سے نہ تو سسٹر اُسے کچھ بولے گی اور نہ سندھیا۔

دونوں  کو پتا تھا کہ وہ کافی دُور سے آتی ہے۔ سات بجے ہوم پہونچنے کے لئے اُسے رات ساڑھے پانچ بجے گھر چھوڑنا پڑتا ہے۔ اِس کے باوجود وہ کبھی کبھار ہی لیٹ ہوتی تھی۔ اس میں  اِس کا عمل دخل نہیں  ہوتا تھا۔ لوکل یا بس لیٹ ہونے کی وجہ سے ہی تاخیر سے کیئر ہوم پہونچ پاتی تھی۔

اور پھر دِن بھر ۳۰بچوں  کی ماں  بن کر اُن کا خیال رکھتی تھی۔کبھی کبھی تو بچوں  میں  اِتنی اُلجھ جاتی تھی کہ دوپہر کا کھانا بھی نہیں  کھا پاتی تھی۔

روزانہ کا یہ معمول تھا جب بھی وہ دوپہر کا کھانا کھاتی تھی۔ اُس کی گود میں  کوئی نہ کوئی روتا ہوا بچہ ضرور ہوتا تھا۔ وہ کھانا بھی کھاتی اور بہلاتی بھی۔

کیئر ہوم میں  جتنے بھی گاہک تھے سب اُس سے خوش تھے۔

چھوٹے بچے تو زبان سے اِس کی خدمت کے بارے میں  اپنے ماں  باپ کو کہہ نہیں  پاتے تھے۔ لیکن جب وہ اُسے دیکھ کر ماں  کی گود سے اُس کی طرف ہاتھ پھیلا کر مسکراتے، لپکتے تھے تو ماں  باپ اندازہ لگا لیتے تھے وہ اُن کے بچوں  کا کتنا خیال رکھتی ہے۔

ہاں  بڑے بچے جو بول سکتے تھے وہ ماں  باپ سے تعریف کرتے تھے۔

"رادھا آنٹی بہت اچھی ہیں ، ہم سے بہت پیار کرتی ہیں ، ہمارا بہت خیال رکھتی ہے، ہم سے بڑی اچھی اچھی باتیں  کرتی ہیں۔"

اِس وجہ سے گاہکوں  میں  اُس کی امیج بہت اچھی تھی۔

لیکن کبھی کبھی کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو جاتی تھی جس کی وجہ سے اُس کی امیج کو دھکّا پہونچنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا تھا۔بلکہ اُسے اپنی نوکری بھی خطرے میں  محسوس ہوتی تھی۔

اور نوکری خطرے میں  پڑنے کے تصور سے ہی وہ کانپ اُٹھتی تھی۔

بوڑھے ماں  باپ، دو جوان بہنیں  اور دو نکمّے، آوارہ بھائیوں  کی نگہداشت کا سارا بوجھ اُسی پر تھا۔ سسٹر اُسے تنخواہ کے طور پر ۳  ہزار روپے دیتی تھی۔

اُسے اِس بات کا علم تھا کہ وہ اچھی سے اچھی غیر سرکاری نوکری بھی کرتی تو شاید اُسے اِتنی تنخواہ نہیں  ملتی۔ اِس کے علاوہ بچوں  کے ماں  باپ اُسے خوشی سے چالیس پچاس روپے ہر مہینہ دے دیتے تھے۔ یہ سوچ کر کہ اِس لالچ سے شاید وہ اُن کے بچے کا اچھی طرح سے خیال رکھے گی۔

اس نوکری کے چھوٹ جانے کا مطلب تھا پھر سے ایک بار بے کاری کے غار میں  بھٹکنا، ماں  باپ کی جھڑکیاں ، بہنوں  کے طعنے اور بھائیوں  کی گالیاں  سننا۔

گھر کے حالات کچھ ایسے ہو گئے تھے کہ اگر اُسے کسی کے گھر میں  برتن مانجھنے کا کام بھی مل جاتا تو وہ بھی کرنے کے لئے تیّار ہو جاتی۔

اس کے مقابلے تو یہ کافی اچھا، مختلف اور آمدنی والا کام تھا۔

اُسے کیئر ہوم میں  ۳۰بچوں  کی دیکھ بھال کرنی پڑتی تھی۔

شہر کی ایک بڑی سی رہائشی کالونی میں  سسٹر روزی نے یہ چلڈرن کیئر ہوم جاری کر رکھا تھا۔

اِس کالونی میں  زیادہ تر افراد نوکری پیشہ تھے۔ ان میں  سے کئی ایسے بھی تھے۔ دونوں  میاں  بیوی نوکری کرتے تھے۔ ان کے گھر میں  بچوں  کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں  تھا۔

بچے دو ماہ سے لے کر دس سال تک تھے۔

اُن بچوں  کو وہ کس کے سہارے اکیلے گھر میں  چھوڑ کر دُور دراز کے علاقوں  میں  نوکری کے لئے جائیں  ؟

پورے وقت کے لئے وہ نوکرانی نہیں  رکھ سکتے تھے۔ کیونکہ ایسے کاموں  کے لئے نوکرانیاں  اتنی تنخواہ کی مانگ کرتی تھیں  جو اُن کی کل تنخواہ کے نصف سے بھی زائد ہوتی تھی۔

ایسے تمام نوکری پیشہ افراد کا وہ واحد سہارا سسٹر روزی کا چلڈرن کیئر ہوم تھا۔

مائیں  اپنے بچے ڈیوٹی پر جاتے ہوئے کیئر ہوم میں  چھوڑ جاتی تھیں  اور شام کو ڈیوٹی سے واپس آتے ہوئے اُنھیں  واپس اپنے گھروں  کو لیکر جاتی تھیں۔

اِس طرح اس کیئر ہوم میں  روزانہ سیکڑوں  بچے آتے اور دِن بھر وہاں  رُک کر شام کو واپس اپنے گھروں  کو چلے جاتے تھے۔

ان بچوں  کی دیکھ بھال کے لئے سسٹر روزی نے کئی نوکرانیاں  رکھی تھیں۔وہ بھی اُن میں  سے ایک تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ سندھیا بھی تھی۔ دونوں  مل کر ۳۰بچوں  کا خیال رکھتی تھیں۔

سندھیا اور اُس میں  زمین آسمان کا فرق تھا۔

وہ ایک گریجویٹ، سلجھی ہوئی لڑکی تھی۔

لیکن سندھیا ایک جاہل، اُجڈ اور گنوارقسم کی عورت تھی۔

وہ سویرے۷  بجے سے رات کے ۸۔ ۹بجے تک ڈیوٹی دینے پر یقین رکھتی تھی، بچوں  کا کس طرح خیال رکھا جائے اُس نے سیکھا نہ تھا اور نہ اُسنے سیکھنے کی ضرورت محسوس کی تھی۔

"ارے ! میں  اپنے بچوں  کا اِس طرح سے خیال نہیں  رکھتی ہوں  تو کیا اِن لوگوں  کا خیال رکھوں۔ اُن کے ماں  باپ نے کیا اُنھیں  ہمارے لے جنا۔ پیدا کیا اُنھوں  نے اور یہاں  ہمارے پاس لا کر چھوڑ گئے۔"

"سندھیا تم اس کام کے پیسے بھی تو لیتی ہو ؟"

"بی بی میں  پیسے ان بچوں  پر نظر رکھنے کے لیتی ہوں۔ یہ کمرے کے باہر تو نہیں  جا رہے ہیں۔ کوئی اُنھیں  اغوا کرنے کی کوشش تو نہیں  کر رہا ہے ؟ رات دِن ان کی خدمت کرنے کے نہیں  ؟"

سندھیا کی باتوں  اور حرکتوں  سے اسے اُلجھن ہوتی تھی۔ اسے سندھیا کی نہ تو کوئی بات پسند تھی اور نہ کوئی حرکت۔ کبھی کبھی دِل میں  آتا تھا کہ وہ سسٹر سے اس کی شکایت کر دے یا پھر سسٹر سے کہہ کر سندھیا کے بدلے میں  کسی اور کو اپنے معاون کے طور پر مانگ لے۔

مگر اس کا انجام کیا ہو گا اُسے اس بات کا اندازہ تھا۔

ار وہ سسٹر سے سندھیا کی شکایت کرتی تو سسٹر اُسے فوراً اُسے اِس کام سے نکال دیتی۔

یا وہ سندھیا کے بدلے میں  کسی اور کو مانگ لیتی تو سندھیا جس کسی کے ساتھ رہتی اُ س کی حرکتوں  کی وجہ سے وہ سسٹر سے اُس کی شکایت ضرور کرتی اور سسٹر اُسے کام پر سے نکال دیتی۔

اور وہ نہیں  چاہتی تھی کہ سندھیا کی نوکری جائے۔

کیونکہ اُسے پتا تھا سندھیا بھی اُسی کی طرح بہت ضرورت مند ہے۔

اِسی نوکری پر اُس کا گھر چلتا تھا۔

اُس کا ایک آوارہ شرابی شوہر تھا جو کام نہیں  کرتا تھا لیکن روزانہ شراب پینے کے لئے اُس سے لڑ جھگڑ کر پیسے ضرور لے جاتا تھا۔ اُس کے چار بچے تھے۔ سب سے چھوٹا لڑکا ۲سال کا تھا۔وہ اُن سب کو اکیلا اپنے گھر چھوڑ کر آتی تھی۔ ان سب کا خیال اس کی بڑی لڑکی رکھتی تھی۔ جس کی عمر ۱۰سال کے قریب ہو گی۔

سندھیا کا اس نوکری سے نکال دیا جانا ان سب کے لئے بھکمری کا پیغام لے کر آتا۔ اس لئے وہ سندھیا اور اس کی حرکتوں  کو برداشت کئے جا رہی تھی۔

ان کے پاس جو ۳۰بچے تھے ان میں  سے تقریباً دس بچے ایک سال سے بھی کم عمر کے تھے۔چنٹو اور رنیتو صرف دو ماہ کے تھے۔ دس بچے پانچ سال سے کم کے تھے باقی پانچ سال سے بڑے تھے۔

بڑے بچے ان کے لئے کوئی مسئلہ نہیں  تھے۔

جب ان کے ماں  باپ اُنھیں  چھوڑ کر جاتے تھے تو ان کا اسکول کا بستہ ان کے ساتھ ہوتا تھا۔وہ بچے ایک کونے میں  بیٹھ کر پڑھائی کیا کرتے تھے، جب ان کی اسکول کا وقت ہو جاتا تو وہ دونوں  ان بچوں  کو یونیفارم پہنا کر تیار کرتیں  اور اسکول کی بس یا رکشا تک چھوڑ آتیں۔

ان میں  سے کچھ بچے اسکول چھوٹنے کے بعد سیدھے گھر چلے جاتے تھے۔کیونکہ تب تک ان کے ماں  باپ گھر واپس آ جاتے تھے۔کچھ بچے اسکول سے دوبارہ کیئر ہوم میں  آ جاتے تھے۔ کیونکہ ان کے ماں  باپ دیر سے گھر آتے تھے۔ اِس لئے وہ ڈیوٹی سے آ کر اُنھیں  کیئر ہوم سے لے کر جاتے تھے۔

پانچ سال کے بچے آپس میں  یا پھر کمرے میں  رکھے کھلونوں  سے کھیلا کرتے تھے۔

سب سے بڑا مسئلہ ۲ ماہ سے ۱  سال کی عمر کے جو بچے تھے، ان کا تھا۔ ایک ایک لمحہ ان کا خیال رکھنا پڑتا تھا۔ اُنھیں  وقت پر دُود ھ، دوائیں  یا دُوسری چیزیں  دینا۔ پیشاب، پاخانے کی صورت میں  اُن کے کپڑے تبدیل کرنا، رونے کی صورت میں  اُنھیں  بہلانا۔

پھر عام طور پر اس عمر کے بچے صرف ماں  باپ سے ہی بہلتے ہیں۔ ایک بار اگر رونا شروع کر دیں  تو پھر اُنھیں  بہلانا بہت مشکل ہوتا ہے۔

بڑے بچوں  کو تو مار کے خوف سے چپ کرایا جاسکتا ہے۔

لیکن اِس عمر کے بچوں  کے سامنے یہ ہتھیار بھی ناکارہ ثابت ہوتا تھا۔ ایسی بچوں  کا وہ ماں  بن کر خیال تو رکھ سکتی تھی لیکن ماں  نہیں  بن سکتی تھی۔ بچے ماں  کے لمس سے ہی چپ ہو جاتے ہیں۔ بھلے وہ اُنھیں  لاکھ ماں  سا لاڈ، پیار، دُلار دے لیکن ماں  کا لمس کیسے دے سکتی تھی۔جس سے وہ آشنا تھے۔

اُسے پتا تھا اگر اس نے کسی بھی بچے کو سنھالنے میں  ذرا بھی لاپرواہی کی تو اِس کی سزا اسے ہی بھگتنی پڑے گی۔

راہیہ کو ہر ایک گھنٹے کے بعد دوا دینی پڑتی تھی۔ اگر اس نے اسے باقاعدگی سے دوا نہیں  دی تو وہ بیمار ہو جائے گی۔ راہیہ کی ماں  صرف رات بھر اسے سنبھالے گی۔دُوسرے دِن وہ اس کے پاس چھوڑ کر جائے گی اور دُوسرے بچوں  کے ساتھ بیمار راہیہ کو اسی کو سنبھالنا پڑے گا۔ گوتم کو ہر ایک گھنٹے پر دُودھ دینا پڑتا تھا۔ اگر اُسے دودھ نہ ملے تو وہ رو رو کر سارا کمرہ سر پر اُٹھا لیتا تھا۔ اور اُسے روتا دیکھ کر دوسرے بچے بھی رونے لگتے تھے۔بچوں  کو یہ عادت ہوتی ہے کہ اگر وہ کسی کو روتا ہوا دیکھتے ہیں  تو خود بھی رونا شروع کر دیتے ہیں۔

اِس سے بہتر تھا کہ ۱۵۔ ۲۰ روتے ہوئے بچوں  کو سنبھالنے کے بجائے گوتم نہ روئے اس بات کی ترکیب کی جائے۔

نِکیتا صرف۸  مہینے کی ہے۔اس کا باپ اسے وہاں  چھوڑ جاتا ہے۔ اور اسے لینے کے لئے بھی آتا ہے۔اس کی ماں  جب وہ ۵مہینے کی تھی تو کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی۔ ا ب اس کا باپ ہی ماں  بن کر اس کی پرورش کر رہا ہے۔

اشونی کی صرف ماں  ہے۔اُس کے باپ نے کسی اور کے ساتھ دُوسری شادی کر لی ہے۔ مجبوراً اپنا گھر چلانے کے لئے اس کی ماں  کو نوکری کرنی پڑی۔ وہ آٹھ مہینے کا ہے۔اس کی ماں  اس کے پاس اشونی کو چھوڑ کر نوکری کرنے جاتی ہے۔

جب ماں  باپ کیئر ہوم میں  بچے چھوڑ کر جاتے ہیں  تو ان کے لئے سیکڑوں  ہدایتیں  دے جاتے ہیں۔

"ہر دو گھنٹے کے بعد دُودھ پلاتی رہنا، دوا باقاعدگی سے دینا، اگر پاخانہ یا پیشاب کرے تو فوراً صاف کر دینا، زیادہ دیر کھلا رہنے سے اُسے سردی ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر نے سختی سے منع کیا ہے تو بچے کو سردی نہیں  ہونی چاہئے۔ اس بار سردی ہوئی تو اسے نمونیہ ہونے کا ڈر ہے۔ دوپہر کو کپڑے بدل کر کاجل پاؤڈر لگا دینا۔ شام کو بچہ اچھی حالت میں ہونا چاہئے۔ اسے راہل سے دُور رکھنا، راہل بیمار ہے کہیں  اس کی بیماری اسے نہ لگ جائے۔

چھوٹے بچوں  کے لئے تو ہدایتیں  تھیں۔ بڑے بچوں  کے لئے کوئی ہدایتیں  نہیں  ہوتی تھیں۔ کیونکہ بچے خود ہدایت دیتے تھے۔

"ممی نے کہا ہے۔ ۱۱بجے دوائی دیجئے گا۔"

"ممی نے کہا ہے۔۱۰  بجے وہ چاکلیٹ کھا لینا جو اُنھوں  نے دی ہے۔"

"ممی نے کپڑے بدل کر نہلانے کے لئے کہا ہے۔"

بچے خود فرمائش کرتے، ایسے بچوں  کی فوراً فرمائش پوری کرنی پڑتی تھی۔ نہ کرنے کی صورت میں  وہ باپ سے شکایت کر دیتے، ماں  باپ اُسے باتیں  سناتے اور سسٹر روزی کو بھی شکایت کر دیتے اور اسے سسٹر روزی کی بھی باتیں  سننی پڑتیں۔ ان تمام خوف اور ڈر سے بے نیاز کوئی تھا تو وہ سندھیا۔

ہر بچے سے وہ پوچھتی۔

"اے آج ٹفن میں  کیا لایا رے ؟"

اگر بچے کے ٹفن میں  کوئی اچھی چیز رہتی تو وہ اسے خود کھا جاتی تھی۔ بچوں  کے چاکلیٹ بسکٹ بھی آدھے سے زیادہ خود کھا لیتی تھی۔ ذرا ذرا سی بات پر بچوں  کو بری طرح مارتی تھی اور اُنھیں  دھمکاتی بھی تھی۔ اگر اُنھوں  نے اپنے ماں  باپ سے شکایت کی تو کل اس سے زیادہ مار پڑے گی۔

اس دھمکی کے بعد بچے شکایت نہیں  کرتے تھے۔اگر کسی نے کچھ کہہ دیا اور اسے باتیں  سننی پڑتی تھی تو دُوسرے دِن اس بچے کو اس بری طرح مارتی تھی کہ وہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں  کرتا تھا۔

اُسے یہ سب اچھا نہیں  لگتا تھا۔

اُس کی سوچ الگ تھی۔

اُسے ماں  باپ کے دِلوں  کا پتا تھا۔

ماں  باپ اپنے بچوں  کو ایک لمحہ کے لئے بھی کبھی جدا نہیں  کرتے تھے۔ اگر وہ جدا کرتے بھی ہیں  تو ان کی کوئی نہ کوئی مجبوری ہوتی ہے۔ جو ماں  باپ اپنے بچوں  کو ان کے پاس چھوڑ جاتے ہیں  وہ سب مجبور ہیں۔ پیٹ کی خاطر، روزی، روٹی کی خاطر وہ اتنا بڑا پتھر اپنے دِل پر رکھتے ہیں۔

ایسے میں  ان ماں  باپ کے جذبات سے کیوں  کھیلا جائے۔

سسٹر روزی ان بچوں  کو سنبھالنے کے اسے پیسے دیتی ہے۔

پھر اپنے کام سے ایمانداری کیوں  نہ برتی جائے۔ بے ایمانی برت کر کیا حاصل ؟

اُس کی شادی نہیں  ہوئی تھی۔

وہ ماں  نہیں  بنی تھی۔ لیکن ان ۳۰بچوں  کو سنبھالتے ہوئے کب وہ ان ۳۰بچوں  کی ماں  بن گئی تھی اسے بھی پتہ نہیں  چل سکا تھا۔