کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دہشت کا ایک دِن

ایم مبین


جب وہ گھر سے نکلا تو سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا۔

بلڈنگ کا واچ مین اُسے دیکھ کر کھڑا ہو گیا اور اُس نے اُسے سلام کیا۔ اُس نے سر کے اِشارے سے اُس کے سلام کا جواب دیا۔ آگے بڑھا تو ایس۔ ٹی۔ ڈی میں  بیٹھے ساجد نے اُسے سلام کیا، خلاف معمول اُس دِن اُس کے پی۔ سی۔ او پر بہت زیادہ بھیڑ تھی اور زیروکس نکالنے والوں  کی بھی قطار لگی تھی۔ کلاسک آئیل ڈپو میں  بیٹھے گڈو نے اُسے سلام کیا۔ اُن کے سلام کا جواب دیتا جب وہ سیڑھیوں  سے نیچے اُترا۔

سامنے آلو پیاز والے دوکانداروں  کی شناسا صورتیں  دِکھائی دیں۔ اور وہی رکشا، ہاتھ گاڑی، موٹر سائیکل، اسکوٹروں  کی ریل پیل اور اُن کے ہارن کا شور اُن کے درمیان سے راستہ بناتا وہ بڑی مشکل سے آگے بڑھا۔

بسم اللہ چکن سینٹر پر چکن خریدنے کے لئے لوگوں  کی قطار لگی تھی۔ ایک تختی پر آج کا نرخ لکھا تھا۔ لٹکتی تختی ہوا کے ساتھ گول گول گھوم رہی تھی۔

اُس کے سامنے والی چکن کی دُکان پر نرخ ایک روپیہ کم تھا۔

سدگرو ہوٹل کے باہر مٹھائی بنانے والا پیاز کے بھجئے تل رہا تھا۔ بڑے سے طباق میں  وہ جلیبیاں ، وڑے اور آلو کے پکوڑے پہلے ہی تل چکا تھا۔ گلزار کولڈرنک میں  اِکّا دُکّا گاہک بیٹھے مشروب کا مزہ لے رہے تھے۔

برف کی گاڑی آ گئی تھی، برف کی بڑی بڑی لادیاں  اُس پر سے اُتاری جا رہی تھیں۔ برف لینے والوں  کی بھیڑ تھی۔ جیسے ہی کوئی گاہک برف کی قیمت ادا کرتا، دو آدمی بڑی آہنی قینچی میں  برف کی لادی پکڑ کر اُس کے رکشا میں  رکھ آتے۔

ماموں  ابوجی کی دوکان پر دُودھ لینے والوں  کی بھیڑ لگی تھی۔ اُس کے سر پر دُودھ کے نرخ کی تختی ہوا سے گھوم رہی تھی۔

"۳ !روپیہ پاؤ، ۱۱۰  روپیہ کا ایک کلو، تین روپیہ پاؤ، دس روپیہ ایک کلو۔" ٹماٹر فروخت کرنے والے زور زور سے آوازیں  لگا رہے تھے۔

"بھائی السلام وعلیکم ! " آواز لگاتے، لگاتے انور اور شکیل نے حسب معمول اُسے سلام کیا۔ سلام کا جواب دے کر خود کو بھیڑ کے دھکّوں  اور نیچے کے کیچڑ سے بچاتا وہ آگے بڑھا۔

رکشہ کی قطار میں  کھڑے عزیز ..... نے اُسے سلام کیا۔

آگے بڑھا تو پولس اسٹیشن کے باہر کئی سپاہی کھڑے تھے اور ایک سپاہی اُنھیں  اُن کی ڈیوٹی کا ایریا بتا رہا تھا۔

"نمسکار صاحب ! " ایک کانسٹبل نے اُسے سلام کیا۔

"ارے پوتدار ! چلو۔ "اُس نے جواب دیا۔

"نہیں  آج میری ڈیوٹی نہیں ہے، شاید کوئی دُوسرا سپاہی آئے۔ " سپاہی نے جواب دیا۔

مرچی والوں  کی دُکان کے پاس سے گزرتے ہوئے اُسے کھانسی آ گئی۔ اُس نے کھانسی پر قابو پایا اور آگے بڑھا۔ سنگم جویلرس کی دوکان بھی کھل گئی تھی۔ راج دیپ ہوٹل کے کاؤنٹر پر بیٹھے سندیپ نے اُسے نمسکار کیا اور باہر پوری بھاجی بنانے والے آدمی کو گالی دیتے ہوئے اُسے جلد آرڈر کا مال بنانے کے لئے کہا۔

سنیما کی گلی سے ہوتا وہ پوسٹ آفس تک آیا۔ پوسٹ آفس کے باہر منی آرڈر، رجسٹر کرنے والوں  کی بھیڑ تھی۔ سعیدی ہوٹل کے باہر دوچار آوارہ لڑکے بیٹھے آنے جانے والوں  کو چھیڑ رہے تھے اور آنے جانے والی عورتوں  اور لڑکیوں  پر بھدے فقرے کس رہے تھے۔

اُن سب سے گزر کر وہ وقت پر آفس پہونچ گیا اور آفس کے کاموں  میں  لگ گیا۔

آفس میں  اُس دِن زیادہ بھیڑ تھی، کام کا لوڈ بھی زیادہ تھا۔ایک، ایک آدمی کو نپٹاتے ہوئے کب دو تین گھنٹے گزر گئے پتا ہی نہیں  چل سکا۔

اچانک اُس کے ایک ساتھی موہن کو اُس کے بھائی کا فون آیا۔

فون پر بات کرنے کے بعد جب اُس نے ریسیور رکھا تو اُس کے چہرے پر ہوائیاں  اُڑ رہی تھیں۔

"کیا بات ہے ؟ " اُس نے موہن سے پوچھا۔

"بھائی کا فون تھا۔ ناکے پر کسی وکیل کو گولی ماردی گئی ہے۔ وہ جگہ پر ہی مرگیا۔ شہر میں  بھگدڑ مچ گئی ہے۔ دوکانیں  بند ہو رہی ہیں۔گڑ بڑ ہونے کا اندیشہ ہے،اُس نے کہا ہے کہ میں  آفس سے آ جاؤں۔"

یہ بات سن کر اُس کے ماتھے پر بھی شکنیں  اُبھر آئیں۔ اُس نے سوالیہ نظروں  سے باس کی طرف دیکھا۔

"میں  فون لگا کر تفصیلات معلوم کرتا ہوں۔ " کہتے ہوئے باس نے ریسیور اُٹھایا۔

دو تین نمبر ڈائل کر کے جھلّا کر ریسیور رکھ دیا۔

"ٹیلی فون ڈیڈ ہو گیا ہے۔"

تھوڑی دیر بعد پیون بھی واپس آگیا۔ وہ کسی کام سے باہر گیا تھا۔

"کیا ہوا جادھو ؟ "اُس نے پوچھا۔

کچھ سمجھ میں  نہیں  آ رہا ہے پورے شہر میں  بھگدڑ مچی ہوئی ہے۔ کسی وکیل کو گولی مار دی گئی ہے۔ دوکانیں  بند ہو رہی ہیں ، لوگ اِدھر اُدھر بدحواسی سے بھاگ رہے ہیں۔ پتا چلا ہے کہ رکشا اور گاڑیوں  پر پتھراؤ کیا جا رہا ہے۔ میری آنکھوں  کے سامنے چار پانچ کانچ پھوٹی رکشا آئی۔ سب سے زیادہ لفڑا نذرانہ کی طرف ہے۔"

"نذرانہ .... ! " یہ سنتے ہی باس کے چہرے پر ہوائیاں  اُڑنے لگیں۔ میری بیٹی اِس وقت وہاں  ٹیوشن کے لئے گئی ہو گی۔

اور وہ گھبرا کر پھر ریسیور اُٹھا کر ٹیلی فون ڈائل کرنے لگا۔ اتفاق سے ٹیلی فون لگ گیا۔

"مینا کہاں  ہے ؟ " ٹیوشن کے لئے گئی ہے۔ " ٹیوشن کا وقت تو ختم ہو گیا، وہ ابھی تک واپس کیوں  نہیں  آئی، سنا ہے اُس علاقے میں  بہت گڑبڑ چل رہی ہے ؟ فوراً کسی کو بھیجو اور اُسے ٹیوشن کلاس سے لے آؤ۔ " کہتے اُس نے ٹیلی فون کا ریسیور رکھ دیا۔ لیکن اُس کے چہرے پر تفکّر کی شکنیں  تھیں۔

اِس کے بعد اُس نے گھر ٹیلی فون لگا کر حالات معلوم کرنے کی کوشش کی تو ٹیلی فون ڈیڈ ہو چکا تھا۔ آفس سے باہر جھانکا تو ساری دوکانیں  بند ہو گئی تھیں ، سڑکیں  سنسان ہو گئی تھیں ، سڑکوں  پر کوئی سواری دِکھائی نہیں  دیتی تھی۔ لوگ دو دو چار چار کی ٹولیاں  بنا کر آپس میں  باتیں  کر رہے تھے۔

"کیا کیا جائے ؟ " اُس نے باس سے پوچھا۔ " آفس بند کر دیا جائے۔"

"بالکل بند کر دیا جائے جلدی سے باقی بچے کام نپٹا لیجئے۔ " باس نے کہا اور پھر گھر فون لگانے کی کوشش کرنے لگا۔

"جادھو ! سامنے سے نسیم سے موبائیل لے کر آؤ۔ شاید اُس سے رابطہ قائم ہوسکے۔ " اُس نے پیون سے کہا۔

جادھو نے موبائیل فون نہیں  لایا، خود نسیم موبائیل فون لے کر آگیا۔

"صاحب سارے ٹیلی فون ڈیڈ ہو گئے ہیں ، میں  بھی کئی جگہ فون لگانے کی کوشش کر رہا ہوں ، آپ کو کون سا نمبر لگانا ہے ؟"

باس نے نمبر بتایا نسیم نے نمبر لگانے کی کوشش کی مگر نمبر نہیں  لگا۔

"لگتا ہے سارے شہر کے ٹیلی فون بند کر دئے گے ہیں۔"

سب کام ختم کرنے میں  لگ گئے۔ اُس نے دوچار بار گھر فون لگانے کی کوشش کی اتفاق سے ایک بار لگ گیا۔

"کیا صورتِ حال ہے ؟ " اُس نے پوچھا۔

"یہاں  پر گڑبڑ ہے۔ ساری دُکانیں  بند ہو گئی ہیں۔ سڑک کی دونوں  طرف ہزاروں  افراد کی بھیڑ ہے، جو ایک دُوسرے کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں ، پتھراؤ بھی ہو رہا ہے معاملہ کبھی بھی بگڑ سکتا ہے۔"

"میں  گھر آؤں  ؟ " اُس نے پوچھا۔

"گھر آنے کی حماقت بھول کر بھی نہیں  کرنا۔ سارے راستے بند ہیں ، راستوں  پر لوگوں  کی بھیڑ ہے اور جوش میں  بھری بھیڑ کبھی بھی کچھ بھی کر سکتی ہے۔ آپ جہاں  ہیں  وہیں  رہیں۔ جب حالات معمول پر آ جائیں  گے تو آ جانا۔ ورنہ آنے کی کوئی ضرورت نہیں  ہے۔ آفس کے آس پاس آپ کے بہت دوست ہیں ، کسی کے پاس بھی رُک جائیے اور مجھ سے رابطہ قائم رکھئے۔ " بیوی نے جواب دیا۔

اُس نے ریسیور نیچے رکھا۔

آفس بند کرنے کی تیاری ہو گئی تھی۔ موہن کا بھائی اسکوٹر لے کر آگیا تھا۔

"چلو میں  چلتا ہوں۔"

"سنو۔ " اُس نے کہا۔ " پرانے پل کے راستے نہیں  جانا،اُدھر خطرہ ہے۔"

"نہیں  میں  پل کے راستے ہی آؤں  گا۔ " موہن نے کہا۔

صاحب اور جادھو بھی آفس بند کر کے جانے کی تیّاری کر رہے تھے، اُن کے گھر آفس سے کافی قریب تھے۔

"تم کیا کرو گے ؟ " باس نے پوچھا۔

"بیوی کو فون کیا تھا، وہ کہتی ہے میں  گھر واپس آنے کی حماقت نہ کروں۔ سارے راستے بھیڑ سے بھرے ہیں ، لوگوں  کے ہاتھوں  میں  ہتھیار ہے، پتھراؤ ہو رہا ہے، راستے میں  کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ میں  جن راستوں  سے گزر کر گھر پہونچتا ہوں ، وہاں  تو بہت زیادہ تناؤ ہے اور پھر اُن علاقوں  کا ہر فرد مجھے پہچانتا ہے۔ ذرا سی گڑبڑی کی صورت میں  میری جان کو خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔"

"تو میرے گھر چلو، جب حالات معمول پر آ جائیں  تو گھر چلے جانا۔ " باس بولا

نہیں  میں  یہاں  رُکتا ہوں۔ اگر ضرورت پڑی تو آپ کے گھر آ جاؤں  گا۔ " آفس بند کر دیا گیا۔ باس اور جادھو چلے گئے۔ وہ آفس کے سایے میں  کھڑا ہو گیا۔

اُسی وقت سامنے سے مصطفیٰ آتا دِکھائی دیا۔

"مصطفیٰ کیا بات ہے ؟ " اُس نے پوچھا

"آپ کی طرف ہی آ رہا تھا جاوید بھائی ! پورے شہر میں  گڑبڑ چل رہی ہے۔ آپ کا گھر جانا ٹھیک نہیں  ہے، چلئے میرے گھر چلئے۔ رات میں  بھی میرے گھر ہی رُک جانا۔ میں  نے بھابھی کو فون کیا تھا۔ بھابھی نے کہا ہے کہ میں  آپ کو گھر جانے نہ دوں۔ اپنے گھر روک لوں۔ وہاں  بہت گڑبڑ ہے۔"

وہ باتیں  کرتا مصطفیٰ کے ساتھ اُس کے گھر چل دیا۔

"گڑبڑ شروع کیسے ہوئی ؟"

"پتہ نہیں  ! وہ وکیل شہر کے چوراہے سے ہوتا کورٹ جا رہا تھا۔ اچانک دو موٹر سائیکل سواروں  نے اُسے روک کر اُس کے سر میں  گولی مار دی، وہ وہیں  ڈھیر ہو گیا۔ ہو گی کوئی پرانی دُشمنی یا گینگ وار کا چکّر۔وہ وکیل ویسے بھی اِس طرح کے کالے کارناموں  میں  ملوث تھا اور کافی بدنام تھا۔ لیکن ایک سیاسی جماعت کے کیس کی پیروی بھی وہی کرتا تھا۔ اِس لئے اس جماعت نے اسے سیاسی اور پھر فرقہ ورانہ رنگ دے دیا۔ دوکانیں  بند کرانے لگے۔ دوکانیں  بند نہ کرنے والے دوکانداروں  کو مارتے پیٹتے اور اُن کی دوکانوں  پر پتھراؤ کرتے۔ سامنے جو بھی رکشا آتی اُس کو روک کر اُس کے رکشا ڈرائیور کو مارتے، رکشا کی کانچ پھوڑ دیتے، اُسے اُلٹ کر آگ لگا دیتے۔ خاص طور پر داڑھی والے ڈرائیورس کو نشانہ بناتے۔ " غصے سے اُس نے اپنے ہونٹ بھینچے۔

یہ بھی کوئی طریقہ ہے، معاملہ معمولی سا ہے۔ ذاتی دُشمنی یا کسی اور وجہ سے قتل ہوا ہو گا۔ اُسے فوراً سیاسی اور فرقہ وارانہ رنگ دے کر شہر کا امن غارت کیا جائے اور شہریوں  کی جان و مال سے کھیلا جائے۔

اُس نے مصطفیٰ کے گھر دوپہر کا کھانا کھایا۔

اور دوبارہ گھر فون لگانے کی کوشش کی، لیکن فون بند ہونے کی وجہ سے رابطہ قائم نہیں  ہوسکا۔

ایک گھنٹے بعد اچانک رابطہ قائم ہو گیا۔

"یہاں  بہت گڑبڑ ہے۔ " بیوی بتانے لگی۔ " ہم بلڈنگ کے ٹیرس پر گئے تھے، آس پاس ہزاروں  لوگ جمع ہیں۔ وہ حملہ کرنے کی تیّاریوں  میں  ہیں۔ سامنے والی مسجد پر پتھراؤ ہو رہا ہے۔ اسلامی ہوٹل پر پتھراؤ کیا گیا تھا اور اُسے لوٹنے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن اُس ہوٹل کی گلی میں  ہزاروں  لڑکے جمع ہو گئے تھے۔ اُنھوں  نے جوابی پتھراؤ کیا تو حملہ آور بھاگ گئے۔ لیکن دونوں  طرف سے سخت نعرے بازی جاری ہے اور پتھراؤ بھی ہو رہا ہے۔ حالات کبھی بھی بگڑ سکتے ہیں۔ آپ اِس طرف آنے کی قطعی حماقت مت کیجئے۔ رات میں  بھی مصطفیٰ کے گھر ہی رُک جائیے۔"

"دیکھو اگر بلڈنگ کو خطرہ محسوس ہو تو تم بچوں  کو لے کر اپنے میکے چلی جانا۔"

"ویسے تو بلڈنگ کو خطرہ نہیں  ہے لیکن جس طرح سامنے لوگ جمع ہیں ، کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا کچھ ہوا تو میں  اس سے پہلے ہی بچوں  کو لے کر میکے چلی جاؤں  گی۔ " بیوی نے جواب دیا۔

بیوی کا میکہ زیادہ دُور نہیں  تھا اور وہ گھر سے نسبتاً محفوظ راستوں  پر تھا۔ اِس لئے اُسے اِس بات کا اطمینان تھا۔ بیوی بچوں  کو لے کر آرام سے میکے پہونچ جائے گی جو کافی محفوظ علاقہ ہے۔ لیکن اپنے گھر کا کیا ؟

کچھ گڑبڑ ہوئی تو اُسے لٹنے اور جلنے سے کوئی نہیں  روک سکتا۔ اُنھیں  وہ مکان لئے آٹھ مہینے بھی نہیں  ہوئے تھے۔ ساری زندگی کی کمائی، زیورات اور بینک کا قرض لگا کر اُنھوں  نے وہ مکان لیا تھا اور دھیرے دھیرے اُس میں  ضرورت کی ہر چیزسجایا تھا۔ اگر وہ لوٹ لیا گیا یا جلا دیا گیا تو ؟

اُس کا دِل تیزی سے دھڑکنے لگا اور ماتھے پر پسینے کو بوندیں  اُبھر آئیں ،مصطفیٰ نے ٹی وی لگایا۔

ٹی وی کے ہر چینل پر شہر میں  ہونے والے ہنگاموں  کی خبریں  آ رہی تھی۔ شہر میں  ایک وکیل کے قتل کے بعد ایک سیاسی پارٹی کے ورکروں  کا شہر میں  ہنگامہ، پتھراؤ اور توڑ پھوڑ۔

پہلے اُس وکیل کا تعلق اس سیاسی پارٹی سے اس حد تک بتایا گیا کہ وہ اس پارٹی،جماعت،کے کیسوں  کی پیروی کرتا تھا۔

پھر خبروں  میں  اُس وکیل کو اِس سیاسی جماعت کا ورکر بتایا گیا۔

اور آخر میں  اُسے اسی سیاسی جماعت کا صدر بنا دیا گیا۔

"ایک سیاسی جماعت کے صدر وکیل کے قتل کے بعد شہر میں  سخت تناؤ، پتھراؤ کی وارداتیں ، دُکانیں  لوٹنے، چھرے بازی کی وارداتیں۔ امول کاٹیکر نامی ایک شخص کو ایک ہجوم نے مار مار کر اَدھ مرا کر دیا۔ شری پروویژن نامی دوکان جلادی گئی،مہادیو میڈیکل لوٹ لی گئی۔ " جیسی خبریں  ہر چینل دینے لگا اور تناؤ اور تشدد میں  اضافہ کرنے لگا۔

حالات سنگین ہوتے جا رہے تھے۔ اُس کا دِل ڈوب رہا تھا۔ اُسے لگا شہر بارُود کا ڈھیر بن چکا ہے اور اب وہ پھٹا ہی چاہتا تھا۔ آنکھوں  کے سامنے گجرات کے فسادات کے واقعات اور خبریں  گھوم رہی تھیں۔ لوگوں  کو زندہ جلایا جانا، چن چن کر لوگوں  کو مارنا، اُن کی اِملاک تباہ و برباد کرنا، اُن کے مکانوں ، عبادت گاہوں  کو مندروں  میں  تبدیل کرنا۔

اُسے ایسا محسوس ہو رہا تھا، اگر ایسا ہی کچھ یہاں  بھی شروع ہو گیا تو اس سے زیادہ خوفناک واقعات یہاں  پیش آسکتے ہیں۔ ممکن ہے کچھ لوگ گجرات کا اِعادہ کرنا چاہیں  تو کچھ گجرات کا بدلہ لینا چاہیں۔ دونوں  صورتوں  میں  جو کچھ ہوسکتاہے اس کا تصور بھی نہیں  کیا جاسکتا۔

اُس کا دِل ڈوبنے لگا اور آنکھوں  کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا۔ کیا یہی ہمارا مقدر بن گیا ہے ؟

باہر لوگوں  کی بھیڑ ٹولیوں  کی شکل میں  جگہ جگہ جمع تھی۔ ہر کوئی پلان بنا رہا تھا۔ اگر فساد شروع ہو گیا تو کیا کیا جائے۔ کچھ بچاؤ کی ترکیبیں  سوچ رہے تھے۔تو کچھ لوٹ مار کا پلان بنا رہے تھے۔ تو کچھ جوابی کاروائی اور حملہ کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔جو لوگ اس جگہ کو غیر محفوظ سمجھ رہے تھے وہ اس جگہ کو چھوڑ کر محفوظ علاقوں  کی طرف جا رہے تھے۔

کچھ جگہوں  پر پولس کا نام و نشان بھی نہیں  تھا اور کچھ جگہوں  کو پولس چھاؤنی میں  تبدیل کر دیا گیا تھا۔ایسا کچھ لوگوں  کی حفاظت کے لئے کیا گیا تھا۔ تو کچھ علاقوں  کے لوگوں  کو پوری طرح آزاد چھوڑ دیا گیا تھا، وہ جو چاہے کر سکتے ہیں ، اُن کو روکنے والا کوئی نہیں  ہے۔ تو کچھ علاقوں  کو اِس طرح سیل کر دیا گیا تھا کہ ان مقاموں  پر پرندہ بھی پر نہیں  مار سکتا ہے اور وہ کچھ نہیں  کر سکتے ہیں۔

شہر سے ناخوش گوار واقعات کی خبریں  آ رہی تھیں۔

ہر خبر کے بعد ایسا محسوں  ہوتا تھا جیسے حالات سنگین سے سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔ تناؤ اور تشدد جاری ہے۔ اُس نے کئی بار گھر فون لگانے کی کوشش کی لیکن رابطہ قائم نہیں  ہوسکا جس کی وجہ سے اُس کی تشویش بڑھتی جا رہی تھی۔بیوی گھر میں  اکیلی ہے، اُسے میکے جانے کے لئے کہا تھا۔ پتا نہیں  وہ میکے گئی بھی یا نہیں ، اُسے میکے چلے جانا چاہئے، لیکن وہ جائے گی نہیں ، اُس کی جان اُس کے گھر میں  اٹکی ہے۔

اِتنی مشکلوں ،اور مصیبتوں  سے اُنھوں  نے اپنا گھر بنایا تھا، گھر کی ایک ایک چیز میں  اپنا خون پسینہ لگایا تھا۔ گھر کی ہر اینٹ میں  اُن کے ارمان، خواب چنے ہوئے تھے۔ بھلا وہ اِس گھر کو چھوڑ کر جاسکتی ہے ؟ اُسے ڈر ہو گا کہ اُس کے سارے یہ ارمان، خواب جلا کر راکھ نہ کر دئے جائیں۔

لیکن اگر وہ ایسا سوچ رہی ہو گی تو وہ بے وقوف ہے اگر وہ گھر میں  رہی تو نہ گھر کو بچا سکے گی اور نہ اپنے آپ کو نہ اپنے بچوں  کو۔

ایک اکیلی کمزور عورت بھلا کس طرح اپنے آپ کو بچا سکتی ہے۔ ہزاروں  واقعات اس کے ذہن میں  گردِش کر رہے تھے۔ ایسی عورتوں  کو ہوس کا شکار بنا کر زندہ جلا دیا گیا بچوں  کو سنگینوں  اور ترشول سے چھید کر جلا دیا گیا۔

"نہیں  ....... ! " بے ساختہ اُس کے منہ سے چیخ نکل گئی۔

"کیا ہوا ؟ " مصطفیٰ نے چونک کر اُس سے پوچھا۔

"کچھ نہیں ، ایک بھیانک خواب دیکھ رہا تھا۔"

"جاگتے ہوئے بھی ؟ " مصطفیٰ مسکرایا۔

"جو کچھ ہو رہا ہے، وہ بھیانک خواب سے بھی بدتر ہے۔ ایسے میں  جاگنا اور سوناسب برابر ہے۔ " اُس نے کہا۔

مصطفیٰ اُس کی بات کو سمجھ نہیں  سکا۔

شام کو اُس نے طے کیا کہ وہ تھوڑی دُور تک حالات کا جائزہ لے کر آئے گا۔

مصطفیٰ نے اُسے ایسا کرنے سے روکا کہ وہ گھر جانے کی حماقت بھری کوشش نے کرے۔ لیکن اُس نے اُسے یقین دِلایا کہ وہ گھر جانے کی کوشش نہیں  کرے گا۔

تھوڑی دُور گیا تو اُسے ایک شناسا مل گیا۔

"جاوید بھائی ! گھر جانے کی آپ کوشش نہ کریں۔ اس میں  بہت خطرہ ہے۔ آپ کا گھر جن راستوں  پر ہے وہ خطروں  سے بھرے ہیں ، بہتر ہے کہ آپ رات یہاں  ہی رُک جائیے۔ ویسے تو حالات معمول پر آ گئے ہیں  لیکن کچھ کہا نہیں  جاسکتا کب کیا ہو جائے۔"

"نہیں  ! میں  گھر جانا نہیں  چاہتا ہوں  بس یوں  ہی تھوڑی دُور تک ٹہل کر واپس آ جاؤں  گا۔"

"ویسے اگر آپ محفوظ راستوں  سے گھر جانا چاہیں  تو جاسکتے ہیں۔ ان راستوں  پر کوئی خطرہ نہیں  ہے۔ آئیے میں  آپ کو گھر چھوڑ دوں۔

اُس نے موٹر سائیکل پر بٹھایا اور محفوظ راستوں  سے وہ گزرنے لگے۔ ان راستوں  اور محلوں  سے گزرتے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہاں  بہت کچھ ہوا ہے۔ سیاسی لیڈر اور بزرگ بھیڑ کو سمجھا کر روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔

گھر کے قریب پہونچا تو پیچھے والی گلی ہزاروں  لوگوں  سے بھری تھی۔ جنھیں  دو لیڈران سمجھا کر خود پر قابو رکھنے کے لئے کہہ رہے تھے۔

گھر آیا تو بیوی بھڑک اُٹھی۔

"اِتنا سمجھانے کے بعد بھی آپ نہیں  مانے ؟ جان خطرے میں  ڈال کر چلے آئے۔"

"نہیں ، ایک پہچان والا مل گیا تھا اُس نے محفوظ راستوں  سے موٹر سائیکل پر لا کر چھوڑا۔"

رات تک حالات معمول پر آ گئے تھے۔

یہ طے تھا رات دہشت اور تناؤ میں  گزرے گی۔

لیکن دہشت کا ایک دِن تو بیت گیا تھا۔