کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

یودھا

ایم مبین


حوالات میں  جو شخص داخل ہوا اُسے دیکھ کر دونوں  حیرت میں  پڑ گئے۔

"مگن بھائی ..... ! " دونوں  کے منہ سے نکلا۔اپنا نام سن کر مگن بھائی نے چونک کر اُنھیں  دیکھا اور پھر گھور اُنھیں کر پہچاننے کی کوشش کرنے لگا

دونوں  مگن بھائی کے لئے نا آشنا تھے۔ اِس لئے مگن بھائی کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں  اُبھرا۔ اُس نے ہاتھ میں  پکڑے موبائیل فون پر ایک نمبر ڈائل کیا اور کسی سے بات کرنے لگا۔

"ہیلو ..... میں  مگن بھائی ہوں  اور حوالات سے بول رہا ہوں۔ کیا میری گرفتاری کی خبر ٹی وی پر نہیں  دیکھی۔؟ ارے حوالات مجبوری ہے۔ سی۔ ایم سے میں  نے بات کی ہے۔ اُنھوں  نے مجھے سمجھایا کہ تمہارا معاملہ بہت بگڑ چکا ہے، پورے ملک میں  اِس سے ہنگامے ہو رہے ہیں۔ حالات کے تقاضے کے تحت تمہاری گرفتاری بہت ضروری ہے۔ اِس لئے جا کر دو تین دِن تک حوالات میں  آرام کرو۔ بعد میں  سارا معاملہ کس طرح ختم کیا جائے ؟ میں  دیکھ لوں  گا۔ اِس لئے گرفتاری دینی پڑی اور حوالات میں  ہوں۔۔۔ ارے فکر کرنے کی کوئی بات نہیں  ہے۔ یہاں  مجھے ہر طرح کی سہولت مہیا کی جائے گی۔ فون کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مجھ سے ملنا ہو تو آزاد نگر پولس اسٹیشن آ جانا،سمجھے۔"

ابھی مگن بھائی نے موبائیل بند بھی نہیں  کیا تھا کہ دو سپاہی گادی اور ضروری سامان کے ساتھ حوالات میں  داخل ہوئے۔ اُنھوں  نے گادی فرش پر بچھا دی، کُرسی ایک کونے پر رکھ دی۔

"مگن بھائی اور کچھ چاہئے ؟ " دونوں  نے بڑے ادب سے پوچھا۔

مگن نے جیب سے سو روپے کا نوٹ نکال کر اُن کی طرف بڑھا یا۔

ایک 555کا سگریٹ کا پیکٹ لے آنا، باقی تم رکھ لینا۔"

دونوں  سپاہیوں  نے مگن بھائی کو سلام کیا اور حوالات کے باہر چلے گئے۔ مگن بھائی گادی پر لیٹ کر سگریٹ پھونکنے لگا۔

اُسی وقت موبائیل فون بجا۔

"ہاں  مگن بول رہا ہوں۔ جو کچھ دیکھا سُنا سب سچ تھا۔ اِس وقت حوالات میں  ہوں۔ ارے یہ سب ناٹک اور دِکھاوا ہے۔ اپوزیشن اور عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنا ضروری تھا۔ اگر میں  چاہوں  تو کل ہی گھر چلا جاؤں  گا، کاغذ پر میرا ریمانڈ رہے گا اور میں  بنگلے میں  آرام کروں  گا۔ سب سیٹنگ ہو گئی ہے، گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔"

اس کے بعدمسلسل آٹھ دس فون آئے۔ سب سے مگن بھائی نے اِسی طرح کی باتیں  کی۔

دونوں  ایک کونے میں  بیٹھے چپ چاپ مگن بھائی کا تماشہ دیکھتے رہے۔ اُنھیں  مگن بھائی کو حوالات میں  دیکھ کر بڑی خوشی ہو رہی تھی، وہ خوشی سے پھولے نہیں  سما رہے تھے۔ وہ آج حوالات میں  اُس کمرے میں  ہیں  جس میں  مگن بھائی بھی ہے۔ لیکن آج ایک بات دِل کو کچوک رہی تھی۔

مگن بھائی جس طرح حوالات میں  تھا اور اُسے حوالات میں  جو آرائشیں  میسّر تھیں ، اُنھیں  اس پر شدید غصہ آ رہا تھا۔

حوالات میں  تو وہ بھی تھے۔سویرے اُنھیں  گرفتار کر کے حوالات میں  ڈالا گیا تھا لیکن اُنھیں  نہ پینے کے لئے پانی ملا تھا اور نہ کھانے کے لئے کھانا۔

اُن کے لئے گھر سے جو کھانا آیا تھا، ڈیوٹی پر تعینات سپاہی چٹ کر گئے تھے۔

اور مگن بھائی کو ..... ؟

دونوں  کے جرائم میں  زمین آسمان کا فرق تھا۔ اُنھوں  نے ایک معمولی جھگڑا اور مار پیٹ کی تھی جو کوئی سنگین جرم نہیں  تھا۔ مگر جس کے ساتھ مار پیٹ کی تھی اُس کا اثر و رُسوخ بہت زیادہ تھا۔ اور اِس وقت ریاست میں  سیاسی رسُوخ کا ہی راج تھا۔ اِس لئے اُنھیں  فوراً گرفتار کر لیا گیا۔ راستے بھر پٹائی ہوتی رہی، حوالات میں  ڈالنے کے بعد تو سپاہیوں  نے اُنھیں  اور بھی زیادہ بے دردی سے مارا تھا۔

"سالو ..... حرام زادو ! پریم جی بھائی سے اُلجھتے ہو، جانتے ہو، پریم جی بھائی کون ہے ؟ سی۔ ایم کا خاص آدمی ہے۔ تم لوگوں  نے سی۔ ایم کے خاص آدمی سے مار پیٹ کی ؟ اگر سی۔ ایم کا فون آیا تو فساد کے الزام میں  پوٹا لگا کر زندگی بھر جیل میں  سڑا دیں  گے۔ تمہارے ایریے میں  فساد میں  مسلمانوں  کا بہت نقصان ہوا ہے۔ سیکڑوں  لوگوں  کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے۔ لیکن اوپر سے آئے حکم کے مطابق ہم نے ابھی تک ایک بھی فسادی گرفتار نہیں  کیا ہے۔ اگر پریم جی بھائی نے کہہ دیا تو تمہیں  فساد کے جرم میں  گرفتار کر لیں  گے۔ ہمارے لئے ایک پنتھ دو کاج ہو گا۔ لیکن تم اپنا انجام سوچ لو........... ! "

پریم جی بھائی سے اُلجھتے وقت اُنھیں  اندازہ تھا کہ اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے۔ ان عام باتوں  کے لئے اُنھوں  نے اپنے آپ کو پہلے سے تیّار کر لیا تھا۔ ان سے ڈر کر کام نہیں  چل سکتا تھا۔ پریم جی بھائی کو سبق سکھانا بہت ضروری تھا۔ اِس لئے وہ اُس سے اُلجھ پڑے۔

 

اِس لئے اُن کے ساتھ جو کچھ ہو رہا تھا اس کو وہ برداشت کر رہے تھے۔ لیکن اُنھیں  یہ بات کچوک رہی تھی کہ اُنھوں  نے کوئی سنگین جرم نہیں  کیا تھا۔ پھر بھی اُن کے ساتھ جانوروں  سا سلوک کیا جا رہا ہے۔ لیکن ایک سنگین جرم کرنے والے وحشی، درندے کو شاہانہ ٹھاٹ باٹ سے حوالات میں  رکھا گیا ہے۔

اُنھوں  نے سویرے پریم جی بھائی سے مار پیٹ کی اور آدھا گھنٹے کے اندر حوالات میں  تھے۔

مگن بھائی نے جو جرائم کئے اُنھیں  مہینوں  ہو گئے ہیں  پھر بھی وہ آزاد تھا۔ ایک ماہ پہلے شکیلہ نے ایک اپوزیشن لیڈر کے سامنے بیان دیا تھا کہ مگن بھائی نے اُس کے ساتھ وحشیانہ غیر انسانی سلوک کیا ہے۔

شکیلہ کے اس بیان کو کئی ٹی وی چینل کے کیمروں  نے قید کیا تھا۔اور پھر اس بیان کو ساری دُنیا میں  بتایا گیا تھا۔

اس اپوزیشن کے لیڈر نے اس بات کو پارلیمنٹ میں  اُٹھایا تھا اور وزیر داخلہ سے مگن بھائی کی گرفتاری کی مانگ کی تھی۔

لیکن ریاست کے سی۔ ایم اور خود وزیر داخلہ نے اُسے مگن بھائی کے خلاف ایک سازش قرار دے کر گرفتاری کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

جب کئی ممبران نے اُس کے خلاف آواز اُٹھائی تو وزیر داخلہ نے اعلان کر دیا۔ ہم اِس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں  اور اگر مگن بھائی کو خطا وار پایا گیا تو اُس کے خلاف ضروری قانونی کاروائی کی جائے گی۔

ہر کوئی جانتا تھا کہ مگن بھائی خطا وار ہے۔ اُس نے بڑے بھیانک انسانیت سوز جرائم کئے ہیں  کہ اگر اُسے دس بار بھی پھانسی پر لٹکایا گیا تو بھی اُس کی سزا کم ہو گی۔

لیکن مگن بھائی کا تعلق سی۔ ایم اور وزیر داخلہ کی پارٹی سے تھا۔ وہ اُن کی پارٹی اور اُس کی ذیلی پارٹیوں  کا سرگرم رُکن تھا اور اِس بات پر فوراً عمل کرتا تھا جس کا حکم اُس کی پارٹی یا ذیلی تنظیمیں  دیتی تھیں۔ پھر بھلا ایسے سرگرم رُکن کے خلاف کس طرح کوئی کاروائی کی جاسکتی ہے اور اِن کی پارٹی اور ذیلی تنظیموں  کی نظر میں  تو مگن بھائی نے کوئی جرم ہی نہیں  کیا تھا۔

انسانیت اور قانون کی نظر میں  مگن بھائی کے کارنامے شاید گھناؤنے، وحشیانہ اور سنگین جرائم ہوں  گے۔ لیکن اُن کی پارٹی کی نظر میں  یہ کوئی جرم نہیں  تھا۔ کیونکہ اُن کی پارٹی کی نظر میں  اِس طرح کی حرکتوں  کا اِرتکاب دھرم کا پالن تھا۔ اور مگن بھائی نے پارٹی تنظیم کے دھرم کا پالن کیا تھا۔ اِس لئے ایسے دھرم یودھا کی حفاظت کے لئے پارٹی اور تنظیم فولادی دیوار بن کر کھڑی تھی۔

دُنیا کے تمام اخلاقیات کے اُصول، درس بالائے طاق۔ ہمارے یودھا نے جو کچھ کیا وہ دُرست۔ ہم بھلے اپنے آپ کو بہت با اخلاق، با کردار ظاہر کریں  لیکن اپنے مفاد، اپنے مقصد کے حصول کے لئے سارے اخلاقی، انسانی، قانونی ضوابط کو روندنا ہمارا مقصد ہے۔

جس پارٹی کے اُصول ہی یہ ہوں  وہ مگن بھائی جیسے یودھا کیوں  نہ پیدا کریں  ؟ اور یہ یودھا مگن بھائی جیسے کارہائے نمایاں  انجام کیوں  نہ دیں۔

ساری دُنیا جن کاموں  پر تھوکیں ، اُن کاموں  کو انجام دینے میں  بھی نہ تو کوئی جھجھک محسوس کرے نہ دُنیا کے تھوکنے پر شرم آئے، نہ غیرت محسوس ہو، نہ اپنے کسی کام پر پشیمانی محسوس ہو۔ مگن بھائی جیسے یودھاؤں  کو جب تیّّار کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے اُن کے ضمیر کو ختم کر دیا جاتا ہے۔تاکہ کسی کام کو کرتے وقت وہ اُنھیں  اس کام کو کرنے سے نہ روکے اور نہ ہی وہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں۔

لبیک کہیں  تو صرف پارٹی اور تنظیم کی آواز، اُن کے حکم پر۔ اِس لئے سارے ملک اور دُنیا کے کئی ممالک سے شور اُٹھتا رہا۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں  واویلا مچاتی رہی۔ پھر بھی مگن بھائی دندناتا ہوا گھومتا رہا۔ وزیر داخلہ سے سی۔ ایم تک اِس کی ہر بات کا دفاع کرتے رہتے۔

روزانہ نئے نئے چینل شکیلہ کے انٹرویو دِکھاتے۔ اخبارات شکیلہ کی کہانی کو کوراسٹوری بناتے اور مگن بھائی کے گناہ تازہ ہو جاتے۔ انسانیت کے پرستار اِس حیوانیت کے خلاف آواز اُٹھاتے اور مگن بھائی اسے کتوں  کا بھونکنا قرار دیتا۔ پارٹی اپنے یودھا کا دفاع کرتی۔

 

لیکن ایک دِن آخر وہ ہولناک منظر سامنے آہی گیا جس کی اب تک لوگوں  نے کہانیاں  سُنی تھیں۔ اب تک شکیلہ اپنے ہر انٹرویو میں  بتاتی تھی کہ کس طرح مگن بھائی نے اُس کے گھر کے ہر فرد کو زندہ جلایا ہے۔ اُس کے بوڑھے باپ کے سینے میں  ترشول مار کر اُسے دہکتی آگ میں  پھینکا۔ اُس کی ماں  کو جلتی آگ میں  ڈال دیا۔ اُس کے دونوں  بھائیوں  کو ترشولوں  سے مار مار کر جلتی آگ میں  ڈھکیلا۔ اُس کی چھوٹی بہنوں  کے نسوانی اعضاء کو ترشول سے گھائل کیا اور پھر اُنھیں  آگ دِکھا دی۔

اور اس کے ساتھ۔

اس کے ساتھ تیس چالیس یودھاؤں  نے بلاتکار کیا۔

اور مگن نے اپنے ہاتھ سے اُس کے سینے پر چاقو سے " جے شری رام "لکھا۔وہ اس لئے نہیں  ماری گئی کیونکہ اسے یودھاؤں  کی حیوانیت کو سیراب کرنا تھا۔

وہ اس لئے بچ گئی کہ آخری یودھا جب اس سے سیراب ہو کر گیا تو دوسرے یودھا کے آنے میں  تھوڑی تاخیر ہو گئی۔ اِس دوران اُس نے خود کو سنبھال لیا اور موقع ملتے ہی اس جگہ سے بھاگ نکلی اور کسی طرح گرتے پڑتے ایک اسپتال پہونچ گئی۔

جہاں  علاج کرنے کے بعد اُس کی جان بچا لی گئی۔

لیکن اپنے اس آخری انٹرویو میں  اس نے اپنا سینہ کیمروں  کے سامنے کر دیا۔

ایک جوان لڑکی کا نرم گداز سینہ۔

جس پر چاقو کی نوک سے لکھا " جے شری رام " صاف دِکھائی دے رہا تھا۔

اُسے دیکھ کر ہر کوئی دہل اُٹھا۔

یہ ہے اُس درندے مگن بھائی کے گناہ کا ثبوت ... جسے یودھا قرار دے کر وزیر داخلہ سے سی۔ ایم تک بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اِس منظر کو دیکھ کر انسانیت کانپ اُٹھی۔ جس نے بھی ٹی وی پر تصویروں  میں  شکیلہ کا سینہ دیکھا، کانپ اُٹھا۔

ایک جوان لڑکی کا گداز سینہ دیکھ کر بھی کسی کے دِل میں  ہوس کا جذبہ پیدا نہیں  ہوا۔

ہر کسی نے لعنت ملامت کی اور غم اور غصے کی ایک لہر پورے ملک میں  دوڑ گئی۔ اور آخر ارباب اقتدار کو مگن بھائی کی گرفتاری کا آرڈر دینا پڑا۔ مگن بھائی گرفتار کیا گیا اور ان کے ساتھ حوالات میں  تھا، کس طرح تھا ؟ اُنھیں  خود شرم آ رہی تھی۔

دونوں  شکیلہ کو بہت اچھی طرح جانتے تھے۔

شکیلہ ایک اسکول میں  ٹیچر تھی، اُن کے محلے میں  ہی رہتی تھی۔

اور دونوں  کے بچے اُس کے پاس ٹیوشن پڑھنے جاتے تھے۔

جب بھی سامنا ہوتا تھا۔ مسکراکر ان سے ملتی تھی۔ اور اُن کے بچوں  کے بارے میں  بتاتی تھی۔

"اشوک بھائی ! اتُل میتھس میں  تھوڑا کمزور ہے، میں  اسے ٹھیک کر لوں  گی، لیکن گجراتی پر بھی دھیان دیں۔"

"وِنے بھائی ! وِملا کی انگریزی اچھی نہیں  ہے، بہت محنت کرنی پڑے گی۔"

اس شکیلہ کے ساتھ اور اس کے خاندان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اچھی طرح جانتے تھے۔

اُنھیں  تو بہت بعد میں  معلوم ہوا کہ شکیلہ کے اور اس کے خاندان والوں  کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ مگر اُنھیں  علم تھا کہ اگر اُنھیں  اس وقت بھی معلوم ہو جاتا جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو بھی وہ کچھ نہیں  کر پاتے۔

یودھاؤں  کی پوری فوج انسانیت کو تاراج کر کے اپنے افکار کا جھنڈا گاڑنے نکلی تھی۔ اور اِس فوج کے ساتھ حکومت، مشنری، اقتدار سب کچھ تھا۔ اِس لئے جو کچھ ہوا اُس پر صبر و شکر کر لینا کافی ہے۔ شاید اس سے بھی زیادہ کچھ ہو جاتا .... یا ہوسکتا تھا۔

اِس یُدھ کا ایک یودھا مگن بھائی حوالات میں  تھا۔

اور اس یودھا کو اس کی شان کے مطابق ہی اعزاز مل رہا تھا۔

دونوں  ایک دُوسرے کو کبھی بے بسی سے دیکھتے تو کبھی غصے سے مگن بھائی کو۔ جو اِس وقت آرام سے سو رہا تھا۔

ابھی کچھ دیر قبل اُس نے آخری موبائیل کال وصول کی تھی۔

"ارے تم فکر کیوں  کرتی ہو ؟ بولا نہ کل تک سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک دو دِنوں  میں  گھر آ جاؤں  گا۔ سی۔ ایم اور وزیر داخلہ سے بات ہو گئی ہے۔ اِس حرامی لڑکی شکیلہ کا کچھ دِنوں  کے بعد قصہ ہی ختم کر لیا جائے گا۔ اسے آئی۔ ایس۔ آئی کا ایجنٹ قرار دے کر گرفتار کر لیا جائے گا دُنیا کو بتا دیا جائے گا کہ مگن بھائی، اس کی پارٹی، تنظیم کو بدنام کرنے کے لئے یہ آئی۔ ایس۔ آئی کی سازش تھی۔

دونوں  دیر سے مگن بھائی کے اس کال پر غور کر رہے تھے۔

مگن بھائی نے کہہ دیا تو ایسا ہی ہو گا۔ اگر ایسا ہوا تو پھر شکیلہ ... انصاف ... انسانیت....... !

اُنھیں  لگا جیسے چاروں  طرف وحشی ناچ رہے ہیں۔ دھرتی پر وحشیوں  کا راج آگیا ہے۔ اب ان کے پاس دوہی راستے ہیں۔ وہ بھی وحشی بن جائیں  یا پھر انسان ہونے کا ثبوت دیں۔

"اشوک... ! "

"وجے..... ! "

"ہمیں  انسان ہونے کا ثبوت دینا ہے۔"

"ہاں  نہیں  تو تاریخ ہم کو معاف نہیں  کر سکے گی۔"

دونوں  ایک دُوسرے کی آنکھوں  میں  دیکھ کر بولے۔

"آؤ ... حساب کریں۔"

دونوں  اُٹھ کر مگن بھائی کے پاس پہونچے۔ اُسے نیند سے جھنجھوڑا.....

"کیا بات ہے، مجھے نیند سے کیوں  جگایا .... ؟ اشوک، وجے ! تم کیا چاہتے ہو ؟"

"رات کے دو بج رہے ہیں  سارے سپاہی سو چکے ہیں  تم اگر ذبح ہونے والے بکرے کی طرح بھی چیخو تو تمہاری چیخ اُن تک نہیں  پہونچ پائے گی۔ لیکن یہ بھی یاد رکھو۔ اگر تمہارے منہ سے ہلکی سی چیخ بھی نکلی تو ہم تمہیں  سچ مچ کسی بکرے کی طرح ذبح کر دیں  گے۔ انجام جو کچھ ہو گا دیکھا جائے گا۔

اور وہ کسی بھوکے شیر کی طرح مگن بھائی پر ٹوٹ پڑے۔

اپنے جسم کی ساری طاقت جمع کر کے مگن بھائی پر وار کرنے لگے۔

مگن بھائی کے منہ سے ہلکی سی آواز بھی نکلتی تو ان کا اگلا وار دُوگنا طاقت کا ہوتا۔ اس وار سے بچنے کے لئے مگن بھائی نے چیخنا تو درکنار کراہنا بھی بند کر دیا۔

ایک گھنٹے تک اُنھوں  نے مگن بھائی کی اتنی پٹائی کی کہ ان کے ہاتھ پیر اور پورا جسم درد کرنے لگا۔ سستانے کے لئے وہ تھوڑی دیر رُک گئے۔

اُنھوں  نے طے کر لیا تھا کہ مگن بھائی کے ساتھ یہ عمل اُنھیں  رات بھر دہرانا ہے۔

ننگ دھڑنگ مگن بھائی حوالات کے ایک کونے میں دُبکا، اپنے جسم پر اُبھرے زخموں  کے نشان اور مار کی ٹِیسوں  کو برداشت کرنے کی کوشش میں  سسک رہا تھا۔

مگن کو دی گئی کُرسی پر اشوک بیٹھا اُس کے موبائیل سے کھیل رہا تھا اور وجے مگن کو دئے گئے نرم بستر پر لیٹا سستا رہا تھا۔