کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بے جسم

ایم مبین


واپس گھر پہونچنے تک ۹ بج گئے تھے۔

اسے جھنجھلاہٹ ہو رہی تھی۔ ہر بار وہ چاہتا ہے کہ جلد سے جلد گھر پہونچے لیکن اُس کی یہ چاہ کبھی پوری نہیں  ہوتی تھی۔ آفس سے نکلنے کے بعد راستے میں  کچھ نہ کچھ مسائل اُٹھ کھڑے ہوتے تھے اور وہ تو دس بجے ہی گھر پہونچ پاتا تھا۔

کبھی آفس کی مصروفیات یا باس کا کوئی آرڈر اُسے آفس سے جلد نہ نکلنے کے لئے مجبور کر دیتا تھا۔ تو کبھی لمبی مسافت کا سفر اور سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات۔

اس نے کبھی بھی اس کے گھر پہونچنے پر مایا کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں  دیکھی تھی۔

اسے دیکھ کر مایا کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں  اُبھرتا تھا اور وہ کسی روبوٹ کی طرح بیزار سی اس کی خدمت میں  لگ جاتی تھی۔

خدمت کیا، اُس کے اُتارے کپڑوں  کو سلیقہ سے لے جا کر ہینگر میں  لگانا، اسے گھر میں  پہننے والے کپڑے دینا، جب وہ واش بیسن سے منہ دھوکر ہٹے تو ٹاول لے کر کھڑی رہنا۔

اس کے بعد بہت مختصر سے معمولات ہوئے تھے۔

دونوں  ساتھ کھانا کھاتے، تھوڑی دیر تک ٹی وی دیکھتے اور سوجاتے۔ سویرے جلدی اُٹھ کر مایا اس کے لئے ٹفن بناتی اور وہ دفتر جانے کی تیاری کرتا اور آٹھ بجے سے پہلے گھر چھوڑ دیتا۔

اس دِن جب وہ کمرے میں  داخل ہوا تو رگھو اطمینان سے بیٹھا کُرسی بنا رہا تھا۔ مایا ٹی وی دیکھ رہی تھی، اس کی آہٹ سن کر مایا نے پلٹ کر اُسے دیکھا، اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں  اُبھرا، وہ دوبارہ ٹی وی دیکھنے میں  مصروف ہو گئی۔

رگھو نے اس کی آہٹ پاکر سر اٹھا کر اسے دیکھا اور دوبارہ اپنے کام میں  مصروف ہو گیا۔

اس کے چہرے پر اطمینان اور ہونٹوں  پر مسکراہٹ رینگ گئی۔

اس نے اندازہ لگا لیا تھا، سب کچھ ٹھیک ہے۔

بجوکا اپنی جگہ کھڑا ہے، اس کے سر کی جگہ رگھو کا سر لگا ہوا ہے اور وہ اپنے فرائض انجام دے رہا ہے۔

اسے اطمینان محسوس ہوتا، جیسے یہ اطمینان اس کی سب سے بڑی دولت ہے، اس کی زندگی کا حصول ہے۔ اس اطمینان کو قائم رکھنے کے لئے وہ زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس اطمینان میں  اس کی فتح یابی پنہاں  ہے۔

وہ ایک کسان ہے اس کے ماں  باپ، دادا، پردادا کسان تھے۔گاؤں  میں  زراعت کرتے تھے۔اس نے کھیتی نہیں  کی ہے۔ وہ اپنے گاؤں  اور کھیت سے کوسوں  دُور ہے۔ لیکن اس کی فطرت نہیں  بدل پائی ہے۔ ایک کسان کی طرح اسے سب سے زیادہ فکر اپنے کھیت کی رہتی ہے۔

لیکن یہاں  تناظر بدل گیا ہے۔

اس کے پاس کھیت نہیں  ہے وہ اپنی زمین، کھیت، گاؤں  سے بہت دور ہے۔اسے ان کی کوئی فکر نہیں  ہے۔

لیکن نئے تناظر نے اسے ایک نئی فکر دے دی ہے۔

مایا......

مایا اس کے لئے ایک مسئلہ ہے۔ اس کی سب سے بڑی فکر،پریشانی ہے۔اس کی زندگی کی سب سے بڑی اُلجھن ہے، اُس کی سب سے بڑی چنتا ہے۔

مایا اس کی بیوی۔

کبھی کبھی اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس نے مایا سے شادی کر کے سب سے بڑی غلطی کی ہے۔

لیکن جب سنجیدگی سے سوچتا تو اسے یہ اپنی کوئی غلطی محسوس نہیں  ہوتی تھی۔

اسے شادی تو کرنی تھی، بنا شادی کے تو وہ جی نہیں  سکتا تھا۔

اگر مایا سے شادی نہیں  کرتا تو کسی ریکھا، رُوپا یا گنگا سے شادی کرتا۔

اور جب اپنے حالات پر غور کرتا تو اُسے محسوس ہوتا، جو بھی لڑکی اس کی بیوی بن کر آتی،اس کے لئے وہی مسئلہ ہوتی جو مایا ہے۔

کبھی سوچتا مایا سے ہمیشہ کے لئے نجات پالے۔

لیکن بھلا مایا سے نجات ممکن ہے ؟

کبھی سوچتا مایا کو اپنے گاؤں  یا اس کے میکے بھیج دے۔ لیکن دونوں  میں  سے کوئی بھی کام مسئلہ کا حل نہیں  تھا۔ وہ اور مایا اسی مسئلہ میں  گھری رہتی جس میں  آج گھری ہے۔

آج کم سے کم مایا کے پاس یہ احساس تو ہے کہ رات کو اس کا پتی اس کے پاس ہوتا ہے۔ اگر وہ مایا کو اپنے گاؤں  یا اس کے میکے بھیج دے تو اس سے یہ احساس بھی چھن جائے گا۔ تب اس کی حالت کیا ہو گی ؟ اور وہ کیا کر ڈالے گی اس کے تصور سے ہی اس کی رُوح کانپ اُٹھتی تھی۔

مایا اور اس میں  کوئی اختلاف نہیں  ہے۔ مایااسے پسند ہے وہ مایا کو بے حد چاہتا ہے۔ مایا بھی ایک سعادت مند بیوی کی طرح اس کی ہر طرح سے خدمت کرتی ہے۔ اس کا ہر طرح سے خیال رکھتی ہے، اس نے اسے زندگی میں  کبھی کوئی کمی محسوس نہیں  ہونے دی ہے۔

اور اس نے بھی اپنی جان سے بڑھ کر مایا کا خیال رکھا ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اپنے اور مایا کے لئے ہی تو کرتا ہے۔ ان کی زندگی میں  اور کوئی بھی نہیں  ہے۔ اسے مایا کی ہر خواہش، ہر مانگ کو پوری کرنے میں  رُوحانی مسرت ہوتی ہے اس کا دِل چاہتا ہے کہ مایا اس سے کوئی چیز مانگے اور فوراً مایا کی مانگ پوری کرے یا مایا کی مانگ پوری کرنے کے لئے اپنے تن، من، دھن کی بازی لگا دے۔

لیکن مایا کا رویّہ اُس کے لئے ایک سوالیہ نشان تھا۔

صرف کبھی کبھی ہی نہیں ، ہمیشہ اسے مایا کے رویّے سے ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے مایا اس کے ساتھ خوش نہیں  ہے یا مایا اسے شریک حیات کے طور پر پاکر خوش نہیں  ہے۔

اِ س بات کو سوچ کر اس پر ایک افسردگی کا طوفان چھا جاتا تھا۔ اس کی آنکھوں  کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا تھا اور دِل کی دھڑکنیں  ڈوبنے لگتی تھی۔

"آخر مجھ میں کیا کمی ہے، میں  نے مایا کی کسی خواہش کو پورا نہیں  کیا ہے، مایا کی زندگی میں  ایسی کون سی کمی رکھی ہے جو مایا میرے ساتھ خوش نہیں  ہے۔ ؟"

وہ خود سے یہ سوال بار بار کرتا تھا۔ لیکن اس میں  مایا سے یہ سوال پوچھنے کی ہمت نہیں  تھی۔

وہ ڈرتا تھا کہ اگر مایا اس بات کا اقرار کر لے کہ وہ اس کے ساتھ خوش نہیں  ہے اور اپنی زندگی کی اس کمی کے بارے میں  بتا دے جو وہ پوری نہیں  کر پا رہا ہے تو شاید اس کی زندگی میں  ایسا طوفان آ جائے گا جو دونوں  کو بہا لے جائے گا اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک دُوسرے کو جدا کر دے گا۔

یہ سوال جیسے اس طوفان کو روکنے والا دروازہ تھا اور وہ خود یہ سوال پوچھ کر اس طوفان کا دروازہ کھول کر اس کی تاب لانے کی سکت نہیں  رکھتا تھا۔

دھیرے دھیرے اسے مایا کی خواہشات کا پتہ چلنے لگا تھا۔ مایا چاہتی تھی کہ وہ مہینے میں  ایک دو بار کسی دُوسرے شہر سیر و تفریح کے لئے جائے، ہر شام جلد گھر آ جائے اور اسے لے کر شہر کے تفریحی مقامات پر جائے، ہوٹلوں  میں  کھانا کھائے، فلمیں  دیکھے، اپنے دوست اس کی سہیلیوں  کے گھر پارٹیوں  میں  لے جائے۔

اور اتوار کا دِن کا تو ایک لمحہ بھی گھر میں  نہ گزارے۔

لیکن سب کچھ مایا کی اُمیدوں  کے برخلاف ہوتا تھا۔

آفس کی مصروفیات کی وجہ سے وہ رات نو، دس بجے سے پہلے گھر نہیں  آ پاتا تھا۔

کوئی سرکاری نوکری نہیں  تھی کہ پانچ بجے بھی اگر دفتر چھوڑ دیا جائے تو کوئی جواب طلب کرنے کی ہمّت نہیں  کرے گا۔

پرائیویٹ سروس تھی۔ ہر لمحہ، قدم قدم پر باس منیجمنٹ کا خیال رکھنا پڑتا تھا۔

آفس آنے کا وقت متعیّن تھا۔ اس میں  تاخیر نہیں  ہوسکتی تھی۔ لیکن آفس سے جانے کا کوئی وقت متعیّن نہیں  تھا۔ اگر رات کے بارہ بھی بج جائے تو بنا کام پورا کئے گھر جانے کی اجازت نہیں  تھی۔

مایا کو اس کی اس مجبوری کا علم نہیں  تھا۔

ویسے وہ مایا کو سیکڑوں  بار اِس بارے میں  سمجھا چکا تھا۔

لیکن مایا کی خواہشات کے آگے اس کی مجبوریاں  کچھ نہیں  تھیں۔ ہفتہ بھر تو صبح آٹھ بجے سے نو، دس بجے تک گھر کے باہر ہی رہنا پڑتا تھا۔ کھانا کھانے کے بعد بھلا جسم میں  اتنی قوت کہاں  باقی بچتی تھی کہ کہیں  باہر جایا جائے یا رات زیادہ دیر تک جاگ کر آوارگی سے لُطف اندوز ہوا جائے۔ کیونکہ سامنے صبح جلدی اُٹھ کر آفس جانے کا آسیب منہ پھاڑے کھڑا ہوتا تھا۔

اتوار کو اس کا من چاہتا تھا، وہ ہفتہ بھر کام کی تھکن اُتارے۔ اور دِن بھر سوتا رہے، دِن بھر تو سو نہیں  پاتا تھا، اُٹھ کر تیّار ہونے اور دوپہر کا کھانا کھانے میں  دو بج جاتے تھے۔ پھر ایک دو گھنٹہ کے لئے بھی باہر جانا ہو گیا تو اچھی بات تھی۔ اگر کوئی مہمان آگیا تو وہ بھی ممکن نہیں  تھا۔ ایسے میں  مایا کی خواہشات کیسے پوری ہوسکتی تھیں۔

اس کے آفس جانے کے بعد وہ گھر میں  اکیلی رہتی تھی۔ اس کا آفس بھی گھر سے ۶۰، ۷۰ کلومیٹر دور تھا۔ وہ مایا کی خبر بھی نہیں  لے سکتا تھا۔ نہ مایا اس کی خیریت پوچھ سکتی تھی۔

شادی کے بعد برسوں  تک یہی معمولات چلتے رہتے۔

ان میں  کچھ دِنوں  کی تبدیلی اس وقت آئی تھی جب وہ دونوں  ایک دو دِنوں  کے لئے گاؤں  جاتے تھے۔ لیکن یہ صرف سالوں  میں  ہی ممکن تھا۔

پھر دھیرے دھیرے اسے ایسی خبریں  ملنے لگیں  جن کو سن کر اس کی زندگی کا سکون درہم برہم ہو جاتا تھا۔

آس پڑوس والوں  نے بتایا کہ اس کے آفس جانے کے بعد مایا گھنٹوں  گھر سے غائب رہتی ہے۔ اس سے ملنے اجنبی لوگ گھر آتے ہیں  اور گھنٹوں  گھر میں  رہتے ہیں۔

اس نے اس سلسلہ میں  جب مایا سے پوچھا تو مایا کے پاس اس کا بڑا سیدھا سا جواب تھا۔

آج اس سہیلی کے گھر اس سے ملنے گئی تھی۔

ملنے کے لئے آنے والا وہ مرد میری اس سہیلی کا شوہر تھا۔ وہ یہ چیزیں  لینے کے لئے گھر آیا تھا۔

مایا کے اس جواب کے بعد دوبارہ کوئی سوال کرنے کی اس کی ہمت ہی نہیں  ہوتی تھی۔

دھیرے دھیرے ایسے ثبوت ملنے لگے کہ اس کا شک یقین ہے اور مایا کی ہر بات جھوٹی ہے۔

گھر میں  فون تو نہیں  تھا جس کے ذریعے پتا لگایا جاسکے کہ مایا گھر میں  ہے یا نہیں  ؟ پڑوس میں  فون تھا، دوچار بار اس نے پڑوس میں  فون لگا کر مایا کو فون پر بلانا چاہا، ہر بار اسے جواب ملا کہ گھر پر تالہ لگا ہے۔

رات میں  اس سلسلہ میں  اس نے مایا سے پوچھا تو مایا کا جواب تھا۔

"وہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں ، میں  تو ایک لمحہ کے لئے بھی گھر سے باہر نہیں  نکلی۔ پر تالہ لگا ہے، میں  گھر میں  نہیں  ہوں ، یہ کہہ کر وہ مجھے بدنام کرنا چاہتے ہیں  اور تمہارے دِل میں  بدگمانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔،

مایا کا جواب اسے اُلجھن میں  ڈال دیتا تھا۔

سچائی کا پتہ اس وقت لگ سکتا تھا جب گھر میں  کوئی گھر کا بڑا ہو، گھر کے کسی بھی چھوٹے بڑے آدمی کے گھر میں  آئے مایا کا گھر سے باہر قدم نکالنا مشکل تھا۔ نہ اس کے ہوتے کوئی غیر مرد گھر میں  آسکتا تھا۔

اُس کا دُنیا میں  کوئی بھی تو نہیں  تھا۔ماں ، باپ، بھائی، بہنیں ، کوئی بھی تو نہیں  جس کو وہ گھر میں  لا کر رکھتا تاکہ مایا کے پیروں  میں  زنجیریں  پڑی رہے۔

ایک ہی راستہ تھا جو مایا کو راہ پر لاسکتا تھا۔ لیکن وہ راستہ بھی اسے مسدُود محسوس ہو رہا تھا۔

اسے اپنا بچپن یاد آیا۔

وہ بچپن میں  اپنے ماں  باپ کے ساتھ کھیتوں  میں  جایا کرتا تھا۔ ماں  باپ دِن بھر کھیتوں  میں  کام کر کے اپنے خون پسینے سے سیراب کر کے کھیتوں  کو لہلہاتے تھے۔

جب فصل پک جاتی تو اس فصل کو پرندوں  سے بچانا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا تھا۔

اس کے لئے وہ کئی طریقے استعمال کرتے تھے۔

ڈھول تاشے بجا کر شور مچا کر پرندوں  کو اُڑاتے تھے۔

اور ہر فصل کے ساتھ ایک بجوکا تو بنایا جاتا ہی ہے۔

لکڑیوں  سے بنا ہوا بجوکا، جس کو پرانے کپڑے پہنا دئے جاتے تھے۔ اور سر کی جگہ ایک ہانڈی لگا دی جاتی تھی۔ جس پر یہ بھیانک آنکھیں  منہ، ناک وغیرہ بنا دئے جاتے تھے۔ تب پرندے اسے کوئی انسان سمجھ کر پھر اس طرف کا رُخ نہیں  کرتے تھے۔

اسے شدت سے احساس ہونے لگا اسے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے ایک بجوکا کی ضرورت ہے۔ جو اس کے کھیت کی حفاظت کر سکے۔

کچھ ماہ قبل اسے اس کے چاچا کا خط ملا تھا۔

"رگھو نے بہت پریشان کر رکھا ہے۔ ۱۸سال کا ہو گیا ہے کوئی کام دھندا نہیں  کرتا ہے۔ اسکول وغیرہ تو بہت پہلے ہی چھوڑ چکا ہے۔ اسے اپنے پاس بلا کر کسی کام دھندے سے لگا دو۔ ورنہ بگڑ جائے گا۔"

اس خط کو یاد کر کے اس کی آنکھیں  چمک اُٹھی تھیں۔

اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اسے اپنے گھر کے لئے بجوکا مل گیا ہے۔

رگھو اگر صرف اس کے گھر میں  رہے تو بھی کافی ہو گا۔ بھلے سے وہ کوئی کام نہ کرے، کم سے کم اس کے گھر، مایا کی حفاظت تو کرے گا۔ اس نے چاچا کو خط لکھا کہ رگھو کو اس کے پاس بھیج دیں۔

آٹھ دِن بعد ہی رگھو اُن کے پاس آگیا۔

اور جیسے اس کی ساری پریشانیاں  دُور ہو گئی تھیں۔

وہ دِن بھر گھر میں  بیٹھا ٹی وی پر فلمیں  دیکھا کرتا تھا یا گھر کے چھوٹے موٹے کام کیا کرتا تھا۔

رات کو جب وہ گھر آتا تو مایا کو اپنے کام میں  مصروف پاتا اور رگھو کو اپنے۔

وہ اپنے تصور کے بجوکا کو دیکھتا تو اس کے سر کی جگہ اسے رگھو کا سر لگا نظر آتا اور وہ مسکرا کر اس سے کہتا میں  اپنا فرض بخوبی نبھا رہا ہوں۔

رگھو کے آ جانے سے مایا بھی بجھی بجھی سی تھی۔ اس کی ساری آزادی سلب ہو گئی تھیں  لیکن وہ چاہ کر بھی اس کے خلاف احتجاج نہیں  کر پا رہی تھی۔

ایک دو بار دبے لفظوں  میں  اس نے اس سے کہا بھی۔

"یہ رگھو کب تک یوں  ہی گھر میں  بیٹھا رہے گا۔ اس کے لئے کوئی کام تلاش کرو، ورنہ اس کے ماں  باپ ہم پر الزام لگائیں  گے کہ ہم سے ایک چھوٹا کام بھی نہیں  ہوسکا۔ ہم رگھو کو کام بھی نہیں  دِلا سکتے۔"

"میں  اس کے لئے کام تلاش کر رہا ہوں۔" کہہ کر وہ مایا کو لاجواب کر دیتا تھا۔

وہ سکون بھری زندگی گزار رہا تھا۔ اس کی ساری پریشانیاں ، وسوسے، بدگمانیاں ، شک و شبہات رگھو کے گھر آ جانے کی وجہ سے جیسے ختم ہو گئے۔

ایک دِن جب وہ آیا تو اسے گھر کا ماحول کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہوا۔

رگھو الماری کی صفائی کرتا ایک پوربی لوک گیت گا رہا تھا۔

اور مایا بھی دھیرے دھیرے کچھ گنگنا رہی تھی۔

اس کا چہرہ پھول سا کھلا ہوا تھا، چہرے اور آنکھوں  میں  ایک عجیب سی چمک تھی۔

اس کا دِل دھڑک اُٹھا۔

اس نے اپنے تصور کے بجوکا کو دیکھا تو اسے ایک جھٹکا سا لگا۔

اسے اس بجوکا کے سر کی جگہ رگھو کے بجائے اپنا سر لگا ہوا دِکھائی دے رہا تھا۔