کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

میزان

ایم مبین


"ادھرم کو روکنا بھی دھرم ہے۔ ادھرم روکنے کے لئے جان بھی دینی پڑے یا کسی کی جان بھی لینی پڑے تو یہ دھرم ہے، یہ دیش بھی ہمارا دھرم ہے، اس دیش کے خلاف جو بھی کام کرتا ہے وہ ادھرمی ہیں  اور ایسے ادھرمی کا سروناش کرنا دھرم ہے۔ جو اس دیش کے قانون، کامن سول کوڈ کو نہیں  مانتے۔ وندے  ماترم کا گان نہیں  کرتے، گئو کا احترام نہیں  کرتے وہ سب ادھرمی ہیں  اور ایسے ادھرمیوں  کے خلاف تلوار اُٹھانے کا وقت آگیا ہے۔ جو لوگ ہمارے رام للّا کا مندر بنانے کا وِرودھ کرتے ہیں  ایسے ادھرمیوں  کا سنہار کرنے کے لئے اُٹھ کھڑے ہو جاؤ ...... اُٹھ کھڑے ہو جاؤ .... ہر ہر مہا دیو ..... جے بھوانی ..... جے شیوا جی ..... جے مہا کالی .... سوامی مہاراج کی جے۔"

سوامی جی کی آواز لاؤڈ اسپیکر سے چاروں  طرف پھیل رہی تھی۔ پھر ان کی آواز اشتعال انگیز جوشیلے نعروں  کے درمیان ڈوب کر رہ گئی تھی۔ لاؤڈ اسپیکر سے نفرت انگیز، نعرے ہی اُبل رہے تھے۔

پل پر کھڑے کھڑے میں  نے نیچے میدان پر نظر ڈالی۔

لاکھوں  کی بھیڑ ہو گی، ہر فرد مٹھیاں  بھینچے نعرے لگا رہا تھا۔ ان نعروں  سے مجھے خوف محسوس ہو رہا تھا۔

مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا، وہ نعرے لگاتی بھیڑ بے قابو ہو گئی ہے، ان کے ہاتھوں  میں  ہتھیار آ گئے ہیں  اور وہ سڑکوں  پر اُتر آئی ہے۔ دوکانوں  کو لوٹ رہی ہے، جلا رہی ہے، لوگوں  کو مار کاٹ رہی ہے اور اس بھیڑ کے درمیان کئی چہرے مسکرا رہے ہیں ، ان میں  ایک چہرہ سوامی جی کا بھی ہے۔

کیا وہ سوامی جی کا چہرہ ہوسکتا ہے ؟

وشنو پنت سوامی کا چہرہ ؟

دُنیا چاہے کچھ بھی کہے میرا دِل یہ ماننے کو تیّار نہیں  تھا کہ یہ باتیں  سوامی جی کے دِل سے نکل رہی ہیں۔ سوامی جی اشتعال پھیلانا چاہتے ہیں ، تاکہ یہ اشتعال خونریزی میں  تبدیل ہو جائے۔

سڑکیں  آگ اور خون میں  نہا جائیں  .....

راستے لاشوں  سے پٹ جائیں  .....

ساری دُنیا کہتی ہے سوامی جی کا یہی منشا ہے۔

مگر میرا دِل یہ ماننے کو تیّار نہیں۔

لاؤڈ اسپیکر سے جو تقریر نشر ہو رہی تھی میرا دِل تو اس پر بھی یقین کرنے کو تیّار نہیں  تھا۔ لیکن میں  اچھی طرح جانتا تھا یہ سوامی جی کی ہی آواز ہے۔ سوامی جی کی آواز کو میں  جتنی اچھی طرح پہچانتا ہوں  شاید ہی کوئی اور پہچانتا ہو گا۔

جس پل کے کنارے میں  کھڑا تھا اُسی فلائے اوور پر میرے سر پر ایک بڑی سی ہورڈنگ تھی۔ جس پر زعفرانی لباس میں  دونوں  ہاتھ جوڑے سوامی جی کی بڑی سی تصویر تھی۔

شعلہ بیان، دھرم ویر، دھرم سرکھشک سوامی جی وشنو پنت کا بیان۔

جگہ وہی تھی وقت وہی تھا۔

آج شاید تیسرا دِن تھا۔ ابھی آٹھ دس روز اور وہ پروگرام چلے گا۔ سوامی جی کی زہریلی تقریر سے لاکھوں  افراد کے ذہن پراگندہ ہوں  گے اور اس کا انجام کیا ہوسکتا ہے اس کے تصور سے ہی میں  کانپ اُٹھتا ہوں۔

میرا مکان ریلوے لائن کی دیوار سے لگ کر ہے۔ اس کے بعد کچے مکانوں  کا ایک طویل سلسلہ ہے۔

اگر چلتی ٹرین سے کوئی ایک آگ کا گولہ بھی اس بستی کی طرف اُچھال دے تو آگ ساری بستی کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے اور میرا مکان بھی محفوظ نہیں  رہ سکتا۔

اس تصور سے ہی میرے جسم میں  ایک جھرجھری سی آ گئی۔

سوامی جی کا بھاشن ختم ہو گیا تھا۔

میدان سے نکل کر بھیڑ برج کی طرف بڑھ رہی تھی۔ بھیڑ کی وجہ سے برج پر ٹریفک متاثر ہو رہی تھی۔ کچھ لوگ تو آگے اپنی منزل کی طرف بڑھے جا رہے تھے۔ کچھ لوگ پل کے کنارے قطار لگا کر کھڑے ہوئے تھے۔ شاید اس پل پر سے سوامی جی کی کار گزرنے والی تھی اور وہ لوگ شاید سوامی جی کا درشن کرنا چاہتے تھے۔

لوگ میرے آگے پیچھے کھڑے ہو گئے اور میں  کب اِس قطار کا حصہ بن گیا مجھے پتہ بھی نہیں  چل سکا۔

اب صورتِ حال یہ تھی کہ نہ میں  قطار چھوڑ سکتا تھا نہ قطار میں  شامل رہنے کے لئے میرا دِل چاہ رہا تھا۔

سوامی جی کی کار پل پر نمودار ہوئی تھی۔ لوگ سر جھکا کر اُنھیں  سلام کر رہے تھے اور سوامی جی ہاتھ اُٹھا کر اُنھیں  آشیرواد دے رہے تھے۔

کار جیسے جیسے قریب آ رہی تھی، سوامی جی کا چہرہ واضح ہوتا جا رہا تھا۔

کار میرے سامنے آئی تو بے اختیار میرے ہاتھ بھی سلام کے لئے اُٹھ گئے۔

میری اور سوامی جی کی نظریں  ٹکرائیں۔ ان کے چہرے پر حیرت کے تاثرات اُبھرے،اُنھوں  نے اِشارے سے ڈرائیور کو رُکنے کے لئے کہا۔

"ارے اکبر بابو آپ .... ! اتنے دِنوں  کے بعد دِکھائی دئے ؟ آئیے ! اندر آئیے ....." سوامی جی نے آواز لگائی تو میں  دفعتاً ساری بھیڑ کی توجہ کا مرکز بن گیا۔

سوامی جی مجھے آوازیں  دے رہے تھے۔ اُنھوں  نے میرے لئے کار کا دروازہ کھول رکھا تھا۔ بے ساختہ میں  آگے بڑھ گیا۔

کار میں  داخل ہو کر سوامی جی کے پہلو میں  جا بیٹھا۔ اُنھوں  نے دروازہ بند کیا اور لوگوں  کو درشن دے کے اپنا سفر جاری رکھا۔

تھوڑی دیر بعد درشن لینے والوں  کی بھیڑ ختم ہو گئی تو اُنھوں  نے کار کے شیشے چڑھا دئے۔ ایئر کنڈیشن کار میں  مجھے سردی محسوس ہونے لگی۔

کار فراٹے بھرتی تارکو ل کی چکنی سڑک پر آگے بڑھی جا رہی تھی۔

"کہیئے اکبر بابو ! گھر میں  سب مزے میں  تو ہیں  نا ؟بھابھی جی کیسی ہیں  ؟ راشد اور اشرف کیسے ہیں ، سارہ تو اب کافی بڑی ہو گئی ہو گی نا ؟ " اُنھوں  نے ایک ساتھ کئی سوالات کر ڈالے۔

"ہاں  سب مزے میں  ہیں۔ " میں  نے جواب دیا۔ " سارہ اخباروں  میں  آپ کی تصویر دیکھ کر اپنی سہیلیوں  کو بڑے فخر سے بتاتی پھرتی ہے کہ یہ میرے سوامی انکل ہیں۔ میں  ان کی گود میں  کھیلتی تھی۔"

"معصوم بچی۔ " سوامی جی کے منہ سے نکلا اور وہ کہیں  کھو گئے۔

مجھے اس بات کی قطعی توقع نہیں  تھی کہ ہزاروں  کی بھیڑ میں  سوامی جی مجھے اتنی آسانی سے پہچان لیں  گے اور بلا کر اپنی کار میں  بٹھا لیں  گے اور پھر مجھ سے اس طرح باتیں  کریں  گے جیسے وہ کبھی میری زندگی سے جدا تھے ہی نہیں۔

"آپ اب بھی وہیں  اسی لائن کے کنارے والے مکان میں  رہتے ہیں  نا ؟ " سوامی جی نے پوچھا۔

"ہاں  اور کہاں  جاسکتے ہیں  ؟ اِس بڑے شہر میں  مکان تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں  ہے۔ "میں  نے جواب دیا۔

"میں  جس جھونپڑے میں  رہتا تھا، وہ ہے ؟ " اُنھوں  نے پوچھا۔

"ہاں ،، میں  نے جواب دیا۔ " پوتیا ( جھونپڑے کے مالک ) نے جس شخص کو کرایے پر دیا ہے وہ اب وہاں  دیسی شراب کا غیر قانونی اڈّہ چلاتا ہے۔"

میری بات سن کر سوامی جی کے چہرے پر سخت تاثرات اُبھر آئے۔ اُن کے ذہن میں  شاید اُن کے اس ماضی کی یاد تازہ ہو گئی تھی جو اُنھوں  نے اس میں  گزارا تھا۔

"میں  آپ کو اپنے گھر لے جا رہا ہوں۔ آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں  ہے یا گھر جانے میں  دیر تو نہیں  ہو گی ؟ سوامی جی نے پوچھا۔

"بھلا مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے سوامی جی ؟ " میں  نے ہنس کر کہا۔ " اور جہاں  تک تاخیر کی بات ہے گھر والے میرے تاخیر سے آنے کے عادی ہیں۔"

"سچ پوچھئے تو بہت دِنوں  بعد مجھے کوئی میرا اپنا ملا ہے۔ اِس لئے دِل کھول کر آج میں  آپ سے باتیں  کرنا چاہتا ہوں۔ " سوامی جی بولے۔

"یہ آپ کی ذرّہ نوازی ہے سوامی جی ! ورنہ میں  کس قابل ؟ " میں  نے ہنس کر جواب دیا۔

میں  نے کبھی خواب میں  بھی نہیں  سوچا تھا کہ کبھی سوامی جی سے سامنا ہو گا تو میرے سامنے برسوں  پرانے سوامی جی ہوں  گے جو میرے مکان کے بازو میں  ریلوے لائن کی دیوار سے لگ کر ایک تنگ و تاریک گندی کھولی میں  رہتے تھے۔ جن کا زیادہ تر وقت میرے اور میرے بچوں  کے ساتھ گزرتا تھا۔

میرا خیال تھا سوامی جی مجھے پہچان کر بھی انجان بن جائیں  گے اور آگے بڑھ جائیں  گے۔ کیونکہ میں  اُن کا تلخ ماضی ہوں۔ آج اُن کے پاس تابناک حال اور روشن مستقبل ہے پھر بھلا وہ اپنے تلخ ماضی کے بارے میں  کیوں  سوچیں  گے۔؟

میرے مکان کے اطراف جو بھی سوامی جی کو جانتا تھا ان سب کی سوامی جی کے بارے میں  اچھی رائے نہیں  تھی۔

"سالا کل تک دانے دانے کو محتاج تھا، آج اَن داتا بنا پھر رہا ہے، کل تک لوگوں  کی بھیک پر زندہ تھا، آج دونوں  ہاتھوں  سے دولت لوٹ رہا ہے، لوگ اُس پر دولت کی بارش کر رہے ہیں۔"

"سوامی سے پولیٹیکل سوامی بن گیا۔ کل تک مندر میں  جب پروچن کرتا تھا تو کتے بھی اس کے پروچن کو سننے نہیں  آتے تھے۔ آج جب گرگٹ کی طرح رنگ بدلا ہے، دھرم کو سیاست کے ساتھ ملا کر بھاشن دیتا ہے تو اس کے بھاشن کو سننے لاکھوں  لوگ آتے ہیں۔"

سب کے خیالات اس سے بھی گرے ہوئے تھے۔

جہاں  تک میرا خیال تھا سوامی جی کے اس رویّے پر مجھے خود بے حد دُکھ ہوتا تھا۔

میں  نے سوامی جی کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ اُن کو میں  اچھی طرح جانتا تھا، اس وجہ سے کبھی میں  تصور بھی نہیں  کر سکتا تھا کہ سوامی جی اس طرح گرگٹ کی طرح رنگ بدلیں  گے۔

کل تک بھائی چارہ، اخوت، اپنا پن، مساوات، انسانیت کا درس دینے والے سوامی جی لوگوں  کو نفرت بانٹتے پھریں  گے۔

اشتعال انگیز تقریروں  کے ذریعہ لوگوں  کے دِلوں  میں  نفرت کا یہ بیج بو کر اُنھیں  ایک دُوسرے کے خون کا پیاسا بنائیں  گے۔

لیکن یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ ہی نہیں  تھی۔

روزانہ اخبارات میں  سوامی جی کے جلسوں  کی رپورٹیں  تصویروں  کے ساتھ شائع ہوتی تھیں  اُن کی زہریلی تقریروں  کو نمایاں  انداز میں  شائع کیا جاتا تھا۔

یہاں  تک یہ بات مشہور ہو گئی تھی۔

سوامی جی نے جس شہر میں  تقریر کر دی اُس شہر میں  فرقہ ورانہ فساد ہونا لازمی ہو جاتا تھا۔

گذشتہ دو سالوں  میں  میں  نے خود سوامی جی کے دو تین جلسوں  میں  شرکت کی تھی۔ لیکن میں  سوامی جی کی پوری تقریر نہیں  سن سکا۔ جو جو زہر اُنھوں  نے اس تقریر میں  اُگلا تھا، میں  کوئی شنکر نہیں  تھا جواس زہر کو اپنے حلق کے نیچے اُتار لیتا۔

میں  چپ چاپ جلسہ سے اُٹھ آیا۔

آج بھی اس مقام پر میں  سوامی جی کے جلسے میں  شریک ہونے کے لئے نہیں  آیا تھا۔

بلکہ اس پل سے گزر رہا تھا تو اس ہورڈنگ پر نظر پڑی۔ اور نیچے میدان میں  لگے لاؤڈ اسپیکروں  سے سوامی جی کی آواز سنائی دی تو رُک گیا۔

اور اب جب سوامی جی کی کار میں  ان کے ساتھ ایک انجان منزل کی طرف جا رہا تھا تو سوامی جی سے کیا بات کروں  میری سمجھ میں  نہیں  آ رہا تھا۔

میری آنکھوں  کے سامنے ایک سیدھا سادہ برہمن گھوم رہا تھا جو میرے پڑوس میں  رہتا تھا۔

اس علاقے کے ایک غنڈے نے ریلوے لائن کے قریب کی زمینوں  پر ناجائز قبضہ کر کے ایک جھونپڑ پٹی بسائی تھی۔

اس میں  میرا بھی ایک کرایے کا مکان تھا۔ جس کا میں  باقاعدگی سے اس غنڈے پوتیا کو کرایہ دیتا تھا۔ پھر اس نے میرے مکان اور ریلوے لائن کی دیوار کے درمیان جو تھوڑی سی جگہ بچی تھی اس جگہ بھی ایک جھونپڑا بنا دیا۔ دو دن بعد اس میں  ایک نیا کرایہ دار بھی آگیا۔

یہ کوئی بنارس کا پنڈت تھا۔

سوامی وشنو پنت اور ان کی بیوی۔

بنارس کے گھاٹوں  پر پوجا پاٹ کر کے وہ اپنا اور اپنے خاندان والوں  کا گزر بسر کرتے تھے۔ بنارس میں  اچھا مکان تھا۔ بال بچے تھے جو پڑھ رہے تھے۔ لیکن پوجا پاٹھ سے اتنا پیسہ نہیں  ملتا تھا کہ جس سے اپنا اور اپنے خاندان والوں  کا پیٹ بھر سکے۔

کسی نے مشورہ دیا۔ " پنڈت جی آپ ممبئی کیوں  نہیں  چلے جاتے ؟ بہت بڑا شہر ہے لوگ اتنے دھارمک تو نہیں  ہیں  لیکن دھرم کے کاموں  میں  بے انتہا پیسہ خرچ کرتے ہیں۔ ان کے پاس دھرم کے کام کرنے کے لئے وقت نہیں  ہے۔ ہاں  پیسہ دے کر وہ کام ضرور کرواتے ہیں۔

اپنی پوجا پاٹھ سے اچھی آمدنی کا خواب لے کر سوامی جی بنارس سے ممبئی آئے تھے اور اس گندی بستی میں  رہنا بھی قبول کر لیا تھا۔

سویرے سورج نکلنے سے پہلے ہی گھر چھوڑ دیتے تھے۔ تو رات دیر گئے واپس گھر آتے تھے۔

پنڈتائن گھر میں  اکیلی رہتی تھی۔اس کا زیادہ تر وقت ہمارے گھر میں  میری بیوی اور بچوں  کے ساتھ گزرتا تھا۔

سوامی جی دِن بھر شہر کے مندروں  کی خاک چھانتے پھرتے تھے۔ شاید کسی مندر میں  اُنھیں  مستقل طور پر پوجا پاٹ کا کام مل جائے۔ لیکن اس خاک نوردی سے انھیں  پتا چلا تھا کہ ان مندروں  پر پہلے ہی دو دو تین تین پجاریوں  نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہ کسی اور کی دال گلنے نہیں  دیتے ہیں۔

ایسے میں  وہ ایسے گاہک ڈھونڈتے تھے جو اُنھیں  گھر لے جا کر ان سے پوجا پاٹ کرائے۔

دِن میں  ایک آدھ گاہک مل جائے تو اتنا مل جاتا تھا کہ دونوں  اپنا پیٹ بھر سکے۔

"زمانہ بہت خراب آگیا ہے اکبر بابو !،،وہ روزانہ مجھے دِن بھر کی رُوداد سناتے تھے۔ " لوگوں  کا اب دھارمک کاموں  میں  وشواس اور شردھا نہیں  رہی ہے۔ بڑے سے بڑے پاٹھ کی دکھشنا ۵  اور ۱۱  روپیہ دیتے ہیں۔ سمجھ لیجئے بنارس سے برا حال یہاں  ہے، مجھے لگ رہا میں  نے ممبئی آ کر غلطی کی ہے۔"

میں  سوامی جی کا شاگرد بن گیا تھا۔ سوامی جی ایسی باتیں  بتاتے تھے جو میں  ساری عمر نہیں  جان پاتا۔ میرا دِل چاہتا تھا سوامی جی کہتے رہیں  اور میں  سنتا رہوں۔

اس لئے اکثر اتوار کو جب مجھے چھٹی ہوتی تھی میں  سوامی جی کے ساتھ مندر جاتا تھا۔

مسلمان ہونے کے ناطے مندر میں  تو نہیں  جاسکتا تھا، مندر کے باہر گھنٹوں  بیٹھ کر مندر میں  ہوتا سوامی جی کا پاٹھ سنتا تھا۔ سوامی جی کی محبت،بھائی چارے، اخوت، مساوات، انسانیت کا سبق دینے والی باتیں۔ مجھے وہ انسان کے رُوپ میں  فرشتہ محسوس ہوتے تھے۔

اُنھوں  نے ایک سال ہمارے پڑوس میں  گزارا ہو گا۔ لیکن اُن کی حالت غیر رہی۔ کسی دوکان کے افتتاح کی پوجا ہو یا کسی کا شرادھ، تین چار گھنٹے پوجا کرنے پر بھی ۱۱ روپیہ یا ۵۱روپیہ ہی ملتا تھا۔ اس میں  سوامی جی اپنا خرچ بھی چلاتے اور اپنے بچوں  کو بھی پیسہ بھیجتے جو بنارس میں  تھے۔

ہر روز کہیں  نہ کہیں  کسی موضوع پر پاٹھ دیتے لیکن ان کے مطابق اس پاٹھ کو سننے والے دس بارہ لوگ بھی نہیں  ہوتے ہیں۔

ایک دِن اُنھیں  ایک نئی قسم کی پیش کش ملی۔

ایک سیاسی پارٹی نے گئو رکشا کے موضوع پر ایک جلسہ رکھا تھا۔ اُنھیں  اِس جلسہ میں  اِس موضوع پر بولنا تھا۔ سیاسی پارٹی والوں  نے ان سے کہا تھا کہ وہ دھرم کے ساتھ ساتھ کچھ سیاست پر بھی بولیں۔ اِس جلسے میں  وہ بولے اور سیاسی پارٹی کے افکار کے مطابق بولے، جلسے میں  تالیاں  بجتی رہیں  اور وہ لوگوں  پر چھا گئے۔ سیاسی پارٹی والوں  کو لگا کہ اس آدمی کے ذریعہ وہ اپنی سیاسی دوکان چلا سکتے ہیں۔ انھوں  نے اسے ایک نیا نام سوامی وشنو پنت جی دیتے ہوئے ان سے ۱۰ ، ۱۲جلسے کرائے۔

تمام جلسے کامیاب رہے، ہر جلسے میں  سوامی جی کی تقریر کا انداز جارحانہ ہوتا جاتا تھا۔ اور لوگوں  کی بھیڑ بڑھتی جا رہی تھی اور مقبولیت بھی۔

چند مہینوں  کے اندر وہ ایک مشہور و معروف شخصیت بن گئے۔ اور اپنا پرانا مکان چھوڑ کر ایک مشہور علاقے میں  رہنے چلے گئے۔ اس کے بعد سوامی جی نے اس پارٹی کے لئے صرف اشتعال انگیز تقاریر کیں۔

کار ایک بہت بڑے بنگلے میں  جا کر رُکی تھی۔ میں  کار سے اُترا تو اِس بنگلے کی شان و شوکت دیکھ کر میری آنکھیں  چوندھیا گئیں۔

"یہ میرا بنگلہ ہے۔ " سوامی جی فخر سے بولے۔ " ملک کے کئی حصوں  میں  اس طرح کے میرے کئی بنگلے ہیں ، میرے بچے بڑے بڑے کالجوں  میں  پڑھتے ہیں ، میرے کئی دھندے ہیں۔"

میں  صوفے پر بیٹھ کر سوامی جی کی امارت کا اندازہ لگانے کی کوشش کرتا رہا۔

"اکبر بابو ! آج اگر میں  کسی کی دوکان یا بزنس کا افتتاح کرتا ہوں  تو اسے بہت بڑی سعادت سمجھتا ہے اور اس کے بدلے میں  مجھے لاکھوں  روپیہ دیتا ہے۔ بڑے بڑے لوگ اپنے مردہ رشتے داروں  کے دھارمک کاریہ مجھ سے کروانے میں  فخر سمجھتے ہیں  اور اس کے بدلے مجھے لاکھوں  روپیہ دیتے ہیں۔ جس جگہ میرا جلسہ ہوتا ہے لوگ مجھے پیسوں  میں  تولتے ہیں۔ کل ان ہی کاموں  کے بدلے مجھے دس روپیہ مشکل سے مل پاتے تھے۔ آج میرے چاروں  طرف دولت رہتی ہے۔ " سوامی جی بولے۔

"فرق صرف اتنا ہوا ہے کہ میں  لوگوں  کے میزان کے مطابق بولتا ہوں  اور عوام کا میزان کیا ہے، جانتے ہو... ؟ جب میں  لوگوں  کو اخوت، بھائی چارے، انسانیت اور دھرم کا اُپدیش دیتا تھا تو میری باتوں  کو سننے والے دس بیس آدمی نہیں  ہوتے تھے اور میں  کوڑی کوڑی کا محتاج تھا۔ لیکن آج جب میں  لوگوں  کو فرقہ پرستی، نفرت، اشتعال انگیزی کی ترغیب دیتا ہوں  تو لاکھوں  لوگ میرے جلسوں  میں  شریک ہوتے ہیں۔ میرے ماننے والے کروڑوں  ہیں۔ میرے ایک ایک بول کے بدلے مجھے لاکھوں  روپیہ دیا جاتا ہے، کل میں  ایک ایک لفظ اپنے دِل سے بولتا تھا تو کوڑی کوڑی کا محتاج تھا۔ آج جب ایک ایک لفظ اپنے دِماغ سے بولتا ہوں  تو کروڑوں  میں  کھیلتا ہوں۔ " سوامی جی کی بات سن کر میں  کسی سوچ میں  ڈوب گیا۔

"کس سوچ میں  ڈوب گئے اکبر بابو ! " سوامی جی نے پوچھا۔

"دُنیا کے میزان کے بارے میں  سوچ رہا ہوں  سوامی جی، جس پر آپ تُلے ہیں۔"