کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تاریکی

ایم مبین


راستے میں  رگھو ویر مل گیا تھا۔

رگھو ویر کو دیکھ کر وہ پہچان ہی نہیں  سکے۔ وہ اتنا بدل گیا تھا۔ جب وہ ان کے ساتھ کام کرتا تھا تو دبلا پتلا ہوا کرتا تھا۔ جسم پر ٹھیک ڈھنگ کے کپڑے بھی نہیں  ہوتے تھے۔

لیکن اسوقت اس کے جسم پر کافی قیمتی کپڑے تھے۔ اور جسم کے حجم میں  کافی اضافہ ہو گیا تھا۔

انھوں  نے ہی اسے آواز دی۔

"ارے رگھوویر! "

"کون .... ارے شندے صاحب ! "رگھوویر اُنھیں  دیکھ کر حیرت میں  پڑ گیا۔

"یہ آپ ہیں  ؟"

"ہاں  میں  ہی ہوں۔ " اُن کے چہرے پر ایک پھیکی مسکراہٹ اُبھر آئی۔

"یہ آپ نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے ؟ " رگھو نے حیرت سے اُنھیں  دیکھا۔

بولا۔ " آپ کتنے دُبلے ہو گئے ہیں ، آنکھیں  اندر دھنس گئی ہیں۔ کیا آپ بیمار ہیں  ؟"

"دُنیا میں  بیکاری سے بڑھ کر اور کیا بیماری ہوسکتی ہے ؟ " اُنھوں  نے تاسف سے کہا۔

"کیا آپ کے کیس کا ابھی تک فیصلہ نہیں  ہوسکا ؟ " اس نے حیرت سے پوچھا۔

"نہیں ،، اُنھوں  نے کہا پھر موضوع بدلنے کے لئے پوچھا۔ " اور بتاؤ، کیسے بیت رہی ہے ؟"

"بھگوان کی دیا ہے شندے صاحب۔ " رگھو بولا۔ " ترقی ہو گئی ہے، ترقی کر کے ہیڈ بن گیا ہوں۔ بڑے لڑکے کو سوفٹ ویر کروا دیا تھا، وہ ایک فرم میں  لگ گیا ہے۔چھوٹا ہارڈ ویر کر رہا ہے۔ اس کی اپنی دوکان کھولنے کا اِرادہ ہے، چھوٹی لڑکی کالج کے آخری سال میں  ہے، لال باغ والا کمرہ چھوڑ دیا، وسئی میں  ایک فلیٹ لے لیا ہوں۔"

گذشتہ پانچ سالوں  کی کہانی رگھو نے چند جملوں  میں  بیان کر دی اور باقی کا اندازہ اُنھوں  نے اس کی حالت سے لگا لیا۔

پھر اِدھر اُدھر کی باتیں  کرنے کے بعد رگھو نے آخر تیر چلا ہی دیا۔

"شندے صاحب ! میں  آپ کو بار بار سمجھاتا تھا۔ مانا ہم جہاں  کام کرتے ہیں  وہاں  پیسہ ہی پیسہ ہے۔ وہاں  بیٹھ کر ہم اپنی کُرسی کے ذریعہ بے شمار دولت کماسکتے ہیں۔لیکن وہ پیسہ ہمیں  سکون نہیں  دے سکتا۔ کبھی نہ کبھی تو اس کا انجام برا ہی ہونا ہے۔ اور ہوا بھی وہی۔ آپ رشوت لیتے پکڑے گئے اور معطل کر دئے گئے۔ آپ کا کیس ابھی تک چل رہا ہے اور اب آپ خود کہتے ہیں  کہ اس کیس میں  آپ کا بچنا مشکل ہے۔ آپ کو رشوت لینے کے جرم میں  پانچ، چھ سال کی قید ہو جائے گی۔ نوکری سے نکال دئے جانے کے بعد آپ کا گھر ٹوٹ کر بکھر گیا۔ میں  وہ راستے پر نہیں  چلا جس پر آپ جاتے تھے۔ آج بھی اپنے اُصولوں  پر قائم ہیں ، پہلے تکلیف کے دِن تھے، آج بھگوان نے راحت دے دی ہے۔ کاش آپ بھی میری رائے پر چلتے۔"

گھر آ کر وہ بہت دیر تک رگھو کے بارے میں  سوچتے رہے۔

کیا رگھو کی راہ پر چل کر اُنھیں  وہی راحت ملتی جو رگھو کو ملی ہے ؟ ممکن ہے مل جاتی۔

اُنھوں  نے جو راستہ اپنایا تھا اُس وقت اُنھوں  نے خواب میں  بھی نہیں  سوچا تھا کہ ان کا انجام ایسا ہوسکتا ہے۔ کل ہی وہ اپنے وکیل سے مل آئے تھے۔

وکیل نے فیس کا مطالبہ کیا تھا۔ جب اُنھوں  نے اسے اپنی حالت بتائی تو وہ اُن پر غصہ ہو گیا تھا

"شندے صاحب ! آپ کا کیس آخری اسٹیج پر ہے اور اس اسٹیج پر آپ کو پیسوں  کی سخت ضرورت ہے۔ ہر فیصلہ آپ کو اپنے حق میں  کروانا ہے تاکہ آپ با عزت طریقے سے دوبارہ ڈیوٹی پر جوائنٹ ہو جائیں  اور آپ پر لگا رشوت لینے کا الزام جھوٹا ثابت ہو جائے۔ اس کے لئے عدالت کے کلرک، چپراسی سے جج تک ہر کسی کو پیسہ دے کر فیصلہ آپ کو اپنے حق میں  کرنا ہو گا اور آپ کہہ رہے ہیں  کہ آپ کے پاس پیسہ نہیں  ہے۔ یاد رکھئے اس وقت آپ کے پاس پیسے کی کمی آپ کو مجرم ثابت کر سکتی ہے۔ آپ کو رشوت لینے کے جرم میں  سزا ہو جائے گی اور آپ دوبارہ پھر کبھی نوکری پر جوائن نہیں  ہو پائیں  گے۔"

لیکن وہ اسے کیا بتائیں۔اس وقت وہ پینے کے لے ایک سگریٹ کے محتاج ہیں۔ تو بھلا فیصلہ اپنے حق میں  کروانے کے لیی اتناپیسہ کہاں  سے لائیں۔

واپس گھر آتے وقت راستہ بھر ان کے دماغ میں  وکیل کی باتیں  گونجتی رہیں  اور آنکھوں  کے سامنے جیل کی سلاخیں  منڈلاتی رہی۔ اُس وکیل کو اُنھوں  نے گذشتہ پانچ سالوں  میں  چار پانچ لاکھ روپیہ فیس کے طور پر دیا ہو گا۔ لیکن وہ اب بھی فیس مانگ رہا ہے اور صاف کہہ رہا ہے اگر اُنھوں  نے فیس کا انتظام نہیں  کیا تو فیصلہ اُن کے خلاف ہوسکتا ہے۔

گھر واپس آئے تو بیوی نے ترش لہجے میں  پوچھا۔

"وکیل کے پاس گئے تھے ؟"

"ہاں  ! "

"اس نے کیا کہا ہے ؟"

"کہہ رہا ہے اگر ہم نے فیس کا انتظام نہیں  کیا تو فیصلہ ہمارے حق میں  نہیں  ہو پائے گا۔"

"گھر میں  کھانے کے لالے پڑے ہیں ، میں  کس طرح گھر چلا رہی ہوں ، میرا حال مجھ کو معلوم ہے۔ ایسے میں  بھلا فیس کا انتظام کہاں  سے ہوسکتا ہے۔ اس کیس سے تو اب طبیعت بیزار ہو گئی ہے۔ دو ٹوک جو بھی فیصلہ ہو جائے تو چھٹی مل جائے گی۔ رشوت لیتے وقت آپ کو یہ سوچنا چاہئے تھا کہ اس برے کام کی وجہ سے آپ پر ہمارے گھر پر یہ برا وقت بھی آسکتا ہے۔"

بیوی کی باتیں  اُنھیں  سوئی کی طرح چبھتی محسوس ہوئی۔

اب بیوی بار بار اُنھیں  کوستی ہے کہ اُنھوں  نے رشوت کیوں  لی۔ رشوت لینے کا غلط کام کیوں  کیا۔ جس کی وجہ سے وہ اِس مصیبت میں  پڑے ہیں۔

لیکن جب وہ اِس کے لئے نئی نئی ساڑیاں ، بچوں  کو اچھے اچھے کپڑے، گھر کے لئے قیمتی سامان لائے تھے اُس وقت بیوی نے نہیں  پوچھا کہ آپ کی تنخواہ تو اتنی کم ہے، ہماری آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں  ہے پھر یہ اتنا قیمتی سامان اور اِس کے لئے اتنا پیسہ کہاں  سے آتا ہے ؟ جب لوگ گھر پر ان سے ملنے کے لئے آتے تھے تو وہ ان کی چائے پانی اور خوب خاطر مدارات کرتی تھی۔ کبھی اس نے انھیں  اس بات کے لئے نہیں  ٹوکا کہ یہ لوگ ان سے ملنے گھر پر کیوں  آتے ہیں۔ آفس کا کام ہے تو آفس میں  کیوں  نہیں  ملتے ؟

بڑی بڑی رقمیں  جب وہ بیوی کے پاس رکھنے کے لئے دیتے تھے تو بیوی نے کبھی نہیں  پوچھا تھا کہ اِتنی بڑی رقم کہاں  سے آئی ؟ اور اب بات بات پر اُنھیں  اِس بات کے لئے طعنہ دیتی ہے۔ شاید اس وقت وہ اُنھیں  ایک بار بھی ٹوک دیتی تو جس راستے پر وہ چل رہے تھے اس سے واپس مڑنے کے بارے میں  سوچتے۔

پانچ سال میں  وہ کتنی بدل گئی تھی۔

صرف بیوی کو کیوں  دوش دیں  ؟ گھر کا ہر فرد بدل گیا تھا۔

تینوں  بچے بھی اب اُنھیں  خاطر میں  نہیں  لاتے تھے۔

جب انھیں  رشوت لیتے گرفتار کیا گیا ہے اور سروس سے معطل کر دیا تھا، اُس وقت بڑے لڑکے نے ایس۔ ایس۔ سی پاس کیا تھا۔ وہ پڑھنے لکھنے میں  بہت ہوشیار تھا۔ اسے وہ انجینئر بنانا چاہتے تھے اور اس کے لئے اُنھوں  نے پورا انتظام کر لیا تھا۔ ایک بڑے کالج کی پوری فیس اُن کے پاس تیّار تھی۔

مگر وہ گرفتار کر لئے گئے اور حوالات جانے سے بچنے کے لئے اُنھیں  پولس کو وہ ساری رقم دینی پڑی۔ رقم دینے کا صرف یہ فائدہ ہوا کہ ان کے خلاف آگے اور کوئی انکوائری نہیں  ہوسکی۔ ورنہ ان کی ہر چیز کی انکوائری کا آرڈر تھا۔

لڑکا انجینئرنگ کالج نہیں  جاسکا، اُس نے گیارہویں  میں  داخلہ لے لیا۔ لیکن چھ مہینے کے بعد ہی ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ اسے کالج چھوڑنا پڑا اور گھر چلانے کے لئے مجبوراً وہ چھوٹے موٹے کام کرنے لگا۔ چھوٹا لڑکا دسویں  میں  فیل ہو گیا۔ اس کی وجہ سے وہ آگے تعلیم جاری نہیں  رکھ سکا، نہ کوئی کام کر سکا۔ آوارہ لڑکوں  کی صحبت میں  پڑ گیا۔ اُس کے بارے میں  اُنھیں  پتا چلا کہ وہ غلط دھندے بھی کرنے لگا ہے۔ کئی بار اُسے پولس پکڑ کر لے گئی۔ لیکن اُسے چھڑانے کے لئے اُنھیں  پولس اسٹیشن جانے کی ضرورت محسوس نہیں  ہوئی وہ خود ہی چھوٹ کر اور سارے معاملات کو نپٹا کر آگیا یا وہ جن لوگوں  کے ساتھ رہتا تھا اُنھوں  نے ہی اُسے رِہا  کرا لیا۔

چھوٹی لڑکی کا دِل بھی اسکول کی پڑھائی میں  نہیں  لگتا تھا۔

اُس نے پڑھائی چھوڑ دی اور سلائی سیکھنے لگی۔ اِس کے بعد وہ چھوٹے موٹے کام کرنے لگی۔

پھر اس کے بعد اُنھیں  پتا چلا کہ وہ آوارہ لڑکوں  کے ساتھ بدنام جگہوں  پر گھومتی ہے، رات دیر سے گھر واپس آنے لگی تو ایک بار اُنھوں  نے اُسے ٹوکا جس پر وہ اُن سے جھگڑا کرنے لگی۔

"میں  کام کرنے کے لئے گھر سے باہر جاتی ہوں  تاکہ دو پیسے ملے تو گھر چل سکے۔ آپ کی طرح گھر میں  بیٹھی نہیں  رہتی ہوں۔ " ماں  بھی لڑکی کی طرف داری کرنے لگی۔

"خود تو کوئی کام دھندا نہیں  کرتے، دِن بھر گھر میں  بیٹھے رہتے ہو، ہم گھر چلانے کے لئے کوئی چھوٹا موٹا دھندہ کرتے ہیں  تو ہمارے پیچھے پڑ جاتے ہو۔"

ماں  بیٹی کی طرف داری کر رہی تھی۔ اس کی وجہ وہ جانتے تھے۔ کیونکہ وہ بھی بیٹی کے رنگ میں  بہت پہلے ہی رنگ چکی تھی۔

اُن کے معطّل ہونے کے ایک سال بعد ہی وہ چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئے گھر سے باہر جانے لگی تھی۔

کچھ دِنوں  کے بعد ہی اُنھیں  رپورٹ ملنے لگی تھی کہ وہ کام کی آڑ میں  آوارہ گردی کرتی ہے۔

ایک دو بار اِس بات پر اُن کا جھگڑا بھی ہوا تھا۔ اُس کا جواب تھا۔

"ٹھیک ہے، میں  گھر میں  رہتی ہوں ، تم جاؤ کوئی کام کرو۔ کچھ کما کر لا کر دو اور پہلے کی طرح گھر کا خرچ چلاؤ۔ " یہ ایسا جواب تھا جس کو سن کر وہ بے حس ہو گئے۔ وہ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر جائیں  یہ ٹھیک ہے۔ لیکن وہ کیا کام کریں  ؟

آدھی زندگی سرکاری نوکری کرتے گزری تھی۔ اب وہ دُوسرا کیا کام کر سکتے تھے، کسی دوکان پر سیلس مین کا کام کر سکتے تھے نہ کسی پرائیویٹ آفس میں  کلرک کا۔ ایک ادھیڑ عمر شخص کو کام پر رکھنے سے بہتر وہ کسی نوجوان کو کام پر رکھنا پسند کرتے تھے۔

جہاں  وہ پہچان لئے جاتے اُن کے ساتھ جانوروں  سا سلوک کیا جاتا تھا۔

"ارے شندے صاحب ! آپ ہمارے یہاں  نوکری کریں  گے ؟ آپ تو سارے شہر کو نوکر رکھ سکتے ہیں۔ اِس لئے ہمارے یہاں  نوکری کر کے اپنی شان کیوں  جھوٹی کرنا چاہتے ہیں  ؟"

مایوسی سے واپس مڑتے تو ایک بازگشت پیچھا کرتی۔

"ارے ایک حرامی سرکاری آفیسر ہے، بنا رشوت کے کوئی کام نہیں  کرتا تھا۔ رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا، آج کل معطل ہے۔ بہت لوگوں  کو ستایا ہے اب اس کے پاپوں  کی سزا اُسے مل رہی ہے۔"

اُنھیں  محسوس ہوتا جب وہ کُرسی پر براجمان تھے تو جو لوگ اُن کے ساتھ ادب سے پیش آتے تھے، اُن کی عزت کرتے تھے، اُنھیں  بار بار سلام کرتے تھے، آج اُنھیں  دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیتے ہیں۔اگر وہ خود سے اُن سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں  تو وہ اُن کے زخموں  کو کُرید کر اُن پر نمک چھڑکتے ہیں۔

"کہیئے شندے صاحب، کیسے ہیں  ؟ "رشوت لیتے پکڑے گئے تھے نا ؟نوکری تو جاتی رہی، سنا ہے جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔اب کس طرح گزر بسر ہوتی ہے ؟ کیا آج کل آپ کوئی کام تلاش کر رہے ہیں  ؟۔ اگر مل جائے تو برائے کرم وہاں  بھی وہی کام مت کیجئے گا۔ وہ سرکاری دفتر تھا، جہاں  آپ حاکم تھے، ہر جگہ آپ حاکم نہیں  ہوسکتے۔"

اِن طعنوں  کی وجہ سے اُنھوں  نے کہیں  آنا جانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ گھر میں  بیٹھے رہتے اکیلے، کیونکہ گھر میں  کوئی نہیں  ہوتا تھا۔ بیوی کام پر چلی جاتی تھی۔ بڑا لڑکا بھی کام پر ہی جاتا تھا۔ چھوٹا لڑکا اور لڑکی کہاں  آوارہ گردی کرتے رہتے تھے، اُن کو ٹوکنے کی ان میں  ہمت بھی نہیں  تھی۔

ایک زمانہ تھا، ان کا بڑا دبدبہ تھا۔

وہ ایسے محکمے میں  تھے جہاں  پیسہ ہی پیسہ تھا۔ مجبور، ضرورت مند افراد وہاں  پیسہ دے کر ہی اپنا کام کرواتے تھے اور اُنھوں  نے بھی پیسہ لے کر کام کرنے کا اپنا اُصول بنا لیا تھا۔

جس سے مطلوبہ رقم مل گئی اس کا کام منٹوں  میں  ہو گیا جس نے پیسے نہیں  دئے سالوں  تک اُن کے آفس کے چکّر کاٹتا رہا۔

وہ غلط صحیح ہر طرح کا کام کرتے تھے۔ صحیح کام کرنے کی بھی قیمت ادا کرنی پڑتی تھی۔ غلط کاموں  کے لئے تو کچھ زیادہ ہی قیمت دینی پڑتی تھی۔

گھر میں  دولت کی ریل پیل تھی۔ وہ اپنے ساتھ آفس سے روزانہ ہزاروں  روپیہ لاتے تھے۔

بیوی قیمتی کپڑوں  اور زیورات میں  لدی جا رہی تھی، گھر میں  قیمتی آرائشی سامان آ رہا تھا، بچے اِس چھوٹی سی عمر میں  ہزاروں  روپیہ روزانہ اُڑا دیتے تھے۔

کچھ لوگ سمجھاتے بھی تھے کہ وہ جس راستے پر جا رہے ہیں  وہ غلط ہے۔ کسی دِن اس کا خاتمہ کسی تاریک غار میں  ہوسکتا ہے۔

لیکن اُنھیں  کسی کی پرواہ نہیں  تھی۔

اُنھوں  نے اس درمیان اپنا رُسوخ بھی بنا لیا تھا۔ اُنھیں  یقین تھا اگر ان کے ہاتھوں  سے کوئی لغزش ہو جائے تو وہ لوگ اُنھیں  بچا لیں  گے۔

لیکن اُنھیں  کوئی بھی نہیں  بچا سکا۔

ایک سرپھرے سے اُنھوں  نے کام کے لئے رشوت مانگی، اُس نے انکار کیا تو اُسے اتنا مجبور کر دیا کہ وہ رشوت دینے کے لئے مجبور ہو گیا۔ رشوت لے کر اُنھوں  نے اس کا کام کیا۔

لیکن وہ اینٹی کرپشن میں  رپورٹ کر چکا تھا۔

اینٹی کرپشن والے جال بچھا چکے تھے۔ وہ جال میں  پھنس گئے۔اور رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں  پکڑے گئے۔

فوراً معطل کر دئے گئے اور کیس شروع ہوا۔

اِس کیس کو کمزور کرنے کے لئے اور خود کو دُوسری کاروائیوں  سے بچانے کے لئے اُنھوں  نے گھر میں  جمع سارا پیسہ لگا دیا۔ کل تک وہ لوگوں  سے رشوت لیتے تھے۔

آج وہ خود کو بچانے کے لئے کو رشوت دے رہے تھے۔

اُنھوں  نے سب کو خرید لیا۔

لیکن جس سے اُنھوں  نے رشوت لی تھی اور جس نے اُنھیں  رشوت دیتے ہوئے پکڑوایا تھا وہ اڑا رہا۔

پیسہ یا کوئی بھی دباؤ اُسے جھکا نہیں  سکا۔

وہ آج تک اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا جیسے اُس نے اُنھیں  برباد کرنے کی ٹھان لی ہو۔

اور ان پانچ سالوں  میں  اُس نے اُنھیں  پوری طرح برباد کر دیا تھا۔

عزت، گھر بار، بیوی بچے، دولت، شہرت سب تو لُٹ گئی تھی۔

نیم جان تن پر بس آخری وار ہونا باقی تھا۔

فیصلہ اُن کے خلاف جائے اور اُنھیں  رشوت لینے کے جرم میں  سزا ہو جائے۔

اور اُن کی دوبارہ نوکری پانے کی آخری اُمید بھی ٹوٹ جائے۔

جو اُنھوں  نے راستہ اپنایا تھا وہ تاریکی بھرا تھا۔ لیکن وہ اُنھیں  روشن محسوس ہوتا تھا۔ اِس تاریک راستے پر چلتے وہ تاریکی میں  گم ہو گئے۔

اِ س لئے اُن کا خاتمہ بھی اِسی تاریکی میں  ہونے والا تھا۔