کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بے اماں

ایم مبین


رات دو بجے کے قریب ریلیف کیمپ پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس سے کیمپ میں  مقیم تمام پناہ گزیں  خوف اور سکتے میں  آ گئے تھے۔

حملہ آور کتنے اور کون تھے ؟کچھ پتا نہیں  چلا تھا۔وہ رات کے اندھیرے میں  آئے تھے اور ریلیف کیمپ کے باہر اُنھوں  نے اشتعال انگیز نعرے لگائے تھے اور پتھراؤ کیا تھا۔

"جے شری رام، جے شری رام... ! "

"آبادی بڑھانے کے کارخانے بند کرو، بند کرو۔"

"پاکستان پہونچا دیں  گے، قبرستان پہونچا دیں  گے۔"

کیمپ میں  کوئی حفاظتی دستہ تو تعینات نہیں  تھا، کبھی کبھار ایک آدھ سپاہی آ کر کیمپ میں  چکّر لگا جاتا تھا۔ اس وقت وہ بھی غائب تھا۔ نعروں  کی آواز سے پورے کیمپ میں  دہشت پھیل گئی۔

ہر فرد جاگ گیا۔

اب آگے کیا ہونے والا ہے اس کے بارے میں  سوچ کر ہر فرد دہشت زدہ تھا۔

کچھ دِنوں  قبل جو کچھ ان کے گھروں  میں ، ان کے محلوں  میں  ان کے ساتھ ہوا تھا اب ایسا محسوس ہو رہا تھا، وہی سب کچھ اِس ریلیف کیمپ میں  بھی ان کے ساتھ ہونے والا ہے۔ جہاں  وہ دو ماہ سے اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر رہے تھے۔

"لگتا ہے شرپسندوں  نے کیمپ پر حملہ کر دیا ہے۔ اگر اِنھیں  روکا نہیں  گیا تو وہ اندر گھس آئیں  گے اور وہی سب کچھ ہو گا جو ہمارے ساتھ ہوا ہے۔"

انھیں  روکنا چاہئے۔"

"آؤ آگے بڑھو۔"

کیمپ کے پناہ گزینوں  نے آپس میں  رائے مشورہ کیا اور پھر وہ کیمپ کے دروازے کی طرف بڑھے۔ باہر اندھیرے میں  شرپسند نعرے بازی کر رہے تھے، پتھراؤ کر رہے تھے، پتھر کیمپ میں  آ آ کر گر رہے تھے جس سے دوچار لوگ زخمی بھی ہوئے...

. " جواب دیا جائے نعرۂ تکبیر اللہ اکبر۔ " ؟

کسی نے نعرہ بلند کیا اور فوراً جواباً پتھر چلائے جانے لگے۔

ایک منٹ بعد ہی نعرے بھی بند ہو گئے اور پتھراؤ بھی رُک گیا۔ حملہ آور بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔

لیکن اس کیمپ کے مکین ایک لمحہ کے لئے بھی سو نہیں  سکے تھے، ایک خوف چھایا ہوا تھا،حملہ دوبارہ ہوسکتا ہے، اس سے بہتر ہے جاگا جائے۔

وہ رات بھر جاگتے رہے۔

سورج کے نکلنے کے ساتھ خوف کا احساس کچھ کم ہوا۔

لیکن پورے کیمپ پر تناؤ چھایا رہا۔

یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ کیمپ پر شرپسندوں  نے حملہ کیا ہے اور شرپسندوں  کو روکنے کے لئے ایک سپاہی بھی وہاں  موجود نہیں  تھا۔

میڈیا کے لوگ پہونچ گئی اور اِس سلسلے میں  ریلیف کیمپ میں  مقیم مکینوں  سے بات چیت کرنے لگے اور ان کے بیانات کی بنیاد پر خبریں  تیّار کر کے اپنے اپنے چینل اور اخبارات کو روانہ کرنے لگے۔

برسرِ اقتدار پارٹی کے ایک دو لیڈر بھی آئے اور اُنھوں  نے وہی بیانات دئے جس کی اُن سے توقع تھی یا جو اُن کی فطرت میں  رچا بسا تھا۔

"کیمپ میں  پناہ گزینوں  کی آڑ میں  ملک دُشمن، غنڈے عناصر جمع ہیں  اور وہی ہمارے لیڈران، حکومت، پارٹی، تنظیم کو بدنام کرنے کے لئے اِس طرح کی حرکتیں  کر رہے ہیں۔ ان غنڈوں  نے کیمپ سے گزرنے والے ہمارے پارٹی ورکروں  پر پتھراؤ کیا تھا جواب میں  اُنھوں  نے بھی پتھراؤ کیا اور نعرے لگائے اس کے علاوہ کوئی بات نہیں  ہے جس کا بتنگڑ بنایا جا رہا ہے۔ ضرورت اِس بات کی ہے کہ ان ملک دُشمن عناصر، آئی۔ ایس۔ آئی کے ایجنٹوں  کو ان کیمپوں  سے نکالا جائے۔ ورنہ بار بار گودھرا جیسے واقعات ہوتے رہیں  گے۔"

اپوزیشن لیڈران نے بیانات دئے۔

"اب تک ہوئے فسادات، ان میں  پیش آنے والے تمام گھناؤنے واقعات میں  برسرِ اقتدار پارٹی کا ہاتھ ہے، یہ تو ہم کہتے ہیں  آج اِس کا ثبوت بھی مل گیا ہے۔ اتنے بڑے کیمپ میں  جہاں  ہزاروں  لوگ بے یار و مددگار پڑے ہیں  ان کی حفاظت کے لئے مرکزی اورریاستی حکومت کے پاس ایک سپاہی بھی نہیں  ہے۔ ان کے ورکر آ کر اس کیمپ پر حملہ کرتے ہیں  یہ ایک گھناؤنی سازش کا آغاز ہے۔"

باز آباد کاری کے وزیر نے کیمپ کا دورہ کیا۔ دورے کے نام پر وہ کیمپ کے دروازے کے اندر بھی داخل نہیں  ہوا لیکن اس نے بیان دے دیا۔

"ریلیف کیمپ پر حملے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس قسم کے حملہ مستقبل میں  بھی ہوسکتے ہیں  اور آئندہ اِس طرح کے حملوں  میں  سیکڑوں  لوگوں  کی جانیں  جاسکتی ہیں۔ حکومت اتنے لوگوں  کی جانوں  کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں  لے سکتی۔ کوئی بہت بڑا واقعہ ہو اس سے بہتر تو یہ ہے کہ اس طرح کے تمام کیمپوں  کو بند کر دیا جائے تاکہ کیمپوں  میں  مکین پناہ گزین اپنے اپنے گھروں  کو واپس چلے جائیں۔"

وزیر کے اِس بیان کے بعد دوچار ٹٹ پونجئے لیڈروں  نے اس کے حق میں  بیان دئے۔

کچھ دِنوں  قبل ہی اپنی گورو یاترا میں  خود ریاست کا سی۔ ایم اِس طرح کے کیمپوں  کو آبادی بڑھانے والے کارخانے قرار دے چکا تھا۔

اور اب باز آباد کاری کا وزیر ان کیمپوں  کو بدامنی کا خطرہ قرار دے کر بند کرنے کی سفارش کرنے کی بات کر رہا ہے۔

اس بات کو سن کر ریلیف کیمپوں  کا ہر فرد دہل گیا۔

"ہم کو ان ریلیف کیمپوں  میں  کوئی بھی سرکاری سہولت دستیاب نہیں  ہے، ہم کو ٹھیک سے پینے کے لئے پانی تک نہیں  دیا جاتا ہے۔ہفتے میں  ایک بار بھی سرکاری کھانا نہیں  دیا جاتا ہے، کیمپ کی صفائی بھی نہیں  ہوتی ہے اور اب ان کیمپوں  اور ان میں  مکین پناہ گزینوں  کو ملک دُشمن قرار دے کر ان کو بند کرنے کی آواز اُٹھائی جا رہی ہے۔"

"ایسا لگتا ہے جیسے ہماری مکمل طور پر بیخ کنی اور نسل کشی کرنے کا مکمل جامع منصوبہ بنا لیا گیا ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پوری سرکاری مشنری کا استعمال کر کے ہمیں  ہمارے گھروں  سے بے گھر کیا گیا۔ ہمارے عزیز و اقارب کو زندہ جلایا گیا، ہزاروں  لوگوں  کو موت کے گھاٹ اُتارا گیا ہے، سوچے سمجھے منصوبوں  کے تحت ہزاروں  کی تعداد میں  بھیڑ نے ہمارے گھر، محلوں  پر حملہ کر کے انہیں  نیست و نابود کیا۔ اور ان سے بچ کر پناہ لینے کے لئے ہم بے یار و مددگار ان کیمپوں  میں  آئے تو ان پر بھی زبانی اور جسمانی حملے کئے جا رہے ہیں۔ ریاست کا سی۔ ایم ہم لوگوں  سے کوئی ہمدردی جتانے کے بجائے ان کیمپوں  کو آبادی بڑھانے کے کارخانے قرار دے کر اسے بند کرنے کی بات کرتا ہے، شرپسند دندناتے اس پر حملہ کر کے چلے جاتے ہیں۔ اور انتظامیہ آنکھ موندے کھڑا رہتا ہے۔"

"ہم یہاں  کسی حد تک محفوظ ہیں۔ شرپسندوں  کے گھناؤنے منصوبوں  کا شکار ہونے سے بچ گئے ہیں۔ اس لئے ہمیں  یہاں  سے نکال کر دوبارہ اپنے گھروں  کو بھیجنے کی گھناؤنی سازش رچی جا رہی ہے۔ تاکہ شرپسند دوبارہ ان کے اِرادوں  میں  کامیاب ہو جائیں  اور پھر ہم کو ختم کر دیا جائے۔"

یہ سوچ کر ایک دہشت سی ہر کسی کے دِل پر چھا گئی۔

اِس کیمپ میں  ان کے پاس کچھ بھی نہیں  تھا۔ نہ تو بچھانے، اوڑھنے کے لئے ٹھیک طور سے بستر تھے نہ ان کو دو وقت کا صحیح طور پر کھانا مل پاتا تھا، نہ ہی پانی پینے کے لئے وقت پر مل پاتا تھا۔

لیکن پھر بھی وہ اس کیمپ میں  خوش تھے۔

اُنھیں  وہاں  کسی طرح کا خوف اور دہشت نہیں  تھی۔

کیمپ کے اِحاطے میں  ان کا دِن بھی آرام سے گزر جاتا تھا اور رات کو بھی سکون سے بے سر و سامانی کے باوجود سوتے تھے۔

اُنھیں  وہاں  کسی قسم کا خوف محسوس نہیں  ہوتا تھا۔

جب وہ ان دِنوں  کو یاد کرتے تھے جب وہ اپنے گھروں  میں  تھے تو اُن کی رُوح کانپ اُٹھتی تھی

جو تباہی اور بربادی اُنھوں  نے دیکھی تھی جو ظلم و ستم اُنھوں  نے سہے تھے اس کے بعد تو وہ اُس جگہ دوبارہ جانے کا تصور بھی نہیں  کر سکتے تھے۔ اس کیمپ میں  مقیم ہر فرد نے اپنا گھر، زمین، جائداد تو کھوئی تھی، اپنے بال بچے، بیوی، عزیز اور اقارب کو بھی کھویا تھا۔

شوہر بچ گیا تو بیوی کو ہوس کا نشانہ بنا کر زندہ جلا دیا گیا۔

کوئی عورت بچ گئی تو اُس کی آنکھوں  کے سامنے اُس کے شوہر، اُس کے بچوں  کو ترشولوں  سے چھید کر اور قتل کر کے دہکتی آگ میں  ڈال دیا گیا۔

بوڑھے، بچے، جوان کسی کو بھی نہیں  بخشا گیا۔

وہ اپنا کیا دفاع کر پاتے۔

ہزاروں  کی تعداد میں  لوگ ان پر ان کے گھروں ، محلوں  پر ٹوٹ پڑے تھے۔ جیسے ایک ساتھ ہزاروں  وحشی درندے گلوں  سے نکل آئے ہوں ، کوئی بھی تو ان کی مدد کرنے والا نہیں  تھا۔

انتظامیہ خاموش تماشائی بنی تماشہ دیکھ رہی تھی یا اپنی خاموشی کے ہتھیار سے اپنی وحشیانہ حرکتیں  جاری رکھنے اور بربریت کا اور زیادہ مظاہرہ کرنے کے لئے اُکسا رہی تھی۔

اب تک یہ ہوا تھا کہ جب کبھی اس طرح کے واقعات ہوتے تھے ان کے پڑوسی ان کا ساتھ دیتے تھے۔ ان کی حفاظت کرتے تھے یا متوقع خطرے سے آگاہ کر دیتے تھے تاکہ وہ خود کو اس ممکنہ خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے پوری طور پر تیّار کر لیں۔

لیکن اس بار اس کے بالکل برخلاف ہوا تھا۔

اس بار ان پر حملہ کرنے والوں  میں  ان کے پڑوسی، ان کے محلے والے پیش پیش تھے۔

حملہ آور دوسرے محلوں  یا شہر سے نہیں  آئے تھے۔ اس کے بعد کیا کسی سے توقع کی جاسکتی تھی۔

جو کچھ لٹ گیا تھا اسے لٹا کر، جو ختم ہو گیا اس پر صبر کر کے آنسو بہاتے وہ اس کیمپ میں  آئے تھے

اس کیمپ میں  پہونچنے والا کوئی بھی فرد تندرست نہیں  تھا، ہر کوئی فساد اور فسادیوں  کے دئے زخموں  سے چور تھا۔

اس کیمپ میں  ان کے زخموں  کا علاج کرنے کے لئے نہ تو کوئی معالج تھا نہ ہی دوائیں۔

لیکن پھر بھی وہ مطمئن تھے۔

ایک دُوسرے کے زخموں  کو پیارسے سہلادیتے، پھٹے کپڑوں  کی پٹیاں  باندھ دیتے یا باتوں  کا مرہم رکھ دیتے تو زخموں  سے اُٹھنے والی درد کی ٹیس کچھ کم ہونے لگتی۔

مہینوں  ہو گئے تھے۔ نہ تو فساد رُکتا تھا اور نہ امن کی کرن کہیں  سے پھوٹتی تھی۔ ایک دو دِن سکون سے جاتے اور پھر کسی علاقے میں  فساد پھوٹ پڑتا اور پھر وہاں  وہی واقعات دہرائے جاتے جو پورے فساد کے دوران دہرائے گئے تھے۔

وہ واپس اپنے گھروں  کو جانے کی سوچتے بھی نہیں  تھے۔

کرفیو چھوٹنے کے بعد کوئی جیالا جا کر اپنا گھر اور محلہ دیکھ آنے کی ہمت کرتا تو واپسی میں  وہ اتنا ڈرا اور سہما ہوا ہوتا تھا کہ دوبارہ پھر وہاں  جانے کا نام بھی نہیں  لیتا تھا۔

اپنے محلے میں  قدم رکھتے ہی ہزاروں  آنکھیں  اُنھیں  گھورنے لگتیں۔

ان آنکھوں  میں  نفرت ہوتی، وہ اُسے دیکھ کر آپس میں  زور زور سے باتیں  کرتے

"یہ سالا حرامی کیسے بچ گیا۔"

"ہمارے ترشولوں  کا وار ذرا ہلکا تھا، ہم نے غلطی کی اسے ٹرین کی طرح جلانا چاہئے تھا۔"

"دوبارہ واپس آیا ہے، دبوچ سالے کو، بچ کر جانے نہ پائے، کسی کو پتا بھی نہیں  چلے گا۔"

اس کے پاس پڑوس کے لوگ اُسے دیکھ کر اس سے ایسی باتیں  کرتے تھے۔ اسے دیکھ کر کوئی ہمدردی جتانے والا یا ہمدردی کے دو بول بولنے والا کوئی بھی نہیں  تھا۔

اس کے بعد تو وہ وہاں  سے نکل کر اس ریلیف کیمپ میں  پہونچ جانے میں  ہی عافیت سمجھتا۔

اسے لگتا، اگر وہ یہاں  آیا تو اب کی بار بچ نہیں  پائے گا۔

قاتل، وحشی، خونی درندے آزاد ہیں ، اپنی درندگی پر وہ پشیمان نہیں  ہے۔ ان کی درندگی کچھ اور بڑھ گئی ہے۔ وہ اسے دِن دھاڑے سرِ عام بھی ختم کر سکتے ہیں ، اگر وہ دِن میں  بچ بھی گیا تو رات کو ہزاروں  وحشیوں  کے حملے میں  تو بچ ہی نہیں  سکتا۔

اس لئے اپنے گھر جا کر کیا فائدہ ؟

اس کیمپ میں  لاکھوں  لوگ تھے۔ لُٹے ہوئے، تباہ و برباد، زخموں  سے چور لوگ....

لیکن یہاں  ان کی جانوں  کو کوئی خطرہ نہیں  تھا۔

فسادی اور وحشی درندے یہاں  پر ان پر حملہ نہیں  کر سکتے تھے۔ کیونکہ یہاں  ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ حملہ آوروں  کی بڑی سے بڑی فوج کا وہ آسانی سے مقابلہ کر کے اپنی جانیں  بچا سکتے ہیں۔

لیکن ان واقعات نے اُنھیں  دہلا کر رکھ دیا تھا۔

جس طرح کیمپ پر حملہ کرنے کی کوشش یا نعرے بازی ہوتی تھی، اس سے اُنھیں  محسوس ہونے لگا تھا، وحشی فسادی اُنھیں  یہاں  بھی سکون سے رہنے دینا نہیں  چاہتے ہیں۔

اور خود ان کا سردار ریاست کا سی ایم ایسے کیمپوں  کو آبادی بڑھانے والے کارخانے کہہ رہا تھا۔

جس وزیر کے ذمہ ان کی باز آباد کاری تھی وہ ان کی باز آباد ی کا کام تو نہیں  کر رہا تھا۔ یہاں  جس ٹوٹی چھت کے نیچے وہ پناہ لئے ہوئے تھے اُسی ٹوٹی چھت کو بھی ان کے سروں  سے چھینّے کی کوشش کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا۔

اتنے بڑے لوگوں  کی جانوں  کی حفاظت وہ نہیں  کر سکتے، اِس طرح کے کیمپ امن کے لئے خطرہ ہیں۔ اِس لئے ان سے امن کی صورتِ حال بگڑ سکتی ہے۔ انہیں  بند کر دینے میں  ہی بھلائی ہے۔

اور ایک بار پھر بے امانی، عدم تحفظ کا عفریت ان کو جکڑنے کے لئے اپنے بازو پھیلا رہا تھا۔