کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

سمینٹ میں دفن آدمی

ایم مبین


اُس کے سامنے سمینٹ کا ایک بڑا سا ٹکڑا رکھا ہوا تھا اور اُس کے ہاتھ میں  سمینٹ توڑنے کی مشین۔

اس سمینٹ کے ٹکڑے میں  اُس کا دوست، محسن، کرم فرما دفن تھا۔اور اُسے اِس سمینٹ کے ٹکڑے کو توڑ کر اپنے اس دوست کی لاش نکالنی تھی۔

سمینٹ کو ڈرل کر کے توڑنے والی مشین اس کے ہاتھوں  میں  کانپ رہی تھی۔ آج تک کبھی ایسا نہیں  ہوا تھا کہ مشین کے زوردار جھٹکوں  سے بھی اس کے ہاتھ کانپے ہوں۔

جب وہ اپنے دونوں  ہاتھوں  میں  ڈرل کرنے کی مشین پکڑ لیتا تھا اور اسے مضبوط سے مضبوط سمینٹ یا پتھر کے ٹکڑے پر بھی رکھ دیتا تھا تو اس کی نوک اس سخت پتھر یا سمینٹ میں  سوراخ کرتی جاتی تھی۔ مشین کے جھٹکوں  سے اس کے ہاتھ نہیں  کانپتے تھے۔ ہاں  اس کے مضبوط بازوؤں  کی مچھلیاں  ضرور پھڑپھڑاتی تھیں۔

جن کو اس کام کی سختی کا اندازہ تھا، اسے کام کرتے دیکھ کر اس سے رشک کرتے تھے۔

"ماشا ء اللہ خدا نے کیسی طاقت سے نوازا ہے، ہاتھوں  میں  رعشہ پڑنے کے بجائے پتھر اور سمینٹ میں  رعشہ پڑ جاتا ہے۔"

لیکن آج اُس کے ہاتھوں  میں  رعشہ پڑا ہوا تھا۔

آنکھوں  سے زار و قطار آنسو بہہ رہے تھے، قدرت نے اسے کتنی بڑی آزمائش میں  ڈالا تھا۔ اسے اس سمینٹ کے تودے سے اسلم کی لاش نکالنی تھی۔

اسلم کی موت کی خبر سن کر وہ پاگلوں  کی طرح رونے لگا تھا۔ اُسے سمجھانے اور چپ کرانے میں  اس کنویں  پر کام کرنے والے اس کے ساتھی اور دوستوں  کو گھنٹوں  لگ گئے تھے۔

"نہیں  ایسا نہیں  ہوسکتا، اسلم بھائی نہیں  مرسکتے، یہ جھوٹ ہے۔"

وہ بار بار یہ کہتے دہاڑیں  مار مار کر رونے لگتا تھا۔

اور ہر بار اس کے ساتھیوں  کو اسلم کی موت کا سین دہرانا پڑتا تھا۔

"آخر تم یقین کیوں  نہیں  کرتے ہو کہ اسلم اب اس دُنیا میں  نہیں  ہے۔اسے ایسی موت نصیب ہوئی ہے جس کے بارے میں  کوئی سوچ بھی نہیں  سکتا ہے۔ تیل کے کنویں  کے لئے ستون کا کام شروع ہوا تھا، اس کی نگرانی اسلم ہی کر رہا تھا۔ ہوا لگتے ہی پتھر کی طرح سخت ہو جانے والا سمینٹ سمندر کی تہہ میں  ڈال کر اس تیل کے کنویں  کا ستون بنایا جا رہا تھا۔ مشین کے ذریعہ سمینٹ نئی تعمیر ہونے والے ستون پر گر رہا تھا، مشینیں  اُسے مطلوبہ شکل دے رہی تھیں۔ اسلم سمینٹ کے ڈھیر میں  سمینٹ کی مقدار کی جانچ کر ر ہا تھا۔ اس کے لئے وہ جھکا ہوا تھا۔ اچانک اُس کا توازن بگڑ گیا اور وہ نیچے اس تعمیر ہونے والے ستون پر جا گرا اور اُسی وقت اُس پر کئی ٹن سمینٹ آ کر گرا جو آن کی آن میں  پتھر کی طرح سخت ہو گیا اور اسلم اس سمینٹ میں  دفن ہو گیا۔ بڑی مشکل سے اندازہ لگا کر سمینٹ کو اس ممکنہ حصے سے کاٹنے کا کام شروع کیا گیا ہے جہاں  اسلم دفن ہے، اسلم کی موت میں  کوئی دو رائے نہیں  تھی۔

اس کے گرنے کے بعد دُوسرے لمحے ہی جس کسی نے اسلم کو سمینٹ میں  دفن ہوتے دیکھا اس کی موت کا اعلان کر دیا تھا۔ کسی کو بھی اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں  تھی۔ بھلا کچھ لمحوں  میں  ہی پتھر کی طرح سخت ہو جانے والے سمینٹ کی قبر میں  بھی کوئی زندہ رہ سکتا ہے ؟

لیکن وہ تھا کہ مانتا ہی نہیں  تھا کہ اسلم اب اس دُنیا میں  نہیں  ہے۔

بڑی مشکل سے بڑی بڑی مشینوں  سے اِس حصے کو کاٹ کر نکالا گیا جس میں  اسلم دفن تھا۔

اور اس سمینٹ کے تودے کو توڑ کر اسلم کی لاش نکالنے کا حکم بھی وہ کام کرنے والوں  کو دے دیا۔

اس وقت وہ اس سمینٹ کے ٹکڑے کے سامنے کھڑا اسے گھور رہا تھا اور اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس سمینٹ کے تودے میں  اسلم کہاں  دفن ہو گا۔

چار پانچ مزدور ہاتھوں  میں  سمینٹ میں  ڈرل کرنے والی مشینیں  لے کر آگے بڑھے تاکہ اس سمینٹ کو توڑ کر اندر سے اسلم کی لاش نکالی جائے۔

اس منظر کو دیکھ کر وہ کانپ اُٹھا۔

اسے ایسا محسوس ہوا جیسے ڈرل مشینیں  اسلم کو سمینٹ کی قبر سے باہر نکالنے کی کوشش میں  اس کے جسم کے آر پار گزر کر اُسے چھلنی کر رہی ہے۔

"نہیں ، نہیں  .. ! رُک جاؤ۔ اپنے دوست کو میں  اس سمینٹ کی قبر کے باہر نکالوں  گا۔ " وہ چیخا۔

سپروائزر نے اس کی بات سن کر آنکھوں  ہی آنکھوں  میں  ان مزدوروں  کو اشارہ کیا۔ وہ سب اس اشارے کو سمجھ کر اپنی اپنی مشینیں  لے کر پیچھے ہٹ گئے۔

"جاوید ! مجھے تم سے ہمدردی ہے۔ " سپروائزر کا شفیق ہاتھ اسے اپنے کاندھے پر محسوس ہوا۔ "مجھے پتا ہے اسلم تمہیں  کتنا چاہتا تھا اور تم اسے کتنا چاہتے تھے، ٹھیک ہے ! تم اکیلے ہی اپنے طور پر اپنے دوست کی لاش اس سمینٹ کی قبر سے کھود کر باہر نکالو۔"

اور اب اسے اپنے دوست کی لاش اس سمینٹ کی قبر سے کھود کر نکالنی تھی۔

اس کے ہاتھ میں  ڈرل کر کے سمینٹ کو توڑنے والی مشین بھی تھی۔

لیکن اب تک اپنا کام شروع بھی نہیں  کر پایا تھا۔

وہ اس سمینٹ کے ٹکڑے کے جس حصے پر اپنی مشین رکھتا، اسے محسوس ہوتا جیسے اس حصے میں  اس جگہ اسلم کے جسم کا کوئی حصہ دبا ہے۔ اگر اس جگہ کو اس نے ڈرل مشین کے ذریعہ توڑنے کی کوشش کی تو ممکن ہے اسلم کے جسم کے اس حصے کو بھی نقصان پہونچے جو اس جگہ دفن ہے۔

اور وہ ڈر کر اس جگہ سے اپنی مشین ہٹا لیتا تھا اور ابھی تک اپنا کام بھی شروع نہیں  کر پایا تھا۔

جب بھی وہ مشین سمینٹ کے تودے پر رکھتا اس کے ہاتھ اور ہاتھوں  کی مشین کانپنے لگتی، ایسا محسوس ہوتا جیسے سمینٹ کے نیچے دبا اسلم اسے مسکرا کر دیکھ رہا ہے۔

"شروع کرو، جاوید ! جیتے جی تو میرے جسم پر ہلکی سی خراش بھی آ جاتی تھی تو تم تڑپ اُٹھتے تھے۔ اب شاید میرے مقدر میں  میرے جسم کو تمہارے ہاتھوں  ہی چھلنی ہونا ہے۔"

وہ گھبرا کر مشین پھینک دیتا اور اپنے دونوں  ہاتھوں  سے اپنا منہ چھپا کر زار و قطار رونے لگتا۔

اسلم کے گھر اس کی موت کی خبر دی جاچکی تھی۔ ان سے کہا گیا تھا کہ اسلم کی لاش ایک دو دِن میں  روانہ کر دی جائے گی۔

اور وہ اسلم کے گھر کے ماحول کا تصور کر کے کانپ اُٹھ رہا تھا۔

دو مہینے بعد اسلم واپس اپنے وطن، اپنے گھر جانے والا تھا۔

اس کے گھر والے اس کے آنے کی اُمید لگائے ہوئے ہوں  گے۔ اُنھوں  نے خواب میں  بھی نہیں  سوچا تھا کہ اس بار اُن کے پاس اسلم نہیں  اسلم کی لاش آئے گی۔

کیا بیتے گی اُن کے دِل پر اسلم کی لاش دیکھ کر ؟

اُنھیں  ایسا محسوس ہو گا جیسے وہ اسلم کو قبر میں  دفن نہیں  کریں  گے، اپنی ساری خواہشیں ، ارمانوں  کو قبر میں  دفن کریں  گے۔

اس سال اسلم کو کتنے کام کرنے تھے۔

اپنا گھر بنانا تھا، بڑی بیٹی کی شادی کرنی تھی، چھوٹی بیٹی کے لئے کوئی اچھا سا لڑکا ڈھونڈنا تھا، لڑکے کو کسی اچھے تعلیمی ادارے میں  اعلیٰ تعلیم کے لئے داخل کرنا تھا۔

بیمار ماں  کا علاج کرنا تھا، اپاہج بھائی کے بچوں  کو روزی، روٹی کے لئے ایک دوکان ڈال کر دینی تھی۔

ہر بار جاوید دو سال تک اِس سمندر کے درمیان رہ کر، سمندر کی مرطوب ہوا میں  اپنے خون کا پسینہ بنا کر، بہا کر جو پیسے جمع کرتا اور ان جمع پیسوں  کے سہارے جو خواب سجاتا ہے، ان پیسوں  اور خوابوں  کو لے کر جب وطن جاتا ہے تو سارے خواب ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں  اور سارے پیسے ختم ہو جاتے ہیں ، کسی بھی خواب کی تعبیر حاصل نہیں  کر پاتا ہے۔

کیونکہ گھر جانے کے بعد وہاں  پر دُوسرے ہی کئی انجانے مسائل اژدھے کی طرح منہ پھاڑے کھڑے ہوتے ہیں ، وہ جیسے ہی وہاں  پہونچتا، وہ اُس کی طرف لپکتے ہیں  اور سارا پیسہ نگل جاتے ہیں ، خواب حسرت سے اُنھیں  دیکھتے رہ جاتے ہیں ، اپنے خوابوں  کو تسلّی دیتا کہ انشاء اللہ آئندہ سال اُن کی تعبیر ضرور کرے گا۔ گذشتہ دس سالوں  سے یہی ہو رہا تھا۔

وہ دس سال قبل وہاں  آیا تھا۔ بلڈنگوں  کو تعمیر کر کے ان پر پلاسٹر لگانے کا کام کرتا تھا۔

ایک دِن کمپنی نے اُسے کچھ دِنوں  کے لئے سمندرمیں  تعمیر ہونے والے تیل کے کنوؤں  کی تعمیر کے کام کے لئے بھیج دیا۔

یہ کام بلڈنگوں  کی تعمیر سے زیادہ خطرناک تھا۔

لوگ اِس کام میں  ہاتھ ڈالنے سے ہی گھبراتے تھے۔

لیکن تین چار دِن وہاں  کام کرنے کے بعد اسلم کو محسوس ہوا، وہاں  کام کرنے میں  خطرہ ضرور ہے لیکن آدمی چوکنا رہے تو یہ خطروں  بھرا کام بھی آسان ہوسکتا ہے۔

وہاں  جس سپروائزر کے ماتحت وہ کام کر رہا تھا وہ بھی اُس کے کام سے متاثر ہوا اور اُس نے خود پیش کش کی۔

"اسلم اگر تم چاہو تو میں  تمہارے لئے کام کی سفارش کر سکتا ہوں۔ ان دو تین دِنوں  میں  تم اچھی طرح سمجھ چکے ہو گے، یہاں  کیا کام ہوتا ہے اور وہ تم کر سکتے ہو یا نہیں ، اگر تم چاہو تو یہاں  کام کر کے تم دوگنا پیسہ کما سکتے ہو اور یہاں  پر تمہیں  سہولیات بھی بہت سی ملیں  گی۔"

وہ وہاں  کام کرنے کے لئے راضی ہو گیا۔

اسے تیل کے کنوؤں  میں  کام کرنے پر معمور کر دیا گیا۔

سمندر کی گہرائی سے بڑے بڑے ستون باندھ کر سطح سمندر کے اوپر تک لائے جاتے تھے، اس پر ایک بڑا سا پلیٹ فارم تیار کیا جاتا تھا اور اسی پلیٹ فارم پر ساری دُنیا ہوتی تھی۔

سمندر سے تیل نکالنے کی بڑی بڑی مشینیں ، تیل صاف کرنے کی مشینیں  اور اس کے لئے وہاں  کام کرنے والے سیکڑوں ، ہزاروں  افرادوں  کے کوارٹرس....

. کام دِن رات چلتا رہتا تھا۔

کام کرنے والے دو شفٹوں  میں  کام کرتے تھے، کبھی دِن کی شفٹ میں  تو کبھی رات کی شفٹ میں۔ کام ختم ہونے کے بعد ان کے پاس اپنے کوارٹروں  میں  جا کر سونے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ وہ دِل بہلانے کے لئے کہیں  جا نہیں  سکتے تھے، چاروں  طرف سمندر تھا، زیادہ سے زیادہ وہ آپس میں  انڈور گیم کھیل کر، پسندیدہ موسیقی سن کر یا ٹی وی پروگرام دیکھ کر دِل بہلاسکتے تھے۔

ہفتے میں  ایک دِن اُنھیں  اِس تیل کے کنویں  سے دُور زمین پر لے جایا جاتا تھا۔ اِس طرح وہ ایک دِن اس سمندر سے دُور گزارتے تھے۔

اپنے پسند اور ضروریات کی چیزیں  خریدتے، اپنے رشتے داروں  کو فون کرتے یا خطوط پوسٹ کرتے تھے۔

اور شام کو واپس تیل کے کنویں  پر آ جاتے تھے۔

جب تیل کا کنواں  پوری طرح تعمیر ہو جاتا تھا تو پھر نئے کنویں  کی تعمیر کے لئے اُنھیں  نئی جگہ جانا پڑتا تھا۔

تعمیر کا کام برسوں  چلتا تھا، کبھی کبھی دو تین سالوں  میں  بھی اس کی تعمیر کا کام مکمل نہیں  ہو پاتا تھا۔

نئی جگہ جانے کے بعد بھی اُنھیں  کوئی اجنبیت محسوس نہیں  ہوتی تھی۔ کیونکہ ان کے لئے تو ماحول ایک جیسا ہی رہتا تھا۔

چاروں  طرف سمندر اور اس کے درمیان ایک پلیٹ فارم پر کسی چھوٹے سے جزیرے پر آباد وہ....

اُسے وہاں  آئے صرف دو سال ہوئے تھے۔ اسے آتے ہی اسلم کی ماتحتی میں  کام کرنا پڑا تھا۔

دو تین دِنوں  میں  ہی وہ ایک دوسرے سے کافی گھل مل گئے تھے۔ کیونکہ دونوں  کا تعلق ایک ہی ریاست اور ایک ہی ضلع سے تھا۔

ایک ہی مقام کے ہونے کی وجہ سے دِلوں  میں  فطری طور پر اُنسیت خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ ان دوسالوں  میں  اسلم نے اپنے گذشتہ دس سالوں  کی زندگی کا ایک ایک پل کھول کر رکھ دیا تھا۔

وہ وہاں  غریب الوطنی کی اسلم کی دس سالہ زندگی سے اچھی طرح واقف ہو گیا تھا، وہ اسلم کے گھر، اُس کے افراد، کے خاندان والوں  سے بھی بالکل اسی طرح واقف ہو گیا تھا جیسے وہ اُن کا کبھی ایک جزو رہا ہو۔

ان دس سالوں  میں  اسلم ایک معمولی میسن سے ترقی کر کے سپروائزر بن گیا تھا۔

اب تیل کے کنوؤں  کی تعمیر میں  اس کے تجربات کے نیک مشورے بھی شامل ہوتے تھے۔ کمپنی کے اعلیٰ افسران اپنے انجنیئروں  کو اسلم کے مشوروں  پر غور کرنے کی ہدایت دیتے تھے۔

وہ ان پڑھ اور جاہل آدمی تھا۔ لیکن گذشتہ دس سالوں  میں  سمندر میں  تیل کے کنوؤں  کی تعمیر کے سلسلے میں  اتنا تجربہ حاصل ہو گیا تھا کہ وہ خود کسی بڑے سے بڑے انجنیئر سے بڑھ کر پلان بنا سکتا تھا۔

وہ وہاں  پر ایک معمولی ویلڈر کے طور پر آیا تھا۔ تیل کے تعمیر ہونے والے کنووں  پر لوہے کو کاٹنے اور جوڑنے کا ہی زیادہ کام ہوتا تھا لیکن اسلم نے اسے مشورہ دیا تھا۔

"تم صرف اِس کام میں  مت لگے رہو، اور بھی دُوسرے کام سیکھ لو، یہ تمہارے کام آئیں  گے۔"

اور وہ تقریباً سارے کام سیکھ گیا تھا، سچ مچ وہ کام اُ س کے لئے بڑے مفید ثابت ہوئے تھے۔

اسے ہر کام آتا ہے، آفیسروں  کو جو اُس کا پتہ چلا تھا تو اس کے لئے اُن کے دِل میں  اس کی عزت بھی بڑھ گئی تھی۔

اسلم ہر دو سال میں  ایک بار دو مہینے کے لئے اپنے گھر جاتا تھا۔

اور ہر سال وہ کوئی نہ کوئی بڑا کام کر کے آتا تھا، بڑا کام اور کیا ہوسکتا تھا، گھر کی تعمیر، کسی کھیت کا سودا یا پھر شادی بیاہ۔ پہلے دو سال میں  اس نے اپنے بہن بھائیوں  کی شادیاں  کیں ، اس کے بعد رشتہ داروں  کی اور اس بار اسے اپنی بیٹی کی شادی کرنی تھی۔

اسلم گھر جانے کی تیاریاں  کر رہا تھا۔

"جاوید مجھے بہت دُکھ ہوتا ہے کہ اس بار جب میں  وطن جا کر واپس آ جاؤں  گا تب تم وطن جاؤ گے، میری دِلی تمنا تھی کہ اس بار ہم ساتھ وطن جاتے تو تمہیں  آٹھ دس دِن اپنے گھر میں  رکھتا۔"

"اسلم بھائی ! آپ اپنا دِل چھوٹا کیوں  کر رہے ہیں  ؟ اطمینان رکھئے۔ وطن واپس جانے کے بعد میں  آپ کے گھر ضرور جاؤں  گا۔ " لیکن پھر بھی اسلم کو اطمینان نہیں  ہو پاتا تھا۔

اس کا ارمان تھا کہ وہ اس کی بیٹی کی شادی میں  شریک ہو۔ اُس کے گھر میں  اس کی بیٹی کی شادی کی تیّاریاں  چل رہی ہو گی۔ اس کے استقبال کی تیّاریاں  ہو رہی ہوں  گی۔

اور وہ ایک خواب کی طرح بکھر کر سمینٹ کے نیچے دفن ہو گیا تھا۔ اسے اسلم کو سمینٹ کے نیچے سے نکالنا تھا۔

تاکہ اس کی لاش اس کے لواحقین کو وطن روانہ کی جاسکے اور وہ اُس کی تدفین کر سکے۔