کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

قربتیں ........ فاصلے

ایم مبین


کمپیوٹر اسٹارٹ کر کے اُس نے انٹر نیٹ کا کنکشن شروع کیا۔

خلاف معمول کنکشن جلد مل گیا۔ ورنہ اِس وقت کنکشن ملنے میں  کافی دِقّت پیش آتی تھی۔ کنکشن ملنے کے بعد اس نے مانیٹر پر لگا چھوٹا ساویب کیمرہ درست کیا۔

کیمرے میں  نظر آنے والا اپنا عکس اُس نے زاویے سے صحیح کیا، جب اُسے پورا اطمینان ہو گیا کہ کیمرہ اس کی تصویریں  صحیح زاویے سے لے رہا ہے تو اُس نے اپنی پسندیدہ ویب سائٹ اوین کی اور اُس میں  چیٹنگ کے آپشن پر کلک کیا۔

مونیٹر پر سیکڑوں  نام اور اُن کے درمیان چلنے والی گپ شپ کے نتائج اُبھرنے لگے، اُس نے میسنجر پروگرام میں  اپنے ساتھی کا نام لکھ کر تلاش کیا۔

معمول کے مطابق اس سائٹ پر اس کا شوہر جاوید موجود تھا۔ اس نے جاوید کے نام پر کلک کر کے اُسے خصوصی چیٹ روم میں  آنے کی دعوت دی۔

سامنے مونیٹر پر جاوید کا مسکراتا ہوا چہرا اُبھرا، کانوں  میں  لگے مائیکروفون میں  اُس کی شوخ آواز گونجنے لگی۔

"ہائے ! بڑی دیر کی مہرباں  آتے آتے ؟"

"نہیں  تو ... میں  نے تو معمول کے وقت کے مطابق کمپیوٹر آن کیا ہے، لگتا ہے آج آپ زیادہ فری تھے جو...... "

"ہاں  آج آفس کا کام جلد ختم ہو گیا تھا اِس لئے نیٹ پر بیٹھ کر تمہارا انتظار کرنے لگا۔"

"میرا انتظار کرنے لگے یا پھر کسی اور کے ساتھ چیٹ کرنے لگے ؟ " اُس نے مسکرا کر پوچھا۔

"جب اتنی اچھی اپنے گھر والی چیٹchatکرنے کے لئے ساتھ ہو تو پھر دُوسروں  کے پیچھے وقت برباد کرنے سے کیا فائدہ ؟"

"رات میں  تو آپ کے پاس وقت ہی وقت ہوتا ہے نا ... ؟ میں  تو ایک دو گھنٹے ہی آپ کے ساتھ ہوتی ہوں  .... میرے آف لائن ہونے کے بعد .... ؟"

"تمہارے آف لائن ہوتے ہی گھنٹوں  تک ذہن کے پردے پر تمہارا مسکراتا ہوا چہرہ رقص کرتا رہتا ہے، کانوں  میں  تمہاری سُریلی آواز گونجتی رہتی ہے۔ میں  اسی کے تصور میں  کھویا رہتا ہوں  اور کب نیند آ جاتی ہے پتا ہی نہیں  چلتا ہے اور کبھی کبھی تو میں  ہماری ساری گفتگو ریکارڈ کر لیتا ہوں  اور پھر آف لائن گھنٹوں  اسے دیکھتا رہتا ہوں۔"

"بہت یاد آتی ہے ؟ " شوہر کی بات سُن کر وہ کچھ جذباتی سی ہو گئی۔

"روزانہ تو ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ اس لئے یہ تو کہا نہیں  جاسکتا کہ بہت یاد آتی ہے لیکن وہ جو قربت کی چاہ ہے نا کبھی کبھی بے چین کر دیتی ہے۔ " جاوید نے جوا ب دیا۔

اس کے بعد باتوں  کا سلسلہ چل پڑا۔

ہزاروں  طرح کی باتیں  تھیں۔

جاوید نے پہلے بچوں  کے بارے میں  پوچھا۔ اس نے بچوں  کی دِن بھر کی سرگرمیوں  کی رپورٹ دی۔ اس کے بعد آس پاس پڑوسیوں  کی باتیں ، ملک کے حالات وغیرہ پر گفتگو۔

یہ روز کا معمول تھا۔

وہ روزانہ ایک دو گھنٹے انٹرنیٹ پر بیٹھ کر باتیں  ضرور کرتے تھے۔ باتیں  کرتے ہوئے اُسے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ بالکل اُس کے قریب ہے، اُس سے ہزاروں  میل دور نہیں  ہے۔

اُس کا چہرہ جاوید کو اپنے کمپیوٹر کے مانیٹر پر دِکھائی دیتا تھا، مائیک کے ذریعہ اُس کی آواز جاوید کے ہیڈ فون تک پہونچتی تھی اور اس کے ہیڈ فون سے جاوید کی آواز اُس کے کانوں  میں  اترتی ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ پلنگ پر لیٹے ایک دُوسرے سے باتیں  کر رہے ہیں۔

فرقت کا احساس جو برسوں  تک کچوکے دیتا تھا یک بہ یک ختم سا ہو جاتا تھا۔

زمانہ کس تیزی سے بدلا اور حالات بھی کتنے بدل گئے۔ سوچیں  تو حیرت ہوتی ہے۔

جاوید دس سالوں  سے گلف میں  ہے۔

دو سال میں  ایک بار دو مہینے کے لئے آتا ہے اور اس کے بعد پھر پورے دو سالوں  کی جدائی۔

شادی ہونے کے بعد دونوں  کو ساتھ ساتھ رہنے کا زیادہ موقع نہیں  مل سکا تھا۔ جب اُس کا جاوید کے ساتھ رشتہ طے ہوا تھا اس وقت اس نے جاوید کو دیکھا بھی نہیں  تھا۔ جاوید اس وقت گلف میں  تھا، دو مہینے کے لئے وطن واپس آنے والا تھا۔ اُس کے ماں  باپ جاوید کے لئے کسی اچھی لڑکی کی تلاش میں  تھے۔ جاوید کے آتے ہی آٹھ دس دِنوں  میں  اُس کی شادی کرنی تھی۔

شادی کے بعد چھٹیوں  میں  وہ دو ماہ وطن میں  رہ کر واپس گلف جانا چاہتا تھا۔

کسی نے اُنھیں  اس بارے میں  بتایا کہ وہ اس کے گھر رشتہ لے کر آئے۔ اس کے امی ابا کو بھی اس کے لئے جاوید سے مناسب کوئی اور لڑکا نظر نہیں  آیا۔

اِس لئے فوراً رشتہ طے ہو گیا۔

نہ تو اس نے جاوید کو دیکھا اور نہ جاوید نے اس کو۔

اس نے صرف جاوید کی تصویر دیکھی تھی اور جاوید نے بھی صرف اس کی تصویر دیکھی تھی۔

چھٹیوں  میں  جاوید آیا اور آٹھ دِن بعد ان کی شادی ہو گئی۔

شادی سے پہلے جاوید کے بارے میں  کئی وسوسے اس کے ذہن میں  تھے۔

اس نے نہ تو جاوید کے بارے میں  کسی سے سنا تھا نہ کبھی دیکھا تھا۔ پتا نہیں  کس طرح کے مزاج کا ہو گا، اسے پسند کرے گا بھی یا نہیں  ؟ ماں  باپ نے تو زندگی بھر کا رشتہ باندھ دیا لیکن یہ رشتہ نبھ پائے گا یا نہیں  ؟ یہ طے ہوا ہے کہ جب تک جاوید پوری طرح سیٹل نہیں  ہو جاتا گلف میں  نوکری کرتا رہے گا۔ دوسال بعد دو مہینے کے لئے آتا رہے گا۔

تو اس کا مطلب ہے اس کا شوہر اسے دوسالوں  میں  صرف دو ماہ کے لئے ملے گا۔ باقی کے ۲۲  مہینے اسے اکیلے رہنا پڑے گا، کیا وہ اکیلی رہ پائے گی ؟

اکیلی رہنے کی کوئی بات نہیں  تھی۔ اس کی سہیلیاں  اسے سمجھاتی تھیں۔ تو ۲۲ مہینے سمجھ لے کہ تیری شادی ہی نہیں  ہوئی ہے، وقت اسی طرح گزرے گا جس طرح فی الحال گزر رہا ہے۔

لیکن وہ ذہنی طور پر اس کے لئے بھی تیّار نہیں  تھی۔ اس وقت وہ نئے لوگ نئے رشتے۔ کیا وہ وہاں  رہ پائے گی ؟

لیکن شادی کے کچھ دِنوں  بعد ہی اس کے سارے خدشات اور وسوسے بے بنیاد ثابت ہوئے

اس نے جاوید میں  ایسا کچھ بھی نہیں  پایا جن خدشات کے بارے میں  وہ سوچتی رہی تھی اور سسرال میں  تو اُسے اپنے گھر سے اچھا ماحول ملا۔ وہاں  اسے اپنے گھر سے زیادہ آزادی محسوس ہوئی۔

شادی کے بعد وہ ایک ماہ تک ہنی مون کے سلسلے میں  سارے ہندوستان کی سیر کرتے رہے۔ ۱۵  دِنوں  تک رشتہ داروں  کی دعوتیں  اُڑاتے رہے اور ۱۵  دِنوں  تک گھر میں  رہے۔

دو ماہ بعد جاوید واپس چلا گیا۔

جاوید کے جانے کے بعد اُسے محسوس ہونے لگا جیسے اُسے کسی محل سے نکال کر قید خانے میں  قید کر دیا گیا ہے۔

وہی گھر تھا جہاں  وہ رہتی تھی، وہی لوگ تھے جن کے درمیان وہ رہتی تھی۔لیکن ایک جاوید کے نہ ہونے کی وجہ سے اس ماحول میں کتنی زبردست تبدیلی آ گئی تھی۔

اُسے لگتا تھا اس کی زندگی کا بہت کچھ اس سے چھین لیا گیا ہے۔ دو مہینے میں  اسے لگتا تھا جسے اسے ساری دُنیا کی خوشیاں  مل گئی ہیں۔ لیکن دو ماہ بعد اس سے جیسے اس کی ایک ایک خوشی چھینی جا رہی ہے۔ گھنٹوں  وہ تنہائی میں  بیٹھ کر اِن باتوں  کے بارے میں  سوچ سوچ کر آنسو بہاتی رہتی تھی۔

اس کی سہیلیاں  آ کر اسے سمجھاتی تھیں  لیکن پھر بھی اس کا دِل بہل نہیں  پاتا تھا۔

گلف جانے کے ۱۰  دِنوں  بعد جاوید کا خط آیا۔

خط اِتنا جذباتی تھا کہ اسے پڑھ کر اُس کا دِل بھر آیا اور ایک نیا احساس اسے کچھ کہنے لگا کہ جو حالت اُس کی ہے، جاوید کی بھی وہی حالت ہے۔ جواب میں  اُس نے بھی جاوید کو خط لکھا وہ جاوید کے خط سے بھی زیادہ جذباتی تھا۔

کیونکہ اُس کے جواب میں  جاوید نے بھی اِسی طرح کا جذباتی خط لکھا تھا۔

دو سالوں  تک خطوط کا سلسلہ چلتا رہا۔

اِس دوران وہ ایک بچے کی ماں  بن گئی۔ اعراف کے آ جانے سے اس کی تنہائی کچھ کم ہوئی تھی۔ کیونکہ سارا وقت اس کی دیکھ بھال میں  گزرتا تھا۔ لیکن رات میں  جاوید کی یاد نہ آئے ایسا ہو نہیں  سکتا تھا۔ رات بھر وہ بستر پر کروٹیں  بدلتی تھی۔ اُسے پتا تھا ہزاروں  میل دُور جاوید بھی اِسی طرح کروٹیں  بدلتا ہے کیونکہ اس کے خطوط سے یہ صاف پتا چلتا ہے۔

دونوں  کے درمیان ہزاروں  میل کے فاصلے ہیں۔

دو مہینے کے لئے جاوید چھٹیوں  میں  واپس وطن آیا تو وہ فاصلے پھر سمٹ کر قربتوں  میں  تبدیل ہو گئے۔

لیکن وہ قربتیں  صرف دو مہینے کی تھیں۔

اور پھر درمیان میں  ۲۲ مہینوں  کے فاصلے حائل ہو گئے۔

دونوں  کے درمیان خط و کتابت ہی ایک دُوسرے کا حال احوال جاننے کا واحد ذریعہ تھا۔

۱۰ ، ۱۵  دِنوں  میں  جاوید کا خط آتا تھا۔ جواب لکھنے کے بعد جاوید کے جواب کا انتظار رہتا تھا

روزانہ نگاہیں  گلی میں  ڈاک تقسیم کرتے پوسٹ مین پر لگی رہتی تھی۔ اُس کو دیکھتے ہی دِل دھڑک اُٹھتا تھا اور دِل میں  اُس کی ایک لہر دوڑ اُٹھتی تھی۔ شاید وہ جاوید کا کوئی پیغام لے آئے۔ لیکن وہ روزانہ پیغام لانے سے تو رہا۔ جاوید کے خطوط تو ۱۰ ، ۱۵ دِنوں  میں  ہی آتے تھے۔

جاوید کے آنے کی تاریخ کا پتا چلتے ہی دِل کی حالت عجیب پاگلوں  سی ہو جاتی تھی۔

ایک ایک لمحہ انتظار اور منصوبہ بندی میں  گزرتا تھا۔

مہینے دو مہینے کا ایک ایک لمحہ کا پورا شیڈول تیّار کر لیا جائے کہ کب کیا کرنا ہے تاکہ کوئی لمحہ ضائع نہ ہو اور کام ادھورا نہ رہ جائے۔

دو مہینہ کے لئے جاوید آتا تو یہ بات ضرور زیر بحث آتی کہ وہ واپس نہ جائے۔

لیکن جاوید کا جواب ہوتا۔

"ثوبی میں  خود واپس جانا نہیں  چاہتا ہوں۔ لیکن یہاں  رہ کر کیا کروں  گا؟ مجھے یہاں  ہزار دو ہزار روپیہ کی نوکری ملنی مشکل ہے یا کسی کام سے بھی اتنی آمدنی مشکل ہے، اس میں  تو زندگی گزر نہیں  سکتی۔ میں  چاہتا ہوں  کہ وہاں  کام کر کے اتنا پیسہ جمع کر لوں  کہ پھر ہم ساری زندگی آرام سے اس کے سہارے گزار دیں  پھر ہمیں  کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو۔"

وہ کہتی، وہ جتنا لا کر دے گا اُسی میں  گزارا کر لے گی لیکن واپس نہ جائے۔ تو اُسے سمجھاتا کہ اس طرح زندگی نہیں  گزر سکتی۔ ان کے سامنے پوری زندگی ہے، اپنے بچوں  کا مستقبل ہے۔

اسے ہتھیار ڈالنے پڑتے اور جاوید واپس چلا جاتا۔

پھر وہی فاصلے، وہی خطوط کے ذریعہ فاصلوں  کو کم کرنے کی ناکام سعی۔

کچھ دِنوں  بعد پڑوس میں  فون آگیا تھا تو یہ آسانی ہو گئی تھی کہ جاوید دو تین مہینے میں  ایک آدھ بار فون کر لیتا تھا۔ یا وہی کبھی کبھی جاوید سے فون پر بات کر لیتی تھی۔

لیکن فون کا بل اتنا آتا تھا۔ زیادہ دیر اور بار بار باتیں  کرنا ممکن نہیں  تھا۔

لیکن اس وجہ سے یہ آسانی تو ہو گئی تھی کہ کم سے کم اُنھیں  ایک دُوسرے کی شناسا آواز تو سنائی دیتی تھی۔

اس کے بعد جاوید آ کر گیا تو سفینہ آ گئی۔

اب اسے دو دو بچوں  پر دھیان دینا پڑتا تھا۔ اس لئے جاوید کی یادوں  کے لئے وقت کم ملتا تھا۔

اس دوران اُنھوں  نے اپنے گھر میں  فون لگا لیا۔

اب جاوید کے فون کے لئے اُسے پڑوسی کے گھر جانا نہیں  پڑتا تھا۔ گھر میں  ہی اطمینان سے بیٹھ کر جاوید سے باتیں  کر لیتی تھی۔ یا اگر دِل میں  آتا اور اسے محسوس ہوتا تو جاوید اس وقت مل سکتا ہے تو جاوید کو خود ہی فون کر لیتی۔ اب خطوط کا تبادلہ کچھ کم ہو گیا تھا۔

کبھی کبھار وہ ایک دُوسرے کو خط لکھتے تھے۔ ایسی باتیں  جو ٹیلی فون پر نہیں  ہو پاتی یا پھر ٹیلی فون بند ہونے کی وجہ سے رابطہ نہیں  ہوسکا تو خطوط کے ذریعہ آدھی ملاقات کی پرانی رسم نبھائی جاتی۔

اب کی بار جاوید آ کر گیا تو ملاقات کا ایک اور ذریعہ وجود میں  آگیا تھا۔

وہ اسے ایک سائبر کیفے لے گیا اور اسے ای میل کرنا اور چیٹنگ کرنا سکھا گیا۔

اب ان کی باتیں  فون کے ساتھ ساتھ ای میل پر بھی ہونے لگی۔ جاوید بچوں  کی تصویریں  مانگتا تو وہ تصویر کو اسکین کر کے ای میل سے اسے بھیج دیتی۔ جاوید اپنی تازہ تصویریں  ای میل سے اسے روانہ کر دیتا تھا۔

کبھی جاوید ای میل سے اطلاع دے دیتا کہ وہ کس وقت چیٹنگ کی ویب سائٹ پر آن لائن ہو گا۔

اس وقت کسی سائبر کیفے میں  جا کر وہ سائٹ کھولتی، جاوید آن لائن ہوتا تو پھر گفتگو شروع ہو جاتی۔ اور اس گفتگو میں  گھنٹوں  گزر جاتے۔

وہ ای میل چیک کرنے کے لئے اور جاوید سے چیٹنگ کرنے کے لئے ہفتے میں  دو تین بار سائبر کیفے میں  جاتی تھی۔ اب ٹیلی فون کا اتنا استعمال نہیں  ہوتا تھا۔ کیونکہ انٹرنیٹ سب سے آسان اور سستا ذریعہ تھا۔

اس بار جاوید واپس گلف گیا تو اسے کمپیوٹر کا تحفہ دے گیا۔ کمپیوٹر تمام جدید آلات اور سہولیات سے لیس تھا۔ اب اسے چیٹنگ میں  کی بورڈ سے ٹائپ نہیں  کرنا پڑتا تھا۔ مونیٹر پر لگے کیمرے سے اس کی تصویر جاوید کو دِکھائی دیتی تھی۔ جاوید کی تصویر اُس کے مونیٹر پر اُبھرتی تھی۔ مائیک کے ذریعہ اُس کی آواز جاوید کے کانوں  تک پہونچتی تھی اور جاوید کی آواز اُس کے کانوں  تک۔

جب وہ آن لائن ہوتے تو ایسا محسوس ہوتا۔ سارے فاصلے سمٹ گئے ہیں  یا فاصلے سمٹ کر قربتوں  میں  تبدیل ہو گئے ہیں۔

روزانہ کا ایک معمول بن گیا ہے۔

روزانہ وہ ایک دو گھنٹہ انٹرنیٹ کے ذریعہ ملاقات کر لیتے ہیں۔ اس طرح اُنھیں  احساس ہی نہیں  ہوتا تھا کہ وہ ایک دُوسرے سے ہزاروں  میل دور ہیں  اور کئی سالوں  سے نہیں  ملے ہیں۔ اسے پتا ہوتا جاوید نے آج کون سا کپڑا پہنا ہے۔، آج کیا کھایا ہے۔ تو جاوید کو علم ہوتا تھا کہ آج گھر میں  کیا پکا ہے، بچے کب اسکول گئے اور اُنھوں  نے آج کیا کیا شرارتیں  کیں۔

اس دِن بھی معمول کے مطابق گفتگو ہوتی رہی۔

باتوں  میں  جاوید نے کہا۔

"میری چھٹیوں  کے دِن نزدیک آ رہے ہیں۔ کمپنی والے کہتے ہیں  اگر اِس بار میں  نے چھٹیاں  نہیں  لی تو کام کی دوگنا تنخواہ دیں  گے۔ دوگنا تنخواہ اور آنے جانے کا خرچ بھی بچے گا۔ لاکھوں  کی بچت ہوسکتی ہے ...... کہو کیا ارادہ ہے ؟"

"اگر لاکھوں  کی بچت ہوسکتی ہے تو آپ اِس بار مت آئیے۔ " اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا، ویسے بھی یہاں  اب کچھ نہیں  جو آپ یہاں  آ کر جاننا اور دیکھنا چاہتے ہیں۔ روزانہ ایک دُوسرے کے حالات کا پتہ تو چل ہی جاتا ہے۔"

"ہاں ، میں  بھی سوچتا ہوں  اِس بار وطن نہیں  آؤں۔ " جاوید نے جواب دیا۔ کمپیوٹر بند کر کے جب اُس نے اپنے جواب پر غور کیا تو سوچ میں  پڑ گئی۔

کہاں  وہ جاوید کے آنے کے لئے ایک ایک لمحہ گنتی تھی۔ کہ کب یہ فاصلے سمٹے۔

اور آج خود کہہ رہی ہے آنے کی ضرورت نہیں  ہے۔

کیونکہ....

فاصلے قُربتیں  بن گئے ہیں۔، قُربتوں  میں  بھی فاصلوں  کا احساس جاتا رہا ہے۔