کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دھرنا

ایم مبین


سب سے پہلے سیکریٹری نے انھیں  اس بات سے مطلع کیا تھا۔

"آپ نے آج کا اخبار پڑھا ؟ " فون پر اُس نے پوچھا۔

"آپ کے فون کی آواز سے جاگا ہوں۔ تو بھلا اخبار کس طرح پڑھ سکتا ہوں۔ کہیئے، کوئی خاص بات، خاص خبر ؟"

"ہاں  ! سرکار نے ان اسکولوں  کی فہرست جاری کی ہے جن کو سرکار نے منظوری نہیں  دی ہے۔ اِس فہرست میں  ہماری اسکول کا بھی نام ہے۔ " دُوسری طرف سے آواز آئی۔

"کیا، کیا کہہ رہے ہیں  آپ ...... سرکار نے ہمارے اسکول کو منظوری نہیں  دی ..... تو کیا ہماری اتنی بھاگ دوڑ، خط و کتابت، وزیروں ، آفیسروں  سے ملنا جلنا، اُن کی خاطر مدارات سب بے کار گیا ؟"

"سب بے کار گیا، صدر صاحب ..... ! مجھے پہلے ہی سے ڈر تھا کہ ایسا ہی ہو گا اور ایسا ہی ہوا ہے ...... ہمیں  پہلے ہی اطلاع مل گئی تھی۔ اِس سال بھی سرکار نے ہماری اسکول کو منظوری نہیں  دی ہے ...... اور اب تو ساری دُنیا کو معلوم ہو جائے گا صدر صاحب ! طوفان........

"ہاں  سیکریٹری صاحب ! " وہ تشویش بھرے لہجے میں  بولے۔ " اِس طوفان کی آمد کو میں  بھی محسوس کر رہا ہوں۔"

اور اِس کے بعد تو اور بھی کئی طوفان آئے۔

لوگوں  کو جواب دیتے دیتے اُن کا سر چکرانے لگا.....

وہ تو اِس بات سے ہی فکر مند تھے کہ لوگوں  کو فون پر سمجھانا مشکل ہو رہا ہے۔جب وہی لوگ اُن کے سامنے ہوں  گے تو وہ کس طرح اُن کو سمجھا پائیں  گے ؟

"گپتا جی نے جو اسکول کھولی ہے اُسے تو ابھی تک سرکار کی منظوری بھی نہیں  ملی ہے۔ اِس اسکول میں  ہمارے بچے پڑھ رہے ہیں۔ یہ تو اُن کی زندگی کے ساتھ بہت بڑا کھلواڑ ہے۔"

"گپتا جی ! آپ نے تو میرے بچے کو کہیں  کا نہیں  رکھا۔ آپ کی اسکول کو ابھی تک منظوری نہیں  ملی ہے، اِس کا مطلب آپ کی اسکول سے نکلنے کے بعد میرے بچے کو کسی بھی اسکول میں  داخلہ نہیں  ملے گا...

"گپتا جی ! اسکول کھولنے کے نام پر آپ نے جنتا سے لاکھوں  روپے جمع کئے ہیں۔ پیسہ تو آپ نے جمع کر لیا لیکن اسکول کو منظوری نہیں  دِلائی۔"

وہ ساری باتیں  سننے کے بعد ایک ہی جواب دیتے۔

"آپ کو فکر مند ہونے اور جوش، غصے میں  آنے کی کوئی ضرورت نہیں  ہے۔ یہ سب سرکاری داؤ پیچ اور ہتھکنڈے ہیں۔ ایک ماہ کے اندر ہماری اسکول کو منظوری مل جائے گی۔"

اُنھوں  نے بڑے اعتماد سے ہر کسی کو جواب دیا اور طے کیا کہ ہر کسی کو یہی جواب دیں  گے۔ لیکن وہ اپنے اعتماد کے کھوکھلے پن کے بارے میں  سوچ سوچ کر خود ہی کانپ اُٹھتے تھے۔

"دو سال سے منظوری حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاچکی ہے۔ کاغذی کاروائی اور خط و کتابت سے فائلوں  کا ڈھیر تیّار ہو گیا ہے۔ محکمہ تعلیم سے وِزارتِ تعلیم، وِزارتِ تعلیم سے سیکریٹریٹ، سیکریٹریٹ سے وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے چکّر لگاتے لگاتے اُن کے ساتھ ساتھ سیکریٹری، اسکول کے کچھ ممبران، ہیڈ ماسٹر، کلرک، ٹیچرس کی چپلیں  گھس گئی ہیں۔

لیکن پھر بھی منظوری نہیں  مل سکی۔

فوراً منظوری حاصل کرنے کا راستہ بھی بتایا گیا تھا۔ کچھ لے دے کر کام کر لیا جائے۔ لیکن مانگ اتنی بڑی تھی کہ اُن کے ساتھ ساتھ پورے بورڈ کو سوچنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔

بات یہ بھی نہیں  تھی کہ جو مانگ تھی وہ پوری نہیں  کی جاسکتی تھی۔ مانگ کی رم کا انتظام ہوسکتا تھا۔ مانگ سے کئی گنا زیادہ رقم اُن کے پاس موجود تھی۔

لیکن وہ اپنے اُصول پر اُڑ گئے۔

"ہم لوگوں  سے لیتے ہیں  ..... ہم بھلا دُوسرں  کو کیوں  دیں۔ اور پھر ہم جو کچھ کر رہے ہیں  اِس میں  ہمارا ذاتی مفاد تو کچھ بھی نہیں  ہے۔ ہم یہ عوام کی خدمت کے لئے کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں  کہ ہماری اسکول سے جو بچے تعلیم حاصل کریں  وہ اتنے قابل ہوں  جو دُنیا کے ہر مقابلے میں  اپنی قابلیت اور لیاقت کی بُنیاد پر کامیاب ہو کر ہمارا، ہماری اسکول کا نام روشن کریں۔ اِس لئے ہم نے تعلیم کے معیار پر بہت زیادہ توجہ دی ہے۔"

اور یہ بات تو عوام سے بھی منوا لی تھی کہ اُن کی اسکول کا تعلیمی معیار دُوسری اسکولوں  کے معیار سے بہت اونچا ہے۔ ٹیچر بہت محنت کرتے ہیں۔

اِسی لئے تو ان کی اسکول میں  داخلہ لینے کے لئے بچوں  کے والدین کی قطاریں  لگ گئی تھیں  اور وہ اپنی قطاروں  کا فائدہ اُٹھاتے تھے۔

دیکھئے آپ اچھی طرح جانتے ہیں ، ہماری اسکول کا تعلیمی معیار کتنا اونچا ہے۔ لیکن کیا کریں ، ہماری اسکول کو کوئی سرکاری گرانٹ تو ملتی نہیں۔ آپ سے ڈونیشن، فیس اور عوام سے اسکول چلانے کے لئے جو چندہ ملتا ہے اُسی سے یہ اسکول چلتی ہے۔ اِس لئے آپ لوگ ہماری مجبوریوں  کو سمجھیں۔ ہم ڈونیشن کے نام پر آپ سے جو مانگ رہے ہیں  وہ مانگ ہماری مجبوری ہے۔ ہم آپ لوگوں  کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہیں  اُٹھا رہے ہیں۔ اِس لئے آپ ہماری مجبوریوں  کو سمجھتے ہوئے اور اپنے بچوں  کے تابناک مستقبل کے لئے زیادہ سے زیادہ رقم دیں ، تاکہ اسکول چلانے میں  ہمیں کوئی دِقّت نہ ہو اور ہم آپ کے بچوں  کا مستقبل بنا سکیں۔"

اپنی مجبوریاں  بتا کر اور لوگوں  کو اُن کے بچوں  کے سنہرے مستقبل کا خواب دِکھا کر اُنھوں  نے بچوں  کے داخلوں  کے نام پر اونچی ڈونیشن وصول کی تھی۔

اس کا کہیں  کوئی حساب کتاب نہیں  تھا۔ وہ لاکھوں  روپے اُن کی تجوری میں  جمع تھے اور اُن کے بزنس میں  لگے ہوئے تھے۔

اسکول کھولنے کے نام پر بھی اُنھوں  نے عوام سے لاکھوں  روپے جمع کئے تھے، جن سے اُن کا کاروبار بڑھا تھا۔ اِس کے علاوہ بھی وہ آئے دِن اسکول چلانے کے نام پر امیروں  سے عطیات وصول کرتے رہتے تھے۔

اِس طرح کتنا روپیہ جمع ہوا اور اسکول کے قیام، چلانے پر کتنا روپیہ خرچ ہو گیا، کتنا روپیہ باقی ہے، باقی بھی ہے یا نہیں  ؟ اِس بارے میں  تو اسکول کے انتظامیہ کے اراکین کو بھی علم نہیں  تھا۔

سیکریٹری کو کچھ کچھ معلوم تھا۔ لیکن وہ تو اُن کا اپنا آدمی تھا۔

تمام ممبران صرف یہ جانتے تھے کہ اسکول کے لئے جگہ خریدی گئی ...... اس جگہ عمارت تعمیر کر کے اسکول قائم کی گئی ...... اسکول شروع ہوئی ..... اسکول چلانے کے لئے ٹیچر اور ضروری عملہ متعین کیا گیا۔ اسکول اور ٹیچر کی تنخواہ کا خرچہ دِن بہ دِن بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ تمام اخراجات وہی ادا کرتے ہیں۔ اب اتنے پیشے تو جمع ہونے سے رہے۔ ضرور گپتا جی اپنی جیب سے بھی پیسہ لگائے ہوں  گے، بڑے آدمی ہیں۔ بھگوان نے دَھن کے ساتھ ساتھ بڑا دِل بھی دیا ہے۔ اِسی لئے تو اسکول میں  دِل کھول کر پیسہ لگاتے ہیں۔ ہمیں  اسکول کا ممبر بنا لیا، یہی اُن کا بڑا پن ہے۔ اِس ممبر شپ کے بدلے میں  وہ ایک پیسہ بھی تو نہیں  مانگتے ہیں  نہ پہلے کبھی لیا۔ لوگ ایسے عہدوں  کو پانے کے لئے لاکھوں  روپے خرچ کرتے ہیں ، پھر بھی اُنھیں  اِس طرح کے عہدے مل نہیں  سکتے۔ لیکن گپتا جی نے ہمیں  یہ عہدہ مفت میں  دیا ہے، یہ اُن کا بڑا پن ہے۔ ممبران اب تک اُن کے بارے میں  شاید یہی سوچتے تھے۔ لیکن جب اُنھیں  پتہ چلے گا کہ ابھی تک اسکول کو منظوری بھی نہیں  ملی ہے۔ تو اب وہ ضرور پوچھیں  گے۔

"گپتا جی ! ہماری اسکول او ابھی تک منظوری کیوں  نہیں  مل پائی ؟"

"اُنھیں  سمجھانا کون سی بڑی بات ہے۔ " اُنھوں  نے اپنا سر جھٹک دیا اور بڑبڑائے۔ " کہہ دوں  گا وزیر منظوری دینے کے دس لاکھ روپے مانگ رہا ہے۔ اسکول کے اراکین کے ناطے آپ لوگ ایک ایک لاکھ روپے دیں۔ اسکول کو منظوری مل جائے گی۔ یہ سنتے ہی سب کی سٹی گُم ہو جائے گی۔ میں  نے اراکین میں  ایسے ایسے کنجوس جمع کئے ہیں  جو سگریٹ کے لئے بھی ایک روپیہ خرچ کرنے سے پہلے دس بار سوچتے ہیں۔ اُنھیں  ایک لاکھ روپے چندہ دینے کے نام پر سانپ سونگھ جائے گا۔ اِس کے بعد اُن سے صاف کہہ دوں  گا، آپ لوگ اتنا نہیں  کر سکتے اور پھر بھی اسکول کے ممبر بنے رہنا چاہتے ہیں  تو اسکول میں  کیا ہو رہا ہے ؟ اِس پر دھیان نہ دیں۔ میں  سب سنبھال لوں  گا......

اِس کے بعد سب کی بولتی بند ہو جائے گی۔"

وہ اسکول گئے تو اسکول میں  بچوں  کے گھر والوں  کا تانتا لگ گیا۔

"آپ کے اسکول کو ابھی تک منظوری نہیں  مل سکی۔ اِس طرح تو آپ کے اسکول میں  پڑھ کر ہمارے بچوں  کی زندگی برباد ہو جائے گی۔ وہ کہیں  کے نہیں  رہیں  گے۔ آپ اِسی طرح ہمارے بچوں  کی زندگیوں  سے تو نہ کھیلئے..... "

اُن کا ایک ہی جواب ہوتا۔

"آپ بے فکر رہیئے، ہماری اسکول کو ایک ماہ کے اندر منظوری مل جائے گی۔"

بچوں  کے ماں ، باپ سے نجات ملی تو ہیڈ ماسٹر اور ٹیچرس نے اُنھیں  گھیر لیا۔

"سر ! ہم ایک اُمید پر کم تنخواہ میں  بھی سخت محنت کر کے بچوں  کو پڑھا رہے ہیں  کہ گرانٹ ملنے کے بعد ہمیں  اچھی تنخواہ ملے گی، لیکن اسکول کو ابھی تک منظوری ہی نہیں  ملی ہے تو گرانٹ کس طرح ملے گی ؟

"سب ٹھیک ہو جائے گا، آپ لوگ اپنی اپنی کلاس میں  جائیے۔"

سب چپ چاپ اپنی اپنی کلاسوں  میں  چلے گئے۔

اُن کے جانے کے بعد اُنھوں  نے سیکریٹری، کلرک اور ہیڈ ماسٹر کا حکم دیا۔

"بی، ڈی، او، زیڈ، پی، ایجوکیشن چیئرمین، محکمہ تعلیم، وِزارتِ تعلیم اور وزیرِ تعلیم سب جگہ ایک خط بھیج دو۔ اگر ایک ماہ کے اندر ہماری اسکول کو منظوری نہیں  دی گئی تو اسکول کے انتظامیہ کے اراکین، ہیڈماسٹر، ٹیچر، کلرک اور چپراسی اسکول میں  پڑھنے والے سبھی بچے اور اُن کے والدین منترالیہ کے سامنے بھوک ہڑتال کریں  گے۔ اور منظوری ملنے تک دھرنا دیں  گے۔ اِس خط سے دیکھنا ہلچل مچ جائے گی اور ایک ماہ کے اندر منظوری کا خط ہمارے ہاتھوں  میں  ہو گا۔"

اُن کی بات سن کر ہر کسی کی آنکھوں  میں  اُمید کی ایک نئی کرن جگمگانے لگی۔

دھمکی بھی کارگر ثابت نہیں  ہوسکی۔ کچھ جگہوں  سے تو دھمکی کا کوئی جواب ہی نہیں  آیا اور کچھ جگہوں  سے ٹکا سا جواب آیا تھا۔

"ضابطوں  اور اُصولوں  کے مطابق آپ کی اسکول کو منظوری نہیں  دی جاسکتی ہے۔"

سب کی آنکھوں  کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔

"ٹھیک ہے۔ " پتہ نہیں  کیوں  پھر بھی اُن کی آنکھوں  میں  ایک خود اعتمادی تھی۔ ۲۰ ! تاریخ کو یہاں  سے منترالیہ تک ایک مورچے کا انتظام کیا جائے۔ ۲۰ !تاریخ کو تمام منجمینٹ کے اراکین، ہیڈ ماسٹر، ٹیچرس، اسٹاف، تمام بچے اور بچوں  کے ماں ، باپ اِس دھرنے میں  شامل ہونے چاہئیں۔ سب مل کر منترالیہ پر دھرنا دیں  گے اور اسکول کی منظوری نہ ملنے تک بھوک ہڑتال کریں  گے...... "

"جی ...... ! " سب نے ایک ساتھ جواب دیا۔

۲۰ ! تاریخ کو دو لاریوں  میں  ۲۲۰ سے زائد بچوں  کو ٹھونس ٹھونس کر بھرا گیا۔ جگہ اِتنی تنگ تھی کہ بچے نہ کھڑے ہوسکتے تھے نہ بیٹھ سکتے تھے۔ اُنھیں  سانس لینا مشکل ہو رہا تھا۔ لیکن وہ کوئی فریاد نہیں  کر سکتے تھے۔ فریاد سننے والا کوئی نہیں  تھا۔

ایک بڑی سی گاڑی میں  انتظامیہ کے اراکین تھے۔ دُوسری چھوٹی گاڑی میں  ہیڈ ماسٹر، ٹیچرس اور اسٹاف تھا۔

صرف چند بچوں  کے ماں ، باپ مورچے میں  شامل ہونے کو تیّار ہوئے تھے۔ اُنھیں  مورچے کے مقام پر پہنچنے کے لئے کہا گیا تھا۔ دو گھنٹے بعد گاڑیاں  آزاد میدان میں  جا کر رُکیں۔

بچے گاڑیوں  سے اُترے تو اُنھیں  ایسا محسوس ہوا جیسے اُنھیں  کسی جہنم سے نجات مل گئی ہے۔

سورج سر پر چڑھ آیا تھا اور آسمان آگ برسا رہا تھا۔

مورچے کی تیّاری کی جانے لگی۔ بچوں  کے ہاتھوں  میں  تختیاں  اور بینرس دے کر اُنھیں  نعرے یاد کرائے جانے لگے۔ اُنھیں  ضروری ہدایتیں  دی جانے لگیں۔

"سر! پانی، بہت لگی ہے۔ " کوئی بچہ ہونٹوں  پر زبان پھیر کر بولا تو اُس کی آواز میں  سیکڑوں  آوازیں  شامل ہو گئیں۔

"یہاں  پانی نہیں  ملے گا۔ ہم یہاں  بھوک ہڑتال کرنے آئے ہیں ، کھانے پینے نہیں۔ " ایک ٹیچر نے اُسے سمجھایا تو بچے اپنے پھٹے ہوئے ہونٹوں  پر زبان پھیرنے لگے۔

پیاس سے حلق میں  کانٹے پڑ رہے تھے۔ گلے سے آواز نہیں  نکل رہی تھی۔ اوپر سر پر سورج آگ برسا رہا تھا۔ لیکن پھر بھی وہ پوری قوت سے نعرے لگاتے لڑکھڑاتے قدموں  سے آگے بڑھ رہے تھے۔

"ہماری مانگیں  پوری کرو.... "

"ہماری اسکول کو منظوری دو..... "

"ہماری زندگیوں  سے مت کھیلو...... "

"وزیرِ تعلیم ! ہائے، ہائے..... "

"محکمۂ تعلیم ! ہائے، ہائے...... "

"وزیرِ اعلیٰ ! مُردہ باد...... "

ٹیچرس بچوں  پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

اُنھیں  زور زور سے نعرے لگانے کے لئے اُکساتے۔ کوئی بچہ نعرہ نہیں  لگاتا تو اُسے ٹوکتے۔ آپس میں  باتیں  کرنے والے بچوں  کو ڈانٹتے۔ کسی کسی پر ہاتھ بھی اُٹھا دیتے۔ بچوں  کو قطار میں  ٹریفک سے بچ کر چلنے کی ہدایتیں  دیتے۔

انتظامیہ کے اراکین ایک دُوسرے کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے چل رہے تھے۔کبھی کوئی ممبر سب کے لئے آئس کریم یا کولڈ ڈرنک لے آیا تو کوئی سافٹ ڈرنک کی بوتلیں  یا پھر کھانے پینے کی کوئی چیز۔ ان سب کا لُطف اُٹھاتے وہ مورچے کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔

دو گھنٹے بعد مورچہ منترالیہ پہنچ گیا۔ منترالیہ سے پہلے ہی بڑے سے میدان میں  پولس نے اُنھیں  روک لیا۔

سب میدان میں  دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔

آگے آگے گپتا جی، سیکریٹری اور انتظامیہ کے اراکین تھے۔ اُن کے پیچھے ہیڈ ماسٹر، ٹیچر، دیگر اسٹاف اور اُن کے پیچھے بچے۔

سب زور زور سے نعرے لگا رہے تھے۔

سب کو سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ وہ اتنی زور سے چیخیں  کہ منترالیہ کی چھتیں  ہل جائیں۔

لیکن دس کروڑ عوام کی چیخوں  سے جن کا کچھ نہیں  بگڑتا تھا، سو دو سو بچوں  کے نعرے بھلا اُن کا کیا بگاڑ سکتے تھے۔

کسی وزیر کی گاڑی آتی تو " زندہ باد، مردہ باد " کے نعرے اور زور زور سے لگائے جاتے۔

بھوک پیاس سے بچوں  کا برا حال تھا اوپر سے تپتی دھوپ جس زمین پر وہ بیٹھے تھے وہ بھی تندور کی طرح تپ رہی تھی۔ بچوں  کی آنکھوں  کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا۔ اچانک ایک بچہ چکرا کر گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ سب اُس کی طرف دوڑے۔ اُسے ہوش میں  لانے کی کوشش کی جانے لگی۔ لیکن بچہ آنکھ نہیں  کھول رہ تھا۔

قریب کھڑے ڈاکٹر نے بچے کو چیک کیا اور متفکر آواز میں  بولا۔

"اِس بچے کی حالت بہت نازک ہے۔ اِس کا بلڈ پریشر لو ہو رہا ہے۔ اِسے فوراً اسپتال پہنچانا بہت بہت ضروری ہے۔"

"نہیں  ! " گپتا جی ڈٹ گئے۔ " چاہے بچے کی جان چلی جائے۔ بچہ دھرنے سے نہیں  ہٹے گا۔ جب تک ہماری مانگ پوری نہیں  ہوتی، کوئی بھی بچہ یہاں  سے نہیں  ہلے گا۔"

اِس درمیان دو اور بچے چکرا کر گر گئے تھے۔

کئی بچوں  نے بھوک اور کمزوری سے اپنی گردنیں  اپنے ساتھیوں  کے کاندھوں  پر ڈال دی تھیں ، کچھ کمزوری کی وجہ سے زمین پر لیٹ گئے تھے۔ ڈاکٹر اور وہاں  پہرہ دینے والے پولس والوں  کے چہروں  پر ہوائیاں  اُڑ رہی تھیں۔

گپتا جی اور اُن کے ساتھیوں  پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی۔

خبریں  منترالیہ میں  پہونچیں اور وہی ہوا جو ایسے موقعوں  پر ہوتا ہے۔ منترالیہ ہلنے لگا۔

"ایک آدھ بچہ مر گیا تو اپوزیشن اور پریس سارا آسمان سر پر اُٹھا لیں  گے اور ہماری حکومت کے دُشمن ہو جائیں  گے۔ اُن سے کہہ دو کہ وہ دھرنا ختم کر کے واپس اپنے شہر چلے جائیں۔ اُن کی اسکول کی منظوری کے بارے میں  سنجیدگی سے غور کیا جائے گا۔"

ایک سیکریٹری بولا۔

"سر وہ منظوری سے کم کسی بھی وعدے پر بات کرنے کو تیّار نہیں  ہے۔ صفا کہتے ہیں  کہ اُن کی اسکول کو منظوری دی جائے گی تب ہی وہ دھرنے سے ہٹیں  گے۔"

اِس درمیان چار اور بچوں  کے بے ہوش ہونے کی خبر اوپر پہونچی۔ وزیرِ تعلیم کے سارے سیکریٹری گھبرا گئے۔ وزیرِ اعلیٰ کے سیکریٹری کے بھی کان کھڑے ہو گئے۔

بات وزیرِ اعلیٰ تک پہونچ گئی تھی۔ وہ غصے سے بولا

"تماشہ بنا کر بات مت بڑھاؤ۔ وزیرِ تعلیم سے فوراً کہو کہ میرا حکم ہے۔ اُن کی اسکول کو فوراً منظوری دے دو۔"

نیچے آ کر گپتا جی کو یہ خبر دی گئی۔

"وزیرِ تعلیم نے آپ کی اسکول کو منظوری دے دی ہے اور وہ آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔"

گپتاجی کا چہرہ گلاب کی طرح کھل اُٹھا۔

"میرے پیارے ساتھیوں  اور بچوں  ! ہمارا دھرنا کامیاب رہا۔ جس کام کے لئے ہم نے دھرنا دیا تھا، مورچہ نکالا تھا وہ کام ہو گیا ہے۔ وزیرِ تعلیم نے ہماری اسکول کو منظوری دے دی ہے۔ اِس دھرنے میں  ہمیں  جو تکلیفیں  اُٹھانی پڑیں ، وہ رنگ لائی ہیں۔ کچھ پانے کے لئے کچھ کھونا پڑتا ہے، کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے جو لڑائیاں  لڑی جاتی ہیں  اُن میں  مشکلات اور تکلیفیں  تو اُٹھانی پڑتی ہیں ، لیکن آخر میں  جیت سچائی کی ہی ہوتی ہے۔ آپ لوگ دھرنا ختم کر کے شہر واپس چلے جائیں۔ میں  اور کمیٹی کے اراکین منتری جی سے بات کر کے آتے ہیں  ...... منتری جی نے ہمیں  چائے پر بلایا ہے۔