کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

نئی صدی کا عذاب

ایم مبین


ٹینک شہر کی سڑکوں  پر گولے برساتے آگے بڑھ ر ہے تھے،

لوگ بے تحاشہ خود کو ٹینک کے گولوں  سے بچانے کے لئے اِدھر، اُدھر بھاگ رہے تھے۔ گولے کبھی کسی بلڈنگ کی دیوار سے ٹکرا کر پھٹتے اور آگ کا ایک شعلہ سا بلند ہوتا، اِس کے بعد پھر دھُواں۔ دھیرے دھیرے جب دھُواں  صاف ہوتا تو بلڈنگ میں  پڑے شگاف صاف دِکھائی دیتے۔ کبھی کوئی خون میں  لت پت زخمی یا پھر کوئی لاش

کبھی ٹینک کے گولے سڑک پر گر کر سڑک پر گڑھے پیدا کر دیتے اور کبھی لوگوں  کو زخمی کر دیتے، کبھی ٹینک مکانوں  کی دیواروں  کو ڈھاتے، مکینوں  کی پرواہ کئے بِنا مکانوں  کو ملبے کا ڈھیر بناتے آگے بڑھ جاتے۔

کبھی آسمان پر کوئی ہوائی جہاز نمودار ہوتا اور اس بستی پر بم برساتا آگے بڑھ جاتا۔ بم بستی میں  گر تے دھماکے اور شعلے بلند ہوتے، دھُوئیں  کا ایک بادل پوری بستی کو اپنی لپیٹ میں  لے لیتا۔ جب دھُواں  چھٹتا تو ملبے کے ڈھیر میں  تبدیل مکانات دِکھائی دیتے اور ان ملبے کے ڈھیروں  پر ماتم کرتے مکین یا پھر کراہتے زخمی۔

کبھی آسمان میں  ہیلی کاپٹر نمودار ہوتے اور ان میں  سوار سپاہی ہیلی کاپٹر سے نیچے سڑکوں  اور گلیوں  میں  آتے جاتے لوگوں  پر اندھا دھُند گولیاں  برساتے۔ گولیوں  کی آوازیں  سُن کر لوگ اِدھر اُدھر بھاگتے، کچھ گولیاں  کھا کر گرتے اور زمین پر گر کر تڑپنے لگتے تو کچھ گر کر ٹھنڈے ہو جاتے۔

بندوق بردار سپاہی اندھا دھُند گولیاں  برساتے آگے بڑھتے بھیڑ کبھی خود کو گولیوں  سے بچاتی تو کبھی گولیاں  برسانے والوں  پر پتھراؤ کرتی۔

گولیوں  کا جواب پتھروں  سے دیا جاتا۔

ایک طرف لاشوں  کے ڈھیر لگتے تو دُوسری طرف کبھی کوئی وَردی والا معمولی طور پر زخمی ہوتا۔

"یہ ہے مقبوضہ فلسطین۔ آئے دِن ہم یہاں  سے آپ کے لئے اِسی طرح کی خبریں  لاتے ہیں  ...... "

ٹی وی کے اسکرین پر ایک چہرہ نمودار ہوا اور پھر اسکرین پر منظر تبدیل ہو گیا۔

دو فلک بوس عمارتیں۔آسمان کی بلندیوں  کو چھوتی ہُوئی سینہ تان کر کھڑی اِن اَمارت، شان و شوکت، عظمت اور قوت کا مظہر۔

اچانک ایک ہوائی جہاز اُڑتا ہُوا آیا اور اِس سے ٹکرا گیا۔

ایک پل میں  ہی وہ عمارت شعلوں  میں  گھر گئی۔ اب اِس عمارت سے صرف شعلے اور دھُواں  اُٹھ رہا تھا۔

اُسی وقت دُوسرا ہوائی جہاز آ کر دُوسری عمارت سے ٹکرایا اور وہ بھی شعلوں  میں  گھر گئی۔

شعلوں  میں  گھری اس عمارتوں  کی ایک ایک منزل ڈھہنے لگی، چاروں  طرف صرف شعلے اور دھُواں  تھا اور ان کے درمیان ڈھہتی اپنے وجود کھوتی دو بلند شگاف عمارتیں  ........

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"داڑھی والا....... "

"پکڑو ! اِسے بچ کر جانے نہ پائے۔"

"مارو اِسے مارو!..... یہ دہشت گرد ہے۔ اِس ساری تباہی کا ذمہ دار ہے۔"

ایک بھیڑ اس کے پیچھے لگی ہوئی تھی اور وہ جان بچانے کے لئے اپنے جسم کی ساری قوت یکجا کر کے بھاگ رہا تھا۔

لیکن اپنے آپ کو کب تک اس بھیڑ سے بچا پاتا ..... لوگ بھوکے کتوں  کی طرح اس پر ٹوٹ پڑے۔

کچھ لمحوں  بعد ہی سڑک پر اس کا بے جان جسم پڑا ہُوا تھا۔

اپنے ڈوبتے حواس کے ساتھ اس نے صرف ایک بار آخری لمحہ میں  سوچا۔

"جو کچھ میرے ساتھ ہُوا ہے، اس وقت دُنیا میں  سیکڑوں  ہزاروں  لوگوں  کے ساتھ ہو رہا ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اذان ابھی مکمل بھی نہیں  ہونے پائی تھی کہ پتھراؤ شروع ہو گیا۔ وہ مستقل بھیڑ تھی جو کبھی پتھر برساتی تو کبھی آگ کے گولے پھینکتی۔ کبھی گولیاں  داغی جاتی۔ ایک حصہ تو پوری قوت لگا کر توڑا جانے لگا تو دُوسرے حصّے سے آگ کی لپٹیں  اُٹھنے لگیں  ......

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اے یو مسٹر! ...... "

"کون؟ میں  ... ! "

"ہاں  تم ! طیّارے سے نیچے اُترو..... "

"مگر کیوں  ؟ مجھے تو پیرس جانا ہے.... "

"نہیں  ! حفاظتی اقدام کے تحت ہمیں  تمھیں  طیّارے سے نیچے اُتارنا پڑے گا۔ ہمیں  شک ہے کہ تم دہشت پسند ہو اور اس طیّارے کا اغوا کر کے کوئی بہت بڑا دہشت گردی کا کارنامہ انجام دینے والے ہو...... "

"اِس شک کی کوئی وجہ ..... ؟"

"تمہارا یہ عربی لباس اور تمہاری یہ داڑھی..... ! "

"کیا عربی لباس اور داڑھی دہشت گرد ہونے کی علامت ہے۔"

"ہم کو معلوم نہیں۔ ہمیں  ایسے ہی احکامات دئے گئے ہیں  اور اس وقت ساری دُنیا میں  اِس طرح کی احتیاطی کاروائیاں  ہو رہی ہیں  ..... "

"مطلب کا پھیر ہے۔ احتیاطی کاروائی کے نام پر دہشت گردی کی کاروائیاں  ..... "

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تاریک آسمان گڑگڑاہٹ سے گونج رہا تھا اور پھر دھماکوں  کی آوازیں  گونجنے لگیں  .... کبھی کبھی دھماکوں  میں  بے بسی بھری چیخیں  بھی شامل ہو جاتی......

"ابا ! کیا پھر حملہ ہُوا  طے آئیی افسانے آج کے عہد کا آشُہے ؟"

"بیٹا ! اب یہ تو روز کا معمول ہے۔"

"لیکن ہم پر حملہ کیوں  کیا جا رہا ہے ؟"

"اپنی اَنا کی تسکین کے لئے ..... معصوم لوگوں  کا خون بہا کر .... اُن کے گھروں  کو اُجاڑ کر ...... اُن کے ملک کو کھنڈر میں  تبدیل کر کے، اپنی طاقت آزما کر ..... اپنے جھوٹے غرور کا انتقام لیا جا رہا ہے۔"

"بابا یہ کب تک چلے گا ؟"

"جب تک اُن کی اَنا کی تسکین نہ ہو جائے۔"

"بابا ہمیں  چار دِنوں  سے کھانا نہیں  ملا، ہم بھوکے ہیں۔"

"اُنھوں  نے بمباری سے ہمارے گھروں  کو تو اُجاڑا، اناج کے گوداموں ، اسپتالوں  اور راحت کاری انجام دینے والے اداروں  کے دفاتر کو بھی نہیں  چھوڑا ہے بیٹا..... "

"بابا آخر وہ ایسا کیوں  کر رہے ہیں  ؟"

"کہتے ہیں  یہ ہماری دہشت گردی کے خلاف لڑائی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ، دہشت گردی کر کے ...... ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹرین کا جلا ہُوا ڈبہ اور جلی ہُوئی لاشیں  بار بار ٹی وی پر دِکھائی جا رہی ہیں۔

لیڈروں  کے اشتعال انگیز بیانات ٹی وی کے اسکرین پر اُبھر رہے ہیں۔

جلی ہُوئی لاشیں  ...

اشتعال انگیز بیانات...

عوام کے غم و غصے میں  بھرے چہرے...

جلی ہُوئی لاشیں ، ٹرین کا جلا ہُوا ڈبہ...

اشتعال انگیز تقریریں ، بیانات...

ہزاروں  کی بھیڑ ہے جو اشتعال انگیز اور نفرت انگیز نعرے لگاتی بڑھ رہی ہے۔پولیس چپ چاپ تماشائی بنی اُن کومسکراتے ہُوئے دیکھ رہی ہے اور تمباکو مسل کر اپنے منہ میں  ڈال رہی ہے۔

دوکانوں  اور مکانوں کو آگ لگائی جار ہی ہے.....

لوگوں کو دہکتی آگ میں  ڈالا جا رہا ہے........

انہیں  تر شولوں  سے چھیدا جا رہا ہے..........

حا ملاؤں  کے پیٹ کاٹ کر ان سے بچے نکالے جا رہے اور انہیں  دہکتی آگ میں  ڈالا جا رہا ہے

عصمتیں  تاراج ہو رہی ہیں۔

چن چن کر دوکانوں ،مکانوں ،کاروباری ٹھکانوں  کو آگ لگائی جا رہی ہے............

یہ جو کچھ ہو رہا ہے ردِّ عمل ہے۔ " اگر وہ عمل نہیں  ہوتاتواس کا رد عمل نہیں  ہوتا۔"

"حالات پر قابو پا نے کے لیے ملٹری بلائی تو ہے لیکن ابھی شہر ملٹری کے حوالے نہیں کیا جا سکتا اس کی کچھ قانونی مجبوریاں ہیں۔ ایک ایک ملٹری کی گاڑی کے ساتھ ایک ایک مجسٹریٹ دیا جائے گا۔اور حالات کو دیکھتے جب وہ مجسٹریٹ گولی چلانے کا آرڈر دے گا تب ہی فوج گولی چلائے گی"

۔ سارا شہر فساد میں  گھرا ہے۔مجسٹریٹوں  کی تلاش جاری ہے۔ جب اتنے مجسٹریٹ مل گے تو پھر شہر کو فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

شہر میں  لوٹ مار،آتش زدگی،چھرے بازی اور ترشول بازی جاری ہے۔

لوگ مر رہے ہیں ، عورتوں  کی عصمتیں  لُوٹی جا رہی ہیں ،بچے یتیم ہو رہے ہیں ، مسجدوں ، درگاہوں  کو مسمار کر کے وہاں  منادر بنائے جا رہے ہیں  اور ان میں  ہنومان جی کی مورتیاں  رکھی جا رہی ہیں۔

وحشیوں  کا ٹولہ پوری پوری بستیوں  کو جلا کر خاک کر رہا ہے......

ان بستیوں  کے مکینوں  کو آگ میں  بھون رہا ہے......

انتظامیہ تماشا ئی ہی نہیں  ہے، ان تمام واقعات میں  پوری طرح ملوث ہے.....

نئے قائدین کے چہرے ابھر رہے ہیں۔

ایڈوانی،مودی،توگڑیا،با ل ٹھا کرے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک کیمپ...

اِس میں  لاکھوں  لوگ مقید.....

لُٹے ہُوئے، شکستہ، زخموں  سے چُور.....

کسی نے اپنا پورا خاندان کھو دیا ہے، تو کسی کی بہن لاپتہ ہے، تو کسی کا جوان بیٹا ترشولوں  سے چھید کر آگ میں  بھون ڈالا گیا۔

بے یار و مدد گار، بھوکے پیاسے۔

وہاں  نہ پینے کے لئے پانی ہے اور نہ کھانے کے لئے کچھ ..... نہ علاج کے لئے دوائیاں  ......

لیکن پھر بھی وہ شکر ادا کر رہے ہیں۔ اس جگہ وہ اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

"سرکار اِس طرح کے کیمپوں  کی ذمہ داری نہیں  لے سکتی، اِس طرح کے کیمپ اَمن و اَمان کے لئے خطرہ ہیں  ..... "

"اِس طرح کے کیمپ دہشت گردوں  کے اَڈّے ہیں۔ اِن کیمپوں  میں  دہشت گرد پناہ لے رہے ہیں۔"

یہ کیمپ ملک دشمن سرگرمیوں کے اڈّے بنتے جا رہے ہیں۔ یہ آبادی بڑھانے کے کارخانے ہیں .......

لوٹ مار،آتش زدگی،قتل و خون جار ی ہے۔

اِن لوگوں  کو غصہ نہیں  آتا ہے، لیکن جب غصہ آتا ہے تو پھر وہ غصہ جلدی ٹھنڈا نہیں  ہو تا ہے۔ جب تک غصہ ٹھنڈا نہیں  ہو تا یہ چلتا رہے گا.......

گورو یا ترا جاری ہے۔

لوگ یاترا میں  شامل اشتعال انگیز نعرے لگا رہے ہیں۔

یاترا کا میر کارواں  اشتعال انگیز اور نفرت انگیز تقریر کر رہا ہے۔

لاکھوں  لوگوں  کو بے گھر ... اُن کی زندگی کا سرمایہ اُجاڑ کر ... اُن معصوم لوگوں  کو قتل کر کے، بچوں  کو یتیم کر کے، عورتوں  کو بیوہ اور عصمتوں  کو تاراج کر کے، اُن کا جشن منایا جا رہا ہے۔

جگہ جگہ گورو یاترائیں  نکالی جا رہی ہیں۔

اپنے اِن کارناموں  پر شرم نہیں  گورو کیا جا رہا ہے۔

رام، کرشن، بدھ، مہاویر کی نئی تعلیم، نئی نسل کو دی جا رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"اے رُک جا .... کیا نام ہے ؟"

"عبدا لرحیم! "

"پکڑ لو اِسے، یہ کوئی دہشت گرد لگتا ہے۔ اِس کی داڑھی اِس بات کا ثبوت ہے۔"

"نہیں  صاحب ! میں  دہشت گرد نہیں  ہُوں۔ میں  تو ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہُوں۔"

"تعلیم یافتہ نوجوان ہی آج کل ملک دُشمن سرگرمیوں  میں  ملوث ہیں۔ جب تم پر پوٹا لگا یا جائے گا اور کئی سالوں  تک جب تم جیل میں  سڑوگے تو اگر تم دہشت گرد نہیں  بھی ہو تو دہشت گرد بن جاؤ گے۔"

"اِسی طرح دہشت گرد بنائے جاتے ہیں۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پولس کی کئی جیپیں  آ کر رُکیں  اور اُن میں  سے مسلح پولس کے ساتھ ساتھ کمانڈوز بھی اُترے اور اُنھوں  نے پوری بستی کو اپنے گھیر ے میں  لے لیا۔

دیکھتے ہی دیکھتے پوری بستی ایک پولس کیمپ میں  تبدیل ہو گئی۔ جو بھی سامنے آتا اُسے روک کر بندوق کی نوک پر اُس سے طرح طرح کے سوالات پوچھے جاتے اور بلا کسی شک و شبہ کے جس کو وہ چاہتے ہتھکڑی ڈال کر بیٹھا دیتے۔

عورتوں  کی نقابیں  اُٹھا اُٹھا کر اُن کے چہرے دیکھے جاتے، چہروں  پر سفّاک نظریں  ڈالی جاتیں ، تلاشی کے نام پر اُن کے جسم کو چھو کر لذت حاصل کی جاتی۔

چلتی گاڑیوں  کو روک کر اُن میں  بیٹھے مسافروں  کو نام پوچھ پوچھ کر اُتارا جاتا اور ہتھکڑیاں  پہنا کر جیپ میں  بیٹھا دیا جاتا۔

گھروں  میں  گھس کر بندوق کی نوک پر گھر کے مکینوں  کو دہشت زدہ کیا جاتا اور تلاشی کے نام پر گھر کی ہر چیز تہس نہس کر دی جاتی۔

مکانوں  کے بند دروازوں  کو لات مار مار کر کھولا جاتا۔ جو دروازے لات مارنے سے بھی نہیں  کھل پاتے اُنھیں  توڑ دیا جاتا۔

جن دروازوں  کو توڑنے کے بعد مکان میں  داخل ہوتے، اُن مکینوں  پر آفت آ جاتی۔ مکان کے تمام افراد یرغمال بنا لئے جاتے۔ اُس سے بچنے کے لئے لوگ خوف زدہ ہو کر ہاتھ اُٹھا کر ایک قطار میں  کھڑے ہو جاتے۔

قطار میں  کھڑے لوگوں  کے ساتھ جانوروں  کی طرح برتاؤ کرتے ہُوئے طرح طرح کے سوالات کئے جاتے اور اُنھیں  زد و کوب کیا جاتا۔

"یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ اور ہمارے ساتھ ایسا کیوں  کیا جا رہا ہے ؟"

"ہمیں  پتہ چلا ہے کہ یہ بستی دہشت گردوں  کا اڈّا ہے، حالیہ بم دھماکوں  میں  جن دہشت گردوں  کا ہاتھ ہے اُن کا تعلق اِسی بستی سے ہے۔ اور یہ کاروائی ہماری اُن دہشت گردوں  کو تلاش کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

"ہم دُنیا سے دہشت گردی کو اُکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ ہماری جنگ دہشت گردی کے خلاف ہے، ہم جس ملک کو دہشت گرد قرار دے دیں۔ دُنیا کو ماننا ہو گا کہ وہ ملک دہشت گر د ہے اور ہم اُس ملک کے خلاف جو بھی کاروائی کریں ، ہماری کاروائی دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو گی۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات بھر آسمان سے بم برستے رہے۔ مکان، دُکان، دفاتر، سڑکیں ، چوراہے، سب کچھ اِن بموں  کی زد میں  آ کر تباہ ہوتے رہے۔ دہشت سے گھروں  میں  سمٹے لوگ بموں  کو پھٹتے اور اُن سے پھیلتی تباہی کو دیکھتے اپنی جانیں  بچانے کی کوشش کرتے رہتے۔

روزانہ کا معمول رہا۔

ساری دُنیا میں  مظاہرے ہوتے رہے۔

جنگ بند کی جائے، یہ جنگ ظلم ہے، ہم امن چاہتے ہیں ، معصوم لوگوں  کی جانیں  نہ لی جائیں ، جو لوگ اِس جنگ میں  ملوث ہیں  وہ شیطان ہیں۔

لیکن ساری دُنیا کے مظاہروں  کا دو شیطانوں  پر کوئی اثر نہیں  ہوا۔

وہ ساری دُنیا کے مظاہروں  کو نظر انداز کر کے دہشت گردی کے ذریعہ دہشت پھیلاتے رہے۔ اور اپنی کاروائی کو درست قرار دیتے ہُوئے اپنی فتوحات کے شادیانے بجاتے رہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سب کچھ ختم ہو گیا تھا۔

اب ایک خاموشی تھی، ایک سنّاٹا۔

چاروں  طرف ملبے کے ڈھیر ہیں۔ ٹوٹی ہُوئی عمارتوں  سے دھُواں  اُٹھ رہا ہے۔ اُن ملبوں  کے ڈھیر پر بیٹھ کر کچھ لوگ ماتم کر رہے ہیں ، تو کچھ اپنی فتح، اپنی آزادی کا جشن منا رہے ہیں۔ کچھ اِن ملبوں  میں  اپنے عزیز و اقارب کو تلاش کر رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنگ ختم ہو گئی۔ لیکن ہماری دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے۔ یہ اُس وقت تک ختم نہیں  ہو گی، جب تک دُنیا سے آخری دہشت گرد ختم نہ کر دیا جائے گا۔"

نئے میزان مرتب کئے جا رہے تھے۔ نئے پیمانے ڈھالے جا رہے تھے۔

ایسا محسوس ہوتا تھا دہشت گردی کے خلاف جنگ کی یہ دہشت گردی نئی صدی کا سب سے بڑا عذاب بن گئی ہے۔