کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گلی

شہناز خانم عابدی


 دادو سے لاڑکانہ وہ جب اپنی رشتے کی ماسی کے گھر رہنے آ ئی تو اس کا پہلا مسئلہ یہ تھا کہ اسے ہر روز شام سے پہلے مندر جانا ہوتا تھا۔ اس نے ایک منت مانی ہوئی تھی۔ اسے اپنے گھر میں تو کوئی نہ کوئی مندر جانے کے لئے مل جاتا تھا۔ ماسی کے گھر میں اسے مندر جانے کے لئے کوئی ساتھی نہیں مل رہی تھی۔ ماسی کے گھر کے لوگ تو تھے ہی مندر جانے کے چور، لیکن پا س پڑوس کی عورتیں بھی روز مندر جانے کی قائل نہیں تھیں۔ منگل کے دن بھی نہیں۔ اتوار کے دن البتہ عورتیں اور بچے گروہ در گروہ مندر کے لئے نکل جاتے۔ ماسی نے اسے مندر کا جانے راستہ بتا دیا تھا۔ پہلے دن ہی اسے وہ راستہ بہت لمبا لگا اور بہت تھکا دینے والا بھی۔ اس نے سوچا ممکن ہے تنہا چلنے کی وجہ سے ایسا لگا ہو۔ اس نے گھر کے لوگوں سے بات کی تو پتہ چلا مندر جانے لئے ایک ’ شارٹ کٹ ‘ بھی ہے۔ جس سے راستہ ایک تہائی سے بھی کم ہو جاتا ہے۔ جب اس نے پوچھا کہ ماسی نے مجھے وہ راستہ کیوں نہیں بتا یا تو سب نے یہی کہا کہ وہ راستہ اکیلی لڑکی کے لئے مناسب نہیں ہے کیونکہ وہ ایک لمبی پیچدار، نیم تاریک، نیم روشن گلی ہے۔ وہ گلی بے حد تنگ بھی ہے۔ دو آدمی ساتھ ساتھ چل کر بمشکل گزر سکتے ہیں۔

 دوسرے دن جب وہ گھر سے نکلی تو اس کی کھوجی طبیعت نے اسے گلی کی تلاش پر مجبور کر دیا۔ بہت جلد وہ گلی کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ جیسے ہی وہ گلی میں داخل ہو کر چند قدم چلی تو اس پر عجیب سا خوف طاری ہو گیا۔ وہ الٹے پاؤں پلٹ گئی اور ماسی کے بتائے ہوئے راستے سے مندر چلی گئی۔ مندر سے واپسی پر اس نے گھر کے لوگوں سے گلی کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ کسی نے کچھ بتایا کسی نے کچھ۔ ۔ ۔ سب کی باتوں کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ وہ گلی محفوظ نہیں ہے۔ اس نے کسی کو یہ نہیں بتایا کہ وہ گلی کے اندر جھانک چکی ہے۔ در اصل وہ آسیب اور آتما پر زیادہ یقین نہیں رکھتے ہوئے بھی ان سے ڈرتی تھی۔ اس نے ایک بار پھر ماسی سے گلی کی بات چھیڑی اور اس مرتبہ صاف صاف پوچھا۔ ’’ ماسی گلی میں کسی آتما واتما یا آسیب وغیرہ کا چکر تو نہیں ہے۔ ’‘

 

اس کے سوال پر ماسی ہنسنے لگی اور بولی۔ ’’ نہیں بیٹا ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اور کیا تم ان پر یقین رکھتی ہو۔ ؟ ‘‘

’’ ماسی میں بھی آ پ لوگوں کی طرح آج کے زمانے میں رہتی ہوں۔ کیسا آسیب، کیسی آتما۔ ۔ ۔ پھر بھی پوچھنا چاہتی تھی۔ ۔ ۔ ۔ اور ماسی یہ بھی تو سمجھ میں نہیں آ تاکہ آپ لوگ اس گلی سے مندر جانے کو کیوں منع کرتے ہیں جب کہ ہر کوئی مانتا ہے کہ وہ زبردست’ شارٹ کٹ ‘ ہے۔ آخر اس گلی سے جانے میں کیا مشکل ہے۔ ’‘

ماسی بولی :’’مشکل وشکل تو کوئی نہیں ہے۔ ہاں خطر ہ ہے۔ خطرہ بھی کیسا۔ بس یہی پاگل، بے ہودہ، بدتمیز لڑکے اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مرد ‘‘ ۔ ۔ ۔ ۔ ’’ ارے ماسی یہ خطرہ تو ہر جگہ ہے، کہاں نہیں ہے۔ ؟ ‘‘ لڑکی بولی

’’ پھر بھی بٹیا وہ گلی بڑی تنگ، تنگ۔ ۔ ۔ ویران، ویران اور اندھیری ہے۔ لوگوں کو آسانی مل جاتی ہے، ’ موقع ‘ بھی بڑی چیز ہے۔ ان کمبخت ماٹی مِلوں سے ڈرنا ہی چاہئے جو موقعہ کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔ ’‘ ماسی نے لڑکی کو سمجھانے کی کوشش کی۔

’’ ماسی آپ صحیح کہتی ہیں ہماری سوسائٹی کے لوگ کتنا ہی پڑھ لکھ لیں لیکن سدھرتے نہیں ہیں۔ ’‘

’’ بٹیا یہ کیا کہہ رہی ہو تعلیم کا اس سے کیا تعلق۔ ۔ میں امریکہ ومریکہ گئی تو نہیں ہوں لیکن سب بتاتے ہیں کہ وہاں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں۔ تم نے تو پڑھا ہو گا ان ملکوں میں ایسے مردوں کووولف ‘کہتے ہیں۔ یعنی ’بھیڑیا۔

’’ او۔ کے ماسی۔ یو آر رائٹ۔ ’‘ لڑکی نے یہ کہہ کر اپنے دانت نکالے۔

 ماسی اپنے کام میں مصروف تھی اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتی جاتی تھی۔ اس کے با وجود اس نے لڑکی کے دانت دیکھ لئے، اس کے چہرے اور اس کی آنکھوں کے انداز بھی بھانپ لئے۔ اپنا ہاتھ بڑھا کر لڑکی کی چوٹی پکڑی اور ہلکا سا جھٹکا دیا۔

’’ شریر لڑکی ماسی کا مذاق اڑا رہی ہے اور بھیڑئیے کا سامنہ پھاڑ رہی ہے۔ ’‘ ماسی نے پیار سے سرزنش کی۔

’’ میں اور بھیڑیا۔ ۔ بھیڑیا ہو نے کے لئے تو مرد ہونا لازمی ہے۔ میں تو لڑکی ہوں ما سی۔ ’‘ لڑکی ہنستے ہوئے بو لی۔

’’ ہاں بھئی تو مرد نہیں ہے تو تو پیاری سی لڑکی ہے۔ ۔ ۔ لڑکی۔ ۔ ۔ ۔ ہماری اپنی پلویؔ۔ ۔ ۔ اب بھاگ یہاں سے ماسی کو کام کرنے دے۔ ’‘

پلوی نے ماسی کی جان چھوڑ دی۔ لیکن اس کی آنکھوں کے سامنے ایک کے بعد ایک بھیڑئیے آ گئے۔ ۔ ’’اونھ بھیڑیئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ان بھیڑیوں سے نمٹنا خوب جانتی ہوں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ’‘

 اس کے دوسرے دن پلویؔاس تنگ گلی میں داخل ہو گئی۔ اور ’ شارٹ کٹ‘ کے ذریعے مندر پہنچ گئی۔ اس کے بعد کچھ دن اور گزر گئے۔ اب تو اس تنگ گلی سے آنا جانا اس کا معمول بن گیا تھا جب تک اس کی اس گلی کے پہلے بھیڑئیے سے ملاقات نہیں ہوئی۔ اس دن اس نے گلی کا آ دھا راستہ قریب قریب طے کر لیا تھا اچانک اس نے دیکھا کہ سامنے کی جانب سے ایک آ دمی آ رہا ہے۔ اس جگہ جہاں وہ تھی گلی اور بھی تنگ ہو گئی تھی۔ پلوی ایک طرف گلی سے چپک کر کھڑی ہو گئی وہ نیم آدمی اور نیم سایہ اس کے قریب آ گیا۔ ظاہر میں ایسا لگا وہ اس کے سامنے سے ہو کر گزر جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا پلویؔ کے عین سامنے آ کر وہ نیم آ دمی نیم سایہ اس سے لپٹ گیا۔ پلوی نے سمجھا کہ شاید کوئی آتما اس کے بدن کو جکڑ رہی ہے۔ دہشت کی ایک ٹھنڈی لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی۔ جوڈو کراٹے کے سارے داؤ پیچ جو اس کو ازبر تھے اور جن پر اس کو بڑا بھروسہ اور غرور تھا اس کے ذہن سے غائب ہو گئے۔ اوّل اوّل اس نے اپنے آپ کو اس آتما کے سپرد کر دیا۔ لیکن بہت ہی جلد اس کو ہوش آ گیا۔ اب اس کو یقین ہو گیا تھا کہ اس کا واسطہ کسی آتما سے نہیں پڑا ہے بلکہ وہ کسی مرد بھیڑیئے کے ہتھّے چڑھ رہی ہے۔ آتما کا خوف دور ہوتے ہی اس کے جسم میں ایک برقی رو دوڑ گئی، اس نے ایک جھٹکے سے اس بھیڑیئے کے ہاتھوں سے اپنی پتلی کمر اور اپنا سانچے میں ڈھلا ہو ا جسم چھڑا لیا اور اس سے ایک فاصلے پر ہو گئی۔ ہوس کے زیرِ اثر وہ تیز تیز سانس لے رہا تھا جیسے غرّا رہا ہو۔ ۔ ۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں، اس کے جبڑے کھلے ہوئے تھے، اس کے دانت منہ سے باہر نکلے آ رہے تھے۔ اس نے اپنی دھوتی میں کہیں اڑسا ہوا بڑا سا چا قو باہر نکال لیا، وہ چاقو بھی چمک رہا تھا پھر بھی پلوی نے اس کے ایک گھٹنے پر کراٹے کا وار کیا۔ سائے نما آدمی کے منہ سے ایک گندی سی چیخ نکلی اور وہ دو چار قدم پیچھے ہٹ گیا۔ فوراً ہی اس آدمی نے اپنے آپ کو سنبھال لیا، چاقو اس کے ہاتھ سے غائب ہو گیا۔ اور وہ یوں ہنسنے لگا جیسے کچھ ہو ا ہی نہ تھا۔ اور دانت نکال کر بولا۔ ’’ میں تو ایسے ہی مذاق کر رہا تھا۔ چاقو بھی تجھے ڈرانے کے لئے نکالا تھا۔ لیکن تو ڈری نہیں۔