کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

وارث

شہناز خانم عابدی


         مریم سعیدنے اپنے شوہر کے مشورے پر کرامت  اور ان کی بیگم نور کی دعوت کا اہتمام کر کے صحیح کیا تھا یا غلط اس کی سمجھ میں کبھی نہ آ سکا۔ کرامت اور نور ان کے خاص احباب میں سے تھے  اور ان کی شادی کی سالگرہ اپنے گھر منا کر کے ان کو سر پرائز  دینا ان کا مقصد تھا۔

        اس تقریب میں وہ سب کچھ ہو رہا تھا جو کینیڈین پاکستانیوں کی دعوتوں کا معمول ہے۔ کچھ مہمان لونگ روم  میں اور کچھ فیملی روم میں جمع تھے۔ رعنا ، غزالہ اور حمیدہ  یہ تینوں مریم کی بہت گہری دوست تھیں گپ شپ اور وقفے وقفے سے قہقہوں کے ساتھ مریم کے کاموں میں ہاتھ بٹا رہی تھیں۔ لوِنگ روم میں مرد حضرات  پاکستان سے لے کر دنیا بھر کے حا لات تک پر بول رہے تھے۔ آوازوں کے سُر اوپر نیچے ہو رہے تھے۔ جب کوئی کسی کی ٹانگ کھینچتا  تو ہلکی سی توُ تُو میں ، اور پھر ہنسی کے فوّارے پھوٹتے۔ بیچ بیچ میں اقتصادی تنگی ( Recession) کی بات حاضرِ موضوع کے طور پر چھیڑ دی جاتی۔ جمیل کا تعلق ریئل اسٹیٹ سے تھا اور یقیناً Recessionکے متعلق وہ جتنا جانتے ہوں گے شاید ہی کوئی اور جانتا ہو گا۔ وہ اس موضوع کو  بار بار لے آتے اور اپنی انا کی تسکین کا سامان بہم کرتے۔ حمیدہ کے شوہر بہت ہی مذہبی تھے (اگرچہ عمر تیس پینتیس ہو گی) خاموش بیٹھے تھے۔ سعید ان کو چھیڑتے ’’ حنیف تم بھی تو کچھ بولو ‘‘وہ اکثر و بیشتر ہنس کر چپ ہو جاتے۔ کبھی کبھی کسی موضوع پر بولتے تو یوں بولتے جیسے کوئی درس دے رہا ہو۔

دروازے کی گھنٹی بجی۔ سعید اٹھ کر گئے۔ دروازہ کھولا

’’ ارے یار کبھی تو وقت پر آ جایا کرو۔ ‘‘ سعید کی آواز لونگ روم تک آئی۔ یہ بات تو سبھی جانتے تھے کہ کرامت ہمیشہ سب سے آخر میں ہی آتے ہیں۔

’’ تم تو گھر کے اندر بیٹھے ہوئے ہو، پتہ ہے کتنی زبردست اسنو ہورہی ہے۔۔۔۔۔ گاڑی بھی بہت آہستہ چلا تا ہوا آیا ہوں۔ ‘‘کرامت کی سردی سے کانپتی ہو ئی آواز نے جواباً کہا۔ 

کرامت کے پیچھے ان کی بیگم نور اور ان کا سولہ سالہ بیٹا حارث داخل ہوئے۔ سب نے اپنے جیکٹس اتار کر کلوزٹ میں ٹانگے۔ سعید ان کی مدد کر رہے تھے۔ جیکٹس کے بعد جوتے اتارنے کا مرحلہ تھا، حارث اور کرامت نے ا پنے اسنوشوز اتارے۔ حارث نیچے بیسمنٹ(Basement) میں چلے گئے جہاں ان کے ہم عمر لڑکے اور لڑکیاں جمع تھے۔ کرامت سعید کے ساتھ لِونگ روم کی طرف چل  دیئے۔ نور دروازے کے نزدیک رکھے ہوئے اسٹول پر بیٹھ گئی اپنے اسنو شوز اتارے اور بیگ میں سے گولڈن رنگ کی چپل نکال کر اپنے پاؤں میں ڈالی اتنے میں مریم وہاں پہنچ گئی۔ دونوں گلے ملیں اور باتیں کرتی ہوئی فیملی روم میں پہنچیں ، سب سے گلے مل کر وہاں جاری عورتوں والی گپ  شپ میں شامل ہو گئیں جس کا  ہدف اس نشست میں غیر موجود انیلا تھیں جن کی بیٹی نے شادی کے ایک سال بعد ہی اپنے شوہر سے طلاق حاصل کر لی تھی۔ اگرچہ شادی  پسند کی تھی۔

’’ سعید بھائی بہت بھوک لگ رہی ہے۔ ‘‘ کسی نے آواز لگائی۔

’شاہد بھائی کھانا تیار ہے۔ بس کرامت بھائی اور نور بھابی کا انتظار تھا ‘‘ مریم نے جواب دیا۔

      چھوٹے سمو سے تو اپی ٹائزر کے طور پر مہمانوں کو پہلے ہی نذر کئے جا چکے تھے۔ اسی دوران وہ مہمان بھی انتہائی  خاموشی سے لِونگ روم میں آ چکے تھے جو گیسٹ روم میں بادہ نوشی کر رہے تھے۔ سعید اور کرامت بھی ایک چکر وہاں کا لگا آئے تھے۔

     تھوڑی ہی دیر میں سب کو کھانے کے لئے بلایا گیا، کھانے کے دوران بھی باتیں ، لطیفے، قہقہے ایک دوسرے پر جملے کسنے کاسلسلہ چلتا رہا۔ بیچ بیچ میں کرامت جو رنگ پر آ گئے تھے لطیفے سناتے اور پورا گھر قہقہوں سے گونج اٹھتا۔

    کھانا ختم ہوا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ڈزرٹ(Dessert)کے لئے سب کو بلایا جانے لگا۔ جیسے ہی نور اور کرامت ڈائننگ ہال میں داخل ہوئے ان پر پھولوں کی بارش کے ساتھ ہی سب بچوں نے مل کر Happy Aniversary Song  گایا۔ پھر دونوں سے کیک کٹوایا گیا۔

    ’’زبردست سر پرائز تھا۔ ‘‘ کرامت خوش دلی اور شکر گزاری کی آمیزش والی آواز میں سعید اور مریم سے مخاطب ہوئے۔

     سعید نے جواب دینے کا تکلف نہیں کیا اور اپنے دوست کو لپٹا لیا۔ اس کے بعد تحفوں اور شکریوں کا سلسلہ دیر تک چلتا رہا۔ سب نے تحفے دیئے۔ کرامت اور نور سب سے گلے ملے اور سب کا شکریہ ادا کیا۔ تھوڑی دیر بعد چائے کا دور چلا، پھر کافی کا۔ ابھی لوگ کافی پی ہی رہے تھے کہ سب کو نیچے بلایا جانے لگا۔ کافی ختم کر کے سب بیس منٹ میں پہنچ گئے ہلکی ہلکی دھن پر لڑکے، لڑکیاں ، بچے، بچیاں رقص کر رہے تھے پھر بڑوں سے کہا گیا، کچھ جوڑوں نے رقص کرنا شروع کر دیا۔ سعید، کرامت اور حنیف  تینوں ایک صوفے پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ نور بھی سب سے باتوں میں مصروف تھی۔ سب کا اصرار بڑھا کہ ان لوگوں کو بھی رقص میں شریک ہونا ہو گا۔ حنیف نے تو صاف منع کر دیا کہ میں اور حمیدہ اس میں حصّہ نہیں لیں گے۔ اور سب کو ہنسی ہنسی میں دھمکی بھی دی کہ اگر انہیں مجبور کیا گیا تو وہ خطبہ ارشاد فرمانے لگیں گے۔ سعید نے دونوں کو معاف کر دیا۔ نور نے بھی بہانہ بنا کر جان چھڑانے کی کوشش کی لیکن کرامت نے کہا کہ ’’  بچوں کا دل رکھنے میں کیا حرج ہے۔ ‘‘ کرامت نے نور کو راضی کرنے کی کوشش کی۔

’’ میں ابھی آتی ہوں۔ ‘‘یہ کہہ کر نور کسی کام سے اوپر گئیں۔

      سعید، حنیف سے گفتگو میں مصروف تھے کہ اچانک ان کو اپنے کندھے پر وزن محسوس ہوا۔ وہ چونکے، پلٹ کر دیکھا، کرامت نے ان کے کندھے پر سر رکھا ہوا تھا ، سعید نے کرامت کو سنبھالنے کی کوشش کی لیکن کرامت کی گردن ایک طرف کو لڑھک گئی۔

’’  یہ کرامت کو کیا ہوا۔ ؟  سعید چیخے۔

     سب لوگ متوجہ ہو گئے۔ کرامت کو صوفے پر لٹا دیا گیا۔ شور سن کر نور بھی اوپر سے بھاگی بھاگی آ ئی۔ کرامت کی یہ حالت دیکھ کر اس نے بے اختیار رونا شروع کر دیا۔ فوراً   نائن ون ون(۹۱۱) کال کی۔ پیرا میڈ (Para Med  ) والے تھوڑی دیر کوشش کرتے رہے پھر ہسپتال لے کر چلے گئے۔

       دل کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر لابی میں دعوت میں آئے ہوئے تقریباً سب ہی لوگ جمع تھے۔ سب فکر مند اور خاموش تھے۔ سعید مستقل ٹہل رہے تھے ان کی نگاہیں ایمر جنسی وارڈ کی طرف لگی ہو ئی تھیں۔ نور خاموش تھی اس کے ہونٹ ہل رہے تھے۔ شاید وہ  اللہ تعالیٰ سے کرامت کی صحت یابی کی دعائیں مانگ رہی تھی۔ حارث بھی ماں کے پاس خاموش بیٹھا تھا۔ ڈاکٹر وارڈ سے باہر آ یا، سب کی امیدیں بندھ گئیں ، نور تیزی سے ڈاکٹر کی طرف بڑھی، اس کے پیچھے سعید۔۔۔۔ ڈاکٹر نے سو ری کہہ کر کرامت کی موت کی تصدیق کر د یا ور کہاکارڈیوویسکولر فیلیئر۔

       رات کے دو بج رہے تھے۔ سب کو بتا دیا گیا کہ Funeralکل مسجد میں ہو گا۔ اور بعد نماز عصر تدفین کی جائے گی۔ سعید، مریم اور چند دوست نور اور حارث کے ساتھ ان کے گھر گئے۔ رات بھر یہ سب لوگ وہیں رہے۔ نور صدمے سے بے حال تھی، اسے بار بار غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ آخری دیدار کے وقت نور کی حالت بہت بگڑ گئی تھی۔ اس وقت اسے اپنوں کی ضرورت تھی مگر اس ’’ دیارِ غیر ‘‘  میں یہی سب اپنے تھے جو اس کے آس پاس تھے ، اس کے غم میں برابر کے شریک تھے۔ اور سب کچھ سنبھال رہے تھے۔

       قبرستان میں تدفین سے قبل کسی نے آواز لگا ئی مرحوم کو قبر میں لٹانے سے پہلے کسی و ارث سے رضا لینی ہے۔ مرحوم کا اکلوتا بیٹا حارث آس پاس کہیں موجود نہیں تھا۔ مرحوم کی بیگم نور کو ساتھ نہیں لایا گیا تھا ان کی حالت ایسی نہ تھی۔

’’  حارث کہاں ہے۔ میں نے مسجد میں بھی اسے نہیں دیکھا تھا۔ ‘‘ سعید  بولے۔

’’  مجھے پتہ ہے وہ کہاں ہو گا۔ ‘‘  حسان بولا ( حسان حارث کا دوست تھا)

’’  تو بلاؤ  اس کو جلدی۔ ‘‘ سعید نے حسان سے کہا۔

’’  حسان نے حارث کے سِیل پر فون کیا۔ ’’ انکل حارث فون نہیں اٹھا رہا ہے‘‘

’’  چلو میرے ساتھ حارث کو لے کر آتے ہیں۔ ‘‘ سعید نے حسان کا ہاتھ پکڑا اور اس کو لے کر گاڑی میں بیٹھ گیا۔

حسان، سعید کو ایک ’کافی ہاؤس ‘  میں لے گیا۔ جو حارث کی روز کی بیٹھک تھا۔

سعید اور حسان   ’کافی ہاؤس ‘میں داخل ہوئے۔ حارث اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا۔

’’تمہارے والد کی تدفین ہو رہی ہے اور تم یہاں بیٹھے ہو۔ ‘‘ سعید نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے کہا۔

 ’’ میں کیا کروں گا  انکل، آپ سب لوگ ہیں نا۔ ‘‘حارث نے جواب دیا

اس کا جواب سن کر سعید کا دل چاہا کہ مارمار کر اس کی کھال کھینچ دے۔ سعید نے حارث کا ہاتھ پکڑا  اور اسے گا ڑی میں لا بٹھا یا  اور بولا۔

’’ تدفین کے وقت تمہاری اجازت لی جائے گی۔ تم مرحوم کے بیٹے اور وارث ہو۔ ‘‘

دوسرے دن سعیدکرامت کے اور اپنے چند دوستوں کے درمیان یہ کہتے پائے گئے

’’ کرامت نے اسلام آباد میں اپنی اعلیٰ عہدے کی ملا ز مت سے قبل از وقت ریٹائر منٹ لی اور دونوں میاں بیوی  نہ چاہتے ہوئے محض بیٹے حارث کے ضد کر نے پر مانٹریال ( دیارِ غیر) آئے تھے۔

  ’’د یارِ غیر میں گاڑے جانے کے لئے۔ ‘‘

٭٭٭