کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

آسیب

منشا یاد


شروع میں تو کتنا عرصہ ہمیں یقین ہی نہ آیا کہ یہ جو دن رات کی دوڑ دھوپ کے باوجود ہماری پوری نہیں پڑتی اور آئے روز بیماری،لڑائی جھگڑے اور چھوٹے موٹے حادثات کی صورت،کوئی نہ کوئی آفت ہمیں گھیرے رکھتی ہے،اس کی اصل وجہ کیا ہے۔ہم یہی سمجھتے رہے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔بلکہ امی ابا کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے گناہوں کی سزا ہے۔حالانکہ یہ بات میری سمجھ میں کبھی نہیں آئی کہ جب اللہ میاں نے گناہوں کی سزا کے لئے اگلی دنیا میں دوزخ کی آگ بھڑکا رکھی ہے تو یہاں کیوں ؟یہ تو دوہری سزا ہو گئی۔ اور یہ جو ہمارے آس پاس کے لوگ مزے کی زندگی بسر کر رہے ہیں تو کیا انہوں نے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا اور ان کی رسی کیوں اتنی دراز ہے۔ اور حالانکہ اس بات کے اشارے کہ نظر نہ آنے والی کوئی مخلوق وہاں پہلے سے رہ رہی ہے مکان کی تعمیر کے وقت ہی سے مل رہے تھے۔کبھی رنگ کا ڈبہ،کبھی سیمنٹ کی بوری اور کبھی مستریوں کاریگروں کے اوزار گم ہو جاتے۔کبھی تازہ پلستر پریوں الٹی سیدھی لکیریں ڈال دی جاتیں جیسے رات بھر بھتنے کٹم کاٹا کھیلتے رہے ہوں۔بعض اوقات کوئی فضول سا جملہ بھی لکھ دیا جاتا جس کے ہجوں سے پتہ چلتا پرائمری سکول سے بھاگے ہوئے کسی بچے کی تحریر ہے۔اس لئے ہم اسے مزدوروں اور ملحقہ کچی بستی کے آوارہ لڑکوں کی کاروائی سمجھتے رہے۔بلکہ مکان میں منتقل ہو جانے کے کچھ عرصہ بعد جب گھر کی عورتیں شکایت کرتیں کہ رات کو گلدان میں سجائے گئے پھول اگلی صبح کو پتی پتی ہوئے پڑے ملتے ہیں،ایک کمرے کی چیز دوسرے اور دوسرے کی تیسرے یا  کوڑہ دان میں ملتی ہے اور بچوں کے کھلونے اور وڈیو گیمز توڑ کر پھینک دی جاتی ہیں تو ہم اسے گھر کے بچوں کی شرارت سمجھتے اور انہیں سرزنش کر کے مطمئن ہو جاتے۔وہ زیادہ اصرار کرتیں تو ہم،گھر کے مرد،انہیں ضعیف العقیدہ اور توہم پرست قرار دیتے اور ان کا مذاق اڑاتے۔مگر حیرت ہوتی کہ کمپیوٹر سائنس میں ماسٹر کی ڈگری رکھنے والی بھابی بھی ان کی ہمنوا ہو گئیں کہ گھر پر کسی آسیب کا سایہ ہے۔چھوٹی بہن روحی نے فلاسفی پڑھی تھی اس نے شروع شروع میں کچھ روز فلسفہ بگھارا پھر وہ بھی چپ ہو گئی۔بلکہ ہر وقت ڈری ڈری رہنے لگی۔بعد میں پتہ چلا وہ میرا سویٹر بن رہی تھی جب آدھا بن چکی تو ایک صبح وہ سارا ادھڑا ہوا ملا۔ بچوں کو ڈانٹا ڈپٹا گیا اور اس نے دوبارہ بننا شروع کیا مگر وہ جتنا ہر روز بنتی وہ اگلے روز ادھڑا ہوا ملتا۔ اور سرہانے رکھ کر سونے سے اسے ڈر لگتا مبادا وہ غیبی ہاتھ جو سویٹر ادھیڑتا تھا اس کا گلا دبا دے۔آخر کار اس نے سویٹر بننا ہی چھوڑ دیا اور میرے لئے بازار سے ریڈی میڈ خرید لائی۔

          قریب ہی کچی آبادی تھی اور اگرچہ بلدیہ نے اس کے گرد چار دیواری تعمیر کر رکھی تھی اور آنے جانے کے راستے مقرر کر دئے تھے مگر یہاں کے کھمبیوں کی طرح اگنے والے بچے جہاں سے جی چاہتا دیوار پھلانگ کر آس پاس کی کوٹھیوں بنگلوں میں گھس آتے اور جو چیز ہاتھ لگتی اٹھا لے جاتے اور پھلدار درختوں پر تو بیتالوں کی طرح ایک ساتھ کئی کئی لٹکے نظر آتے۔مگر اس سے محلے کے لوگوں کو کچھ آسانیاں بھی تھیں۔گھر کے کام کاج کے لئے لڑکے،لڑکیاں اور عورتیں کم معاوضے پر مل جاتیں اور ان کے مردوں کو آسانی سے بیگار میں پکڑا جا سکتا۔ خود ہمارے ہاں اسی آبادی کی ایک بیوہ عورت کام کرتی تھی۔شروع میں وہ رات کو اپنے گھر چلی جاتی تھی مگر جب امی کو پتہ چلا وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ زمین کھود کر بنائے گئے غار نما کمرے میں رہتی ہے جس کے بیٹھ جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے انہوں نے سرونٹ روم کو،جو سٹور کے طور پر استعمال ہو رہا تھا،خالی کر کے رہائش کے لئے دے دیا۔ ابا کا خیال تھا ساری خرابی یہیں سے پیدا ہوئی تھی۔ اور یہ ساری حرکتیں ملازمہ کی نو دس سالہ بیٹی کرتی تھی جسے پڑھنے اور کھیلنے کی عمر میں سکول چھڑوا کر کام پر لگا دیا گیا تھا۔لیکن وارداتوں کی نوعیت دیکھ کر یقین نہ آتا۔یہ اتنی چھوٹی بچی کے بس کی بات نہ تھی پھر بھی اس کی خوب نگرانی اور باز پرس کی گئی مگر آخر کار اسے بری الذمہ قرار دے دینا پڑا۔اس کی بجائے خواتین کو ملازمہ کا چند ماہ کا بچہ زیادہ پر اسرار اور منحوس معلوم ہوتا تھا جو پیدا ہوتے ہی اپنے باپ کو کھا گیا تھا ورنہ اس زمانے میں صرف بخار سے بھی کوئی مرتا ہے۔یوں بھی وہ عام بچوں کے برعکس بہت کم روتا تھا۔ماں اسے دودھ پلاتی یا بھوکا رکھتی،وہ گھنٹوں چپ چاپ پڑا انگوٹھا چوستا اور کھیلتا رہتا۔میرا اپنا خیال تھا کہ یہ کوئی ایسی غیر معمولی بات نہ تھی۔پیدا کرنے والے کو تو پتہ ہی تھا اسے کس مٹی سے بنانا اور اس میں صبر و شکر کی کتنی مقدار ملانی ہے۔مگر گھر کی عورتوں کو اس سے خوف آتا۔ اور و ہ کبھی دبے اور کبھی واشگاف لفظوں میں اس کا اظہار کرتیں۔ مگر ایک کی تنخواہ میں کام کرنے والی دو،انہیں اور کہاں مل سکتی تھیں،ناچار برداشت کرتی رہیں۔

          پھر رفتہ رفتہ پریشان کن واقعات جلدی جلدی اور تواتر سے رونما ہونے لگے۔چھوٹی چھوٹی اور خاص طور پر خوشبودار چیزیں غائب ہونے لگیں۔کبھی ہیر آئل کی شیشی،کبھی شیمپو اور کبھی پاؤڈر کا ڈبہ۔واش ہینڈ بیسن سے صابن کی ٹکیا غائب ہو جاتی اور کسی روشندان یا الماری کے اوپر جہاں کسی کوتاہ قد یا بچے کا ہاتھ نہ پہنچ سکتا ہو پڑی ملتی۔سنگھار میز کی اکثر چیزیں غائب یا خراب کر دی جاتیں۔ لپ سٹک دیواروں پر اور شو پالش آئینوں پر مل دی جاتی۔خوشبودار چیزوں کے ساتھ ہی گھر سے مہر و محبت کی خوشبو بھی اٹھ گئی۔ایک دوسرے پر شک و شبے کا اظہار،الزام تراشیاں اور جھگڑے۔گھر میں ابا جان کے علاوہ بھی کوئی نہ کوئی بیمار رہنے لگا۔ اور سرہانے رکھی دوا کی شیشی یا کیپسولز غائب ہو جاتے۔لیکن عجیب بات یہ تھی کہ اکثر چیزیں کہیں دوسری جگہ پڑی مل جاتیں۔بعض اوقات گندی اور ناکارہ چیزیں پاک صاف جگہوں اور پاک صاف چیزیں غسل خانے یا گٹر سے برآمد ہوتیں۔لیکن پھر یہی بچگانہ حرکتیں خطرناک صورت اختیار کر گئیں جیسے وہ نامراد اپنی موجودگی کا بھر پور احساس دلانا چاہتے ہوں۔اب چاقو،بلیڈ اور قینچی وغیرہ کا استعمال ہونے لگا۔خوبصورت اور نئے سل کر آئے ہوئے کپڑے خاص طور پر نشانہ بنتے۔شوخ رنگ کی ٹائیاں،کامدار دوپٹے،شادی کے جوڑے اور تکیوں کے پھولدار غلاف کاٹ کتر دئیے جاتے۔آج اگر منی اپنا فراک چاک ہو جانے پر رو رہی ہے یا روحی اپنے جہیز کے کسی قیمتی جوڑے میں شگاف ڈال دئیے جانے پر آنسو بہا رہی ہے تو کل بھابی اپنی کسی ساڑھی یا دوپٹے پر قینچی چل جانے پر واویلا کر رہی ہیں۔بالآخر گھر کے لوگ ایک دوسرے سے اور دور ہونے لگے۔شائد ان بد ذاتوں اور بد ذوقوں کا مقصد بھی یہی تھا۔بھابی نے ایک روز حساب لگایا کہ روحی کے مشترکہ کھاتے کے جہیز کو چھوڑ کر ان کا نقصان زیادہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے صرف قیمتی اور نئے جوڑوں پر جب کہ ہمارے معمولی اور پرانے کپڑوں پر قینچی چلی۔

          در اصل بھائی کی تنخواہ اور میرا کنبہ بڑا تھا۔یہ ان کی دوسری شادی تھی۔پہلی بے اولاد بیوی سے طلاق کے کئی سال بعد وہ مشکل سے دوسری شادی پر رضامند ہوئے تھے۔ اب ان کے دو بچے تھے جن کی عمریں پانچ سال سے کم تھیں۔میرے بچوں کی تعداد ان سے تین گنا تھی۔دو بڑے اور سمجھدار،چار چھوٹے جو پرائمری اور ہائی سکولوں میں پڑھتے تھے۔بھابی کو مشترکہ کھاتے کے مستقل نقصان کا قلق رہتا تھا۔بہانہ ہاتھ آ گیا تو گھر کے دو ٹکڑے ہو گئے۔والدہ اور روحی ہمارے اور والد صاحب بھائی کے حصے میں آئے۔ اور کچی آبادی کی ماں بیٹی اسی تنخواہ پر دو گھروں کا کام کرتی رہیں

          دلچسپ بات یہ ہوئی کہ بھائی بھابی کے علیحدہ ہو جانے سے اچانک امن اور سکون ہو گیا جس سے ان کے اس شبے کو تقویت ملی کہ میرے بیوی بچے ان کے قیمتی اور شاندار کپڑوں سے جلتے تھے اور موقع پا کر انہیں خراب کر دیتے تھے۔ابا ان کے دسترخوان پر کھاتے تھے قدرتی طور پر وہ بھی ان کی ہمنوائی کرنے لگے۔مجھے خود بھی شک ہو گیا اور میں نے اپنے کنبے کے ہر فرد سے باز پرس کی۔راتوں کو اٹھ اٹھ اور چھپ چھپ کر ان کی جاسوسی کرتا خصوصاً ً لڑکیوں پر نگاہ رکھتا کہ سائے اور آسیب کی ہر کہانی کا تعلق عام طور پر کسی بالغ یا نابالغ لڑکی یا گھٹن اور ہسٹیریا میں مبتلا عورت ہی سے ہوتا ہے۔طبعاً کمزور ہونے کی وجہ سے وہ عام طور پر ضعیف العقیدہ ہوتی ہیں اور وہ عاشق واشق بھی انہیں پر ہوتے ہیں۔جب مجھے یقین ہو گیا کہ میرے بچوں کو پڑھائی سے فرصت نہیں اسی لئے وہ امتحانوں میں اول دوم آتے رہتے ہیں تو میں نے صفائی دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ کوئی تیسرا ہے جو بھائیوں میں نفاق ڈال رہا ہے۔غیر برادری کی بھابی نے سمجھ لیا میرا اشارہ ان کی طرف ہے۔اس پر گھر میں خوب ہنگامہ ہوا۔غریب کی تو معافی بھی کوئی قبول نہیں کرتا خواہ وہ سگا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔مگر اس دوران ایک اچھی بات یہ ہو گئی کہ میرے بڑے بیٹے کو نتیجہ نکلتے ہی کینیڈا کا ویزا مل گیا۔ اور ہمارے بھی دن پھر گئے۔ہماری بات میں بھی وزن پیدا ہو گیا۔  لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ گھر میں روپے پیسے کی چوریاں ہونے لگیں۔تاہم زیورات عام طور پر مل جاتے۔بھابی کا نیکلس میری بیوی کے ٹرنک اور اس کی بالی بھابی کی الماری سے ملی۔مگر نقدی غائب ہو جاتی اور اپنے پیچھے لڑائی جھگڑے کا ختم نہ ہونے والا طویل سلسلہ چھوڑ جاتی۔

           دونوں گھروں میں کشیدگی کی فضا تھی اور آنا جانا نہیں تھا اس لئے ادھر کی چیز ادھر کرنے والے یا تو بھوت تھے یا کام کرنے والی ماں بیٹی۔جن کا دونوں طرف آنا جانا تھا۔ماں مصیبت زدہ اور جہاں دیدہ تھی اسے روزگار اور پناہ ملی ہوئی تھی وہ ایسا کیسے کر سکتی تھی۔ اور لڑکی بھی کب،کیوں اور کیسے کر سکتی تھی۔ یوں بھی وہ بہت چھوٹی اور معصوم تھی اور اتنے بہت سے افراد کی مسلسل نگرانی کے بعد کبھی تو پکڑی جاتی۔شائد یہ واقعی کوئی آسیب تھا۔لیکن میرا جی نہ مانتا میں نے کتاب میں پڑھا تھا کہ جن،پریاں،بھوت پریت اور جادو ٹونا انسانی ذہن کے بچپن کی یادگار ہیں۔جب ہر طرف فرضی دیوی دیوتاؤں کی حکومت تھی۔ اور مظاہر فطرت اور شجرو ہجر کو معبود سمجھ کر پرستش شروع کر دی جاتی تھی۔بعد میں یہ ادبی اور اساطیری علامتیں بن گئیں۔شب خون مارنے والے حملہ آوروں،رات کی تاریکی میں لوٹ مار کر کے غائب ہو جانے والے چوروں ڈاکوؤں کو جن بھوت اور عفریت کہا جانے لگا۔ یوں بھی شاعری کو تصوف اور داستانوں کو فوق الفطرت بہت مرغوب ہوتا ہے۔انسان نے مادی اور ذہنی ارتقا ء کی بہت سی منزلیں طے کر لیں،چاند کے غاروں سے مریخ کے صحراؤں تک اور سمندر کی گہرائیوں سے خلاء کی پہنائیوں تک اس نے دوربینوں سے بڑی اور خورد بینوں سے چھوٹی دنیا کے بہت سے گوشے کھنگال ڈالے مگر کسی سائنسدان یا خلا نورد کی جن یا پری سے ملاقات نہ ہوئی۔پھر بھی ان کا خوف اور وسوسہ اس کے ذہن سے نہ نکلا۔ اور نہ ہی مافوق سے اس کی دلچسپی کبھی ختم ہو گی کہ بچپن کی چیزوں سے رغبت انسانی فطرت کا حصہ ہے۔

یہ گھر آسیب زدہ ہے۔یہ خبر اخبار میں شائع ہوئے بغیر رشتے داروں،دوستوں اور جاننے والوں تک پہنچ گئی تھی۔ اور جواب میں طرح طرح کے افسانے سنائے اور مشورے دئیے جاتے۔ہر شخص کے علم میں ایسے کئے واقعات تھے۔کہیں راتوں کو میوزک بجتا تھا۔کہیں پتھروں کی بارش ہوتی تھی۔کسی گھر میں خود بخود آگ بھڑک اٹھتی اور کسی کی دیواروں پر سینکڑوں چھپکلیاں چپکی نظر آتیں۔ان سب واقعات میں مشترک بات یہ تھی کہ بالآخر کسی پیر یا عامل کے وظیفے،تعویذ گنڈے اور جھاڑ پھونک نے اس مصیبت سے نجات دلائی۔ناچار ہم نے بھی ایک کے بعد دوسرے عامل،پیر اور پہنچے ہوئے بزرگوں کی تلاش جاری رکھی۔گھر میں آئے روز عجیب و غریب حلیے کا نیم خواندہ قسم کا کوئی عامل یا پیر نظر آتا۔طرح طرح کے ٹونے ٹوٹکے اور وظیفے،دھونیاں،اگر بتیاں اور چراغ۔کلام الہی کے خوف، وظیفوں کی مار اور عاملوں کی ڈانٹ پھٹکار سے وہ عارضی طور پر چلے بھی جاتے اور کچھ دن چین سے گزر جاتے مگر پھر کسی دن اچانک کوئی نیا اور پہلے سے زیادہ شدید واقعہ رونما ہو جاتا۔

  گھر کی خواتین کو پہلے ہی شک تھا یہ سب بھائی کی مطلقہ بیوی کروا رہی تھی۔اب عامل لوگوں نے ان کے شک کو یقین میں بدل ڈالا۔گھر کے کونوں کھدروں سے  وقتاً فوقتاً تعویذ دھاگے،بالوں کے گچھے یا کچھ نہ کچھ برآمد ہوتا رہتا۔جس کے پیچھے اسی کا ہاتھ سمجھا جاتا حالانکہ وہ بیچاری اپنے بھائی کے پاس پیرس چلی گئی تھی اور کہیں بے بی سٹر کی ملازمت کر کے وقت گزار رہی تھی۔گھر میں صرف ایک میں تھا جو خلاف عقل باتوں کو نہیں مانتا تھا اور اتنے بہت سے واقعات رونما ہونے کے بعد بھی پوری طرح یقین نہیں کرتا تھا کہ نظر نہ آنے والی مخلوق انسانی زندگی میں یوں دخیل اور اثر انداز ہو سکتی ہے۔ گھر اور باہر ا س موضوع پر بحث مباحثے ہوتے رہتے اور میں اکثر ہنستا اور کہتا کہ اگر ایسا ہو سکتا ہے تو کوئی شریر یا متعصب قسم کا مسلمان یا کافر جن اپنی مرضی سے ہمارا یا پڑوسی ملک کا ایٹم بم بھی اٹھا کر چلا سکتا ہے۔اس پر ابا کہتے دیکھ لینا ایک روز ایسا ہی ہو گا۔

میں ان کے ہونے نا ہونے کے بارے میں بحث مباحثہ بھی بہت کرتا تھا۔ چنانچہ ایک رات بد ذاتوں نے مجھے سوتے میں بستر سے نیچے لڑھکا دیا۔شکر ہے چوٹ زیادہ نہیں آئی۔میں نے بتی جلا کر دیکھا۔وہ دوسری طرف منہ کئے سو رہی تھی۔شرمندگی ذرا کم ہو گئی کہ کسی نے اس حال میں دیکھا نہیں۔مگر ایک نامعلوم سا شبہ رہا کہ شائد ابھی وہ کروٹ بدل کر مسکرائے گی یا بال کھول کر سرخ آنکھوں سے مجھے گھورے گی اور مردانہ آواز میں قہقہے لگانے لگے گی۔مگر جب اس نے کروٹ بدلی نہ قہقہہ لگایا تو میں چپ چاپ بستر پر دراز ہو گیا۔مگر اس ڈر سے بتی نہیں بجھائی کہ پھر نیچے نہ گرا دیا جاؤں۔اس کے بعد میں بھی محتاط ہو گیا اور کھلے بندوں انکار اور مذاق کرنا ترک کر دیا۔

          ابا کے ایک دوست بڑے مستند اور مشہور حکیم تھے۔ وہ بھی بھوت پریت کو نہیں مانتے تھے۔مذہبی حوالوں کی اپنے طور پر مختلف توجیہات کرتے تھے۔ان کا خیال تھا کہ اگر گھر کی کوئی عورت یا بچہ ہسٹیریا میں مبتلا نہیں تھا تو کسی کو نیند میں چلنے کی عادت ضرور تھی اور وہ اسی عالم میں عجیب و غریب حرکتیں کرتا تھا۔چنانچہ ہم راتوں کو اٹھ اٹھ کر ایک دوسرے کی پڑتال کرنے اور جاگنے لگے۔مگر کچھ حاصل نہ ہوا۔

          کچھ وقت اسی طرح گزر گیا۔ہم بھی اچھا کھانے اور پہننے لگے۔بیٹے نے اب مجھے کمپیوٹر بھیج دیا تھا اور میں نے اس پر کام کرنا بھی سیکھ لیا تھا۔چھوٹی چھوٹی ای میلز بھیجتے بھیجتے میری ٹائپنگ کی رفتار بھی بہتر ہو گئی تھی۔لیکن مجھے قطعاً اندازہ نہ تھا کہ جب میں کمپیوٹر کھولتا ہوں۔کوئی اور بھی میرے پہلو میں آ کر بیٹھ جاتا ہے اور چھیڑ خانی کرتا رہتا ہے۔شروع میں یہی سمجھتا رہا کہ مجھے کمانڈز کا صحیح پتہ نہیں ہے،اس لئے مجھ سے اکثر غلطیاں سر زد ہوتی رہتی ہیں۔لیکن جب اچھی مشق ہو جانے کے بعد بھی کمپیوٹر میری ہدایات کی خلاف ورزیاں کرنے لگتا۔کوئی دوسرا پروگرام کھول دیتا،جام ہو جاتا یا ہر پروگرام کو غیر قانونی قرار دے کر بند کرنے کی دھمکیاں دینے لگتا۔تو میرا ما تھا ٹھنکا۔بعض اوقات انٹر نیٹ کی کوئی ناپسندیدہ سائٹ کھول دیتا جو ہٹائے نہ ہٹتی۔ایک بار میں نے بیٹے کی ای میل کھولی جس میں نئے سال کی مبارک باد دی گئی تھی۔نئے سال کی خوشی میں خوب آتشبازی ہو رہی تھی۔سکرین پر انار سے چھوٹ رہے تھے۔ہم سب اس منظر سے خوب محظوظ ہوئے مگر ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ اس آتشبازی میں سب کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا۔سارے پروگرامز،میرا قیمتی ڈیٹا، اور ونڈوز۔میں نے الٹ پلٹ کر دیکھا مگر لگتا تھا کمپیوٹر ایک خالی ڈبے کے سوا کچھ نہیں۔ابا نے سنا تو بولے سچ ہے بنی آدم کو شیطان سے کہیں مفر نہیں۔ وہ آسیب اور وائرس کی صورت کمپیوٹر میں بھی چلا آیا ہے اور قیامت تک ہر جگہ اس کا پیچھا کرتا رہے گا۔

          پھر ہمیں تحریری پیغامات آنے لگے۔میز کی دراز میں یا کسی تکئے کے نیچے عام سی سیاہی میں لکھا ہوا رقعہ ملتا۔اتنی خیرات کر دو،صدقہ دو،دیگ پکا کر غریبوں کو کھلاؤ،محلے کے بچوں میں مٹھائی بانٹو،باقاعدگی سے نماز پڑھو وغیرہ۔جب تک ایسی معقول ہدایات ملتی رہیں ہم ان پر عمل کرتے رہے۔ مگر ایک روز ایک عجیب قسم کا حکم ملا۔گھر کے سب لوگ ٹی وی لاؤنج میں جمع ہو کر باری باری فرش پر ناک رگڑیں۔ورنہ بہت بڑا نقصان ہو گا۔ظاہر ہے ایسی مضحکہ خیز ہدایت پر عمل کرنا ہمارے لئے ممکن نہ تھا۔جس پر وہ واقعی خفا ہو گئے اور اگلے روز استری سٹینڈ پر بند کر کے رکھی ہوئی استری کا سوئچ خود بخود آن ہو گیا اور استری اور سٹینڈ دونوں بھسم ہو گئے۔اس سے اگلے روز رسی پر سوکھنے کے لئے لٹکائے گئے کپڑوں کو آگ لگ گئی اور بھائی کی منی کی نکسیر پھوٹ پڑی۔

          اب ہم قدرتی طور پر ہر بات اور ناخوشگوار واقعے کو غیبی طاقتوں سے جوڑنے لگے۔بچوں کے ہوم ورک کے وقت بجلی چلی جاتی۔نہانے یا کھانا پکانے کے وقت واٹر سپلائی بند ہو جاتی یا گھر کے کسی فرد کو چوٹ لگ جاتی تو ہمیں یقین ہو جاتا کہ سب انہی کا کیا دھرا ہے۔بلکہ امی کوتو یقین تھا کہ شہر میں آئے روز ہونے والے حادثات اور تخریب کاری کے واقعات کے پیچھے بھی نگوڑے وہی تھے۔ اور گھر ہی کو نہیں شہر اور ملک کو بھی جھاڑ پھونک کی ضرورت تھی۔

          اس بار کسی ایسے عامل کی تلاش،جس کے عمل سے مستقل فائدہ ہو، میرے ذمے لگائی گئی۔میرے لئے یہ ایک مشکل کام تھا،کیوں کہ وہ سب ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے تھے اور ایسی بے سرو پا باتیں کرتے تھے جنہیں عقل سلیم ماننے کے لئے تیار نہ تھی۔ان کی باتوں سے صاف پتہ چلتا تھا وہ جھوٹ بولتے تھے۔ان کے دعوے اور داستانیں سنی سنائی اور گھڑی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ اور فوق الفطرت کے بارے میں ان کا تصور تک درست نہ تھا۔مجھے ان سے ملتے اور اپنی بپتا سناتے ہوئے شرمندگی سی محسوس ہوتی کہ میں بھی عام پڑھے لکھے لوگوں کی طرح  اپنے عقائد اور نظریات پر ڈھلمل یقین رکھتا  ہوں۔مانتا ہوں نہ انکار کرتا ہوں۔عام آدمیوں کی طرح میرا علم بھی بودا اور مطالعہ ناقص ہے۔ اوہام پرستی ہم سب کو ورثے میں ملی ہے۔ اور ہم کتنا ہی پڑھ لکھ جائیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی سے واقف ہو جائیں مافوق الفطرت کے بارے میں ہمیں ان پڑھ عامل اور پیر بیوقوف بنا تے ر ہیں گے۔ لیکن جس طرح ضرورت کے وقت ہمیں نسبتاً کم پڑھے لکھے مستریوں،کاریگروں اور مکینکوں کے پاس جانا اور ان کی بات ماننا پڑتی ہے،زمین کو گول نہ سمجھنے والے پیش امام کے پیچھے نماز ادا کرنا پڑتی ہے،میں بھی ان سے ملا اور اگرچہ مجھے لگتا وہ اندر ہی اندر خوش ہوتے تھے کہ ایک پڑھے لکھے بابو کو کیسے الو بنا رہے ہیں۔میں نے ان کی بے تکی باتوں پر خاموشی اختیار کی کیوں کہ گھر والوں کا اصرار تھا جلدی کسی کو لاؤ۔کوئی ناقابل برداشت نقصان نہ ہو جائے۔

           اور شائد یہ سلسلہ کب تک یوں ہی چلتا رہتا اگر میرا بلیک ریفل والا پارکر بال پوائنٹ گم نہ ہو جاتا۔یا پھر تیسرے چوتھے روز اسی سے لکھا ہوا بھوت کا رقعہ نہ ملتا۔ اس بار اسے قلم تو اچھا مل گیا تھا مگر کاغذ بہت خراب تھا۔کسی پرانی رف کاپی سے پھاڑے ہوئے ورق سے کام چلایا گیا تھا۔میں چونکا کیسا نالائق اور کاہل جن بھوت ہے ہاتھ بڑھا کر چین کے کسی کارخانے سے بہترین کاغذ اور جرمنی کے کسی سٹور سے نیا  شیفرڈ قلم حاصل کرنے کی بجائے  اپنے ہی گھر میں چوری کرتا ہے۔اب جو غور کیا تو عبارت میں دو ایک ہجوں کی فاش غلطیاں دکھائی دیں۔گھر کے سب چھوٹے بڑوں کی لکھائی کا آسیب کی اس تحریر سے موازنہ کیا گیا تو عقدہ واہو گیا۔بے حد حیرت ہوئی کہ طبقاتی نفرت اور احساس محرومی اتنی کم سن لڑکی کو بھوت بنا سکتا ہے۔ہمارا ارادہ نرمی سے پیش آنے کا تھا مگر اس کی ماں اسے لیکر راتوں رات غائب ہو گئی۔  

 ٭٭٭