کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

باگھ بگھیلی رات

منشا یاد


مولوی صاحب پڑھے لکھے اور عقلمند آدمی تھے۔ نہایت ہوشیاری سے اس مشکل سے نکل گئے۔ انہوں نے کہا۔ ’’میں نے حلال ضرور کی تھی مگر مجھے نہیں معلوم کس کی تھی۔ سجاول موچی مجھے بلا کر لے گیا تھا،اسی نے کھال بھی اتاری تھی اسے ہی پتہ ہو گا۔‘‘

          حکم ہوا۔ ’’سجاول موچی کو حاضر کیا جائے۔‘‘

          سجاول موچی کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ ان کمی کمینوں کے پاؤں تلے زمین ہی کتنی ہوتی ہے۔

          پورب والوں نے دھمکی دی۔ ’’ٹھیک ٹھیک بات کرنا ورنہ پلٹ کر گاؤں کا رخ نہ کرنا۔‘‘

      پچھم والوں نے پیغام بھیج دینا کافی سمجھا۔ ’’زیادہ بقراط سقراط بننے کی کوشش نہ کرنا ورنہ نتیجہ کے تم خود ذمہ دار ہو گے۔‘‘

          سجاول کی سمجھ میں نہ آیا کیا کرے کیا نہ کرے۔ اس نے تاوان کے طور پر اپنی گرہ سے پوری رقم ادا کر دینا چاہی، مگر استغاثہ نے کہا۔ ’’ہمیں پیسوں کی ضرورت نہیں۔ یہ شریکے کا معاملہ ہے ہم انہیں اندر کروا کر دم لیں گے۔‘‘ اسے بار بار ایک ہی راستہ سجھائی دیتا۔ گھر کے سامان اور لوگوں کو ساتھ لے کر راتوں رات کہیں ہجرت کر جائے مگر اس طرح اس کے مفرور قرار دئیے جانے کا ڈر تھا۔

          میں نے اس کی ہمت بندھائی۔ ’’کتاب میں لکھا ہے۔ سانچ کو آنچ نہیں۔‘‘

          اس نے کہا۔ ’’تمہارا علم میرے کام نہیں آ سکتا کاکا۔ وہ کتابی باتوں پر عمل نہیں کرنے دیں گے نہ انہوں نے کتابیں پڑھی ہیں۔‘‘

          وہ بولی۔ ’’ابا۔۔ اگر تم نے جھوٹی گواہی دی تو تم خدا کو اور میں اپنی سہیلیوں کو کیا منہ دکھاؤں گی۔‘‘

          کہنے لگا۔ ’’تو نہیں جانتی بیٹی خدا تو پھر معاف کر دیتا ہے مگر یہ ظالم لوگ کبھی معاف نہیں کریں گے۔ مجھ سے صاف سیدھا سچ نہ بلواؤ،درمیان کا کوئی تیسرا راستہ بتاؤ۔‘‘

          ہم تینوں سر جوڑ کر بیٹھے مگر ہمیں درمیان کا کوئی تیسرا راستہ سجھائی نہ دیا۔ اسی بحث و تکرار اور شش و پنج میں بہت سے دن گزر گئے اور تاریخ کا دن آ گیا۔

          وہ متذبذب سا کسی تیسرے راستے کے بارے میں سوچتا ہوا چلا گیا۔ مگر جب وہ بیان دینے لگا تو اس کے منہ سے وہی کچھ نکلا جو اس نے دیکھا سنا تھا۔

          وہ خود بھی حیران تھا کہ کب اور کیسے اس نے سچ کے زہر کا پیالہ منہ سے لگا لیا۔ باہر آ کر اس نے ان سے معافی مانگنا چاہی مگر انہوں نے بھیڑیوں جیسے منہ پھاڑ کر کہا۔ ’’تمہارے اپنے گھر میں بھی بھیڑ ہے۔ اب دیکھتے ہیں تم اسے کیسے بچاتے ہو۔‘‘

          وہ سر سے پاؤں تک کانپ گیا۔اس نے سوچا تھا بہت ہوا تو سیپ بند کر دیں گے یا زیادہ سے زیادہ گاؤں سے نکال دیں گے مگر اس نے یہ کچھ نہیں سوچا تھا۔ یوں یہ کوئی ایسی انہونی یا بعید از قیاس بات بھی نہیں تھی۔ وہ اپنے برابر کے شریکوں کی بھیڑ دن دیہاڑے ذبح کر کے ہڑپ کر سکتے تھے۔ وہ تو ایک غریب کمی تھا جس کا کوئی جوان بیٹا نہ بھائی۔ اس کی سمجھ میں ایک ہی بات آئی کہ بھاگم بھاگ کسی طرح ان سے پہلے گاؤں پہنچ جائے۔

          اگلے روز گاؤں میں صبح تو ہوئی مگر ہر طرف گہری خاموشی تھی۔ لگتا تھا چڑیاں آج گھونسلوں سے باہر نہیں آئیں۔ فاختائیں گھگھو گھوہ الاپنا، بطخیں جوہڑوں میں تیرنا اور کوے منڈیروں پر بیٹھ کر بچھڑے ہوؤں کے سندیسے دینا بھول گئے۔ گلیوں میں اداسی کی دھول اڑنے لگی، درخت سرگوشیاں کرتے، آہیں بھرتے اور گلیوں کے آر پار کی کچی پکی دیواریں ایک دوسرے کے گلے سے لگ کر بین کرنا چاہتیں۔

          ہنس کر بات کرنا اس کی عادت تھی اور اس نے جس کسی سے بھی بات کی تھی وہ سر میں خاک ڈالے گریبان پھاڑے گلیوں میں ٹھوکریں کھاتا پھرتا تھا۔ تنوروں نے اس روز ادھ جلی روٹیوں کو جنم دیا۔ پنگھٹ کے کنوئیں کی چرخی سے رونے کی سی آواز نکلی اور بوکا اتنا وزنی ہو گیا کہ نکالنا مشکل ہو گیا۔ لگتا تھا پنج پھولاں رانی کے بدن کی روشنی سے محروم ہو کر پوری بستی ویران اور تاریک ہو گئی ہے۔

          اس کے گھر والوں کا کہنا تھا کہ ننھیال سے اس کا ماموں آیا اور راتوں رات اسے ساتھ لے گیا کیونکہ ممانی سخت بیمار تھی مگر کسی کو اس بات پر یقین نہ آیا۔ سب جانتے تھے کہ وہ اپنے ماموں زاد سے بیاہ کرنے سے انکار کر چکی تھی اور اس کے ننھیال والے ایک عرصہ سے خفا تھے مگر کسی کو اس بات کی بھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ گئی کس کے ساتھ تھی۔ وہ جس جس کے ساتھ بھاگ سکتی تھی، وہ سب تو ٹھنڈی آہیں بھرتے،گلیوں کی خاک چھانتے پھرتے تھے۔ اس کی ہمجولیوں میں سے صرف شیدو مہترانی کو جو گھروں میں صفائی کا کام کرنے جاتی تھی معلوم تھا کہ اس کی جون بدل گئی تھی اور کھیتوں کھلیانوں میں ہرنی کی طرح قلانچیں بھرنے، پیڑوں پر پینگیں جھوٹنے اور تتلی کی طرح ہوا کے دوش پر اڑتی پھرنے والی چنچل لڑکی راتوں رات ایک مریل سی بھیڑ میں تبدیل ہو گئی تھی اور خونخوار بھیڑیوں کے خوف سے ایک بڑی حویلی کے چھوٹے سے تاریک کونے میں دبکی ہوئی تھی۔

          میں جگہ جگہ گھومتا اور اس کے لئے افواہیں اور خبریں جمع کرتا۔ اس کی خاطر قتل کرنے اور پھانسی چڑھ جانے والوں کی ڈینگیں سنتا۔گاؤں کے لوگوں کی باتیں اور گھبروؤں کی شکلیں دیکھ کر مجھے ہنسی آتی اور یہ سوچ کر میرا سینہ فخر سے تن جاتا کہ جس روشنی کے اوجھل ہونے کی وجہ سے سارا گاؤں تاریکی میں ڈوب گیا تھا وہ دن رات ہمارے گھر کے پسار اور کوٹھڑی میں جگمگاتی اور نور برساتی تھی۔ خوشی کے مارے میرے اندر میرا ہم عمر کان پر ہاتھ رکھ کر بلند آواز میں ڈھولے گاتا۔

          ’’چھتی بمبی اے ٹاہلی۔ ہیٹھ اے بھیڈاں دا واڑا

                   بھیڈاں نیں ڈب کھڑبیاں ۔۔‘‘

          مگر پھر یہ سوچ کر کہ خونخوار بھیڑئیے اس کی بو سونگھتے ہوئے اس تک پہنچ گئے تو کیا ہو گا۔ میں پریشان ہو جاتا اور اندر ہی اندر غصے کی سل پر انتقام کی چھریاں رگڑنے لگتا۔ ایک ساتھ بہت سے گھوڑوں پر سوار ہو کر باگھ بگھیوں کے گرد گھیرا ڈال لیتا۔

          وہ مجھ سے گلیوں، چوپالوں اور تھڑوں پر ہونے والی باتیں سنتی۔ بادشاہوں اور خوبصورت رانیوں کی کہانیاں سنتی سناتی اور بھیڑیوں کے تیز دانتوں اور نوکیلے پنجوں کے خوف کو ایک طرف رکھ کر ہنسی مذاق کی باتیں کرتی۔اس کے ہنسنے کا منظر عجیب ہوتا۔ میری آنکھیں چندھیا سی جاتیں۔میرے اندر سے دگنی عمر کا مرد نکل کر اس کے قدموں میں بیٹھ جاتا اور کہتا۔

          ’’اذن دو۔ میں ساری دنیا کے بھیڑیوں کے پیٹ پھاڑ آؤں۔‘‘

          وہ میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیتی اور مدھم سریلی آواز میں عبدالستار کی یوسف زلیخا گنگنانے لگتی۔

          ’’ہے میں ایسے مار مکائیاں دیسوں دور کرائیاں۔‘‘

          پھر ایک ایک کر کے میری سکول کی کتابیں اور گھر میں موجود پنجابی سی حرفیاں اور بارہ ماہے ختم ہو گئے مگر چاروں طرف پھیلی ہوئی خوف کی سیاہ رات ختم نہ ہوئی۔

          وہ سارا دن اندر چھپی رہتی رات کے وقت تھوڑی دیر کے لئے باہر آتی۔اس نے چھابے اور چنگیریں بنا بنا کر گھر کی ساری پڑچھتیاں بھر دیں۔ بستر کی چادروں تکیوں کے غلافوں پر پھول کاڑھ کاڑھ کر اس نے پورے گھر کو گلزار بنا دیا۔ اس کے گھر والے چوروں کی طرح چھپ کر رات کی تاریکی میں اسے ملنے آتے اور تسلی دے جاتے۔ وہ مجھ سے کہتی۔

          ’’اگر تم نے ہوتے تو میں گھٹ کر مر جاتی۔ تم سے باتیں کر کے میرا دل بہلا رہتا ہے۔‘‘

          وہ اپنے ابا کے سچ بولنے پر خوشی کا اظہار کرتی اور فخر سے کہتی۔ ’’ابا نے میرا مان رکھ لیا ہے۔ اندھیرا تو چھٹ جائے گا مگر کالک کبھی نہ اترتی۔‘‘

          وہ مجھے یقین دلاتی کہ وہ اداس اور پریشان نہیں ہے مگر میں اسے قید جیسی زندگی گزارتے دیکھ کر اداس ہو جاتا۔ دل ہی دل میں غصے سے کھولتا اور طرح طرح کے خطرناک منصوبے بناتا رہتا۔

          پھر اس نے مجھ سے خط لکھوانا شروع کر دئیے۔

          وہ بولتی جاتی اور میں لکھتا جاتا۔ گرمیوں کی سخر دوپہروں میں اور بعض اوقات رات کو لالٹین کی روشنی میں ہم پہروں اکٹھے بیٹھ کر اس کے نام چٹھیاں لکھتے۔ یہ بڑی انوکھی، دلچسپ اور خوبصورت باتیں ہوتیں جو میں نے کہیں پڑھی سنی نہیں تھیں۔ اس کی بے وفائیوں، بے خبریوں اور سنگدلیوں کی شکایتیں اور شکوے ہوتے اس کے فراق میں اپلوں کی طرح سلگنے، پانی کے بغیر مچھلی کی طرح تڑپنے اور صابن کی گاچی کی طرح کھرنے کا ذکر ہوتا۔ وہ اسے بار بار تاکید کرتی کہ وہ جلد از جلد آئے اور اسے بھیڑیوں کے خوف اور قید کی سی زندگی سے رہائی دلائے۔ لکھ لکھ کر میرے ہاتھ تھک جاتے مگر اس کی باتیں ختم نہ ہوتیں۔ میں جب تک لکھتا رہتا وہ سامنے بیٹھ کر پنکھا کرتی رہتی۔ پھر خط کو تہ کر کے اپنے پاس رکھ لیتی اور اگلے روز شیدو کے آنے اور خط لے جانے کا انتظار کرنے لگتی۔

          کبھی کبھی مجھے اس پر،جسے میں نے اس وقت تک دیکھا ہوا نہیں تھا،غصہ آتا۔ آخر وہ اس کے کسی خط کا جواب کیوں نہیں بھیجتا تھا مگر پھر سوچتا کیا پتہ جواب آتا ہو، مگر وہ مجھے بتاتی نہ ہو اسے پڑھنا تو آتا ہی تھا اور اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ مجھ سے اس کا نام اور پتہ اور اس کے بارے میں بہت سی دوسری باتیں چھپاتی تھی۔ شاید اسے ایسا ہی کرنا چاہیے تھا یا شاید اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ میری سمجھ میں کچھ نہ آتا۔

          اس کے گھر والوں کا ہمیشہ سے اصرار تھا کہ گھر کی بات ہے۔ قرض لئے بغیر فرض ادا ہو جائے گا اسے اس کے ننھیال میں بیاہا جائے مگر اسے اپنے ماموں زاد سے چڑ تھی۔ کہا کرتی ’’ہے تو وہ میرے ماموں کا بیٹا مگر خدا معاف کرے شکل سے بالکل بھیڈ کٹ لگتا ہے۔‘‘

          میرے گھر والوں نے اس کے ابا کی پھٹی پرانی پگڑی پاؤں سے اٹھا کر اسے لوٹاتے ہوئے تسلی دی تھی مگر ساتھ ہی ہدایت بھی کی تھی کہ وہ جلد از جلد کوئی مستقل انتظام کر لے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا اس کے والدین کا اصرار کہ وہ ننھیال میں شادی کرنے پر رضامند ہو جائے، بڑھتا جا رہا تھا مگر وہ اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔

          پھر ایک دن میری چھٹیوں کا حساب کر کے وہ نہایت پریشان ہوئی کہنے لگی۔

          ’’تم چلے جاؤ گے تو میں ایک دن بھی اس کال کوٹھڑی میں زندہ نہیں رہ سکوں گی۔‘‘

          مجھ سے اکثر اپنی سہیلیوں، ان کی مصروفیتوں اور کپڑوں گہنوں کے بارے میں پوچھتی۔ شیدو آتی تو اس سے دیر تک سرگوشیاں کرتی۔ گاؤں کے تالابوں، ٹیلوں، فصلوں، کھیتوں اور دھوپ میں چرتے ہوئے مویشیوں کے بارے میں پوچھتی۔ بیٹھی بیٹھی اچانک مجھ سے پوچھ لیتی۔

          ’’جلاہوں کے گھر کے سامنے والی گلباسی پر پھول لگتے ہیں ؟‘‘

          ’’مسجد کی منڈیر پر کبوتر بیٹھتے ہیں ؟

          پنگھٹ کے کنوئیں کی چرخی سے گیڑتے ہوئے روں روں کی آواز سنائی دیتی ہے؟‘‘

          کبھی کبھی مجھے وہ چٹھیاں زبانی سناتی جو اس نے مجھ سے لکھوا کر وقتاً فوقتاً شیدو مہترانی کے ہاتھ اسے بھجوائی ہوتیں۔ میں حیران ہوتا اس کی یادداشت اور حافظے کی داد دیتا۔ وہ چٹھی کا مضمون سناتی اور مجھے یاد آتا کہ میں نے بالکل یہی کچھ لکھا تھا مگر لکھتے وقت میرے وہم گمان میں بھی نہ تھا کہ اسے وہ سب باتیں ازبر ہو جاتی ہوں گی۔

          پھر ایک رات اس کی ماں ملنے آئی تو دونوں ماں بیٹی دیر تک باتیں کرتی رہیں اور اگلے روز مجھے یہ جان کر بے حد حیرت ہوئی کہ وہ اپنے ماموں زاد سے شادی کرنے پر رضامند ہو گئی تھی۔ میں نے پوچھا تو رو دی۔

          کہنے لگی۔ ’’کیا کرتی؟‘‘

          ’’ اور وہ‘‘ میں نے پوچھا۔ ’’جسے ہم نے اتنے خط لکھے۔‘‘

          کہنے لگی۔ ’’اس کا ذکر اور انتظار اب فضول ہے۔ وعدہ کرو تم بھی اب اس کا ذکر کبھی نہیں کرو گے۔‘‘

          میں نے وعدہ کر لیا مگر میں حیران تھا اور پریشان بھی۔ اب کسی روز چپکے سے اس کا ماموں زاد جو اسے ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ آئے گا اور اسے لے جائے گا۔شہنائی بجے گی نہ ڈھولک۔ اسے مہندی لگائی جائے گی نہ اس کی سہیلیاں گیت گائیں گی اور سب سے بڑھ کر وہ صدمہ جو ایک نہ ایک دن پورے گاؤں کو مل کر سہنا تھا اب مجھ اکیلے کو برداشت کرنا ہو گا۔

           اور پھر ایک رات

          جب چاند ڈوب چکا تھا۔ ہوا بند تھی اور باہکوں سے ریوڑوں کی رکھوالی کرنے والوں کی گھگھیائی ہوئی آوازیں آ رہی تھیں، گلی میں آہٹ ہوئی اور پانچ چھ مسلح گھوڑ سوار گھر کے دروازے کے سامنے آ کر رکے۔ پچھلے کئی دنوں سے مختلف اطراف سے ڈاکے پڑنے کی خبریں آ رہی تھیں۔ ہمارے اوسان خطا ہو گئے مگر ابا نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ پتہ چلا کہ بارات تھی۔

          پورے چالیس روز بعد خوفناک، طویل اور باگھ بگھیلی رات ختم ہوئی تھی یا شاید شروع ہوئی تھی۔

          تھوڑی دیر میں اس کے ماں باپ، نمبردار اور مولوی صاحب بھی آ گئے مجھے چھت پر نگرانی کے لئے بھیج دیا گیا۔

          جب نکاح ہو رہا تھا، اچانک میرا جی چاہا سب سے اونچی منڈیر پر کھڑے ہو کر ہوکا دوں۔ ’’گاؤں والو۔۔ جاگو۔۔ گاؤں لٹ گیا۔‘‘

          رخصت ہونے سے پہلے اس نے مجھے اندر بلوایا۔

          گلے لگا کر دیر تک روتی رہی۔ پھر جاتے ہوئے سسکی روک کر آہستہ سے بولی۔

          ’’تمہارے کپڑوں کے ٹرنک میں ایک پوٹلی رکھی ہے اسے سنبھال کر رکھنا۔‘‘

          دوسرے روز صبح ہوئی

          چڑیاں چہچہائیں

          کوے بچھڑے ہوؤں کے سندیسے لے کر منڈیروں پر آ بیٹھے

          جلاہوں کے گھر کے سامنے والی گلباسی پر پھول کھلے

          پنگھٹ کے کنوئیں کی چرخی سے کرلانے کی آواز گونجی۔

           اور سیڑھیوں کے درمیان بیٹھ کر اپنے نام اپنے ہاتھ کے لکھے ہوئے خطوط پڑھتے ہوئے میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

٭٭٭