کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بند مٹھی میں جگنو

منشا یاد


جب پڑوس میں عورتوں کی لڑائی شروع ہوئی وہ گھر میں اکیلی تھی۔ وہ شہر سے اپنے ساتھ کوئی کتاب یا رسالہ نہیں لائی تھی۔ وہ کتابوں اور رسالوں سے اکتا گئی تھی۔ لیکن وہ شریف کی آٹھویں جماعت کی پھٹی پرانی کتابوں کو صبح سے کئی بار جھاڑ پونچھ چکی تھی۔

          شریف اور ببلو صبح سے شریفاں کو لینے چچا کے گاؤں گئے ہوئے تھے۔ لیکن اسے گھر کی ہر چیز سے شریفاں کے بدن کی خوشبو آ رہی تھی۔ شریفاں گھر میں نہیں تھی لیکن لگتا تھا ہر جگہ ہر چیز میں موجود ہے اور وہ؟۔۔ وہ موجود تھی لیکن یوں لگتا تھا جیسے کہیں نہیں ہے۔

          تھوڑی دیر پہلے،کھیتوں کو روٹی لے کر جاتے وقت،پھوپھی اس پر تنہائی کا ٹوکرا رکھ گئی تھی۔ اگر پڑوس میں عورتوں کی لڑائی شروع نہ ہوتی تو اسے خود کو بار بار ٹٹول کر دیکھنا پڑتا کہ وہ ہے یا نہیں ہے۔

          تنہائی کے ٹوکرے کے نیچے پڑے پڑے اسے بدبو کے بھبوکوں نے گھیر لیا تھا کہ پڑوس کے آنگن میں بادل سے گرجے اور چپ کے کھڑے پانیوں میں آوازوں کے پرنالے گرنے لگے۔

          یہ جولائی کے آخری دن تھے۔

          سچ مچ کے بادلوں اور اصلی دھوپ میں آنکھ مچولی ہو رہی تھی۔ سورج لمبی لمبی زبانیں نکال کر سرمئی بادلوں کے نحیف جسموں سے نمی چاٹ رہا تھا۔

          بچپن میں اس کا خیال تھا کہ آسمان پر ہزاروں لاکھوں سورج ہیں اور ہر روز نیا سورج طلوع ہوتا ہے۔ وہ ایک عرصہ تک یہی سمجھتی رہی کہ ہر شام ایک سورج بجھ جاتا ہے اور اگلی صبح ویسا ہی یا موسم کے لحاظ سے چھوٹا بڑا سورج طلوع ہو جاتا ہے۔ اسے سارے سورج اچھے لگتے تھے۔ زندہ اور دہکتے ہوئے بھی اور بجھ کر ڈوب جانے والے بھی۔۔ شاید ان بجھے ہوئے ٹوٹے پھوٹے سورجوں کے ڈھیر سے بھی اکثر کار آمد ٹکڑے مل جاتے تھے جنہیں فرشتے چمکا کر راتوں کو چاند کے روپ میں طلوع کر دیتے تھے۔ مگر اب اسے پتہ تھا کہ ایک ہی پرانا سورج اور ایک ہی تھکا ہارا چاند ہر روز استعمال ہوتے ہیں۔

          پرانی چیزوں سے اس کا جی اُوبھ گیا تھا۔

          تازگی کا عالم گیر قحط پڑا ہوا تھا۔ ہر صبح بوسیدگی کی دبلی گائیں تازگی کی فربہ گایوں کو ہڑپ کر جاتی تھیں۔

ؔؔؔ  تازگی کو سورج کی شعاعوں سے بچا کر فریج میں کئی کئی دن تک رکھا جاتا تھا۔ تازگی آٹھ آٹھ دن کی مری ہوئی مچھلیوں کی صورت بکتی تھی۔ جسموں کی بوسیدگی کو ڈھانپنے کے لئے نئے فیشن رائج ہوتے تھے اور آؤٹ آف ڈیٹ نظریات پر لفظوں کا ملمع چڑھایا جاتا تھا۔

          ٹیلی ویژن اور فلموں کی نقلی لڑائیاں، سنے سنائے لطیفوں کی طرح بور لگتی تھی۔ گاؤں کی عورتوں کی لڑائی میں اورجینلٹی کا تصور کر کے اس نے اپنے آپ کو چپ کے ٹوکرے سے نکالا اور ایک ایک کر کے سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ بڑے گھمسان کار ن پڑا تھا۔

          آوازوں کے ہوائی گولے فضا میں دور دور جا کر پھٹنے لگے تھے۔

          ٹھاہ۔۔ ٹھاہ۔۔ ٹھاہ۔۔

          وہ آخری سیڑھی پر بیٹھ گئی۔ اس نے اطمینان کا لمبا سانس لیا۔اسے آزادی اور تازگی کا احساس ہونے لگا اور جی چاہنے لگا کہ وہ مرغیوں کے ڈربے پر کھڑی ہو کر ان دور افتادہ لوگوں کو آواز دے جو اپنے اپنے انڈوں میں زندہ چوزوں کی طرح باہر نکلنے کے لیے ٹھونگے مار رہے تھے۔

          لڑنے والیوں کے چہروں پر آگ کے شعلے تھے،نفرت کے مکروہ جالے نہیں تھے۔ان کی آوازوں میں بجلی کی کڑک تھی،سانپوں کی پھنکار نہیں تھی۔ ان میں سے وہ نوراں اور مہراں کو پہچانتی تھی۔شریفاں اکثر ان دونوں کا ذکر کرتی تھی اور کل شام وہ اسے ملنے بھی آئی تھیں۔ مگر اب پتہ چلا کہ وہ دونوں پھپھے کٹنیاں ہیں۔

          کاش وہ بھی پھپھے کٹنی ہوتی۔

          آدمی ایک ہی نام سے اور ایک ہی حیثیت میں رہتے رہتے کتنا اکتا جاتا ہے۔ اس کے جسم پر چکنائی اور میل کے دھبے پڑ جاتے ہیں اور اس کی روح کو یکسانیت کی دیمک چاٹنے لگتی ہے۔

          ابا عید کی نماز پڑھنے ایک راستے سے جاتے اور دوسرے سے واپس آتے کہ نئے راستے پر چلنے سے زیادہ ثواب ملتا تھا۔کاش لکیر کے فقیروں کی سمجھ میں یہ بات آسکتی!

          وہ خود بھی ہر روز جس راستے سے کالج جاتی اسی راستے سے واپس آتی ہر سال وہی پرانے نوٹس،پرانی باتیں اور دہرائے ہوئے لیکچرز دہراتی۔اسے عظیم مفکروں کے زریں اقوال دہراتے ہوئے شرم آنے لگتی جیسے وہ کلاس کو دونی کا پہاڑا یاد کرا رہی ہو۔کبھی کبھی دونی کا پہاڑہ پڑھتے پڑھتے آواز اس کے حلق میں پھنس جاتی،کندھوں پر سر کی جگہ چکی کا پاٹ رکھا محسوس ہوتا اور آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا۔ اکثر متلی ہو کر طبیعت بحال ہو جاتی ورنہ ہوش آنے پر پتہ چلتا کہ اسے دورہ پڑا تھا۔

          اس نے خود ہی اپنے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ کچھ روز شریفاں کے پاس چلی جائے۔جب سے کالج بند ہوا تھا اس کے ذہن میں ہر وقت چھوٹی چھوٹی بھنبھیریاں اپنے آپ چلتی رہتی تھیں۔ وہ سوچنا نہ چاہتی تو بھی سوچ کی سخت جان اور بد شکل چھچھوندر اس کے دماغ میں تھوتھنی ڈالے مسلسل چیختی رہتی۔

          لڑنے والیاں دیورانی اور جٹھانی واضح گروپوں میں تقسیم تھیں۔

          دونوں جانب ایک ایک بڑی اور تین تین چار چار چھوٹی عورتیں تھیں۔لیکن گھوڑ سوار سے گھوڑ سوار اور پیادے سے پیادہ لڑ رہا تھا۔یوں لگتا تھا جیسے چھوٹیاں بڑے بڑے خوابوں کے رسوں سے جکڑی ہوئی ہیں۔

          خواب؟

          معدے کی گرانی؟

          واہمے؟

          لاشعور میں چھپی ہوئی خواہشات۔

          ایک بار اس نے دیکھا وہ چائے بناتے بناتے خود کیتلی میں بند ہو گئی ہے۔ وہ چیختی چلاتی ہے مگر کوئی ڈھکنا نہیں اٹھاتا یہاں تک کہ اس کا دم گھٹ جاتا ہے اور وہ مر جاتی ہے۔

          اکثر اسے شک ہوتا کہ وہ خواب نہیں تھا اور وہ واقعی مر چکی ہے وہ اکثر خود کو ٹٹول ٹٹول کر دیکھتی رہتی  کہ وہ ہے یا نہیں ہے؟

          بھرے پرے گھر میں بھی اس پر اداسی اور تنہائی کے تنبو ہر وقت تنے رہتے۔کبھی کبھی وہ اپنے جسم کی ان پڑھی کتاب کھول کر خود ہی تصویریں دیکھنے بیٹھ جاتی،پھر میلی ہونے کے ڈر سے بند کر کے ایک طرف رکھ دیتی۔

          پھر جب دونی کا پہاڑا سینکڑوں مرتبہ دہرانا پڑتا، اسے ہر چیز باسی محسوس ہونے لگتی۔ اسے اپنا جسم۔۔ جس پر اسے خود بھی سونے کا پانی چڑھا ہوا لگتا تھا،سوکھا چمڑا نظر آنے لگتا۔پسینے سے مردہ مچھلیوں کی بدبو آتی اور کتاب یا رسالہ کھول کر بیٹھتی تو جگہ جگہ مری ہوئی مکھیاں چپکی دکھائی دیتیں۔ بیٹھے بٹھائے اس کے ذہن میں سوچ کی مکروہ چمگادڑ چکر لگانے لگتی اور اسے ہر چیز سے گھن آتی۔ موسیقی مردہ کوے کی لاش پر سینکڑوں کوؤں کی کائیں کائیں معلوم ہوتی۔ انڈوں سے مرغی کی بیٹ،روٹی سے برادے اور سالن سے مردہ گوشت کی سڑاند آتی۔بدبو کے بھبھوکے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتے، اس کا جی متلانے لگتا اور وہ قے کرنے لگتی۔

          جیٹھانی گروپ کی عورتیں چڑیلیں، ڈائنیں اور پچھل پیریاں تھیں خون چوستی کلیجے چباتی اور بڑے ول چھل جانتی تھیں۔

          دیورانی گروپ کی عورتیں لچیاں لفنگیاں اور مشٹنڈیاں تھیں وہ آنکھ مٹکا کرتی،چن چڑھاتی اور ادھل جاتی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔اسے ان پر رشک آ رہا تھا۔

          آنکھ مٹکا کرنے، ول چھل جاننے اور اپنے یار کے ساتھ ادھل جانے میں کتنی زندگی اور رومان تھا،اس میں اسے کہیں کھوٹ نظر نہ آتا تھا۔سچ کی اس چلچلاتی دھوپ میں اسے اپنا آپ ابر آلود مطلع کی طرح لگا۔

          جیٹھانی کی مرغیوں کی عادت تھی کہ وہ دیورانی کے گھر انڈہ دیتیں اور کڑ  کڑ کرنے اپنے گھر آ جاتی تھیں مگر دیورانی کا بیان تھا کہ وہ فاحشہ مرغیاں اپنے بانجھ پن کو چھپانے کیلئے کڑ  کڑ کرتی اور انڈوں کی بجائے مرغوں کی طرح اذانیں دیتی تھیں۔

          بعض باتیں اپنے مخصوص جغرافیائی اور مقامی حوالوں کی وجہ سے اس کے پلے نہیں پڑ رہی تھیں مگر موضوع بدلتے دیر نہیں لگتی تھی اور صنائع بدائع کا استعمال زبان و بیان کو دلچسپ اور متنوع بنا رہا تھا۔خاص کر صنعت اغراق اور غلو کی ایسی نادر مثالیں کتابوں میں کہاں ملتی تھیں، البتہ تشبیہات کبھی کبھی زیادہ قریب الفہم ہونے کی وجہ سے درجہ بلاغت سے گر جاتیں۔

          گھر میں سب محتاط رہتے کہ اس کی طبیعت کے خلاف کوئی بات نہ ہو لیکن شہر کے لوگ اس امر سے بے خبر تھے کہ گھسی پٹی اور دہرائی ہوئی باتوں کی شناخت کے لئے ایک قد آدم آلہ ایجاد ہو چکا ہے جو متروک اور بانجھ چیزوں کی سو فیصد درست نشاندہی کرتا ہے۔

          لڑائی کے بہانے پچھلی سات پشتوں کا سرسری سا جائزہ بھی لیا جا رہا تھا۔ پتہ نہیں گڑے مردے اکھاڑنے کی کیا تک تھی۔ پتہ نہیں ہوں بھی کہ نہیں اور اگر ہوں تو ان کے تن پر کفن ہوں یا نہ ہوں اسے قبرستانوں میں راتوں کو الاؤ کے گرد ناچتی ننگی عورتوں کے قصے یاد آئے۔ اس کا جی چاہا وہ بھی کسی رات چھپ کر قبرستان چلی جائے۔

          لڑنے والیاں اب طعنوں مہنوں کی دلدل سے نکل کر پلوتوں اور گالیوں کے گہرے پانیوں میں اتر چکی تھیں۔

          ایسی الف ننگی گالیاں اس نے زندگی میں پہلی بار سنی تھیں۔انسانی اعضا کے نام سن کر اس کے ذہن کے پنجرے میں قید بے شمار چھوٹی چھوٹی چڑیاں یکبارگی پھر سے اڑ گئیں اس کے بدن سے ہمیشہ سے چمٹی ہوئی جونکیں ایک ایک کر کے جھڑنے لگیں اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے اندر ایک نیا سورج اُگنے لگا۔ اس کا سارا جسم اس کی کرنوں سے دمکنے لگا۔لذیذ سی گرمی سے رخسار تمتمانے لگے۔پسینے سے سارا جسم بھیگ گیا۔اسے اپنے پسینے سے پہلی بار تازہ گلاب کی خوشبو آئی اور یوں لگا جیسے اس کا بدن ہلکا ہو کر زمین سے اوپر اٹھتا جا رہا ہو۔

          اسی لمحے شریفاں آ گئی۔

          شریفاں کا بپھرا ہوا جسم گھر بھر میں پھیل گیا وہ اس کے جسم کی کشش اور آواز کی ڈور کے سہارے زمین پر واپس آ گئی۔

          اچھی بھلی مزے کی لڑائی ہو رہی تھی کہ اچانک خطرے کا سائرن بجنے لگا۔ مرد گھروں میں داخل ہوئے اور دونوں طرف برچھیاں اور بلمیں چمکنے لگیں۔

          خوف سے اس کے ہاتھ پاؤں سن ہو گئے۔مردوں کی لڑائی بہرحال سینما کی سکرین پر ہی اچھی لگتی تھی۔ اسی لمحے خدا نے رحمت کا فرشتہ بھیج دیا۔ ساٹھ ستر برس کا ایک با وقار بوڑھا جس کی چال میں متانت اور چہرے پر بے پناہ ذہانت تھی اندر آیا۔۔ اور فریقین کے درمیان صلح و امن کی دیوار بن کر کھڑا ہو گیا۔

          شریفاں نے اسے بتایا جسے وہ فرشتہ سمجھ رہی ہے وہ احمد دین تیلی ہے۔اسے یقین نہ آیا مگر جب انہوں نے اسے دھکیل کر ایک طرف کر دیا تو اسے یقین آ گیا۔

          امن کی کوششیں ناکام ہوتی دیکھ کر خوف سے اس کا دل دھڑکنے لگا۔ پیٹ سے باہر لٹکتی آنتوں اور گردن کے بغیر تڑپتے دھڑوں کا تصور کر کے وہ لرز گئی۔ مگر اسی لمحے ایک عجیب بات ہوئی۔

          ایک چھوٹے قد کا مریل سا آدمی اندر آیا اور آتے ہی فریقین کو فحش گالیاں دینے لگا اسے دیکھتے ہی تنی ہوئی گردنیں اور اٹھی ہوئی بلمیں جھک گئیں۔ چھتوں پر کھڑی عورتیں اور بچے ایک ایک کر کے کھسکنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے میدان کار زار برف کی طرح ٹھنڈا ہو گیا۔

          شریفاں نے اسے بتایا،چھوٹے قد کا مریل سا وہ شخص بہت بڑا چودھری اور گاؤں کی ایک تہائی زمین کا مالک ہے۔اس کی طبیعت متلانے لگی۔ اور اسے اپنا آپ بند مٹھی میں جگنو کی طرح لگنے لگا۔۔ مکروہ خیالوں کی بد صورت چھچھوندریں اس کے ذہن میں تھوتھنی ڈال کر چیخنے لگیں۔

          گاؤں کے ننگ دھڑنگ سینکڑوں بچے اس کے گرد جمع ہو کر دونی کا پہاڑا پڑھنے لگے۔

     غلیظ مکھیاں چاروں طرف بھنبھنانے لگیں چربی جلنے کی سڑاند ہر طرف پھیل گئی۔چکی کے پاٹ کے نیچے اس کا دم گھٹنے لگا اس نے تازہ ہوا میں سانس لینے کی کوشش کی مگر بہت ساری بھن بھناتی مکھیاں اس کے حلق میں پھنس کر رہ گئی تھیں،وہ قے کرنے لگی۔

٭٭٭