کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بانجھ ہوا میں سانس

منشا یاد


گھپ اندھیری رات۔۔۔ ہوا بند۔۔۔ اندر باہر دم گھونٹنے والا حبس۔ اوپر گرد آلود آسمان اور بجھتے ہوئے ستارے۔ نیچے ہانپتے ہوئے بیل کے سینگوں پر ڈولتی زمین!

اندر مچھروں کی گھوکر۔ باہر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر روتے کتوں اور آپس میں لڑتی بلیوں کی آوازیں۔گھر کا اکلوتا کمرہ۔۔۔ جس کا دروازہ گلی میں کھلتا ہے۔ ہَوا بھول کر اندر آ جائے تو اسے باہر جانے کا راستہ نہ ملے۔۔۔ وہ پسینے میں شرابور۔۔۔ ننگی چارپائی پر لیٹا ہے۔ اور جیسے کوئی اس کا گلا دبا رہا ہو یا اس کے منہ اور نتھنوں میں روئی ٹھونس دی گئی ہو، اس کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ وہ آسمان کی طرف منہ اٹھا کر روتے کتوں تا آپس میں خوفناک غرہٹوں سے لڑتی بلیوں یا پھر اپنے ہی گلے سے نکلنے والی عجیب و غریب آوازوں کو سن کر ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا اور کھنکار کھنکار کر سانس لینے کے عضلات صاف کرتا ہے۔ اس کا سانس پھولا ہوا ہے اور وہ یوں ہانپ رہا ہے جیسے سو کر نہیں اٹھا میلوں لمبی دوڑ لگا کر آیا ہے۔ وہ ہانپتا ہوا اٹھ دروازے تک آتا ہے اور سنسان گلی میں کھڑے ہو کر چھت پر سوئے ہوئے بیوی بچوں کو مدد کے لئے پکارتا ہے مگر اسے کوئی جواب نہیں ملتا وہ چھت پر جانا چاہتا ہے مگر چھت پر جانے کے لئے کوئی سیڑھی نہیں ہے اس کی بیوی اور بچے بغل والی حویلی کی طرف اپنے گھر کی چھت پر جاتے ہیں اور چونکہ بڑی حویلی کی عورتوں کی بے پردگی کا احتمال ہے اس لئے اسے اوپر جانے کی اجازت نہیں ہے۔

وہ دو بارہ گرد آلود آسمان کی طرف منہ اٹھا کر بیوی کو آواز دیتا ہے اپنی آواز اسے عجیب و غریب معلوم ہوتی ہے بالکل ایسی ہی جیسی آوازیں سن کر وہ جاگا ہے۔ اسے اب بھی کوئی جواب نہیں ملتا۔ وہ تھک ہار کر گلی کے کچے فرش پر اکڑوں بیٹھ جاتا ہے۔ اسے خود حیرانی ہوتی ہے کہ وہ اس طرح بیٹھنے پر کیوں مجبور ہے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد اوپر منہ کر کے آوازیں دیتا رہتا ہے۔ پھر پھٹے پرانے کاغذ کا ایک ٹکڑا اڑتا ہوا اس کے قریب سے گزرتا ہے تو اسے یہ جا کی حیرت ہوتی ہے کہ ہوا بند نہیں ہے۔

ہَوا بند نہی ہے لیکن یہ کیسی بانجھ ہوا ہے جس میں اس کا دم گھٹا جا رہا ہے۔ شاید دھوپ میں مسلسل کام کرنے اور شدید گرمی اور حبس میں اندر سونے کی وجہ سے حبس نے اس کے اندر جگہ جگہ بل کھود لئے ہیں۔ کیا پتہ اسے سانس کی تکلیف ہو گئی ہو آخری عمرمیں ابا کو بھی دمہ ہو گیا تھا رات رات بھر وہ اسی طرح سینے کی چاٹی میں سانس کی مدھانی ڈالے رڑکتا رہتا تھا مگر اسی لمحے ایک مریل سا کتا ہانپتا ہوا اس کے قریب آتا ہے اور اس کے پاؤں چاٹنے لگتا ہے شاید اسے بھی دمہ ہو گیا ہے۔

دونوں ایک دوسرے کے سامنے اکڑوں بیٹھ جاتے ہیں اور جلدی جلدی سانس لینے لگتا ہیں پھر اسے چھت سے سوئی ہوئی بیوی اور بچوں کی خوفناک آوازیں سنائی دیتی ہیں جیسے کوئی ان کے گلوں پر چھری چلا رہا ہو۔ وہ پریشان ہو کر انہیں پھر آواز دیتا ہے مگر گھٹی ہوئی چیخوں اور کراہوں کے سوا کچھ جواب نہیں ملتا تو کیا ان سب کو دمہ ہو گیا ہے؟ وہ اور کتا اٹھ کر گلی کا چکر لگاتے ہیں۔ ہَوا چل رہی ہے۔

مگر حسن سے دم گھٹا جاتا ہے۔ پتہ نہیں ہوا کو کیا ہو گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ساری ہَوا باسی ہو گئی ہے اور خود تاہ جھونکوں کی تلاش میں اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیے مارتی پھرتی ہے۔ منڈیروں کو چھو کر گزرتے ہوئے اسی کی کراہیں نکلتی ہیں اور ممیا ہٹیں سنائی دیتی ہیں۔

اچانک اسے یاد آتا ہے کہ آج مہینے کی وہی تاریخ ہے جس کے بارے میں وہ کئی دنوں سے مختلف افواہیں سن رہا تھا۔ کہتے تھے نئے مہینے کی پہلی تاریخ سے ہوا بدل جائے گی اور اس میں جانداروں کو سانس لینا دشوار ہو جائے گا اس نے شیخوں کی ہٹی، چوپال اور مسجد میں ہر جگہ یہ باتیں سنی تھیں نمبردار اور چودھریوں کے ہاں ہوا سے بھرے ہوئے بالکل ویسے ہی سلنڈر دیکھے تھے جیسے ہسپتالوں میں ہوتے ہیں ان میں سانس لینے کے لئے نلکیاں لگی ہوئی تھیں اسے یاد پڑتا ہے شاید اس ہوا کو آکسیجن کہتے تھے۔ گاموں ترخان کے لڑکے نے جو شہر میں پڑھتا تھا اسے بتایا تھا کہ ہوا سے بہت سی گیس نکال لی جائے گی اور اسے سلنڈروں میں بھر کر ڈپوؤں پر فروخت کیا جائے گا اور ہر شخص کو زندہ رہنے کے لئے ہوا سے بھرے ہوئے سلنڈر ہر وقت ساتھ رکھنا ہوں گے مگر اسے ان باتوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ پہلے کبھی ایسا ہوا ہے؟ اور بھلا اتنی ساری ہوا سے گیس کیسے نکالی جا سکتی تھی لوگ کندھوں پر گیس کے سلنڈر اٹھائے کام کاج کیسے کر سکتے تھے مگر اب اسے محسوس ہو رہا ہے کہ وہ شاید ٹھیک ہی کہتے تھے یقیناً ہوا میں سے کوئی چیز نکال لی گئی ہے اور جیسے عورت سے حیاء اور مرد سے غیرت نکال لی جائے تو گوشت کے سوا کچھ نہیں بچتا ہوا کا بھی پھوک باقی رہ گیا ہے جس میں اب بستی کے اور بہت سے بچوں، عورتوں اور مردوں کی بلبلاہٹیں اور گھٹی ہوئی چیخیں جیسے انہیں کند چھریوں سے ذبح کیا جا رہا ہو شامل ہو گئی ہیں۔ بستی کے گھروں کے دروازے کھلنے اور بند ہونے کی آوازیں اور پھاٹکوں کی چرمراہٹیں سنائی دیتی ہیں چھوٹے گھروں کے مکین گلیوں میں ننگ دھڑنگ دوڑتے نظر آتے ہیں اور بڑے گھروں اور حویلیوں کے پھاٹکوں پر ان کی آہ و زاری اور دستکیں سنائی دیتی ہیں۔

وہ آگے بڑھتا ہے اس کا ساتھی کتا اب زمین پر چپ چاپ لیتا ہوا ہے بڑی حویلی کا پھاٹک بند ہے وہ دستک دینا چاہتا ہے مگر اس کا ہاتھ لرز کر رہ جاتا ہے کجھ دیر کے تامل کے بعد وہ پھاٹک کے نیچے سے لیٹ کر اندر داخل ہوتا اور بیت الخلاء کی سیڑھیاں چڑھ کر چھت پر آتا ہے۔

کیا دیکھتا ہے کہ وہ سب سانس کی تنگی کی وجہ سے نیم مردہ حالت میں چارپائیوں پر پڑے تڑپ رہے ہیں اس کی جوان بیٹی دری بے چینی سے دائیں بائیں سرکو جھٹک رہی ہے اس کے بال کھل کر اِدھر اُدھر دور تک پھیل گئے ہیں وہ اس سے لپٹنے کی کوشش کرتی ہے مگر پھر ہانپ کر گر جاتی ہے چھوٹا لڑکا بری طرح ہاتھ پاؤں مارتا اور جیسے آخری سانس لیتا ہے اس کی بیوی حلال کی ہوئی گائے کی طرح نیم مردہ حالت میں پڑی ہے تھوڑی تھوڑی دیر بعد روح اس کے جسم میں کلبلاتی اور تیناں دیتی ہے۔ وہ گلی میں کسی کے قدموں کی آواز سن کر نیچے جھانکتا ہے۔ چھوٹا ملک اس کے گھر کے دروازے کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا ہے اس کے پاس ہوا سے بھرے ہوئے بہت سے چھوٹے چھوٹے سلنڈر ہیں اس نے خود بھی ہوا کی نلکی ناک میں لگا رکھی ہے۔ وہ جلدی جلدی سیڑھیاں اتر کر نیچے آتا اور پھاٹک کا دروازہ کھول کر چھوٹے ملک کے پاؤں پکڑ لیتا ہے۔

’’لوگ تو جاہل تھے ہماری باتوں پر یقین نہیں کرتے تھے‘‘ چھوٹا ملک کہتا ہے ’’مگر فتیا تم تو سات آٹھ جماعتیں پڑھے ہوئے تھے اور اتنا عرصہ مل میں بھی کام کرتے رہے ہو تمہیں تو پہلے سے انتظام کر لینا چاہئے تھا کیا تم نے اپنا اور بیوی بچوں کے نام رجسٹر کروائے ہیں ؟‘‘

’’نہیں ملک جی بھول ہو گئی۔‘‘ وہ ہانپتے ہوئے جواب دیتا ہے۔

’’تمہیں پتہ ہونا چاہئے فیتا کہ ساری دنیا مین ہوا کی راشننگ ہو گئی ہے جس طرح آٹا، گھی، تیل، چاول، چینی اور زندگی کی دوسری چیزیں کارڈ پر ڈپوؤں سے ملتی ہیں بالکل اسی طرح۔ شہروں کے لوگ تعلیم یافتہ اور عقلمند ہوتے ہیں وہاں تمام انتظامات پہلے سے کر لئے گئے گھروں، کارخانوں، دکانوں، ہوٹلوں، کلبوں، سینما گھروں، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں یہاں تک کہ بسوں اور کاروں میں بھی گیس کا مناسب انتظام کر لیا گیا ہے جگہ جگہ ایسے ڈپو قائم کئے گئے ہیں جہاں سے پیدل چنے والوں کو کارڈ دیکھ کر گیس سلنڈر فروخت کئے جا سکیں مگر تم دیہاتی لوگوں کی عقل پر پتھر پڑے ہوئے ہیں کوئی ہماری سنتا ہی نہیں۔ اب دیکھنا کیسے کتوں کی طرح پاؤں چاٹیں گے اور ڈپو کے باہر کس طرح لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہانپتے رہیں گے مگر انہیں نہیں پتہ ہر ایرے غیرے کو ہوا کا راشن نہیں دیا جائے گا ہوا صرف ایسے لوگوں کو مہیا کی جائے گی جن کا زندہ رہنا ضروری سمجھا جائے گا۔ ہمیں اپنے گاؤں کے لئے جو کوٹہ ملا ہے وہ تم لوگوں کی بیوقوفی اور بروقت نام نہ لکھوانے کی وجہ سے بہت تھوڑا ہے اب پتہ نہیں کتنے لوگ دوسرا ٹرک آنے تک زندہ رہتے ہیں ‘‘

اس کا دم اس قدر گھٹتا ہے کہ اس کا جی چاہتا ہے چھوٹے ملک سے سلنڈر چھین کر بھاگ جائے مگر اسے بیوی بچوں کا خیال آتا ہے اور ہو ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کرتا ہے، ’’ہم آپ کے غلام ہیں ملک جی خدا کے لئے ہم پر مہربانی کریں صبح تک ہم سب جائیں گے۔‘‘

’’دیکھو فتے۔۔۔‘‘ چھوٹا ملک ہمدردانہ لہجہ میں کہتا ہے، ’’ہوا تھوڑی ہے ار لوگ زیادہ ہیں یقیناً بلیک بھی ہو گی مگر میں دن چڑھنے پر تو لوگوں کو مناسب داموں پر لے دوں گا‘‘

’’مناسب دام؟‘‘ وہ بو کھلا کر کہتا ہے ’’ملک جی آپ تو جانتے ہیں جسے مل کی نوکری چھوٹی ہے ہم اکثر فاقے کرتے ہیں ہمارے پاس دام کہاں۔۔۔ ہم آپ کی خدمت۔۔‘‘ ’’اچھا‘‘۔ چھوٹا ملک راز دارانہ لہجے میں کہتا ہے ’’ان لوگوں کے لئے جو تابعدار ہیں اور وہ جو اس کا وعدہ کریں اور اس پر قائم رہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ تم اس طرح کرو کہ داری والی شرط منظور کر لو۔۔۔ باقی سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘ اسے یاد آتا ہے ایک بار اس نے داری کے سلسلے میں چھوٹے ملک کو ڈانٹ پلائی تھی اور دوبارہ اس کی طرف میلی آنکھ اُٹھا نے پر آنکھ نکال دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ تو ان دنوں کی بات ہے جب ہوا میں سے کئ نہیں نکالا گیا تھا جب ہوا پر قبضہ نہیں ہوا تھا اور اس ی راشن بندی نہیں ہوئی تھی۔ لوگ گھر بیٹھے، کھیتوں اور کارخانوں میں کام کرتے ہو جگہ آسانی سے سانس لے سکتے تھے اور انہیں اپنے ساتھ گیس سلنڈر نہیں اٹھانا پڑتے تھے۔ ہوا چلتی تھی تو پرندے چہکتے اور بچے کھلکھلاتے تھے۔ ہوا کے پاؤں میں بیڑیاں نہیں جھانجھریں ہوتی تھیں ہوا خوشبو اور زندگی کا پیغام لے کر قریہ قریہ گھومتی تھی مگر کہیں کوئی حاجت مند نہیں ملتا تھا۔ وہ وقت اور تھا یہ وقت دوسرا ہے وقت کے ساتھ اسے بھی بدل جانا چاہئے ورنہ دری ہی نہیں وہ سب دم گھٹنے سے مر جائیں گے۔ وہ فاقے کر کے زندہ رہ سکتے تھے مگر ہوا کے بغیر رات کا باقی حصہ بسر نہیں ہو سکتا تھا اور کیا پتہ اب تک داری اور اس کی ماں زندہ بھی ہیں کہ نہیں وہ ہانپتے ہوئے گھگھیا کر کہتا ہے۔

’’مجھے منظور ہے ملک جی۔۔۔ آپ جلدی کیجئے۔۔۔ خدا کے لئے‘‘

چھوٹا ملک اسے گن کر تین سلنڈر دیتا ہے۔

دونوں بڑی حویلی کے کھلے پھاٹک کی راہ چھت پر آتے ہیں۔

سلنڈر کی گیس سونگھتے ہی اس کی بیوی اور بیٹا ہوش میں آ جاتے ہیں۔ ساتھ والی چارپائی پر چھوٹا ملک داری کو ہوش میں لاتا ہے اور۔۔۔!

وہ آسمان کی طرف منہ کر کے روتے کتوں یا آپس میں خوفناک غراہٹوں سے لڑتی بلیوں یا پھر اپنے ہی گلے سے نکلنے والی ہولناک آوازیں سن کر ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے اور بھاگ کر کمرے سے باہر آتا ہے۔

باہر گھپ اندھیری رات۔۔۔ ہوا بند۔۔۔ اوپر گرد آلود آسمان اور بجھتے ہوئے ستارے نیچے ہانپتے ہوئے بیل کے سینگوں پر ڈولتی زمین۔۔۔ وہ بیوی اور بچوں کو بلند آواز میں پکارنے لگتا ہے۔

٭٭٭