کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بڑا سوال

منشا یاد


اس نے اپنے ذہن کی لیبارٹری میں پہلے بھی بڑی بڑی باتیں دریافت کی تھیں مگر اس بار انکشاف کی جو نئی کونپل کھلی تھی وہ نہایت ہی غیر معمولی نوعیت کی تھی۔

          ہر بار جب وہ کوئی نئی بات دریافت کرتا تھا اسے بے پناہ خوشی ہوتی تھی مگر اس بار ایسا نہیں ہوا۔۔۔۔ اس انکشاف نے اسے پریشان اور مضطرب کر دیا۔ اسے لگا اس نے ایک بڑی چٹان کے نیچے سے مٹی کھود ڈالی ہے اور اب چٹان اسے ہاتھوں پر روکنا پڑ گئی ہے۔

          اپنی حماقت پر اسے رہ رہ کر افسوس ہو رہا تھا آخر اسے ایسا تجربہ کرنے کی کیا ضرورت تھی مگر اب کیا ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔ چٹان اپنی جگہ سے سرک چکی تھی۔ بجلی کے سے کوندے نے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں مستور منظر کی جھلک دکھا دی تھی۔ تیر کمان سے نکل چکا تھا اور جو کچھ معلوم ہو چکا تھا وہ واپس لا علمی کے دریا میں نہیں پھینکا جا سکتا تھا۔

          کچھ روز ملول اور پریشان رہنے کے بعد اس نے محسوس کیا کہ اس کے اندر ایک نئی خواہش کا چیونٹا کا ہلانے لگا ہے کہ وہ حیرت انگیز منظر جس کو اسکی آنکھیں دیکھ چکی تھیں سب کو دکھائے اور داد پائے۔ مگر یہ آسان اور سہل نہیں تھا۔ لوگ نئے خیالات کو آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ اسے تمام مشکلات کا بخوبی اندازہ تھا مگر اس کے اندر یہ خواہش کہ وہ سب کو اس حیرت انگیز دریافت سے آگاہ کرے، شدت اختیار کرتی گئی۔

          ایک بار جب شہر میں ایک بہت بڑا جلسہ ہو رہا تھا اس کا جی چاہا وہ اچانک اسٹیج پر پہنچ کر ایک ہی سانس میں ساری بات کہ دے مگر اول تو اس کا اسٹیج تک پہنچنا ہی مشکل تھا دوسرا لوگوں کے مشتعل ہو جانے کا ڈر تھا۔ خطرات کا سامنا کرنے کے لئے وہ تیار تھا مگر اسطرح اس کا اصل مقصد ادھورا رہ جاتا۔

          پھر ایک بار کسی رشتہ دار کی شادی کے موقع پر جب بہت سے لوگ ایک جگہ جمع تھے اسکا جی چاہا اعلان کر دے۔مگر پھر وہ یہ سوج کر کہ رشتہ دار پہلے ہی اس کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے وہ اس کی بات پر یقین کرنے کی بجائے اسے غلط معنی پہنانے کی کوشش کریں گے، خاموش رہا۔

          آخر کئی دنوں کی سوچ بچار کے بعد اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اس کام کی ابتدا اپنے گھر سے کرنی چاہئے اور اپنی بیوی کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ اس کی بیوی پڑھی لکھی اور ذہین عورت تھی اور اگرچہ وہ بھی اس کے بارے میں کوئی زیادہ اچھی رائے نہیں رکھتی ہو گی۔۔۔۔۔۔ مگر وہ ایک روایتی بیوی کی طرح اس کی وفا دار ضروری تھی۔

          اس کا خیال تھا کہ وہ اس کی بات سن کر حیرت سے اچھل پڑے گی مگر اس نے نہایت اطمینان سے اس کی بات سنی اور جب وہ کہہ چکا تھا وہ اسی اطمینان سے اٹھی اور باورچی خانے میں جا کر آٹا گوندھنے لگی۔

          وہ پریشان ضرور ہوا مگر پھر اسے خیال آیا کہ اتنی بڑی بات سن کر اسے ہضم کرنے اور کسی نتیجے پر پہنچنے کے لئے کچھ وقت تو لگتا ہے۔ اس لئے اسے مہلت دینی چاہئے یقیناً وہ اس پر غور کرے گی اور جلد ہی نہایت حوصلہ افزا رد عمل ظاہر کرے گی۔

          مگر جب کئی روز گزر گئے تو اسے تشویش ہونے لگی کیا معلوم وہ اس کی بات سمجھی ہی نہ ہو؟

          آخر ایک روز اس نے پوچھا ہی لیا ’’میں نے تم سے جو بات کی تھی اس کا تم نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا؟‘‘

          ’’کیا جواب دیتی‘‘ وہ بولی ’’آپ تو ہمیشہ الٹی سیدھی باتیں سوچتے ہیں۔ کچھ گھر کی بھی فکر ہے:‘‘

          ’’کیوں کیا ہوا گھر کو؟‘‘

          ’’گھر میں آلو اور پیاز ختم ہو گئے ہیں۔ ڈپو سے آٹا منگانا ہے۔ ماموں جان کی نظر کا امتحان کرانا اور خالہ جان کو افسوس کا خط لکھنا ہے۔ کئی دن سے کہہ رہی ہوں کہ منی کے یونیفارم کا کپڑا لادیں میں خود سی دوں گی لیکن آپ کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ کب سے میری سینڈل ٹوٹ چکی ہے۔‘‘

          بیوی سے مایوس ہو کر اس نے اپنے قریبی دوست ن سے رجوع کیا۔ ن نے اس کی گفتگو نہایت توجہ اور دلچسپی سے سنی مگر کوئی جواب دینے کی بجائے اسے پکڑ کر نئی فلم دکھانے لے گیا۔ فلم کے دوران اس نے ن کو یاد دلایا کہ اس نے اس سے بہت ہی اہم بات کی تھی۔ اس پر ن نے یہ کہہ کر بات ختم کر دی کہ وہ اسے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جائے گا اور اس کا علاج کرائے گا۔

          ایک ایک کر کے اس نے سبھی دوستوں سے بات کی مگر کسی نے بھی اس کی بات توجہ اور سنجیدگی سے نہیں سنی۔

          دوستوں سے مایوس ہو کر وہ گھر میں پناہ گزین ہوا اور کئی روز تک کتابیں پڑھتا اور مختلف قسم کے چھوٹے موٹے تجربے کر کے وقت گزارتا رہا۔ ایک صبح اس کی بیوی چائے لے کر آئی تو وہ خلاف معمول مہربان اور خوش نظر آتی تھی۔ اس کے دل میں امید کا پھول کھلا۔

          ’’معلوم ہوتا ہے میری بات تمہاری سمجھ میں آ گئی ہے؟‘‘

          ’’کونسی بات؟‘‘

          ’’وہی جو میں نے بہت دن پہلے تم سے کی تھی‘‘

          ’’حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا‘‘ وہ اطمینان سے بولی

          ’’یہی تو میں کہتا ہوں ‘‘ اس نے خوش ہو کر کہا

          ’’حقیقت وہ نہیں جو آپ سوچتے ہیں ‘‘

          اس پر اوس سی پڑ گئی۔ دل بجھ گیا۔ درشت لہجے میں بولا۔

          ’’تمہارے پاس اپنی بات کا کیا ثبوت ہے؟‘‘

          ’’میرے پاس اپنی کسی بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ مجھے اپنی کوئی بات کسی لیبارٹری میں جا کر ثابت کرنے کی ضرورت ہے۔ بس جو کچھ جیسا ہے، ٹھیک ہے۔‘‘

          ’’مجھے تمہاری ذہانت پر ہمیشہ فخر رہا‘‘ اس نے خوشامدانہ لہجے میں کہا ’’ اور میری یہ خواہش ہے کہ تم میری بات پر غور کرو۔۔۔۔۔ اس سے میرا حوصلہ بڑھے گا کم از کم میری شریک حیات تو میری ہم خیال ہے۔‘‘

          ’’میں آپ کی بات پر کیسے یقین کر لوں ‘‘ وہ رکھائی سے بولی ’’کیا میں آپ کو جانتی نہیں ہوں ؟‘‘

          ’’تم مجھے ضروری جانتی ہو‘‘ اس نے کہا ’’میری اچھائیوں اور برائیوں سے واقف ہو، مجھ میں بہت سی خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن میں جس سلسلے میں تمہاری رائے لینا چاہتا ہوں وہ میرا ذاتی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘

          ’’آپ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے‘‘ وہ تنک کر بولی اور اٹھ کر چلی گئی اور وہ اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔

          دو ایک دن اور گزر گئے۔ وہ اس سے کھنچا کھنچا سا رہا مگر اس نے ذرا پرواہ نہ کی، معمول کے مطابق گھر کا کام کاج کرتی رہی۔ آخر تیسرے چوتھے روز اس نے خود ہی بات شروع کی۔

          ’’پھر تم نے کچھ مزید سوچا؟‘‘

          ’’نہیں مجھے فرصت نہیں ہے‘‘

          پھر کچھ دیر کے توقف کے بعد خود ہی کہنے لگی ’’میرا مشورہ ہے آپ ایسی باتیں سوچنا چھوڑ دیں یہ نہایت اہم اور سنجیدہ مسئلہ ہے اس کے نتائج بہت خطرناک ہو سکتے ہیں ‘‘

          ’’میں جانتا ہوں ‘‘ اس نے کہا ’’مگر میں خاموش نہیں رہ سکتا۔ ہاں تم میرا ساتھ دو تو میرا کام آسان ہو سکتا ہے۔ محلے کی عورتیں تمہیں اچھا سمجھتی ہیں ‘‘

          ’’جی نہیں مجھے تو معاف ہی رکھئے۔‘‘

          ’’اچھا مدد نہیں کرنا چاہتیں نہ کرو۔۔۔۔۔۔ مگر یہ تو بتاؤ کہ تم میری بات پر یقین کرتی ہو؟‘‘

          ’’نہیں ‘‘

          ’’مگر کیوں ‘‘

          ’’اس لئے کہ جس شخص کو اتنا یاد نہ رہتا ہو کہ اس نے رات کیا کھایا تھا اور جسے یہ یاد نہ ہو کہ اس کی بیوی نے جو ساڑھی پہنی ہوئی ہے وہ اسے کسی اور نے تحفے میں نہیں دی بلکہ اس کے اپنے شوہر نے خود خرید کر دی تھی تو ایسے شخص کو اتنی بڑی اور دور کی باتوں کا پتہ کیسے چل سکتا ہے؟‘‘

          ’’بڑی بڑی باتیں سوچنے والوں سے ایسی چھوٹی چھوٹی فروگذاشتیں ہو جاتی ہیں۔‘‘

          ’’لیکن میں نے دیکھا ہے‘‘ وہ بولی ’’آپ کبھی کبھی بہت چھوٹی چھوٹی باتیں بھی سوچتے ہیں ‘‘

          ’’ہاں۔۔۔۔۔ وہ بھی سوچ لیتا ہوں۔۔۔۔ تم ہر بات میں میری ذات کو کیوں درمیان میں گھسیٹ لاتی ہو۔۔۔۔۔ آخر تم کیوں نہیں سمجھتی ہو کہ میں گمنام اور عام سی موت نہیں مرنا چاہتا۔۔۔۔۔ میں نے جو کچھ دریافت کیا ہے وہ نہایت اہم ہے اور میں اسے دنیا تک پہنچانا چاہتا ہوں خواہ اس کے لئے مجھے بڑی سے بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔‘‘

          ’’مجھے افسوس ہے‘‘ وہ دھیمے لہجے میں بولی ’’میں اس سلسلے میں آپ کی کوئی مدد نہیں کر سکوں گی۔‘‘

          ’’یہ تمہارا آخری فیصلہ ہے؟‘‘

          ’’ہاں ‘‘

          بیوی کی باتوں سے ایک بار پھر مایوس ہو کر۔۔۔۔ وہ کئی روز تک اداس رہا۔ اسے رہ رہ کر خیال آتا ہے۔۔۔۔۔ کہ اگر وہ اپنی شریک حیات اور قریبی دوستوں کو اپنا ہم خیال نہیں بنا سکا تو دوسرے لوگوں کو کیسے قائل کرے گا۔ مگر اس  نے ہمت نہیں ہاری۔اس نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنے باپ سے بات کرے گا۔ اگرچہ اس کے باپ کے عقائد اور نظریات بہت پختہ تھے مگر وہ علمی باتوں کو سمجھنے اور پرکھنے کی بے پناہ صلاحیت رکھتے تھے۔ کم از کم وہ اسے بہتر مشورہ ضرور دیں گے۔

          اس نے اپنے باپ کی نظر کا معائنہ کرایا اور انہیں نئے نمبر کی عینک خرید کر دی کئی روز ان کی خدمت میں حاضر ہوتا اور طرح طرح کے موضوعات پر بحثیں کرتا رہا پھر ایک روز ڈرتے ڈرتے اس نے اپنا اصل مدعا بیان کیا۔

          وہ نہایت اطمینان سے سنتے رہے پھر بولے۔

          ’’برخوردار۔۔۔۔۔ جب تم ابتدائی جماعتوں میں پڑھتے تھے تو میں نے اس وقت سے لے کر آج تک کئی بار تمہیں الٹی سیدھی کتابیں پڑھنے اور بے معنی باتوں پر سوچتے رہنے سے منع کیا مگر تم باز نہ آئے۔۔۔۔ اب ماشاء اللہ تم ایک ذمہ دار شوہر اور باپ ہو اب تو تمہیں ایسی واہیات باتوں کے بارے میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے‘‘

          ’’ابا جی‘‘ اس نے پریشان ہو کر کہا ’’یہ واہیات باتیں نہیں ہیں۔ یہ اتنا اہم اور بڑا مسئلہ ہے کہ اگر سب لوگ میری طرح سوچنے لگ جائیں تو ایک بہت بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔‘‘

          ’’میرا مشورہ ہے‘‘ اس کے باپ نے کہا ’’تم ایسی باتوں پر سوچنا چھوڑ دو آخر تمہیں اس سے کیا فائدہ حاصل ہو گا۔‘‘

          ’’فائدہ؟‘‘

          ’’ہاں۔۔۔۔۔ الٹا لینے کے دینے پڑ جائیں گے اور تمہارا سکون الگ چھن جائے گا۔‘‘

          ’’سکون تو اب بھی چھن گیا ہے ابا جی اور میں اتنی بڑی بات کیسے چھپا سکتا ہوں۔ کیسے خاموش رہ سکتا ہوں میں انسانی تاریخ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔‘‘

          ’’تم بالکل فکر نہ کرو۔۔۔۔۔ انسانی تاریخ کو اپنے فطری ارتقاء کی منزلیں طے کرنی ہیں اور وہ کرتی رہے گی۔۔۔۔ تم کاروباری معاملات پر توجہ دیا کرو‘‘

          باپ کی گفتگو سے دل برداشتہ ہو کر اس نے ایک عالم دین کا سہارا لیا اور اسے اور زیادہ مایوسی ہوئی جب انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کے بارے میں کتابوں میں کہیں ذکر نہیں آیا۔۔۔۔ اور یہ کہ ایسی باتوں پر سوچنا گنا ہے۔

          اب اس کے پاس ایک ہی راستہ رہ گیا تھا کہ وہ اپنے خیالات کو مضمون کی شکل میں اخبار کو بھیج دے اور اس نے ایسا ہی کیا۔ لیکن ایک روز ڈاک سے اسے اپنا مضمون واپس مل گیا۔ ایڈیٹر نے لکھا تھا۔

          ’’قواعد ہمیں ایسے مضامین کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتے، ویسے بھی آپ کی تحریر میں پختگی نہیں ہے آپ مشق جاری رکھیں گے تو بہتر زبان لکھنے لگیں گے۔‘‘

          اس نے چاہا کہ وہ اپنے خیالات دوسروں تک پہنچانے کی خواہش کا گلا گھوٹ کر کوئی دوسرا کام جو اس کے گھریلو اور کاروباری معاملات کو بہتر بنانے میں مدد سے شروع کر دے اور اس نے ایسا ہی کیا مگر اس کے بعد اس کی اپنی زندگی میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا۔

          اب وہ کئی برسوں سے مجذوبیت کی حالت میں شہر کی سڑکوں پر گھومتا پھرتا ہے کوئی کچھ دے دیتا ہے تو کھا لیتا ہے۔ جہاں جی چاہتا ہے پڑ کر سو رہتا ہے۔ ہاں اسے سکول کے بچوں سے بڑی دلچسپی ہے۔ چھٹی کے وقت وہ کسی نہ کسی سکول کے گیٹ پر پہنچ جاتا ہے اور ایک ایک بچے کو غور سے دیکھتا رہتا ہے۔ بچے اس پر آوازے کستے اور اس سے طرح طرح کے سوالات پوچھتے ہیں۔

          ’’سی اے ٹی؟‘‘

          ’’کیٹ‘‘

          ’’آر اے ٹی؟‘‘

          ’’ریٹ‘‘

          ’’چھ دونی؟‘‘

          ’’بارہ‘‘

          بچے اپنے سوالوں کے درست جواب سن کر خوش ہوتے ہیں مگر وہ اداس ہو جاتا ہے شاید وہ کسی بڑے سوال کے پوچھے جانے کا منتظر ہے۔

٭٭٭