کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بارھیں برسیں

منشا یاد


بارہ برس بعد۔۔۔۔

          ایک روز میں اس کے گھر کے دروازے پر دستک دیتا ہوں تو وہ اندر سے چہک کر کہتی ہے۔

          ’’دروازہ کھلا ہے ڈرائنگ روم میں چلے جائیے۔‘‘

          میں دروازہ ٹٹولتا ہوں واقعی ڈرائنگ روم کا دروازہ اندر سے بند نہیں ہے۔ میں دروازہ کھول کر اندر آ جاتا ہوں تپائی پر چائے کے برتن رکھے ہیں۔ چائے دانی سے ہلکی ہلکی بھاپ اٹھ رہی ہے۔ پلیٹوں میں مختلف قسم کے پھل اور کھانے کی چیزیں قرینے سجی ہوئی ہیں۔ میں گردن گھما کر دیکھتا ہوں۔ قدموں کی چاپ سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ساتھ والے کمرے کے دروازے پر آ گئی ہے۔ درمیان میں ہلکے گلابی رنگ کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ میں اسے دیکھ نہیں سکتا۔ اس کی آواز سن سکتا ہوں وہ کہہ رہی ہے۔

          ’’مجھے معلوم تھا تم آنے والے ہو۔ مجھے یہ بھی پتہ تھا کہ تم تیسرے خواب والے وعدے پر بارہ برس بعد ہی عمل کرو گے۔ تم نے مجھے بارہ برس تک راہ دکھائی ہے۔ اب بارہ برس تک تمہیں اکیلے بیٹھ کر چائے پینا ہو گی اور تیرھویں برس کا انتظار کرنا ہو گا۔‘‘

          میں چائے کی دو پیالیاں بنا کر رکھ دیتا ہوں اور کہتا ہوں۔

          ’’جب تک تم میرے پاس نہیں بیٹھو گی میں چائے نہیں پیوؤں گا تم نے کم از کم ایک پیالی چائے میرے ساتھ بیٹھ کر پینے کا وعدہ کیا تھا۔‘‘

          وہ کہتی ہے ’’جب تم اپنے وعدے پر پورے نہیں اترے تو میں بھی اس کی پابند نہیں ہوں تم نے بارہ برس تک مجھے انتظار کی آگ میں جلاتا ہے۔ اب تمہیں بارہ برس تک انتظار کرنا ہو گا۔‘‘

           اور تم؟‘‘ میں  پوچھتا ہوں۔

          ’’میں ‘‘ ’’وہ کہتی ہے‘‘ تم سے باتیں کروں گی۔ مجھے تم سے بہت سی باتیں کرنا ہیں۔ اور پھر اس طرح تمہارے انتظار کے بارہ برس آسانی سے کٹ جائیں گے۔

          میری آنکھوں سے آنسو گرتے ہیں لیکن گرنے سے پہلے جم جاتے ہیں۔ میں انہیں خالی پلیٹ میں چن دیتا ہوں وہ بولتی رہتی ہے۔

          ’’جب تم گھر سے چلے تھے تمہارا یہاں آنے کا ارادہ نہیں تھا لیکن میں جانتی تھی اب تمہیں آنا ہی پڑے گا۔ تم کہیں اور نہیں جا سکتے۔ تمہیں شائد معلوم نہ ہو۔ میں سب کچھ جانتی ہوں۔مجھے ہر بات کا پتہ چل جاتا ہے۔ یہ بات میں نے تمہیں پہلے خواب میں بھی بتائی تھی۔‘‘

          ’’پہلا خواب؟ نہیں۔۔۔۔ وہ تو شائد دوسرا خواب تھا‘‘ میں جواب دیتا ہوں۔

          ’’نہیں وہ پہلا خواب تھا‘‘ وہ کہتی ہے۔ ’’مجھے تو ذرا ذرا سی بات یاد ہے۔میں نے کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ نہ مجھے کسی نے دیکھا تھا اسی لئے جب ہر صبح مجھے پانچ پھولوں سے تولا جاتا۔ تو میرا وزن کبھی کم یا زیادہ نہیں ہوتا تھا۔ سارا شہر میرے بدن کی روشنی سے منور تھا۔ لوگ راتوں کو گھروں میں چراغ نہیں جلاتے تھے جلا نہیں سکتے تھے۔ مگر میرا دل اداس رہتا تھا۔ مجھے پھولوں سے وحشت ہوتی تھی۔ اور میں پہروں چپ چاپ بیٹھی سوچوں میں کھوئی رہتی تھی اور پتہ ہے تم۔۔۔۔‘‘

          میں اس کی باتیں توجہ سے سنتا ہوں۔۔۔۔ ایک۔۔۔۔ دو۔۔۔۔ تین برس گزر جاتے ہیں۔ میں اس کی باتوں سے اکتا جاتا ہوں۔ اسے پردے کے پیچھے کھڑے باتیں کرتے چھوڑ کر میں تھوڑی دیر کے لئے باہر نکل جاتا ہوں اور وہ۔۔۔۔ جو سب کچھ جانتی ہے، نہیں جان سکتی کہ میں وہاں نہیں ہوں۔

          میں گلی سے نکل کر سڑک پر آتا ہوں۔ سڑک پہلے سے زیادہ چوڑی کر دی گئی ہے۔ لیکن ٹریفک کے تناسب سے اب بھی نا کافی ہے۔ فٹ پاتھ پر کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔ ہر طرف شور و غل ہے۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ میں چوک پر پہنچ کر تازہ اخبار خریدتا ہوں اس میں میرے لئے بہت سی خبریں دلچسپ نئی اور عجیب ہیں۔ نئے نئے ناموں کے وزیر، نئے منصوبے، ایک نیا ریڈیو اسٹیشن قائم ہوا ہے۔ ملک میں بہت سی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ میں اخبار پڑھتا اور لوگوں سے ٹکراتا جاتا ہوں۔ کہ اچانک میری نظر اپنی تصویر پر پڑتی ہے۔ میرے چچا نے ان تمام احباب اور رشتہ داروں کا بذریعہ اخبار شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے میری بے وقت موت پر انہیں تعزیتی پیغامات اور تار بھیجے ہیں۔ اور جنہیں فرداً فرداً جواب دینے سے قاصر ہیں۔ اپنی بے وقت موت کی خبر پڑھ کر میرا جی بھر آتا ہے۔ اور میں دیر تک آنسو بہاتا رہتا ہوں پھر مجھے اپنے چچا کا غم سے نڈھال چہرہ یاد آتا ہے میں اخبار سے آنسو خشک کر کے جلدی جلدی گئی ہیں۔ میں انہیں تسلی دیتا ہوں۔ جائیداد فروخت کر کے فیکٹری یا کارخانہ لگانے کا مشورہ دیتا ہوں۔ اپنی نگرانی میں اپنی قبر کو پختہ کراتا ہوں۔ اور اس پر کتبہ لگواتا ہوں۔

          جب میں لوٹتا ہوں تو وہ دوسرے خواب کا حال بیان کر رہی ہوتی ہے۔ چائے ابھی ٹھنڈی نہیں ہوئی۔ میں چپ چاپ آ کر صوفے میں بیٹھ جاتا ہوں کبھی کبھی دروازے کے ادھ کھلے پٹ سے ہوا کا نازک سا جھونکا اندر آتا ہے تو میری نظریں اسے ہلکے گلابی رنگ کے پردے تک چھوڑنے جاتی ہیں۔ وہ مجھے نظر نہیں آتی لیکن اس کی آواز سنائی دیتی رہتی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے۔

          ’’اگرچہ میں وہاں کبھی نہ جا سکی لیکن تمہارے جسم کی خوشبو مجھ تک ہر لمحہ پہنچتی تھی۔ میں ہر شام محل کی چھت پر کھڑے ہو کر ہوا میں تمہارے جسم کی خوشبو محسوس کرتی اور سمت کا تعین کرتی تھی۔ پھر جس روز تم کنویں کی قید سے رہا ہوئے اس روز صبح سے میری بائیں آنکھ پھڑک رہی تھی۔ اور خوشبو کی کثرت سے مجھے سانس لینا دو بھر ہو گیا تھا۔ اور مجھے یہ پتہ چل گیا تھا کہ اب تم تیسرے خواب کر سفر پر روانہ ہو گے۔ مجھے اس کی باتیں سنتے سنتے تین برس اور بیت گئے ہیں۔ میں اس کی باتوں سے اکتا جاتا ہوں۔ اور چھٹے برس اس سے آنکھ بچا کر باہر نکل جاتا ہوں اور وہ جو سب کچھ جان لیتی ہے۔ نہیں جان سکتی کہ میں وہاں نہیں ہوں۔

          گلی کے نکڑ پر مجھے ایک نہایت حسین عورت دکھائی دیتی ہے اسے دیکھ کر میں ٹھٹھک جاتا ہوں۔ پھر س کے اشاروں پر ناچنے لگتا ہوں۔ جب ناچتے ناچتے تھک جاتا ہوں وہ مجھے اپنے گھر لے جاتی ہے میں اس کے پیچھے پیچھے اس کے گھر میں داخل ہوتا ہوں دروازہ اپنے اپ کھٹاک سے بند ہو جاتا ہے۔ میں دوسرے ہی لمحے ایک ایسے گڑھے میں گر جاتا ہوں جس میں لوہے کی بڑی بڑی نوکیلی سلاخیں عموداً گڑی ہوئی ہیں۔ جس میں جسم سے خون کے فوارے نکلنے لگتے ہیں خوبصورت عورت چہرے سے خوبصورتی کا ماسک اتارتی ہے۔ اس کے لمبے لمبے دانت اور مکروہ صورت دیکھ کر میں بے ہوش ہو جاتا ہوں۔ جب مجھے ہوش آتا ہے۔ تو میری ہڈیاں ننگی ہوتی ہیں انسانی گوشت کے جلنے کی بو چاروں طرف پھیلی ہوتی ہے۔قریب ہی میری کھال رکھی ہوتی جس میں جا بجا سوراخ ہیں میں اپنی کھال اٹھا کر اوڑھ لیتا ہوں۔ اور بھاگتا ہوا واپس آ جاتا ہوں۔

          اسے بالکل پتہ نہیں چلتا۔ وہ اپنے تیسرے خواب کی تفصیل سنا رہی ہے۔ میں چائے کی پیالیاں ٹٹولتا ہوں۔ چائے ابھی تک ٹھنڈی نہیں ہوئی وہ کہتی ہے۔

          ’’پاداش میں میرے بدن کا نور جاتا رہا۔ اور میں پھولوں کی بجائے پونڈوں سیروں میں تلنے لگی۔ پھر بھی میں خوش تھی۔ میرا اندر آباد تھا مجھے تنہائی اور ویرانی سے نجات ملی تھی۔ اور شائد میں ہمیشہ خوش ور مطمئن رہتی۔ اگر مجھے تمہارے بارے میں پتہ نہ ہوتا کہ تم کہاں ہو۔ اور کیا کرتے ہو۔ کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ تم بارہ برس کی قید با مشقت کاٹ رہے تھے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں تمہیں بارہ برس کا بن بار ملا تھا۔ اور کچھ لوگوں کا اصرار تھا کہ تم کسی اندھے کنویں میں الٹے لٹک کر بارہ برس سے چلہ کشی کر رہے ہو۔ لیکن میں جانتی تھی مجھے سب کچھ معلوم تھا کہ تم کس طرح دن رات دولت جمع کرنے میں مصروف ہو کاش تم مجھ سے پوچھ لیتے کاش آخری خواب میں میں نے تمہیں بتا دیا ہوتا کہ وہ دولت تمہارے کسی کام نہیں آئے گی۔

          میں اس کی باتیں سنتا ہوں یہاں تک کہ تین سال اور بیت جاتے ہیں نویں سال میں اکتا کر باہر نکل جاتا ہوں۔ اور وہ جو سب کچھ جان لیتی ہے۔ نہیں جان سکتی کہ میں وہاں نہیں ہوں۔

          گلی سنسان پڑی ہے۔

          کسی گھر سے کسی بچے کے رونے کی آواز آتی ہے۔ نہ کسی کھڑکی سے کوئی عورت جھانکتی ہے ساری گلی ویران اور خاموش ہے۔ میں سڑک پر آتا ہوں۔ سڑک پر کہیں بھی کوئی نہیں ہے۔ آدمی نہ حیوان نہ پرند۔۔۔۔ ہر طرف مکمل خاموشی ہے۔ موت کا سا سناٹا ہے۔ ہو کا عالم ہے۔ دکانیں کھلی ہیں مگر دکاندار اور خریدار نہیں ہیں۔ ٹانگے اور ریڑھے سڑک کے ایک طرف یا درمیان میں کھڑے ہیں مگر ان میں کوئی سواری ہے نہ کوئی جانور جُتا ہوا ہے۔ مٹھائی کی دکان سجی ہوئی ہے مگر ایک مکھی نہیں ہے۔ کوئی پرندہ پھڑپھڑاتا نہیں آتا۔ کوئی ذی روح بولتا سنائی نہیں دیتا۔ کاش کہیں کوئی کتا ہی بھونکتا سنائی دے۔ میں خوف سے کانپنے لگتا ہوں اور اس قدر گہرے سکوت سے مجھے ہول آنے لگتا ہے میں بھاگ کر ریڈیو کی ایک بڑی دکان میں گھس جاتا ہوں۔ اور باری باری ہر چھوٹے بڑے ریڈیو کی سوئی گھماتا ہوں۔ کسی بینڈ پر کوئی اسٹیشن سنائی نہیں دیتا۔ خوف کے مارے میرا دل بیٹھنے لگتا ہے۔ اسی لمحے میری نظر قریب پڑے ٹیپ ریکارڈر پر پڑتی ہے۔ میری ڈھارس بندھ جاتی ہے۔ میں ٹیپ ریکارڈر سے انسانی آوازیں سن کر اپنا حوصلہ بڑھاتا ہوں۔

          پھر اچانک اس احساس سے کہ ان سب چیزوں کا میں تنہا مالک ہوں اور دکانوں مکانوں گلیوں کو چوں بازاروں پر میں اکیلا قابض ہوں اور وہ سب کسی انجانے خوف کی وجہ سے شہروں کے شہر میرے لئے خالی کر کے بھاگ گئے ہیں میں خوشی اور مسرت کے جذبات سے سرشار ہو جاتا ہوں۔ لیکن یہ خدشہ کہ کہیں کوئی اور بھی میری طرح موجود نہ وہ۔ مجھے اچانک فکر مند کر دیتا ہے میں اسلحہ کی دکان سے بندوق اور گولیاں لے کر اس کی تلاش میں نکلتا ہوں جس کے موجود ہونے کا امکان ہے میں میں اسے پہلے آہستہ آہستہ بلاتا ہوں پھر بلند آواز مین پکارتا گالیاں دیتا اور للکارتا ہوں۔ بز دلی کے طعنے دیتا ہوں۔ لیکن وہ سامنے نہیں آتا میں اس کی تلاش میں شہر کا چپہ چپہ چھانتا ہوں لیکن وہ کہیں نظر نہیں آتا۔ جب مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ کہیں نہیں ہے۔ تو میں ہوائی فائرنگ کر کے اپنی بے پناہ خوشی کا اظہار کرتا ہوں۔

          اچانک مجھے اس کا خیال آتا ہے۔ میں بھاگتا ہوا واپس آتا ہوں۔ تاکہ اسے خوشخبری سنا سکوں۔ کہ اب دنیا میں صرف میں اور وہ باقی ہیں۔ اور پوری دنیا پر ہماری آنے والی نسلوں کی حکمرانی ہو گی۔

          میں چپکے سے آ کر صوفے میں دھنس جاتا ہوں۔ وہ کہتی ہے۔

          ’’مجھے سب پتہ ہے تم نے باہر جا کر جو کچھ دیکھا اور جو کچھ سوچا ہے مجھے اس کا بھی علم ہے۔ اور جانتے ہو مجھے یہ بھی معلوم کہ میری باتوں کے دوران میں تم ہر تین سال بعد چپکے سے اٹھ کر باہر چلے جاتے رہے ہو۔ تم میری باتیں سن سن کر اکتا جاتے ہو۔ اس لئے اب میں میں کچھ نہیں بولوں گی۔ ابھی تین برس باقی ہیں یہ بٹن برس تمہیں تنہائی اور خاموشی سے اکیلے بیٹھ کر گزارنا ہونگے۔

          وہ خاموش ہو جاتی ہے۔ میری آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگتے ہیں۔ جو گرنے سے پہلے جم جاتے ہیں۔ میں انہیں اٹھا کر پلیٹ میں چن دیتا ہوں۔ ایک دو تین برس گزر جاتے ہیں۔

          تیرھواں برس شروع ہوتا ہے۔ میں اسے پکارتا ہوں۔ چائے ابھی تک گرم ہے میں پردے کی طرف دیکھتا ہوں لیکن وہ سامنے نہیں آتی۔ جواب بھی نہیں دیتی۔ میں اٹھ کر پردہ ہٹاتا ہوں وہ کہیں بھی نظر نہیں آتی۔

          اسی لمحے انسانی آوازوں کا شور سنائی دیتا ہے۔ شائد شہر سے بھاگے ہوئے لوگ اپنے گھروں میں و اپس آ رہے ہیں۔

٭٭٭