کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بھُول

منشا یاد


بڑے کمرے کے اس حصے کو، جس میں اوپر کی منزل کے غسل خان کی سیلن رستی رہتی تھی پارٹیشن وال کھڑی کر کے اور ایک پرانا دروازہ لگا کر سٹور روم بنا دیا گیا تھا۔ جس میں کھڑکی نہ روشندان۔ انہوں نے اندر آتے ہی سٹور روم کے دروازے کی کنڈی لگا دی۔ اسے لگا جالی میں پھنس گیا ہے۔ موت کی کال کوٹھڑی میں قید ہو گیا ہے۔

یقیناً انہیں شک ہو گیا تھا کسی نے اسے گھر میں گھستے دیکھ کر خبر کر دی تھی۔ مگر آدمی کو آخری وقت تک اپنی سی کوشش کرتے رہنا چاہئے اس خیال سے وہ لکڑی کی سخت سیٹ اور تین ٹانگوں والی کرسی دروازے کے سامنے رکھ کر بیٹھ گیا اور جھری سے ان کی حرکت و سکنات کا مشاہدہ کرنے لگا۔

ماسٹر جی نے چھتری کھونٹی سے لٹکائی۔ جب سے کچھ کاغذات نکال کر الماری میں رکھے اور پنکھا لگا کر اطمینان سے ایک کرسی پر بیٹھ گئے وہ خاموش اور سنجیدہ ضرور تھے مگر کسی کرید یا شک کی کوئی پر چھائیں ان کے چہرے پر نظر نہ آتی تھی۔ اسے قدرے اطمینان ہوا۔

تھوڑی دیر بعد وہ ان کے لئے چائے لیکر آ گئی۔

پہلی نظر میں وہ اسے اتنی حسین نظر نہ آئی تھی جتنی اس کی دھوم تھی یا جتنی اب نظر آ رہی تھی عجیب طلسماتی سا چہرہ تھا۔ جتنا دیکھو اتنا ہی نکھرتا جاتا اور کوئی اور چھوڑ نظر نہ آتا۔ ’’کوئی سبزی ترکاری لا دیجئے‘‘ اس کی آواز میں تھوڑی دیر پہلے کے وقوعے کی گھبراہٹ اب تک موجود تھی ’’لانا وانا کچھ نہیں۔ پہلے کیوں نہیں بتایا۔ جو گھر میں ہے پکا لو‘‘ انہوں نے ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔ وہ گرمی میں ابھی ابھی تو باہر سے آئے تھے۔ انکی خفگی سمجھ میں آتی تھی۔

اس نے مایوس اور پریشانی نظروں سے سٹور روم کی طرف دیکھا اور چپ چاپ چلی گئی۔

صاف ظاہر تھا اب بڑے میاں کا کہیں جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا اور وہ دن بھر گھر میں ہی براجمان رہیں گے۔ پھر شام کو ان کے دونوں بیٹے کام سے واپس آ جائیں گے اور باہر نکلنے کا راستہ بالکل مسدود ہو جائے گا۔ اسے برا سا خیال آیا۔ اگر ان سب نے مل کر اسے قتل کر دیا اور اسی تاریک کمرے میں گڑھا کھود کر دبا دیا تو کیا ابا کو اپنے کشف سے پتہ چل جائے گا؟ اور بالفرض پتہ چل بھی جائے تو کیا وہ دوبارہ زندہ ہو سکے گا؟ اس بد خیال سے اسے جھر جھری سی آ گئی۔

امید کی اب صرف ایک ہی کرن باقی تھی کہ ممکن ہے دوپہر کا کھانا کھا کر ماسٹر جی سو جائیں اور وہ کنڈی کھول کر اسے باہر نکال دے۔

شاید اس سے بہت بڑی حماقت ہو گئی۔ اس نے غلط گھر اور وقت کا انتخاب کیا۔

لوگ سنیں گے تو کہیں گے سات گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے اور وہ تو اس کے استاد تھے۔ مگر اب پچھتانے سے کیا حاصل۔ غنیمت ہے کہ وہ زیادہ سمجھدار نکلی اور کوئی بڑا حادثہ رونما نہ ہوا ورنہ ماسٹر جی ہنگامہ کھڑا کر دیتے۔ وہ چھوٹی موٹی غلطی بھی صاف نہیں کرتے تھے اتنی بڑی خطا پر کیسے درگزر کرتے اور خدا جانے انہیں خاموش کرنے کے لئے اسے کیا کچھ کرنا پڑ جاتا جس کا اسے ہمیشہ افسوس رہتا۔

بھوک، پیاس اور حبس سے اس کی حالت خراب ہونے لگی۔ گرمی سے اس کے اندر کی سلوٹیں اور پسینے سے باہر کی کریز میں برابر ہوتے ہیں مگر اب چارہ ہی کیا تھا۔

دوپہر ڈھل رہی تھی جب وہ ماسٹر جی کا کھانا لیکر آئی۔ گرمی میں چولھے کے پاس کھڑے رہنے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔ ماسٹر جی کھانا کھانے لگ گئے اور وہ پنکھے کے نیچے کھڑی ہو کر دوپٹے سے اپنا چہرہ رگڑنے لگی۔

’’بیٹھو بیٹی۔ تم بھی کھاؤ‘‘ ماسٹر جی کا لہجہ اب خاصا نرم تھا

’’گرمی میں کھانا پکاتے پکاتے میری بھوک مر گئی ابو‘‘

’’ہاں آج بہت گرمی ہے‘‘ انہوں نے آہستہ آہستہ لقمہ چبائے ہوئے جواب دیا۔

’’مجھے تو ایسے لوگوں کا خیال آ رہا ہے ابو۔ جو بے چارے دھوپ میں جسمانی مشقت کرتے ہیں یا جن کے گھروں میں پنکھے ہیں نہ برف اور فریج کا ٹھنڈا پانی‘‘

ماسٹر جی نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ چپ چاپ کھانا کھاتے رہے۔ لیکن جب وہ کمرے کی چیزیں ٹھیک کر کے جانے لگی تو بولے۔

’’بیٹی سٹور کی کنڈی لگا کر رکھا کرو۔ مجھے بتانا یاد نہ رہا۔ صبح جب میں چھتری تلاش کرتا ہوا اندر گیا تو مجھے لگا اندر سانپ ہے۔

’’سانپ؟‘‘

’’ہاں۔۔ بڑے صندوق کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ مگر اس کی دم صاف نظر آ رہی تھی۔‘‘

اسے کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ وہاں سچ مچ سانپ تھا یا ماسٹر جی اسے سانپ کہہ رہے تھے اور اپنے بیٹوں کی واپسی تک بند رکھنا چاہتے تھے۔ تاکہ اطمینان سے اس کا سر کچلا جا سکے۔

’’اب کیا ہو گا ابو؟‘‘ اس کا طلسماتی چہرہ ایک دم مرجھا گیا تھا۔

’’ڈرو مت۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا۔ میں جلد ہی کسی سانپ پکڑنے والے کو بلا لوں گا‘‘

’’ابھی بلا لیجئے نا‘‘ اس نے التجائی لہجے میں کہا۔

’’ایسی بھی کیا جلدی ہے‘‘ وہ بولے ’’سانپ کو جب تک اپنی جان کا خطرہ نہ ہو وہ نقصان نہیں پہنچاتا۔ بس تم کنڈی لگا کر رکھو‘‘

’’آپ بھی اب اس کمرے میں نہ سوئیں ‘‘ وہ بولی ’’خدانخواستہ‘‘

’’سانپ سوئے ہوئے آدمی کو نہیں ڈستا۔ اسے چارپائی پر چڑھنے کا حکم نہیں ہے‘‘

’’اللہ کرے یہ سچ ہو‘‘ اس کے لہجے میں تشوش اور بے یقینی تھی۔

وہ برتن اٹھا کر چلی گئی تو ماسٹر جی لیٹ گئے۔

اب تک اسے معلوم نہ تھا کہ وہ اور سانپ ایک ساتھ رہ رہے ہیں۔ مگر اب یہ جان لینے کے بعد، اس کے لئے وہاں رہنا دشوار ہو گیا تھا۔ بار بار نیم تاریک کمرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتا اور جدھر دیکھتا۔ طرح طرح کے رینگتے، سرسراتے، بل کھاتے اور کنڈلی مار کر بیٹھے سانپ نظر آتے۔ کچھ دیر بعد، وہ اس وقت ہڑ بڑا گیا جب سوتے ہیں، ماسٹر جی کے منہ سے نکلنے والی عجیب سی آواز پر اسے سانپ کی پھنکار کا گمان ہوا۔

کمرے کی فضا سے مانوس ہو جانے کے بعد بدبو کا احساس اور پسینے سے بھیک جانے سے گرمی کی شدت کم ہو گئی تھی۔ اس کی بھوک بھی مر گئی تھی مگر پیاس اسے مار ڈالنے کے درپے تھی۔ ماسٹر جی بڑی دیر تک خراٹے لیتے رہے لیکن وہ دوبارہ اندر نہیں آئی۔ شاید وہ کسی زیادہ مناسب وقت اور موقع کے انتظار میں تھی۔

پھر شام ہو گئی۔ ماسٹر جی جاگے، کچھ دیر کھانستے کھنکارتے اور جمائیاں لیتے رہے۔ پھر جگ سے گلاس میں پانی انڈیل کر پینے لگے۔ پانی کی انڈیلے جانے کی آواز اسے بہت ہی بھلی گئی۔ مگر جلتا ہوا سینہ اور جلنے لگا اس نے بچے کھچے تھوک سے بمشکل گلا تر کیا اور ماسٹر جی کے کمرے سے باہر چلے جانے کی دعائیں مانگنے لگا اور اسے حیرت ہوئی کہ اس کی دعا فوراً ہی قبول ہو گئی مگر آدھی کیونکہ ان کے جانے کے بعد اس نے پنکھے کا سوئچ آن کیا تو پتہ چلا وہ خراب ہے۔

پھر رات ہو گئی۔ جس سے سٹور روم میں موت کی سی تاریکی چھا گئی۔ اس نے گھبرا کر بجلی کا بٹن دبایا جس سے کمرہ روشن ہو گیا۔ مگر ساتھ ہی ٹین کی ڈبوں اور ہیڑوں کی اکھڑی ہوئی جالیوں میں کھٹکا ہوا۔ شاید سانپ روشنی سے چھپنے کی کوشش کر رہا تھا۔ روشنی خطرناک ہو سکتی تھی اس نے جلد ہی بچھا دی مگر اس اثنا میں اس نے چارپائی کا جائزہ لے لیا تھا۔ جی کڑا کر کے اٹھا اور چارپائی بچھا کر جوتوں سمیت اس پر لیٹ گیا۔ کیا پتہ سانپ کے چارپائی پر نہ چڑھنے کی بات سچ ہی ہو۔ سخت سیٹ والی کرسی پر بیٹھے رہنے سے اس کی پیٹھ دکھنے لگی تھی اور کرسی کی چوتھی ٹانگ کا کام دینے والی ٹانگ سن ہو گئی تھی۔ لیٹنے سے اس کے اعضا اور پٹھوں کا کھنچاؤ کم ہو گیا اور راحت محسوس ہوئی لیکن دوسرے ہی لمحے کسی چیز نے اس کی پنڈی پر کاٹ لیا۔ وہ تڑپ کر اٹھا اور ٹانگ سمیٹ کر کاٹے جان کی جگہ کو کھجانے سہلانے لگا۔ پتہ نہیں بھڑ تھی یا سانپ۔ اگر بھڑ تھی تو بھی بہت زہریلی کہ مسلسل کھجانے کے باوجود جلن اور کھجلی کم نہیں ہو رہی تھی اور سوجن بڑھتی جا رہی تھی۔ وہ گھبرا کر چارپائی سے اترا اور دروازے کے پاس بجلی کا بٹن تلاش کرنے لگا۔ مگر اسے دروازہ مل رہا تھا نہ بجلی کا بٹن۔ اس کے حساب سے جہاں دروازہ ہونا چاہئے تھا وہاں دیوار تھی۔ اسی تگ و دو میں وہ کئی بار بڑے صندوق اور دیواروں سے ٹکرایا۔ پھر اس کی دوسری ٹانگ ہیٹر کی ٹوٹی ہوئی جالی میں پھنس گئی۔ اس نے زور لگایا تو کوئی نوکیلی چیز اس کی پنڈلی میں چبھ گئی۔ درد سے اس کی چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی۔ اس نے ٹٹول کر دیکھا تو اس کی انگلیاں گیلی ہو گئیں۔ یقیناً خون بہہ رہا تھا۔ کہیں یہ سانپ نے تو نہیں ڈس لیا؟ مارے خوف کے اس کا خون خشک ہو گیا۔ وہ بتی جلا کر دیکھنا چاہتا تھا مگر گھپ اندھیرے میں اسے مشرق مغرب کا کچھ پتہ نہ چل رہا تھا۔ ساری سمتیں ایک ہو گئی تھیں اچانک وہ چونکا۔ بڑے کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز سنائی دی تھی۔ وہ جہاں تھا وہیں رک گیا۔ کسی نے بڑے کمرے کی بتی جلائی۔ وہ سانس روکے انتظار کرنے لگا۔ شاید وہ اس کے لئے اچھی خبر یا کھانے پینے کو کچھ لائی ہو۔ مگر اسے مایوسی ہوئی۔ تھوڑی دیر بعد بتی بجھ گئی اور دروازہ بند ہو گیا۔

اب پھر وہی گھپ اندھیرا تھا۔ بلکہ شاید پہلے سے بھی زیادہ گہرا ہو گیا تھا۔ پھر اسے اس پر جس نے چھری اپنے پیٹ میں گھونپ لینے کی دھمکی دے کر اسے قید میں ڈال دیا تھا اور جسے وہ بہت مہربان سمجھا تھا، غصہ آنے لگا۔ کیا اسے اس کی بھوک، پیاس اور تکلیف کا اندازہ نہ ہو گا؟ کیا اسے اپنی عزت، اس کی جان سے زیادہ پیار تھی؟ اس کا جی چاہا زور زور سے چیخنے چلانے لگے۔ مگر پھر اس نے اپنے باؤلے پن پر خود ہی قابو پا لیا اور آ کر چارپائی پر لیٹ گیا۔ اس میں بالکل سکت نہ رہی تھی۔ آہستہ آہستہ اس پر نقاہت اور غشی طاری ہونے لگی۔ شاید سانپ کا زہر پورے جسم میں پھیلتا جا رہا تھا۔ اسے اپنے گھر والے یاد آئے۔ وہ اس کی گم شدگی پر کس قدر پریشان ہوں گے۔ اسے کہاں کہاں نہیں ڈھونڈیں گے۔ اور شاید ہمیشہ ڈھونڈھتے رہیں گے۔

 اور عنبرین۔ کاش میں مرنے سے پہلے تمہیں بتا سکتا۔ تم مجھے کتنی اچھی لگیں۔ اتنی اچھی کہ میں صرف تمہاری عزت کی خاطر خاموشی سے جان دے رہا ہوں۔ پھر اس پر بے ہوشی طاری ہو گئی اور وہ مر گیا۔ مگر اگلی صبح دوبارہ زندہ ہو گیا اس کی آنکھ کھلی تو یہ سوچ کر خوش ہوا کہ وہ زندہ ہے۔ بڑے کمرے سے مردانہ آوازیں آ رہی تھیں۔ شاید وہ تینوں باپ بیٹے ناشتہ کر رہے تھے۔ کمرے میں اب نیم تاریکی تھی۔ وہ سخت سیٹ اور تین ٹانگوں والی کرسی پر جا بیٹھا اور جھری سے انہیں دیکھنے لگا۔ مگر وہ اسے دکھائی دے رہی تھی نہ اس کی آواز ہی سنائی دے رہی تھی۔ جلد ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ ناشتہ بھی چھوٹے نے ہی بنایا تھا وہ پریشان ہو گیا۔ وہ کہاں گئی؟

اسے کہیں بھیج کر ان کا ارادہ کوئی واردات کرنے کا تو نہیں تھا؟ خوف سے اس کا بدن کانپنے لگا۔ پھر جسے ساری سازش کا اسے خود بخود پتہ چل گیا۔ عام حالات میں ان کا اس پر قابو پانا شاید آسان نہ ہوتا۔ اس لئے اسے بھوکا پیاسا رکھ کر اس قدر نڈھال کر دیا گیا۔ کہ وہ مزاحمت کے قابل نہ رہے اور انہیں اسے ٹھکانے لگانے میں زیادہ تکلیف نہ اٹھانا پڑے۔ اوہ میرے خدایا۔ کہاں آ پھنسا۔ کیسی بھول ہو گئی!

’’ابو میں باجی کو لے آؤ؟‘‘ چھوٹے نے جلدی جلدی چائے پیتے ہوئے کہا۔

’’نہیں تمہیں دیر ہو جائے گی‘‘ ماسٹر جی نے جواب دیا ’’میں خود جا کر لے آؤ گا‘‘

’’جیسے آپ کی مرضی‘‘

’’ٹیکسی تانگہ لے لیجئے گا‘‘ بڑے نے کہا ’’ویگنوں بسوں میں اس وقت بڑا رش ہوتا ہے‘‘

’’ٹھیک ہے‘‘ ماسٹر جی نے کہا۔ وہ ابھی تک ناشتہ کر رہے تھے۔

اس کی جان میں جان آئی۔ سارا غم و غصہ کا فور ہو گیا۔ مگر اب خدا جانے ماسٹر جی کب ناشتہ ختم کر کے اٹھیں، کب اسے لیکر آئیں اور کب اس کے یہاں سے نکلنے کی کوئی صورت پیدا ہو۔ ’’اچھا ابو ہم چلتے ہیں ‘‘ بڑا اٹھ کھڑا ہوا ’’اچھی طرح تالے لگا کر جائیے گا۔ آپ کو بھولنے کی عادت ہے‘‘

’’تم فکر نہ کرو‘‘ ماسٹر جی نے کہا ’’اطمینان سے جاؤ۔ خدا حافظ‘‘

بیٹوں کے چلے جانے کے بعد ماسٹر جی بڑی دیر تک چائے پیتے اور اخبار پڑھتے رہے۔ بھوک اور پیاس سے وہ نڈھال ہو رہا تھا۔ اگر وہ رات کو گھر میں ہوتی اور اسے کسی عزیز رشتہ دار کے ہاں جانا نہ پڑ جاتا یا وہ زبردستی روک نہ لیتے تو یقیناً اس کی یہ حالت نہ ہوتی۔ اس نے سوچا۔ کیا پتہ وہ اب تک اسے وہاں سے نکالنے میں بھی کامیاب ہو چکی ہوتی۔

خدا خدا کر کے ماسٹر جی اٹھ کھڑے ہوئے۔ پانی کے جگ اور ناشتے سے بچ جانے والی چیزوں کو ڈھانپا الماری سے کچھ لیا۔ کمرے کا پنکھا بند کیا۔ سٹور کے دروازے کی کنڈی کو ٹھونک بجا کر اطمینان کیا اور بڑے کمرے کا دروازہ بند کر کے باہر چلے گئے۔ اس کے اندر کا اضطراب رسے تڑانے لگا۔ مگر اس نے توقف کیا۔ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں اس نے بہت کچھ سیکھ لیا تھا۔ پھر جب اس کے انداز سے ماسٹر جی چوک میں پہنچ گئے تو اس نے ضبط کی لگا میں چھوڑ دیں۔ رہی سہی توانائی جمع کر کے اس نے دونوں ہاتھوں سے شور کے بوسیدہ کواڑ کو زور کا جھٹکا دیا وہ کھٹاک سے کھل گیا۔ اس نے تپائی سے پانی کا جگ اٹھایا اور اسے ایک ہی سانس میں خالی کر دیا پھر ایک توس منہ میں ڈال کر چباتا ہوا برآمدے میں کھلنے والی کھڑکی کے پاس آیا۔ اس کے بولٹ کھولے، اس میں جالی تھی نہ گر لی۔ وہ بڑی آسانی سے برآمدے میں کو دیکھا۔ مگر ابھی گھر سے باہر نکلنے کا بڑا مرحلہ باقی تھا وہ باہر کے دروازے کے بولٹ کھولنے کے لئے مناسب اوزار تلاش کر رہا تھا جب اس کی نظر نیم وا صدر دروازے پر پڑی۔ اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا۔ تو کیا ماسٹر جی، دروازہ بند کرنا سچ مچ بھول گئے تھے؟!

٭٭٭