کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

بوکا

منشا یاد


تپش اگلتی زمین۔ مضبوطی سے گڑے ہوئے حبس کے خیمے۔ شکر دوپہر رات، ہر طرف گہرا ہولناک سناٹا۔ رات کا کوئی پابہ زنجیر لمحہ۔

گھمس گھمس گھمس ۔۔ پیاس پیاس پیاس!

عجیب خوفناک رات ہے جس کی بھی آنکھ تھوڑی دیر کے لئے لگتی ہے وہ ایک ہی جیسا ڈراؤنا خواب دیکھ کر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔

کیا دیکھتا ہوں اک تاریک اور گہرا کنواں ہے۔ جس کے اردگرد بہت سے لوگ جن کی صورتیں دھند اور تاریکی میں پہچانی نہیں جا رہیں، کھڑے ہیں۔ وہ باری باری کنوئیں کے اندر جھانکتے اور پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اپنی باری آنے پر۔۔ میں اندر جھانکتا ہوں ۔۔ اندر۔۔ اندر باہر سے زیادہ تاریکی اور خاموشی ہے۔ مجھے پانی دکھائی نہیں دیتا مگر اس کے خیال سے میری پیاس اور بھڑک جاتی ہے میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں اور اپنے پیاسے ہونٹوں پر زبان پھیرنے لگتا ہوں۔ ان میں سے ایک بار بار کھنکارتا، تھوک سے گلا تر کرتا اور کہتا ہے۔

’’کچھ کرو۔۔ ورنہ سب پیاس سے مر جائیں گے۔‘‘

’’کیا کریں ؟‘‘

ایک بار اور کنڈا (پھندا)ڈال کر دیکھو۔۔ شاید مل ہی جائے۔‘‘

’’نہیں ملے گا۔۔ ہم کنڈے ڈال ڈال کر تھک گئے ہیں۔‘‘

’’کسی غوطہ خور کو بلواؤ۔‘‘

’’بلوایا تھا۔‘‘

’’پھر؟‘‘

’’اس نے کہا تہہ میں کیچڑ اور دلدل ہے اسے ڈر لگتا ہے۔‘‘

’’پھر کیا کریں ؟‘‘

’’کوئی ہمت کرے اور جا کر نکال لائے۔‘‘

’’نہیں ۔۔ پہلے یہ پتہ چلاؤ یہ بار بار پھینک کون دیتا ہے؟‘‘

’’یہ بعد میں پتہ چلائیں گے۔‘‘

’’ہاں ہاں پہلے نکالنے تو دو۔‘‘

’’کچھ فائدہ نہیں ۔۔ پہلے یہ پتہ چلانا چاہیے کہ بار بار پھینک کون دیتا ہے؟‘‘

’’چپ کر اوئے۔۔ پہلے نکالنے تو دے۔‘‘

’’ہاں ٹھیک ہے۔‘‘

’’کوئی ہے جو اترے؟‘‘

’’کوئی ہے؟‘‘

’’کوئی ہے؟‘‘

’’کوئی نہیں ۔۔ ہم سب پیاس سے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جائیں گے۔‘‘

’’میں ہوں۔‘‘ ایک طرف سے آواز آتی ہے۔

’’تم؟‘‘

’’ہاں میں ۔۔ میں جاؤں گا اور نکال کر لاؤں گا۔‘‘

میں کچھ کہنا چاہتا ہوں لیکن آواز میرے حلق میں پھنس جاتی ہے۔ وہ کنوئیں کی منڈیر سے رسی باندھتا اور مضبوطی سے گرہ لگاتا ہے۔سب حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات سے اسے دیکھتے ہیں۔وہ رسی ہاتھ میں لے کر کنوئیں میں اترتا ہے، میں تھوک نگل کر گلا تر کرتا ہوں اور کانپتی ہوئی آواز میں کہتا ہوں۔

’’یہ کیا کر رہے ہو ابا؟‘‘

وہ کہتا ہے’’مجھ سے لوگوں کی پیاس نہیں دیکھی جاتی۔ میں نکال کر لاؤں گا۔‘‘

’’بوکا نہیں ملے گا ابا۔۔ تم خود کھو جاؤ گے۔‘‘

’’تم فکر نہ کرو۔‘‘ وہ کہتا ہے۔ ’’میں ڈوب نہیں جاؤں گا بوکا ڈھونڈھ کر جلد واپس آ جاؤں گا۔‘‘

میں اسے آوازیں دیتا رہتا ہوں مگر وہ نہیں رکتا۔ رسی تھامے آہستہ آہستہ نیچے اترتا چلا جاتا ہے اور نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اس کی آواز اور آہٹ دور ہوتی جاتی ہے پھر اس کے پانی میں غوطہ لگانے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ سب منڈیر پر کہنیاں ٹیک کر اندر جھانکتے ہیں مگر کچھ دکھائی نہیں دیتا کوئی آواز سنائی نہیں دیتی، میں گھبرا کر پکارتا ہوں۔

’’ابا۔‘‘

میری آواز دیر تک کنوئیں کی دیواروں پر موٹر سائیکل چلاتی رہتی ہے پھر ڈوب جاتی ہے۔

’’ڈوب گیا ہے۔‘‘

’’کیچڑ میں پھنس گیا ہے۔‘‘

’’مجھے پہلے ہی ڈر تھا۔‘‘

میں اسے آوازیں دیتا ہوں۔ وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ میں کنوئیں میں لٹکتی بے حرکت رسی کو دیکھتا ہوں اور میرے منہ سے چیخ نکل جاتی ہے۔میری چیخ کی آواز سن کر وہ ساتھ والی چارپائی سے اٹھ کر میرے قریب آتا اور شفقت سے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر کہتا ہے

’’کیا ہوا بیٹے۔۔ خیریت تو ہے؟‘‘

میں پسینے میں شرابور، ابھی تک لرز رہا ہوں۔ کانپتے ہاتھوں سے اسے ٹٹولتا اور پوچھتا ہوں

’’ابا۔۔ یہ تم ہی ہو نا۔۔ بوکا نکال لائے ہو؟‘‘

’’معلوم ہوتا ہے۔تم نے بھی برا خواب دیکھا ہے۔‘‘

’’تو کیا تم نے بھی دیکھا ہے ابا؟‘‘

’’ہاں بیٹے بہت برا۔‘‘

’’کیا دیکھا ہے ابا؟‘‘

’’میں نے دیکھا۔‘‘ وہ کہتا ہے۔ ’’ایک دنبہ ہے سفید سفید اون اور بھاری خوبصورت چکی والا۔ میرے آگے آگے دوڑ رہا ہے، میں چھری لئے اس کے پیچھے بھاگتا ہوں۔ مگر اسے پکڑ نہیں پا رہا ہوں۔ جب میں ہانپ جاتا ہوں تو کہتا ہوں۔‘‘

’’بزدل اللہ کی راہ میں جانے سے ڈرتے ہو؟‘‘

میری بات سن کر وہ رک جاتا ہے اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں اور وہ گردن جھکا کر کہتا ہے۔ ’’اچھا۔۔ جیسے اس کی رضا۔‘‘

میں اسے زمین پر لٹاتا، گردن پر چھری رکھتا اور چلانا چاہتا ہوں۔ وہ کہتا ہے۔ ’’آنکھوں پر پٹی باندھ لو۔‘‘

میں آنکھوں پر پٹی نہیں باندھتا اور اللہ اکبر پڑھ کر چھری چلا دیتا ہوں اور یہ دیکھ کر میری چیخ نکل جاتی ہے کہ اس کی جگہ تم ذبح ہوئے پڑے ہو۔۔ استغفار بیٹے۔۔ اللہ تمہاری عمر دراز کرے۔

کچھ دیر کے لئے ہم دونوں خاموش ہو جاتے ہیں وہ زیر لب کچھ پڑھ پڑھ کر میری طرف منہ کر کے پھونکنے لگتا ہے اور ابھی اس نے تیسری پھونک مارنا ہوتی ہے کہ میرا چھوٹا بیٹا ابو ابو پکارتا اٹھ کر بیٹھ جاتا اور رونے لگتا ہے۔ پھر اس کی ماں جاگتی ہے اور اسے سینے سے چمٹا کر وہ بھی رونے لگتی ہے۔ ابا اپنی پھونکوں کا رخ ان کی طرف کر لیتا ہے۔

وہ پوچھتی ہے۔ ’’کیا وقت ہو گا؟‘‘

’’پتہ نہیں۔‘‘ میں جواب دیتا ہوں۔ ’’کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ آسمان دھند میں چھپا ہوا ہے کوئی ستارہ تک نظر نہیں آتا جس سے وقت کا اندازہ ہو سکے۔ عجیب رات ہے۔ لگتا ہے وقت رک گیا ہے اور اب کبھی صبح نہیں ہو گی۔‘‘

’’کیا صبح نہیں ہو گی؟‘‘ وہ پریشان ہو جاتی ہے۔

’’ہو گی۔۔ ضرور ہو گی تم سو جاؤ۔‘‘ ابا جواب دیتا ہے پھر کہتا ہے۔ ’’ضرور کہیں کچھ ہوا ہے۔‘‘

’’کیا ہوا ہے۔‘‘ وہ اور پریشان ہو کر پوچھتی ہے۔

’’کوئی انہونی بات۔ پتہ نہیں کس پر کیا گزری ہے۔ پہلے بھی ایک بار ایسا ہوا تھا۔‘‘

’’کب۔۔ کیا ہوا تھا ابا؟‘‘

’’یہ پرانی بات ہے بیٹے۔۔ کتابوں میں لکھی ہے۔ دن چڑھے گا تو خود پڑھ لینا۔‘‘

’’دن چڑھے گا ابا؟‘‘

’’ہاں بیٹے۔۔ ہر رات خواہ وہ کتنی ہی قیامت کی کیوں نہ ہو، آخرکار ختم ہو جاتی ہے اور سورج نکلتا ہے،صبح طلوع ہوتی ہے۔‘‘

’’اب کیا وقت ہو گا؟‘‘ وہ پھر پوچھتی ہے

’’صبح کاذب معلوم ہوتی ہے۔‘‘

’’ اور صبح صادق؟‘‘

’’صبح کاذب کے بعد صبح صادق ہوتی ہے پھر شفق پھوٹتی ہے اور سورج طلوع ہوتا ہے۔‘‘

’’مگر مرغ نے اذان نہیں دی؟‘‘

’’ہاں ۔۔ مرغ نے اذان نہیں دی؟۔۔ تم جاؤ۔۔ جا کر دیکھو۔‘‘

میں اٹھ کر ڈربے کے قریب آتا ہوں دروازہ کھولتا ہوں۔مرغ زندہ اور سلامت ہے اور جاگ رہا ہے مگر بری طرح خوفزدہ ہے اور ہانپ رہا ہے شاید اس نے بھی کوئی ڈراؤنا خواب دیکھا ہے۔میں اسے پکڑ کر باہر نکالنا چاہتا ہوں مگر وہ سہمی ہوئی مرغیوں کے پروں میں سر چھپا کر دبک جانا چاہتا ہے۔میں اسے زبردستی پکڑ کر باہر نکالتا ہوں۔ اس کی گردن کو اوپر کرتا اور اسے بھینچ کر اس کے اندر سے آواز نکالنے کی کوشش کرتا ہوں مگر آواز نہیں نکلتی۔

’’چھوڑ دے۔‘‘ ابا کی آواز سنائی دیتی ہے۔ ’’ایسے آواز نہیں نکالی جا سکتی۔۔ اور نکل بھی آئے تو ایسی اذان کا کیا فائدہ؟‘‘

میں مرغ کو واپس ڈربے میں دھکیل دیتا ہوں اور آ کر اپنے بستر پر لیٹ جاتا ہوں۔ ابا کہتا ہے۔

پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں۔ مرغ اذان نہ بھی دے تو بھی وقت رکتا نہیں ہے۔‘‘

’’مجھے تو ٹھہرا ہوا معلوم ہوتا ہے۔‘‘

’’نہیں بیٹے۔ جب ہمیں وقت ٹھہرا ہوا لگتا ہے اس وقت دراصل ہم خود ٹھہرے ہوئے ہوتے ہیں۔ اندر اندھیرا ہو جائے تو دن رات ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں۔نیکی اور بدی کی پہچان نہیں رہتی۔عدل اور بے عدلی میں تمیز نہیں رہتی۔ مگر وقت چلتا رہتا ہے اور ہر رات کے بعد صبح کا اجالا ضرور پھیلتا اور چیزوں کی اصلی صورتیں نظر آنے لگتی ہیں۔‘‘

’’اگر صبح نہ ہوئی تو؟‘‘ وہ کہتی ہے۔

’’ایسا نہیں ہو سکتا۔‘‘ ابا کہتا ہے۔ ’’پہلے کبھی ایسا ہوا ہے؟۔‘‘

’’پہلے کبھی ایسی ہولناک رات اور اس طرح کے بھیانک خواب بھی تو دکھائی نہیں دئیے۔‘‘

’’اللہ خیر کرے گا۔۔ تم لوگ سو جاؤ۔‘‘

’’سو جائیں ؟۔۔ کیوں ؟۔۔ کس طرح؟؟‘‘

’’مجھے نیند نہیں آتی۔‘‘ وہ کہتی ہے۔ ’’ اور کاکا بھی بار بار ڈر کر چونکتا ہے‘‘

’’مجھے بھی نیند نہیں آ رہی۔‘‘ میں کہتا ہوں ’’ اور ڈر بھی لگتا ہے کہیں پھر سے ویسا ہی خواب۔۔‘‘

’’نہیں بیٹے۔‘‘ ابا کہتا ہے۔ ’’تم سو جاؤ۔۔ میں جاگتا ہوں۔میں جاگتا اور پڑھتا رہوں گا تو تمہیں برے خواب دکھائی نہیں دیں گے۔‘‘

اسی لمحے اچانک آہٹ سنائی دیتی ہے ہم چونک کر ڈربے کی طرف دیکھتے ہیں۔ لگتا ہے مرغ ڈربے سے باہر نکل آیا اور اپنے پر پھڑپھڑا کر اذان دینے کے لئے زور لگا رہا ہے مگر آواز اس کے حلق میں پھنس گئی ہے۔ زور لگاتے لگاتے وہ ہانپ جاتا اور اذان کو ادھورا چھوڑ کر ڈربے میں گھس جاتا ہے۔

 جاگتے جاگتے اور حبس اور دھند کے سائبان میں ستارے تلاش کرتے کرتے ہماری آنکھیں تھک جاتی اور اعصاب شل ہو جاتے ہیں مگر روشنی اور صبح کے آثار کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ لگتا ہے رات کا کوئی لمحہ ساکت ہو گیا ہے یا مرغ کے گلے میں اذان کی صورت میں اٹک گیا ہے۔ مگر پھر گرمی اور حبس کے باوجود نجانے کب اور کیسے میری آنکھ لگ جاتی ہے اور میں نیند کی سیڑھیاں چڑھنے لگتا ہوں۔ مگر ابھی میں نیند کے پہلے زینے پر قدم رکھتا ہوں کہ وہی ڈراؤنا خواب پھر وہیں سے شروع ہو جاتا ہے جہاں میری آنکھ کھل گئی تھی۔

کیا دیکھتا ہوں کہ کنوئیں میں لٹکی ہوئی رسی اچانک ہلنے لگی ہے۔میں اندر جھانکتا ہوں۔کان لگا کر سنتا ہوں اور کہتا ہوں۔

’’وہ ابھی ڈوبا نہیں ۔۔ بوکا ڈھونڈھ رہا ہے۔‘‘

وہ جاتے جاتے پلٹ آتے ہیں اور منڈیر پر کہنیاں ٹیک کر اندر جھانکتے ہیں۔ پانی میں اس کے چلنے اور حرکت کرنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے پھر اندر سے اس کی آواز گونجتی ہے۔ ’’بوکا مل گیا ہے۔‘‘

سب خوش ہو کر ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اس کی آواز پھر آتی ہے۔

’’میں بوکا لے کر اوپر آ رہا ہوں۔‘‘

’’مجھے پہلے ہی یقین تھا۔‘‘ ایک کہتا ہے۔ ’’وہ خالی ہاتھ نہیں آئے گا۔‘‘

’’کمال کا آدمی ہے۔‘‘

’’میں کہتا ہوں ۔۔ پہلے یہ پتہ چلانا چاہیے کہ بار بار پھینک کون دیتا ہے؟‘‘

’’چپ کر اوئے۔۔ شکر کرو مل گیا ہے۔‘‘

’’کچھ فائدہ نہیں ۔۔ جب تک اس کو نہ پکڑا جائے جو بار بار پھینک دیتا ہے۔‘‘

’’میں بتاؤں وہ کون ہے؟‘‘ پیچھے سے ایک شخص سب کو دھکیلتا ہوا آگے آ کر کہتا ہے۔

’’بتاؤ؟‘‘

وہ نیفے میں سے چھری نکالتا،ہوا میں لہراتا اور تنی ہوئی رسی کاٹ دیتا ہے پھر ہنستا ہوا ایک طرف چلا جاتا ہے۔ دہشت اور خوف کے مارے سب خاموش رہتے ہیں۔ کنوئیں کے اندر سے کسی بھاری چیز کے گرنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ میرے منہ سے چیخ نکل جاتی ہے۔میری چیخ کی آواز سن کر وہ۔۔ ساتھ والی چارپائی سے اٹھ کر میرے قریب آتا اور جھک کر کہتا ہے۔’’اٹھو بیٹے۔۔ جلدی کرو۔۔ دن نکل آیا ہے۔‘‘

’’دن نکل آیا ہے؟‘‘

’’ہاں۔‘‘

’’مگر ابھی ابھی تو صبح کاذب تھی۔‘‘

’’ہاں بیٹے۔۔ آج صبح کاذب ہی کے وقت سورج نکل آیا ہے۔پتہ نہیں اب کیسی سخت دوپہر ہمارا راستہ روکے کھڑی ہے۔‘‘

٭٭٭