کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

چھتیں اور ستون

منشا یاد


کہانی یوں شروع ہوتی ہے۔

          وہ پچھلے اٹھارہ گھنٹے سے ڈیوٹی دے رہا تھا۔

          دوسری شفٹ ختم ہونے والی تھی، تیسری شفٹ کی لیبر تنبوؤں سے نکل کر اپنے اپنے میٹوں کے گرد جمع ہو رہی تھی۔

          چاروں طرف مشینوں کا شور اور پیٹرول اور ڈیزل کی بو پھیلی ہوئی تھی۔ نیچے ڈمپر، واٹر پمپ اور مکسر مشینیں شور مچا رہی تھیں اور چھت پرنیڈل وائبریٹرز ایک دوسرے کا منہ چڑا رہے تھے۔

          دوسری شفٹ کی لیبر اب تھک کر چور ہو چکی تھی مگر ٹھیکیدار اور اس کے میٹ منشی چلا چلا کر ان کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔ ’’شاباش پترو‘‘۔۔۔ شاباش شیرو‘‘۔ وہ نعرے لگا کر ان کے تھکے ہوئے جسموں سے خون کی آخری بوندیں بھی نچوڑ رہے تھے۔ بجلی کی تار میں پرویا ہوا نوٹوں کا ہار صبح سے بانس پر لٹکا ہوا تھا۔ ہوا میں پھڑ پھڑاتے ہوئے نوٹ سرچ لائٹ کی روشنی میں بے حد بھلے لگ رہے تھے۔ یہ نوٹ مقررہ مزدوری کے علاوہ انعام کو حاصل کرنے کے لئے دو ہزار پانچ سو مکعب فٹ کنکریٹ ڈالنے کی شرط تھی۔ پہلی شفٹ کی لیبر بمشکل دو ہزار مکعب فٹ کنکریٹ ڈال سکی تھی۔ لیکن، دوسری شفٹ کی لیبر مقررہ نشان کے بالکل قریب پہنچ گئی تھی۔ جوں جوں مقررہ نشان اور وقت قریب آ رہا تھا۔ میٹوں منشیوں کے نعرے اور بلند ہوتے جا رہے تھے۔ تھکے ہوئے جسموں، میں نئی روح پھونکی جا رہی تھی اور ساری لیبر شرط جیتنے کی جان توڑ کوشش کر رہی تھی۔

          اس کا لیبر اور شرط جیتنے سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ سرکاری طور پر کام کی نگہداشت کر رہا تھا۔ لیکن اس خیال سے کہ ٹھیکیدار کے رہا تھا  ا ور اس کی نظریں کام کی کوالٹی کے علاوہ بھی ہر چیز کا جائزہ لے رہی تھیں۔ وہ دلچسپی سے لے رہا تھا اور اس کی نظریں کام کی کوالٹی کے علاوہ بھی ہر چیز کا جائزہ لے رہی تھیں۔ آخری چند منٹ انتہائی فیصلہ کن تھے۔ اس لئے مشینوں اور انسانی آوازوں کا شور بڑھ گیا تھا۔ وہ تغاریاں پھینک کر نعرے اور للکرے لگانے اور بکرے بلانے لگے۔ کچھ زیادہ جوشیلے بھنگڑوں کے گرد خٹک ناچ کو بھوں بھنوالیاں دے رہے تھے کہ اچانک بڑی مکسر مشین بند ہو گئی۔

          بڑی مکسر مشین کی آواز بند ہوتے ہی نعرے اور للکرے سینوں میں گھٹ گئے۔ اور کھلے ہوئے چہرے مرجھا گئے۔

          پتہ نہیں، اسے کیسے پتہ چل گیا کہ مشین خراب نہیں ہوئی کی گئی ہے اور آپریٹر ٹھیکیدار سے ملا ہوا ہے۔

          وہ چیخ چیخ کر لیبر کا ساری صورتحال سے با خبر کرنا چاہتا تھا لیکن اسے اپنی عزت اور جان بھی عزیز تھی اسے رہ رہ کر لیبر پے غصہ آ رہا تھا آخر اتنے سارے میٹوں، مزدوروں اور کاریگروں میں سے کسی کے دماغ میں بھی اتنی معمولی سی بات خود بخود کیوں نہیں آ ہی تھی۔ وہ کرسی چھوڑ کر نیچے اترنے لگا سیڑھی پر اس کی ملاقات تلہ گنگئے سے ہو گئی وہ کالو کے ساتھ آخری جھانبر اٹھائے بھاری قدموں سے اوپر آ رہا تھا اس نے تلہ گنگئے کے کان میں کہا!

          ’’مشین جان بوجھ کر خراب کی گئی ہے تم لوگوں سے بے انصافی ہو رہی ہے‘‘ اتنا کہہ کر وہ سیڑھیاں اتر گیا تلہ گنگئے نے جھانبر پھینک دی اور چلانے لگا ’’یہی چار سو بیسی نہیں چلے گی‘‘ تھوڑی دیر میں لیبر نے کام کرنا چھوڑ دیا اور آپریٹر کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ آپریٹر موقع پا کر بھاگ گیا اور ٹھیکیدار نے لیبر کے انعام جیتنے کا اعلان کر کے صورت حال پر قابو پا لیا۔

          وہ بہت خوش تھا۔ اس کی دن بھر کی ساری تھکن دور ہو گئی تھی۔ کچھ دیر پہلے اس کا بدن ٹوٹ رہا تھا اور نیند کی وجہ سے اسے بار بار جمائیاں آ رہی تھی، لیکن اب اس کا ذہن ہلکا ہو گیا تھا اور روح مسرت سے لبریز تھی۔

          وہ پچھلے سات آٹھ گھنٹوں سے اپنے انجینئر انچارج شیخ صاحب کو کوس رہا تھا۔ جو تھوڑی دیر کے لئے آ کر چلے گئے تھے اور اب تک نہیں لوٹے تھے اس کا خیال تھا وہ دوسری شفٹ میں ڈیوٹی دیں گے اور وہ آرام کر لے گا مگر شائد وہ بھول گئے تھے کہ کام کی اہمیت کیا ہے اور ان کی ذمہ داری کیا، کئی بار اس کا جی چاہا کہ وہ انہیں فون کرے یا جیب بھیج کر پتہ کرائے مگر اس خیال سے کہ وہ بُرا نہ مانیں وہ ایسا نہ کر سکا۔

          وہ کچھ دیر کے لئے سستانا چاہتا تھا۔ مگر اب تیسری شفٹ شروع ہو رہی تھی۔ اور چھت کے EXPANSION JOINTSکا کام تھا جہاں اس کی موجودگی اور نگرانی بے حد ضروری تھی ورنہ چھت کے ہمیشہ ٹپکتے رہنے کا خدشہ تھا۔

          وہ دوبارہ چھت پر آ رہا تھا کہ چوکیدار نے اسے اطلاع دی نیچے سائٹ آفس میں ٹیلی فون پر شیخ صاحب اس سے بات کرنا چاہتے تھے۔

          شیخ صاحب مری سے بول رہے تھے وہ حیران تھا قومی اہمیت کی عمارت کی آخری چھت کو نظر انداز کر کے وہ مری کیسے پہنچ گئے تھے۔ وہ انہیں کام کی نوعیت و اہمیت اور ان کی حاضری کی ضرورت اور اپنی تھکاوٹ کی تفصیلات بتانا چاہتا تھا مگر اس خیال سے کہ وہ ان کا ما تحت ہے وہ کچھ بھی نہ کہہ سکا۔

          شیخ صاحب اس کے آرام نہ کر سکنے پر رسمی سی معذرت کر کے اسے بتا رہے تھے کہ کیسے وہ چند شوخ اور حسین لڑکیوں کی کار کا پیچھا کرتے ہوئے مری پہنچ گئے تھے ان کی اس سے سب معاملات میں بے تکلفی تھی۔ اس لئے انہوں نے یہ بھی بتا دیا کہ مری پہنچ کر وہ لڑکیاں انہیں ڈاج کر کے گاڑی نکال کر لے گئیں اور اب وہ انہیں اگلے روز تلاش کر کے لوٹیں گے۔پہنچ کر وہ لڑکیاں انہیں ڈاج کر کے گاڑی نکال کر لے گئیں اور اب وہ انہیں اگلے روز تلاش کر کے لوٹیں گے۔

          پھر شیخ صاحب نے اسے کراچی کا ایک نمبر دیکر ہدایت کی کہ وہ ان کے دوست احمد سے رابطہ قائم کرے اور انہیں پیغام پہنچائے کہ پچھلے سال والا ان کا دوست مری کی مال پر گھومتا دیکھا گیا ہے اس لئے احمد صاحب کو جلد از جلد کا نام بتایا اور کہا کہ شیخ صاحب کو بتایا جائے کہ ان کا دوست آج کل نائٹ ڈیوٹی پر ہے۔

          اس نے شیخ صاحب سے رابطہ قائم کیا اور پیغام پہنچا دیا۔ شیخ صاحب پریشان ہو گئے کہنے لگے۔ اس احمد کے بچے سے یہ تو پوچھتے خ یا ص، کس دوست کی بات کرتا ہے! اس نے احمد صاحب سے کہو خ اب کہاں۔۔۔ ص اب۔ض بن گا ہے۔ اب تو نون کی بات کریں ‘‘

          اس نے شیخ صاحب کو نون کے بارے میں اطلاع دی تو انہوں نے ہدایت کی کہ احمد صاحب کے بتائے ہوئے ہسپتال کا نمبر ڈائریکٹری سے لے کر ڈائل کرے اور لیڈی ڈاکٹر مس نجمہ کا پتہ چلائے کہ وہ کب تک اور کس نمبر پر مل سکتی ہے۔

          اس نے ڈائریکٹری کھولی، نمبر تلاش کیا۔ ڈائل کرنے پرت پتہ چلا نمبر مصروف ہے وہ انتظار کرنے لگا اور وقت گزارنے کے لئے ٹیلی فون ڈائریکٹری کی ورق گردانی میں مصروف ہو گیا۔

          دنیا بھر میں رسل و رسائل کے تیز طریقوں نے دوری کے تصور کو فنا کر دیا ہے۔۔۔ خود کا ٹیلیفون کی ترویج نے فاصلوں کو کاٹ کر رکھ دیا ہے۔۔۔ اندروں ملک سب سکرابئرز ٹرنک ڈائلنگ سے آپ کو جلدی رابطہ قائم کرنے کے یکساں مواقع ملتے ہیں۔ اور آپ زیادہ راز داری سے گفتگو کر سکتے ہیں۔

          اس نے دوبارہ کوشش کی۔ ایک مترنم آواز سنائی دی۔

          ’’ہیلو‘‘

          ’’ڈاکٹر مس نجمہ ہیں ‘‘؟

          ’’وہ آپ کی کیا لگتی ہیں ‘‘؟

          ’’جی؟۔۔۔۔ جی کچھ نہیں۔‘‘

          ’’اچھا یہ تو بتاؤ۔۔۔۔ کیا خوبصورت ہیں ‘‘؟

          ’’جی‘‘؟ وہ پریشان ہو گیا۔

          ’’دل زیادہ اداس ہوا کرے اور نجمہ بہت یاد آیا کرے تو تم مجھ سے بناتیں کر لیا کرو، اچھا اب سو جاؤ۔۔۔ اچھے بچے‘‘۔

          اس نے گھبرا کر ٹیلیفون بند کر دیا۔

          ٹھوڑی دیر تک سر پکڑ کر بیٹھا رہا پھر شیخ صاحب کو فون کر کے ساری بات سنائی وہ ہنسنے لگے بولے:-

          ’’معلوم ہوتا ہے تمہیں غلط نمبر مل گیا دوبارہ کوشش کرو‘‘۔     

          اس نے ڈرتے ڈرتے دوبارہ ڈائل کیا۔ آواز نے اس کا اتا پتہ پوچھا اور کہا:

          ’’ان سے کہیں میں رات بھر ڈیوٹی پر ہوں اور انکے فون کا انتظار کروں گی‘‘۔

          اس نے نجمہ کا پیغام پہنچا دیا شیخ صاحب بہت خوش ہوئے پھر انہیں اچانک یاد آیا کہ EXPANSION JOINTSاور چھت کے کام کی نگرانی ضروری تھی اور اسے وہاں ہونا چاہئے تھا۔ انہوں نے اسے ضروری ہدایات دیں۔ اپنے نہ آ سکنے کی ایک بار پھر معذرت کی اور فون بند کر دیا۔

          جب وہ چھت پر آیا تو تیسری شفٹ کی لیبر EXPANSION JOINTSکا کام اپنی مرضی سے مکمل کر کے آگے بڑھ چکی تھی۔

          بجلی کی تار میں پرو گیا ہوا نوٹوں کا ایک اور ہار بانس سے لٹکا ہوا تھا۔ ہوا میں پھڑپھڑاتے ہوئے نوٹ بے حد بھلے لگ رہے تھے۔ ٹھیکیدار کے کارندے چلا چلا کر لیبر کا حوصلہ بڑھا رہے تھے اور انہیں جوش دلا رہے تھے۔ شاباش پترو، شاباش شیرو۔،

          اسی جوش و خروش میں سنگ جانی کے پنوں خان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ سیڑھی سے نیچے گر گیا۔

          کہانی یہاں ختم ہوتی ہے۔

          لیکن شائد نہیں ہوئی۔ اس میں کئی باتوں کا ذکر نہیں ملتا۔ مثلاً بانس پر لٹکائے ہوئے نوٹوں کی رقم کتنی تھی۔؟

          کراچی لاہور اور مری کے درمیان بار بار ٹیلیفون سے رابطہ قائم کرنے کا بل کتنا تھا اور کس نے ادا کیا تھا۔؟

          پنوں خان کی بیساکھیاں کتنے میں آئی تھیں۔؟

           اور اس کہانی میں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ قومی اہمیت کی اس عمارت کی تعمیر پر شیخ صاحب کو اعلیٰ کارکردگی کا کون سا تمغہ ملا تھا اور کہانی کے مرکزی کردار کو چھت ٹپکنے کی وجہ سے کب نوکری سے نکالا گیا تھا۔

          لیکن ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کی تفصیل اور وضاحت کی جانے لگے تو کہانی کبھی ختم نہ ہو۔

٭٭٭