کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دیمک کا گھروندہ

منشا یاد


اس روز بھی وہ حسب معمول بین میوزک ریکارڈ سن رہا تھا۔ آٹو میٹک ریڈیو گرام پر ریکارڈ خود بخود بار بار بج رہا تھا کہ مجھے اونگھ آ گئی۔ پھر جب میں نے آنکھیں کھو لیں تو کمرے میں کہیں ارشد نظر نہ آیا۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا ریڈیو گرام کے پاس ایک سیاہ ناگ پھن پھیلائے جھوم رہا تھا۔ میں اچھل پڑا۔

          ’’سانپ سانپ‘‘؟

          میں تیزی سے دروازے کی طرف بڑھا اسی لمحے ارشد نے مجھے آواز دی۔

          ’’کیا ہوا کہاں ہے سانپ‘‘؟

          میں نے پلٹ کر دیکھا۔ ارشد اپنی جگہ پر بیٹھا ہوا تھا اور ریڈیو گرام کے پاس کوئی سانپ نہیں تھا۔

          ’’میرا خیال ہے تم سو گئے تھے۔ اور بی ن میوزک کے تعلق سے تم نے سانپ کا خواب دیکھا۔‘‘

          مجھے یقین آ گیا کہ یہ میرا خواب ہی تھا لیکن کیسا عجیب اور انوکھا خواب! اور شائد میں حقیقت کو خواب ہی سمجھتا رہتا کہ ایک دن جب لباس اور کردار کے موضوع پر بحث ہو رہی تھی اس نے اچانک کہا۔

          ’’اگر لباس کردار کا آئینہ ہوتا ہے تو تمہاری میلی چکٹ بنیان اس بات کا ثبوت ہے کہ تم اندر سے غلیظ ہوا‘‘۔

          لمحہ بھر کے لئے میرا دماغ سن ہو گیا۔ بے شک میں نے اجلی قمیض اور نئے سوٹ کے نیچے میلی چکٹ بنیان پہن رکھی تھی مگر ارشد کو کیسے معلوم ہو گیا۔ جب میں نے اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا۔

          مجھے تمہارے بدن سے میل اور پسینے کی بو آ رہی تھی۔‘‘

          مگر مجھے یقین نہ آیا میں اس کی قوت شامہ کی داد دینے کی بجائے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ بھی ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔ اس کی آنکھوں سے ایک تیز سی روشنی نکلی اور مجھے یوں لگا جیسے میرا سارا بدن سلگ اٹھا ہو۔ اچانک اس نے چائے اور بسکٹوں کی فرمائش کر دی۔ اور میں جیسے کسی طلسم سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے اٹھ کر اندر چلا آیا۔ امی نماز پڑھ رہی تھیں اور شکیلہ گڑیوں سے کھیل رہی تھی۔ سلام پھیر کر امی نے اسے چائے کی کیتلی چولھے پر چڑھانے کو کہا۔ وہ میرے کام بہت خوشی سے کرتی ہے بھاگ بھاگ کر چائے بنانے میں امی کی مدد کرنے لگی۔ میں قریبی مارکیٹ سے ارشد کی پسند کے بسکٹ لینے چلا گیا۔ واپس آیا تو شکیلہ ڈرائنگ روم میں چائے کے برتن رکھنے گئی ہوئی تھی۔ میں اسے اندر بھیجنے پر امی سے خفگی کا اظہار کرنا چاہتا تھا کہ اندر سے اس کی چیخ سنائی دی۔ میں بھاگ کر اندر پہنچا تو دیکھا چائے کے برتن ٹوٹے پڑے تھے۔ شکیلہ منہ چھپائے ایک طرف کھڑی رو رہی تھی اور ارشد کہیں نہیں تھا۔ مگر پھر اسی دم میری نظر نالی میں غائب ہوتی سانپ کی دم پر پڑی۔میں ہاکی لیکر اس کا سر کچلنے نکلا مگر وہ غائب ہو چکا تھا۔ میں نے شکیلہ کو دلاسا دینے اور کئی روز تک مجھ سے ہی نہیں میرے دھلائی کے لئے اترے اور کھونٹیوں پر ٹنگے کپڑوں سے بھی یوں ڈرنے لگی جیسے ان میں سانپ چھپے ہوں جو چھونے پر اسے ڈس لیں گے۔

          اب جب بھی میں گھر سے باہر نکلتا ہوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے ارشد کی چمکتی ہوئی آنکھیں میرا پیچھا کر رہی ہیں اور میں کوئی دم میں اس کی آنکھوں سے نکلتے ہوئے شعلوں میں جھلس کر رہ جاؤں گا۔ اندھیرے سے مجھے خوف آتا ہے۔ کیا خبر وہ یہیں کہیں رینگ رہا ہو۔ مجھے ہر ملنے والے اور ہر راہ گیر پر سانپ ہونے کا شبہ ہوتا ہے۔ اور دفتر میں بیٹھے بیٹھے میں سوچتا ہوں کہ میرے ساتھ کی سیٹ والا سپرنٹنڈنٹ یا  سٹول پر بیٹھا ہوا چپڑاسی ابھی اٹھ کر فرش پر کنڈلی مار کر بیٹھ جائے گا۔ اور پھن پھیلانے لگے گا۔ کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میں خود بھی انسان کی جون میں کوڑئی سانپ ہوں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ اگر مجھے کسی دن پتہ چلا کہ میں سچ مچ اصل میں سانپ ہوں تو مجھے مختلف لوگوں کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا ہو گا مثلاً وہ بڑھیا جو میری ماں کہلاتی ہے۔۔۔ لیکن کیا خبر وہ بڑھیا یعنی میری ماں دراصل انسان کی جون میں کوئی ناگن ہو اور عورت بن کر اس نے میرے باپ سے شادی کر لی ہو۔ اور کون جانے ایک روز اس نے میرے باپ کو ڈس لیا ہو اور وہ مر گیا ہو لیکن یہ بھی تو نہیں کہا جا سکتا کہ میرا باپ سانپ نہیں تھا۔ ممکن ہے ماں سے اکتا کر اس نے مرنے کا بہانہ کیا ہو اور قبر سے نکل کر اپنے پرانے بل یا غار میں چلا گیا ہو۔۔۔۔؟

          میں نے ارشد کو اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا۔میرا خیال ہے وہ کچھ عرصہ کے لئے شہر سے باہر کسی ویرانے میں چلا گیا ہو گا اور سانپوں کے کسی غار میں رہتا ہو گا مجھے اچھی طرح یاد ہے ایک بار اس نے کہا تھا کہ نرم، چکنی اور سفید جلد والے انسانوں کو دیکھ کر اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ ان جسموں سے بہت سا کچا گوشت کاٹ کر کھا جائے۔ شہر میں آج کل ایسے لوگوں کی اچانک گم شدگی بڑی پر اسرار اور پریشان کن ہے لیکن مجھے یقین ہے یہ سب کچھ جون بدلنے والے سانپوں اژدہوں کی وجہ سے ہے۔ اگر ان کا غار دریافت ہو جائے تو بے شمار انسانوں کی کھوپڑیاں اور ہڈیاں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ میں نے ماں اور شکیلہ کو اپنے گھر میں نظر بند کر رکھا ہے۔ اور ان کا پہرہ دے رہا ہوں۔ ماں میری شادی پر مصر ہے اس نے میرے لئے پہلے سے ایک لڑکی چن رکھی ہے مگر میں نے ابھی تک اس لڑکی کو نہیں دیکھا اور کہہ سکتا کہ وہ لڑکی ہی ہو گی۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ جب ڈولی کا پردہ سرکایا جائے تو وہ کنڈلی مارے بیٹھی ہو یا پھر میرے پہلو میں لیٹی لیٹی اچانک ناگن بن کر میرے سینے پر چڑھ جائے۔

           ان دنوں میں ہر وقت ڈرتا اور بدکتا رہتا ہوں۔  ذرا سی بھی آہٹ ہوتی ہے تو میرا دل بری طرح دھڑکنے لگتا ہے۔ چلتے پھرتے پاؤں کے نیچے کاغذ کا ٹکڑا بھی آ جائے تو میں چھپ پڑتا ہوں۔ درخت سے زرد درخت پتہ گرے تو لمحہ بھر کے لئے میرا کون خشک ہو جاتا ہے۔ رات برات بھر مجھے ڈراؤ نے خواب پریشان کرتے رہ جاتے ہیں اور میں ہر شب سینکڑوں، ہزاروں سانپوں  میں گھرا رہتا ہوں اور چونک چونک جاتا ہوں۔ ہوا کا جھونکا مجھے سانپ کی پھنکار معلوم ہوتا ہے۔ روشنی کی کرن مجھے سانپ کی آنکھوں سے نکلتی ہوئی چمک معلوم ہوتی ہے تاریکی میں میرے لئے ہر چیز سیاہ ناگ بن جاتی ہے۔ ہر چیز جو نرم اور لجلجی ہو یا اس کی بناوٹ سانپ کی طرح ہو میں اس چھو نہیں سکتا یہاں تک کہ جب میں سکوٹر دوڑاتا ہوں تو میرے گلے مین ٹائی ہوا میں لہراتی ہے تو مجھے اس پر ایک رنگ دار سانپ کا گمان ہوتا ہے جیب میں ہاتھ ڈالتا ہوں تو ریشمی رومال کے لمس سے تھوڑی دیر کے لئے خوف زدہ ہو جاتا ہوں۔

          یہ سب کچھ محض میرا وہم نہیں ہے میں نے جب سے ارشد کو سانپ کی صورت میں دیکھا ہے پھونک پھونک کر قدم رکھتا ہوں اور میری سا احتیاط کی وجہ سے مجھ پر یہ حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ شہر میں ایک ارشد ہی اکیلا آدمی کی جون میں سانپ نہیں ہے ان سب لوگوں میں جنہیں ہم سڑکوں، بازاروں، گلیوں اور محلوں میں آتے جاتے دیکھتے ہیں اور جن سے ہماری دوستی اور قرابت داری بھی ہوتی ہے ان میں سبھی نہیں و بہت سے، دراصل سانپ ہیں۔ اور انسان بن کر انسانوں میں رہتے ہیں میں اکثر اپنی آستینیں اور چڑھائے رکھتا ہوں تاکہ ان میں کوئی سانپ چھپ کر نہ بیٹھ جائے۔

          میں نے کئی بار چاہا ہے  کہ اپنے دوستوں، عزیزوں اور شہر کے لوگوں کو ان سب سانپوں کے بارے میں بتاؤں۔ لیکن  میں اپنی کوشش میں لوگوں یعنی انسانوں میں خوف و ہراس پیدا نہیں کرنا چاہتا اور میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ بھرے پرے خوبصورت شہر ویران ہو جائیں۔ اس طرح بازار اور گلیاں، تفریح گاہیں، سکول، کالج ور یونیورسٹیاں بند ہو جائیں گی۔ سینما ہالوں میں صرف سانپ اور اژدہے باتی رہ جائیں گے۔ اور لوگ ایک دوسرے پر شک کرنے اور ایک دوسرے سے خوف زدہ رہنے لگیں گے۔ اور ہر آدمی ایک دوسرے سے آنکھ ملاتے ہوئے دہشت زدہ ہو گا۔

           اور چونکہ ویرانہ جنگل اور تاریکی سانپوں کے مسکن ہوتے ہیں اس لئے لوگ شہروں سے بھاگ کر جنگلوں اور ویرانوں کی طرف رخ نہیں کریں گے۔ بلکہ اپنے اپنے گھروں میں محصور ہو جائیں گے انسانی نسل کے لئے جب بھی کوئی خطرہ در پیش ہوا دھرتی نے ہمیشہ اسے آغوش میں پناہ دی ہے۔ انسان خوف زدہ چوہوں کی طرح زمین کے اندر ہی اندر گھستے چلے جائیں گے یہاں تک کہ شہر کے نیچے ایک اور شہر آباد ہو جائے گا سرنگوں اور انڈر گراؤنڈ بیس منٹوں کا جال پورے شہر میں پھیل جائے گا۔ جس سے عمارتوں کی بنیادیں کھو کھلی ہو جائیں گی۔ اور شہر زمین میں دھنس جائے گا۔ گویا تاریخ خود کو دہرائے گی میرا یہی خیال ہے کہ ہڑپہ، موہنجو ڈارو اور ٹیکسلا کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہو گا۔سو سال کی عمر پا کر انسان کا روپ دھارنے والے سانپوں نے جب شہروں پر یلغار کر دیتی ہو گی تو ان لوگوں ان کے خوف سے گھروں کہ آہنی دروازے لگا کر بند کر لیا ہو گا پھر آدمی چوہوں کی طرح سرنگیں ب اور بل کھود کر زیر زمین دھرتی کے اندر رہنے لگے ہونے بلند و بال عمارتوں کی بنیادیں سرنگوں کے جال سے کھوکھلی گئی ہونگی اور پھر یہ شہر زمین میں دھنس گئے ہون گے۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ عمارتیں بھی خوف زدہ ہو کر دبک گئی ہوں گی لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔ یہی وجہ ہے کہ میں اس راز کو اپنے تک محدود رکھنا چاہتا ہوں لیکن اس کی وجہ صرف یہ نہیں ہے اس کی دوسری وجہ اور بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں بنیادی طور پر ایک بزدل انسان ہوں مجھے ڈر ہے کہ جونہی میں کسی آدمی سے اس بات کا ذکر کروں گا وہ آدمی مجھے بغیر آنکھیں جھپکائے تھوڑی دیر تک گھورتا رہے گا پھر مجھے ڈس کر کسی نالی میں روپوش ہو جائے گا۔

٭٭٭