کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ

منشا یاد


ایک رات اس کا باپ دیر تک گھر نہ لوٹا۔ مگر پھر بستی کے سب سے اونچے مکان کی چھت سے اس کی آواز سنائی دی وہ پکار پکار کر کہہ رہا تھا۔

          ’’لوگو۔۔۔۔۔۔۔ اگر تم زندہ رہنا چاہتے ہو اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری بستی وقت سے پیچھے نہ رہ جائے تو انصاف قائم کرو۔۔۔۔ انصاف ہی نیکی اور راست بازی ہے اور تم ظلم اور نا انصافی کرنے والے ہاتھوں کو پہچانو اور انہیں ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہ دو ورنہ تمہارا شمار ظالموں میں سے ہو گا۔‘‘

          اس کا باپ گھر لوٹا اور اطمینان سے سو گیا۔

          خلافِ معمول ہوا چل رہی تھی اسے بھی نیند آ گئی اور جب اس کی آنکھ کھلی صبح کاذب کا وقت تھا۔۔۔۔۔ ہوا بند تھی اور اس کا جسم پسینے میں شرابور تھا۔ اس نے کروٹ بدلی اور ساتھ والی چارپائی کی طرف دیکھا اور اس کے منہ سے چیخ نکل گئی اس کے باپ کا سراس کی گردن سے الگ پڑا ہوا تھا۔

          وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔

          روتے روتے اس کی ہچکیاں بندھ گئیں مگر کسی نے اس کے گھر میں جھانک کر نہ دیکھا۔ اس نے بقایا رات روتے اور بین کرتے گزاری۔

          اس کا خیال تھا کہ آج صبح نہیں ہو گی مگر وہ حیران ہوا۔ مرغ نے اسی طرح اذان دی جیسے ہر روز دیتا تھا اسی طرح پو پھٹی اور صبح ہوئی اور ہر روز کی طرح چڑیاں چہچہائیں، کوے منڈیروں پر آ بیٹھے اور مشرقی افق پر شفق نمودار ہوئی۔

          اس کا خیال تھا کہ آج اسے بھوک نہیں ستائے گی اور پیاس نہیں لگے گی مگر اسے دہی کتا بھوک لگی اور پیاس نے ستایا۔ اس نے روٹی کے ٹکڑے کے لئے پاؤں چاٹتے کتے کو بار بار دھتکارا مگر وہ تھوڑی دور جا کر پلٹ آتا اور دم ہلانے اور پاؤں چاٹنے لگتا۔

          اس کا خیال تھا کہ وہ دن عام دنوں جیسا نہیں تھا مگر اسے سب کچھ معمول کے مطابق نظر آیا سوائے اس کے کہ جب دھوپ نکلی تو وہ غیر معمولی تیز اور سرخ تھی اتنی سرخ کہ ساری چیزیں لہو لہان معلوم ہوتی تھیں اس نے آسمان کی طرف دیکھا آسمان پر سرخ رنگ کی چمکیلی دھند چھائی ہوئی تھی اور سورج کسی خونخوار درندے کی طرح جبڑوں سے لگا خون چاٹتا چھسٹتا چلا آتا تھا۔

          اس کا اندازہ تھا کہ صبح ہوتے ہی وہ جوق در جوق اس سے تعزیت کرنے آئیں گے۔ اس کے باپ کی بے وقت اور درد ناک موت پر اظہار افسوس کریں گے اور اسے صبر کرنے کی تلقین کریں گے۔ مگر وہ یہ جان کر حیران ہوا کہ کسی نے بھول کر بھی اس کی خبر نہ ملی۔

          اس کا ایک خیال یہ بھی تھا کہ وہ گذشتہ رات کے انتباہ کے بعد ہاتھ پر ہاتھ رکھے سہے ہوئے بیٹھے رہیں گے اور اس وقت تک انہیں کوئی آہٹ نہیں چونکا سکے گی جب تک انہیں انصاف اور نیکی کا یقین نہ دلا دیا جائے مگر جب منشیوں، فورمینوں اور ٹائم کیپروں نے حاضر یوں کے رجسٹر کھولے اور ان کے نام پکارے تو ہر طرف سے حاضر جناب کی آوازیں سنائی دینے لگیں اور اسے محسوس ہوا کہ وہ بستی میں اکیلا رہ گیا ہے۔

          وہ بے حد پریشان ہوا وہ اکیلا کیا کرے کفن دفن کا انتظام کیسے کرے کسی کا میت کے پاس رہنا ضروری تھا اور ابھی بہت سے کام تھے قبر کھدوانی تھی کفن خریدنا اور سلانا تھا۔ میت کو غسل دینا اور جنازہ پڑھنا تھا اور جنازہ اٹھانے کے لئے کم از کم چار آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر وہ سب کام پر چلے گئے تھے پوری بستی مردوں سے خالی پڑی تھی اور عورتیں اور بچے گھروں میں دبکے ہوئے تھے۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ سہ پہر تک ان کی واپسی کا انتظار کرے اس کے سینے میں جتنی آہیں اور آنکھوں میں جتنے آنسو تھے وہ نچھاور کر چکے تھا اور اب خالی ذہن لئے میت کے پاس بیٹھا تھا، بیٹھے اچانک اسے خیال آیا کہ اگر وہ واپسی پر بھی اس کی مدد کو نہ آئے تو؟۔۔۔۔۔۔۔ کیوں نہ وہ بھی کام پر چلا جائے پوری دیہاڑی میت کے پاس بیٹھ کر ضائع کرنے کا کیا فائدہ؟ اور اب تو اسے پیسوں کی اور بھی زیادہ ضرورت تھی۔ اس طرح واپسی پر وہ کچھ لوگوں کو ساتھ لیتا آئے گا اور سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے کفن دفن کا انتظام ہو جائے گا۔

          جونہی اس نے کام کے بارے میں سوچا منشی کی آواز اسے گھر بیٹھے سنائی دینے لگی اور کوئی اس کے اندر حاضر جناب۔ حاضر جناب پکارنے لگا۔

          اسے پتہ ہی نہ چلا کب اس نے مرے ہوئے باپ کی چارپائی گھسیٹ کر اندر کی، کب جوتا پہنا اور کب کام پر حاضر ہو گیا۔

          منشی نے اسے دیکھتے ہی قہقہہ لگایا پھر ڈانٹ پلائی اور بولا

          ’’آج پھر ماتم ہو گیا؟‘‘

          ’’ہاں جی‘‘

          ’’یقیناً آج پھر تمہارا باپ قتل ہو گیا ہو گا‘‘

          ’’ہاں جی‘‘

          ’’رات اس نے پھروہی کیا ہو گا؟‘‘

          ’’ہاں جی‘‘

          ’’اچھا یہ بتاؤ۔۔۔۔۔ قاتل کا کچھ پتہ چلا؟‘‘

          ’’نہیں جی‘‘

          ’’تمہیں کسی پر شک ہے؟‘‘

          ’’ہاں۔۔۔۔۔۔ میرا خیال ہے اس نے خود ہی اپنے آپ کو قتل کر دیا۔‘‘

          ’’بیوقوف‘‘ منشی نے ہنستے ہوئے کہا ’’اسے خودکشی کہتے ہیں ‘‘

          ’’خود کشی نہیں جی۔۔۔۔ قتل‘‘

          ’’اچھا اچھا۔۔۔۔۔ قتل ہی سہی۔۔۔۔۔ یہ بتاؤ کہ آج بھی اسے دفن کر کے آئے ہو یا نہیں ؟‘‘

          ’’نہیں جی‘‘

          ’’چلو شام کو دفنا لینا۔۔۔۔۔ تم اچھا کرتے ہو دیہاڑی ضائع نہیں کرتے میں تمہاری حاضری لگا دیتا ہوں مگر پھر لیٹ نہ آنا آئندہ محتاط رہنا‘‘

          ’’جی میرا ایک ہی باپ تھا‘‘

          ’’بیوقوف‘‘ منشی کو بے طرح ہنسی آ گئی کہنے لگا ’’باپ تو ایک ہی ہوتا ہے‘‘ پھر ہنسی روک کر بولا لیکن نہیں۔۔۔۔۔ شاید تم ٹھیک کہتے ہو ایک سے زیادہ باپ بھی ہو سکتے ہیں اچھا تم کام کرو لیکن یاد رکھو تمہیں چھٹی کے بعد کام کر کے لیٹ آئے کی کمی پوری کرنا ہو گی‘‘

          ’’اچھا جی‘‘

          کام کرتے کرتے ہر روز کی طرح دوپہر ہو گئی لو چلنے لگی اور آسمان سے آگ سی برسنے لگی اس نے آسمان کی طرف دیکھا آسمان اب بھی سرخ تھا اور دھوپ غیر معمولی تیز تھی راج مچان پر بیٹھے اینٹوں سے چنائی کر رہے تھے وہ مچان پر کھڑے اپنے ساتھی کی طرف اینٹیں پھینکنے لگا جو انہیں پکڑ پکڑ کر مچان پر راجوں کے استعمال کے لئے جمع کرتا جاتا۔ دیوار زیادہ اونچی نہیں تھی اور وہ تازہ دم تھا اینٹیں پکڑنے کے لئے ایک کی بجائے دو آدمیوں کو مچان پر کھڑے ہونا پڑا۔

          سورج اب عین سر پر آ گیا تھا سر پر آ گیا تھا اب کھانے کی چھٹی ہو جانی چاہئے تھی مگر ٹھیکیدار کے منشیوں نے شاید آج بھی اپنی گھڑیاں وقت سے پیچھے کی ہوئی تھیں آج بھی بارہ بجنے کے باوجود بارہ نہیں بج رہے تھے دوپہر ہو گئی تھی مگر اس کا اعلان نہیں ہوا تھا۔ وہ سوچنے لگا کتنی دلچسپ بات ہے کہ اعلان نہ ہو تو خواہ سورج سر پر آ جائے دوپہر نہیں ہو سکتی اور گھڑیاں پیچھے کر لی جائیں تو وقت رک جاتا ہے۔ اسے اپنے باپ کی باتیں بے معنی معلوم ہونے لگیں۔

          ’’اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری بستی وقت سے پیچھے نہ رہ جائے تو انصاف قائم کرو‘‘

          پھر اسے یاد آیا کہ دیہاڑی پوری کرنے کے بعد اسے گھر پہنچنا اور کفن دفن کا انتظام کرنا ہے اس کے باپ کی اکیلی میت گھر میں پڑی ہے اسے افسوس ہونے لگا اسے باپ کو اکیلا چھوڑ کر نہیں آنا چاہئے تھا مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے اس نے خود ہی سوچا۔۔۔۔۔ آدمی زیادہ سے زیادہ مر سکتا یا قتل ہو سکتا ہے اس کے بعد کوئی اس کا کیا بگاڑی سکتا ہے؟

           اور شاید ابھی وقفے کا اعلان نہ ہوتا اگر اینٹیں ختم نہ ہو جائیں اس نے روٹی کی خوشبو سونگھ کر پاؤں چاٹنے والے کتے کو ایک بار پھر دھتکارا مگر وہ دم ہلانے اور اس کے پاؤں چاٹنے لگا اسے دل ہی دل میں ندامت ہو رہی تھی کہ اسے آج بھی بھوک لگی ہے آج۔۔۔۔۔۔جب اس کا باپ قتل ہو گیا ہے اور ابھی اس کی لاش بے گور و کفن گھر میں پڑی ہے۔ اس نے دوسروں سے نظر بچا کر قریبی کنٹین پر کھانا کھایا کھانا ختم ہو گیا تھا مگر اس کی بھوک آج بھی ختم نہ ہوئی تھی اس نے ہر روز کی طرح پانی سے کھانے کی کمی پوری کی اور قریبی سائٹ آفس کی بیرونی دیوار کے ساتھ لگ کر دوپہر ڈھلنے اور وسل بجنے کا انتظار کرنے لگا۔ سایہ اب سمٹتے سمٹتے دیوار کے ساتھ آ لگا تھا اس نے ٹانگیں اور سمیٹ لیں مگر تھوڑی ہی دیر میں دھوپ اور پھیل گئی اب دھوپ اور دیوار کے درمیان اس کے لئے گنجائش نہیں تھی وہ کہیں سایہ تلاش کرنا چاہتا تھا مگر اسی لمحے اینٹوں سے بھرے ہوئے بہت سے ٹرکوں کا شور سنائی دیا اور ساتھ ہی وقفہ ختم ہونے کی وسل سنائی دی شاید انہوں نے اپنی گھڑیاں آگے کر لی تھیں یا وہ خود بخود وقت سے آگے نکل گئی تھیں۔

          دوبارہ کام پر آتے ہوئے اس نے آسمان کی طرف دیکھا آسمان دھوپ سے بھرا ہوا تھا سورج کسی آتش فشاں کی طرح مسلسل آگ اگل رہا تھا اور شکر دوپہر سروں پر تنی ہوئی تھی لو کے تھپیڑے اپنی پیاسی زبانوں سے حسن اور ہر یالی چاٹ رہے تھے اور ہر طرف دھوپ کے لہرئیے سانپوں کی بارش ہو رہی تھی۔ وہ سب بے سایہ دیواروں کی اوٹ سے نکل کر کام پر واپس آ گئے تھے سب کہ چہرے جھلسے ہوئے اور جسم نڈھال تھے۔ روٹی کھانے اور پانی پینے کے باوجود تازگی کا کوئی پھول ان کے چہروں پر نہیں کھلا تھا اسے ان پر ترس آنے لگا۔ روٹی کھانے اور پانی پینے کے بعد وہ خود تازہ دم ہو گیا تھا حالانکہ آج اس کا باپ قتل ہو گیا تھا اور اسے اس کی بے وقت اور درد ناک موت کا صدمہ تھا۔

          دیوار اب پہلے کی نسبت بلند ہو گئی تھی مگر اس کی اوپر پھینکی ہوئی اینٹیں پکڑنے اور انہیں راجوں کے قریب رکھنے کے لئے اب بھی دو آدمی مچان پر کھڑے تھے۔ مسلسل اینٹیں پھینکتے پھینکتے اس کے بازو شل ہو گئے اور کمر دکھنے لگی تو مچان سے ایک آدمی نیچے اتر آیا اور میٹ کے کہنے پر کدال لے کر مٹی کھودنے لگا۔

          کام کرتے کرتے اس نے وقت کا اندازہ لگانے کے لئے قدموں میں سائے کو تلاش کرنا چاہا تو وہ دیکھ کر حیران ہوا کہ سایہ کہیں نہیں تھا اس نے آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر اوپر دیکھا اور اس کا دل دھک سے رہ گیا اتنی دیر بعد بھی سورج کی ٹکیا ایک ہی جگہ پر عین سر کے اوپر ٹھہری ہوئی تھی اور ڈھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی شاید اسکا باپ ٹھیک ہی کہتا تھا اس نے سوچا وقت رک گیا تھا مگر کیوں ؟

          اب وہ بہت تھک گیا تھا اور دیوار کے ساتھ ساتھ مچان بھی اور اونچی ہو گئی تھی وہ اینٹ اٹھا کر مچان کی طرف پھینکتا تو وہ واپس آ جاتی اور اسے اپنا سر بچانا مشکل ہو جاتا مچان پر کھڑے ہوئے آدمی کا قہقہہ سنائی دیتا اور وہ دوسری اینٹ پھینکنے کے لئے پورا زور لگاتا۔

          دوپہر ڈھلنے کا نام نہیں لے رہی تھی مگر منشیوں نے سب کو پوری یا نصف دیہاڑی کی اجرت دے کر رخصت کر دیا تھا اب وہ اکیلا رہ گیا تھا۔ وہ صبح دیر سے کام پر آیا تھا اور ابھی تو اس کی نصف دیہاڑی بھی مکمل نہیں ہوئی تھی اسے مٹی کھودنے پر لگا دیا گیا۔

          کام کرتے کرتے اس نے ادھر ادھر نگاہ ڈالی اور حیران ہوا۔ مسلسل دھوپ اور شدید گرمی کی وجہ سے درختوں کے پتے جھڑ گئے تھے اور وہ بے سایہ ہو گئے تھے چلچلاتی دھوپ دیواریں پھاند کر سائٹ آفس، سٹور اور زیر تعمیر عمارت کے اندر گھسنے لگی تھی۔ اسے اپنے باپ کی میت کا خیال آیا وہ آتی بار اس کی چار پائی گھسیٹ کر اندر کر آیا تھا لیکن کیا پتہ اس نے سوچا دھوپ برآمدے کی راہ کمرے میں گھس گئی ہو۔ مگر اسے کم از کم اپنی نصف دیہاڑی ضرور مکمل کر لینی چاہئے اسے پیسوں کی سخت ضرورت تھی۔جب وہ کام کرتے کرتے نڈھال ہو گیا اور اس پر غشی کے دورے پڑنے لگے تو منشی نے اسے آدمی دیہاڑی دے کر گھر جانے کی اجازت دے دی۔

          وہ بستی میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا بچے، جوان اور جوان بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کے بال دھوپ میں سفید ہو گئے تھے۔ گھروں کے اندر دھوپ گھس آئی تھی اور وہ گھبرا کر باہر آ گئے تھے مگر کہیں سایہ نہیں تھا شاید بستی وقت سے پیچھے رہ گئی تھی۔

          وہ لوگوں کو مدد کے لئے بلانے سے پہلے ایک نظر میت کو دیکھ لینا چاہتا تھا، وہ جلدی جلدی گھر پہنچا مگر یہ دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گئے کہ وہ چارپائی جس پر اس کے باپ کی لاش تھی خالی پڑی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رونے لگا۔

٭٭٭