کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دل کا بوجھ

منشا یاد


مکان کی تعمیر کے لئے پلاٹ، روپیہ اور ارادے کے علاوہ اور بھی بہت سی چیزوں اور لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثلاً اینٹیں، سریا، لکڑی۔۔۔ قرض دینے والے با اثر احباب۔۔۔ اینٹیں، ریت اور بجری سپلائی کرنے والے ٹھیکیدار، راج، لوہار، ترکھان، پینٹر، پلمبر اور مزدور وغیرہ۔۔۔ لیکن مجھے بہت جلد پتہ چل گیا کہ سب سے اہم شخص ایک ایسا چوکیدار ہے جو کام کی نگرانی اور عمارت کی دیکھ بھال کر سکے دیانتداری اور فرض شناسی کے قحط کے اس دور میں گل باز خان کامل جانا میرے لئے خوش نصیبی کی بات تھی اس سے پہلے میں یکے بعد دیگرے تین چوکیداروں کو آزما چکا تھا۔ پہلا چوکیدار چند ہی روز میں مستریوں سے گھل مل گیا تھا اور سیمنٹ کی بھری ہوئی بوریوں کی جگہ خالی بوریوں کی تعداد ایک دم بڑھنے لگی تھی۔

          دوسرا چوکیدار سیمنٹ نہیں بیچتا تھا۔ ریت اور بجری والے ٹھیکیدار سے مل گیا تھا اور ایک ٹرک ریت یا بجری کو دو جگہ اتارا اور گنا جاتا تھا۔ اس کا علم مجھے اس وقت ہو جب میں نے اس کی تصدیق پر ٹھیکیدار کو بل کی ادائیگی کی۔

          تیسرا چوکیدار چوری نہیں کرتا تھا۔۔۔ کسی سے ملا ہوا بھی نہیں تھا۔پانچ وقت کا نمازی اور بے حد ایماندار تھا لیکن اسے چارپائی سے بڑی محبت تھی وہ چارپائی سے صرف نماز کے وقت تھوڑی دیر کے لئے نیچے اترتا تھا خوش اخلاق اور خدا ترس تھا اس لئے محلے کے لوگوں کو اینٹ، پتھر کڑاہی، بالٹی ریت یا چونے کسی چیز کی تکلیف نہیں ہونے دیتا تھا اور بسلسلہ خدمت خلق کچھ نہ کچھ خیرات کرتا رہتا تھا۔

          گل باز خان کے آنے سے مجھے ایک نیا تجربہ ہوا۔ چوکیدار تو وہ تھا۔۔۔ دن بھر راج مستریوں کے ساتھ مزدور کا کام بھی کرتا۔ شروع شروع میں میرا خیال تھا کہ وہ مجھ سے چوکیدار کے علاوہ مزدور کے طور پر کام کرنے کی دیہاڑیاں بھی لے گا لیکن جب میں نے اسے چھٹی کا وقت ہو جانے اور مستریوں کے چلے جانے کے بعد بھی کام کرتے دیکھا۔۔۔ تو میرا خدشہ جاتا رہا اور مجھے یقین ہو گیا کہ وہ فطرتاً ایک اچھا کارکن ہے۔ اس کے سامنے کام بھکرا ہو تو وہ ہر طرح کے حساب کتا ب سے بے نیاز ہو کر کام کرتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ سے راجوں اور ترکھانوں کے ساتھ کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد میں کم از کم دو آدمیوں کی کمی ہو گئی تھی۔ اگر وہ مجھ سے چوکیداری کے علاوہ وہ مزدوروں کی جگہ کام کرنے کی تنخواہ اور مانگ لیتا تو بھی۔۔۔ میرے خیال میں۔۔ یہ میرے ساتھ رعایت ہوتی لیکن وہ بے حد سیدھا سادہ اور بھولا تھا۔ اسے تو اپنی چوکیداری کی تنخواہ اور دیہاڑیوں کا حساب بھی ٹھیک طرح معلوم نہیں ہوتا تھے۔

          وہ چترال کا رہنے والا اور اچھی طرح اردو بول اور سمجھ نہیں سکتا تھا۔ وہ روپیہ کما کر اپنے بال بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے گھر سے اتنی دور آیا ہوا تھا مگر اسے پیسے کی ہوس نہیں تھی۔ کبھی کبھی مجھے  یوں لگتا تھا جیسے وہ روپے پیسے کو کنکر مٹی سمجھتا ہے میں اسے تنخواہ کی پوری رقم دیتے ہوئے کئی کئی بار نوٹ گنتا۔۔۔ وہ گنے بغیر جیب میں ڈال لیتا اور شکرئے کے طور پر دانت نکال کر سلام کرتا اور کام میں مصروف ہو جاتا۔

          میں اکثر دل میں سوچتا تھا کہ جتنی رقم میں اسے ہر ماہ دیتا ہوں، اس سے دگنی رقم کا مقروض ہو جاتا ہوں اور حق و انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ جس طرح وہ اپنی ڈیوٹی سے زائد کام کرتا ہے میں بھی اسے مقررہ معاوضے سے زیادہ رقم ادا کروں لیکن میری یہ سوچ کبھی عملی جامہ نہ پہن سکی۔مکان کی تعمیر میں روپیہ پانی کی طرح بہتا ہے۔ جتنے پیسے جیب میں ہوں۔ اس سے زیادہ پیسوں کی ضرورت رہتی ہے پھر بھی میں نے دل ہی دل میں طے کر لیا کہ مکان کی تعمیر مکمل ہونے پر زیادہ نہیں تو اس کو ایک ماہ کی زائد تنخواہ بونس یا انعام کے طور پر دونگا۔ سردیاں آ جائیں گی میں اسے نئے پڑے سلوا دوں گا اور لنڈے سے ایک آدھ اچھا سا کوٹ ا دوں گا اپنے پرانے جوتوں میں سے ایک آدھ جوڑا اسے دے دوں گا۔اس طرح شاید میرے دل کا یہ بوجھ کم ہو جائے کہ میں نے اس کی محنت کا پورا معاوضہ ادا نہیں کیا۔

          مکان کی تعمیر میں کئی ماہ اور لگ گئے اس طرح میں گل باز کی مہربانیوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گیا۔ ایک دفعہ میں نے صحن میں پڑا ہوا ملبہ اٹھانے کے لئے گدھوں والے سے اسی روپے میں ٹھیکہ طے کیا۔۔۔ لیکن گل باز خان نے اگلے روز گدھوں والے کو اندر نہیں گھسنے دیا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ خود دو چار روز میں سارا ملبہ اٹھا کر باہر پھینک دے گا اسی طرح۔۔۔ رات کو وہ چھت پر ریت اور بجری کے ڈھیر لگا دیتا تاکہ اگلے روز چھت پر کام کرنے کے لئے راج کا وقت ضائع نہ ہو اور زائد مزدوروں کی ضرورت نہ پڑے۔

          ایک مرتبہ لمبی سیڑھی کی ضرورت تھی اور اتنی لمبی سیڑھی کرائے پر بھی نہیں مل رہی تھی۔ گل باز خان پتہ نہیں کہاں سے ایک سیڑھی اٹھا لاتا۔ پوچھنے پر ہنسنے لگا۔پرہ چلا وہ جہاں سے سیڑھی مانگ لایا ہے وہاں اس نے بلا معاوضہ پھولوں کی کیاریاں بنا دینے کا عہد کیا ہے۔

 راج ترکھان اور دوسرے کاریگر اس سے عاجز آ گئے تھے۔وہ ہر چیز کو خزانہ سمجھ کر اس پر سانپ کی طرح کنڈلی مار کر بیٹھ جاتا تھا۔ ہر وقت اس قسم کی شکایتیں ملتیں کہ اس نے پینٹر کو رنگ کا نیا ڈبہ نہیں کھولنے دیا۔۔۔ مسالہ ضائع کرنے پر راج سے الجھ پڑا ہے یا مالک کی پیشگی اجازت کے بغیر الیکٹریشن کو اس کے اوزار تک لے جانے سے روک دیا ہے۔

          میر چھوٹی بچی کبھی کبھی اتوار کو میرے ساتھ چلی جاتی تو گل باز خان اسے دیکھ بہت خوش ہوتا اور منع کرنے کے باوجود اسے  بسکٹ اور ٹافیاں لا دیتا جو خود اس نے شائد کبھی چکھ کر بھی نہ دیکھی تھیں اگر کسی اتوار کو وہ میرے ساتھ نہ جاتی تو وہ اس کی خیریت دریافت کرنا کبھی نہ بھولتا۔ میں نے کئی بار سوچا کہ اس سے اس کے بچوں کے بارے مین پوچھوں لیکن پتہ کیسے ہر  مرتبہ بات میرے ذہن سے اتر جاتی۔

          مکان کی تعمیر مکمل ہوتے ہوتے پیسے کی بے حد کمی ہو گئی۔ میں جس قدر کفایت سے کام لینے کی کوشش کرتا اخراجات اسی قدر بڑھتے جاتے۔۔۔ اور میں چاہتے ہوئے بھی گل باز خان کو بونس یا انعام کچھ بھی نہ دے سکا۔

          پھر ہم کرائے کے مکان سے اٹھ کر اپنے نئے مکان میں آ گئے اور وہ کسی جھونپڑی میں منتقل ہو گیا۔ میں نے اسکی تنخواہ کی پائی پائی ادا کر دی لیکن میرے دل پر ایک بوجھ سا تھا کہ میں ے اس کی محنت کا کم از کم دو تہائی حصہ غصب کر لیا ہے۔ اور اس طرح میں نے ایک روایتی بور ژوا ذہنیت کا ثبوت دیتے ہوئے ایک محنت کش کا استحصال کی اہے سردیاں آ گئی تھیں اور بچوں کی گرم یونیفارم اور سوئٹریں، بیوی کی شال اور اپنے نئے سوٹ پر بہت سے پیسے خرچ ہو گئے تھے اس لئے میں اسے کپڑے خرید، کر بھی نہ دے سکا۔ بیوی بچوں کے کپڑے خریدتے وقت بھی مجھے برابر اس کا خیال آتا رہا لیکن مہنگائی کا کیا کیا جائے، گنجائش نہ نکل سکی۔ تاہم میں یہ سوچ کر مطمئن ہو گیا کہ میرے پاس بہت سے پرانے کپڑے ایسے ہیں جن میں سے گل باز کے لئے بہت کجھ نکل آئے گا۔

          گل باز خان رخصت ہونے لگا تو میں نے اپنی بیوی سے کہا وہ اسے میرے پرانے کپڑوں اور جوتوں میں سے کچھ نکال دے۔لیکن شفٹنگ اور نئے گھر میں سیٹنگ کی وجہ سے سارا سامان بکسوں اور صندوقوں میں تھا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا کہ کون سی چیز کہاں ہے۔ میں نے گل باز خان سے کہا کہ وہ اگلے اتار کو کسی وقت آئے کہ مجھے اس سے ایک ضروری کام ہے۔ وہ اثبات میں سر ہلا کر اور حسب معمول ہنس کر سلام کرتا ہوا چلا گیا۔

          اس کے جانے کے بعد مجھے یاد آیا کہ میں نے اس سے یہ تو پوچھا ہی نہیں کہ اسے کہیں بھی ملا ہے؟۔۔۔ لیکن اسے کام کی کیا کمی۔۔۔۔ ایسے آدمی کی تو ہر جگہ اور ہر وقت ضرورت ہوتی ہے۔

          گل باز خان اتوار کو ہمارے ہاں آیا لیکن ہم  اس روز اپنے ملنے والوں کے ہاں ان کی بچی کی سالگرہ کی تقریب میں گئے ہوئے تھے ورنہ اس روز میرے دل سے بوجھ کم ہو جاتا پھر بھی مجھے توقع تھی کہ وہ اگلے روز یا اگلے اتوار کو ضرور آئے گا۔ اور بالکل ایسا ہی ہوا۔ وہ اگلے روز شام کو پھر آیا۔ لیکن اس وقت میری بیوی کی ایک عزیز سہیلی آئی ہوئی تھی اور وہ اس کی خاطر مدارات میں مصروف تھی۔ میں نے سوچا جہاں اتنے دن گزر گئے ہیں وہاں کچھ دن اور سہی۔ میں نے گل باز خان سے اتوار کو آنے کا وعدہ لیا۔ وہ حسب معمول ہنستے اور سلام کرتے ہوئے چلا گیا۔

          میں نے اپنے کمرے میں آ کر ٹیبل ڈائری پر لکھ دیا کہ اتوار کو گل باز خان سے اپانٹمنٹ ہے اور مجھے صبح اٹھتے ہی اس کے لئے چیزیں نکلوا کر رکھ دینا ہونگی۔

          اتوار کی صبح کو میری آنکھ کھلی تو ریڈیو سیلون سے پرانی فلموں کے گیت نشر ہو رہے تھے میں نے بستر میں لیٹے لیٹے بیوی سے کو آواز دی اور گل باز خان کیلئے کپڑے نکالنے کو کہا، وہ سارے کام چھوڑ کر آ گئی اور صندوق کھول کر کپڑے نکالنے لگی۔

          کچھ ایسی بش شرٹیں تھیں جن کے رنگ پھیکے پڑ گئے تھے یا وہ سکڑ گئی تھیں۔ یہ گل باز خان کیلئے قطعی مناسب نہ تھیں۔ اس کے بھاری بھرکم جسم پر تو وہ بنیانیں معلوم ہوتیں کچھ پرانی گرم اور سرد پتلونیں تھیں مگر وہ شلوار پہنتا تھا، یہ بھی مناسب نہ تھیں۔ دو قمیضیں اچھی حالت میں تھیں لیکن ایک قمیض اگرچہ پرانی تھی پھر بھی گرے سوٹ کے ساتھ صرف وہی سجتی تھی۔ دوسری کا رنگ ہلکا ہو گیا تھا لیکن میری بیوی کے خیال میں پاجامے کے ساتھ کافی دنوں تک پہنی جا سکتی تھیں کہ میرے پاس صرف دو ہی نائیٹ سوٹ تھے۔

          اس کے بعد کوٹوں کی باری آئی۔ نیلا چیک کوٹ میں نے پچھلے سال ہی پہننا چھوڑ دیا تھا لیکن میری بیوی کا خیال تھا کہ وہ اب بھی اوور کوٹ کے نیچے پہنا جا سکتا تھا۔ دوسرا ایک کوٹ بالکل فالتو تھا لیکن ہمیں یاد آیا کہ چھوٹے بھائی نے چند روز پہلے کوٹ کے کپڑے کے لئے رقم بھیجنے کا خط لکھا تھا۔ کفایت شعاری سے کام لیا جائے تو یہ کوٹ معمولی سے رد و بدل سے اس کے کام آ سکتا تھا اور نئے کوٹ کے کپڑے اور سلائی پر اٹھنے والی اچھی خاصی رقم بچائی جا سکتی تھی۔

          جوتوں کی باری آئی تو اور بھی پریشانی ہوئی۔ کچھ جوڑے بالکل نئے تھے کسی تقریب میں پہننے کے لئے۔ دو ایک دفتر پہن کر جانے کے لئے یا پھر روزمرہ کے استعمال اور بارش میں پہن کر بازار وغیرہ جانے کے لئے دو ایک جوڑے تھے۔ ایک بھی تو فالتو جوتا نہ تھا اور جوتے اس قدر مہنگے ہو گئے تھے کہ سفید پوش طبقے کے لئے نیا جوتا خریدنا پورے مہینے کے بجٹ کو الٹ پلٹ کر دینے کے مترادف ہو گیا تھا۔

          وہ تو اچھا ہوا کہ اس روز گل باز خان نہیں آیا۔ ورنہ مجھے بے حد شرمندگی اور پریشانی ہوتی اور ضمیر الگ ملامت کرتا رہتا۔ دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لئے مجھے اور مہلت مل گئی تھی میں نے سوچا جہاں مکان کے لئے اتنا خرچ کیا ہے وہاں سو پچاس اور سہی۔ اب کے وہ آئے گا تو میں اسے بازار لے جاؤں گا اور زیادہ نہیں تو چادر، شلوار اور قمیض کا کپڑا ضرور لے دونگا۔

          جب اگلا اتوار بھی گزر گیا اور اس کے حصے کے پیسے جو میں نے الگ نکال کر رکھے ہوئے تھے خرچ ہونے لگے تو میں ایک روز اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ مجھے پہلی بار خیال آیا کہ میں نے اس سے کبھی یہ تو پوچھا ہی نہیں کہ وہ کہاں رہتا ہے اور کہاں کام کرتا ہے پھر بھی میرا اندازہ تھا کہ شہر کے اس حصے میں جہاں کثرت سے نئے مکانات بن رہے ہیں وہ مجھے کہیں نہ کہیں ضرور مل جائے گا۔

          مجھے پہلی بار خیال آیا کہ میں نے اس سے کبھی یہ تو پوچھا ہی نہیں کہ وہ کہاں رہتا ہے اور کہاں کام کرتا ہے پھر بھی میرا اندازہ تھا کہ شہر کے اس حصے میں جہاں کثرت سے نئے مکانات بن رہے ہی وہ مجھ کہیں نہ کہیں ضرور مل جائے گا۔

          میں دیر تک مختلف سڑکوں پر سکوٹر دوڑاتا اور اسے تلاش کرتا رہا لیکن اس کا کچھ پتہ نہ چلا۔

           اور یہ اس سے اگلے روز کی بات ہے۔شام کے وقت میرے پاس اس کا ایک ساتھی آیا۔ وہ کچھ عرصہ اس کے ساتھ میرے ہاں کام کر چکا تھا۔ اس نے ایک بڑا سا لفافہ میری طرف بڑھایا اور بولا ’’بابو صاحب۔۔۔ گل باز خان کا بیوی بیمار ہو گیا وہ جلتی جلتی وطن گیا، وہ بولتا تھا ہم کو چھوٹا بچی بہت اچھا لگتا۔ ہم اس کے واسطے توفہ بناتی۔بیگم صاحب اور صاحب کو سلام بولتی‘‘۔

میں نے لفافہ کھول کر دیکھا۔ اس میں ایک خوبصورت ریشمی فراک تھا۔

٭٭٭