کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دنیا کا آخری بھوکا آدمی

منشا یاد


 ایسا ہوتا ہے۔

 ایسا ہو جاتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی ضرورت مند آیا اور آپ نے سوچے سمجھے بغیر اپنے دفاع کے لئے اندر کے خسیس اور کمینہ خصلت منشی کو پکارنا شروع کر دیا اور جب منشی اور مہمان رخصت ہوئے آپ کو یاد آنے لگا کہ ضرورت مند شخص سے آپ کے کتنے دیرینہ یا گہرے تعلقات تھے۔ آپ پر اس کے کتنے احسانات تھے یا اس کی ضرورت کتنی جائز اور اہم تھی۔ اب آپ چاہتے ہیں اس کی تلافی ہو جائے مگر نہیں ہو پاتی کہ اس نے کسی اور ذریعے سے اپنی مشکل پر قابو پا لیا ہے اور آپ اب کف افسوس ملنے کے لئے رہ گئے ہیں۔

 بس کچھ ایسا ہی ہوا۔

 ہم ایک پر تکلف دعوت سے لوٹ رے تھے، رات کے نو سوا نو بج رہے تھے۔ بازار میں زیادہ تر دکانیں بند ہو چکی تھیں۔ مگر بیکریوں، پان سگریٹ کے کھوکھوں، کھانے پینے کے اسٹالوں اور اوپن ایئر ریستورانوں پر ابھی تک رونق تھی۔

 مجھے جمائیاں آ رہی تھیں مگر وہ ابھی تک چوکس اور ترو تازہ تھی کیونکہ اس نے خوبصورت لباس اور قیمتی زیور پہن رکھا تھا۔

 گنجائش تو نہیں تھی لیکن آج کل شہر کے اس فیشن ایبل علاقے میں رات کو کاروں میں بیٹھ کر کھانا پینا، کھاتے پیتے لوگوں کا دستور ہے۔ خود کو اس طبقے میں شامل سمجھنے کے لئے ہمیں بھی یہ دستور نبھانا پڑتا ہے۔ میں نے اس کے لئے آئس کریم اور اپنے لئے کولڈ ڈرنک منگایا۔ اب صرف پان کی گنجائش رہ گئی تھی۔ میں منگا بھی سکتا تھا مگر سوچا اسی بہانے ٹہل لوں گا۔ بیٹھے بیٹھے پیٹ میں ہوا بھر گئی تھی۔ میں پان لے کر لوٹا تو وہ تنکوں کی تین ٹوکریاں اٹھائے اس کے قریب کھڑا تھا۔ وہ منع کر رہی تھی اور وہ اصرار۔۔ میں نے کوئی دخل نہ دیا۔ ہوٹل کے لڑکے کو ٹپ دی اور گاڑی سٹارٹ کرنے لگا۔ وہ بولی۔

’’اسے کچھ دے دیں کہہ رہا ہے بھوکا ہوں۔‘‘

’’کوئی بھوکا ووکا نہیں ہوتا۔‘‘ میں نے ریورس گیئر لگایا۔ ’’سب مانگنے کے بہانے ہیں۔‘‘

گاڑی ریورس ہوئی۔ وہ پریشان ہو کر بولی۔

’’وہ رو رہا ہے۔‘‘

’’کون رو رہا ہے؟‘‘

میں نے ایک نظر اسے دیکھا۔ وہ ٹوکریاں زمین پر رکھے ننھے بچوں کی طرح روتے ہوئے اپنے آنسو پونچھ رہا تھا۔

 ’’بڑے مکار ہوتے ہیں یہ۔۔ فریبی۔‘‘

 میں نے یہ الفاظ نسبتاً بلند آواز مگر کھوکھلے لہجے میں کہے کیونکہ میں خود کو ڈھارس دینا چاہتا تھا۔ ورنہ سچی بات یہ ہے کہ پچپن ساٹھ برس کے ایک بزرگ صورت شخص کو اس طرح بلکتے دیکھ کر میرے اندر بہت کچھ آپ ہی آپ ٹوٹ گیا تھا۔ میں اسے کچھ دے سکتا تھا۔ دینا چاہتا تھا لیکن اب گاڑی سڑک پر آ چکی تھی۔ آگے پیچھے بھاری ٹریفک تھا۔ پھر وہ کیا سوچتی میں اندر سے اتنا کمزور اور زود پشیمان ہوں ؟ لیکن گھر پہنچتے پہنچتے مجھے لگا زار و قطار روتا وہ بوڑھا میرے ذہن سے چپک کر میرے ساتھ ہی چلا آیا ہے۔

 میں نے کپڑے تبدیل کیے اور ٹیلی ویژن کھولا مگر بند کر دیا۔ کتاب لے کر لیٹا مگر پڑھنے میں جی نہ لگا۔ بار بار بوڑھے کا آنسوؤں سے تر چہرہ نگاہوں میں گھوم جاتا۔ کاش میں نے اسے روپیہ دو روپیہ دے دیا ہوتا۔ یہ الجھن تو نہ ہوتی۔

 روپیہ۔۔ جس کا میں نے پان چبا کر تھوک دیا تھا جسے میں سگریٹ کی صورت پھونک رہا تھا۔ جس کی قیمت کا سوڈا واٹر میں بوتل میں چھوڑ آیا تھا اور روپیہ۔۔ جو میں نے ہوٹل کے لڑکے کو ٹپ میں دے دیا تھا۔

 کبھی خود پر غصہ آتا کبھی بوڑھے پر۔۔ طرح طرح سے جی کو بہلانے کی کوشش کی کہ ضرور اس کا تعلق پیشہ ور بھکاریوں کے کسی گروہ سے ہو گا اور اب تک اس کی اپنی گاڑی اسے لینے آ گئی ہو گی بلکہ اب تک وہ اپنے ڈیرے پر پہنچ کر دن بھر کی کمائی کا حساب لے یا دے رہا ہو گا۔ کیا پتہ وہ اس وقت کسی ریستوران میں بیٹھ کر چکن تکہ یا کڑاہی گوشت کھا رہا ہو یا چرس بھرے سگریٹوں کے کش لگا رہا ہو لیکن دوسرے ہی لمحے آنسوؤں سے دھلا ہوا اس کا معصوم اور نڈھال چہرہ نگاہوں میں گھوم جاتا اور میں پریشان ہو جاتا۔

 پریشانی سے بچنے کی صرف ایک صورت تھی کہ میں واپس جاؤں اور اگر وہ بھوکا ہے تو اسے کھانے کے لئے کچھ پیسے دے آؤں یا اگر وہ کڑاہی گوشت کھا، یا سگریٹ پھونک رہا ہے تو اس پر لعنت بھیج کر واپس آ جاؤں اور مطمئن ہو کر سو جاؤں لیکن میں اپنی ہر کمزوری اس سے چھپاتا رہا۔ اس لیے میں نے کسی ضروری کام کا بہانہ کیا اور گیراج سے گاڑی نکال کر بازار کی طرف روانہ ہو گیا۔

 جونہی میں گلی کا موڑ مڑ کر سڑک پر آیا مجھے دور پہاڑیوں میں واقع اس کا چھوٹا سا گھر دکھائی دینے لگا جہاں اس کی بیمار بیوی کھاٹ پر لیٹی کھانس رہی تھی اور زرد رو بیٹی بیٹھی تنکوں کی ٹوکری بنا رہی تھی۔ اس کی بیٹی کو اپنے کام میں بڑی مہارت ہے اور اسے اپنی بنائی ہوئی ٹوکریوں پر بڑا ناز ہے مگر اسے شکایت ہے کہ قصبے کا دکاندار اچھے دام نہیں دیتا وہ ہر بار بابا سے کہتی ہے کہ وہ ٹوکریاں شہر لے جا کر بیچے اور دیکھے کہ بیگمات ان کی کتنی قدر کرتی ہیں۔ پھر میں نے دیکھا کہ بل کھاتی پہاڑی سڑک پر وہ شہر کو جاتی بسوں کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتا ٹوکریاں اٹھائے پیدل چل رہا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ شہر میں داخل ہوتے ہی جگہ جگہ بیگمات ٹوکریاں دیکھنے کے لئے کاریں روک لیں گی اور ہاتھوں ہاتھ خرید لیں گی۔ پھر وہ بیوی کی دوائی، بیٹی کے کپڑے اور بکری کی گانی خرید کر بس میں سوار ہو گا اور اپنے گھر واپس چلا جائے گا۔ مگر آج تیسرا روز ہے اور اس کی ایک بھی ٹوکری فروخت نہیں ہوئی شاید ان کا فیشن ختم ہو گیا ہے یا ڈیزائن پرانے ہو گئے ہیں وہ سڑکوں اور بازاروں میں ٹوکریاں اٹھائے بھوکا پیاسا مارا مارا پھرتا ہے۔

 میں نے بازار کے اس حصے میں، جہاں تھوڑی دیر پہلے اسے روتا چھوڑ گیا تھا،پہنچ کر گاڑی روکی۔ ادھر ادھر نگاہ دوڑائی۔ میرا خیال تھا کہ وہ یہیں کہیں آتی جاتی کاروں کے گرد منڈلاتا ہو گا۔ لیکن وہ کہیں دکھائی نہ دیا۔ میرے دل کو دھچکا سا لگا۔ میری پشیمانی کیسے دور ہو گی۔

 میں نے بازار میں گھوم پھر کر اسے تلاش کرنا شروع کر دیا لیکن وہ کہیں نظر نہ آیا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ ضرور وہ چھپ کر کسی ریستوران میں کھا پی رہا ہو گا۔ اگر میں اسے کھاتے پیتے دیکھ لوں تو مجھے کس قدر سکون ملے۔ دل میں چبھی ہوئی پھانس سی نکل جائے۔

 ہوٹلوں اور ریستورانوں میں طرح طرح کے لوگ بیٹھے کھا پی رہے تھے۔ گپ شپ کر رہے تھے۔ میرے ذہن میں اس کی پوری شکل نہیں تھی لیکن اتنا ضرور یاد تھا کہ اس کے چہرے پر چھوٹی چھوٹی سفید داڑھی تھی اور وہ پچپن ساٹھ برس کا ایک دیہاتی بوڑھا تھا جس کے پاس تین ٹوکریاں تھیں۔ میں نے ایک ایک ہوٹل میں جا کر اسے تلاش کیا۔ لیکن وہ کہیں نہ ملا۔ کئی بار ارادہ کیا کہ لوٹ جاؤں مگر مجھے اپنی طبیعت کا حال معلوم تھا۔ ذرا سی الجھن بھی ہو تو جب تک اس پر قابو نہ پا لوں یا اس کا حل نہ سوچ لوں چین نہیں آتا۔ میں نے اسے فٹ پاتھوں اور ملحقہ پارکوں میں سوئے یا سوتے جاگتے آدمیوں میں تلاش کیا۔ پھر قریبی مسجدوں میں جا کر دیکھا۔ رات کے بارہ بج گئے مگر اس کا کہیں دور دور تک پتہ نہ تھا۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ ناکام واپس آؤں اور رات بھر بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہوں۔

 تو کیا وہ سچ مچ بھوکا تھا۔ بغیر کچھ کھائے پئے سو گیا۔ سویا کہاں ہو گا۔ خالی پیٹ نیند کہاں آتی ہے۔ بھرے پرے شہر میں بھوکا رہ کر وہ کیا سوچتا ہو گا۔ یہ کتنی عجیب بات ہے کہ لذیذ کیک پیسٹریوں سے بھری بیکریوں، خوش ذائقہ مٹھائیوں سے اٹی دکانوں، اناج سے بھرے گوداموں اور رنگا رنگ پھلوں سے آراستہ فروٹ شاپس کے سامنے یا کہیں آس پاس آدمی بھوکا پڑا رہے۔

 رات بھر عجیب واہیات اور مکروہ خواب دکھائی دیتے رہے۔ کبھی میں دیکھتا، میں جس شخص کی برائیاں بیان کر رہا ہوں وہ عین میرے پیچھے کھڑا سن رہا ہے۔ کبھی دیکھتا کہ میں نے ایک بچے سے ٹافی چھین کر ہڑپ کر لی ہے اور وہ میرے سامنے زار و قطار رو رہا ہے۔ بار بار آنکھ کھلتی رہی۔ عجیب ندامت بھری رات تھی۔

 صبح دفتر جاتے ہوئے میں نے بازار کا ایک لمبا چکر لگایا۔ فٹ پاتھوں، دکانوں کے تھڑوں اور ملحقہ پارکوں پر نظر دوڑائی۔ دفتر میں بھی بار بار مجھے اس کا خیال آتا رہا۔ دفتر سے واپسی پر بھی میں نے اس خیال سے بازار کا چکر لگایا کہ شاید وہ کہیں دکھائی دے جائے اور میں اسے روپیہ دو روپیہ دے کر اس خلش سے نجات حاصل کر سکوں جو مجھے گذشتہ شب سے اندر ہی اندر بے چین کر رہی تھی۔ لیکن وہ کہیں بھی نظر نہ آیا۔ تاہم مجھے توقع تھی کہ شام کے بعد وہ ضرور اسی جگہ مل جائے گا جہاں اس سے ملاقات ہوئی تھی۔

 میں نے شام ہونے کا بیتابی سے انتظار کیا اور کھانا کھائے بغیر ٹہلنے کے بہانے بازار کی طرف چل دیا۔ میں بڑی دیر تک ادھر ادھر گھومتا رہا۔ تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد گذشتہ رات والی جگہ کا چکر لگاتا مگر وہ نہ ملا۔ مجھے اس پر غصہ آنے لگا۔

 بدبخت تیری اتنی عمر گزر گئی لیکن تجھے خبر نہ ہوئی کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ آخر تو اتنا عرصہ کیا کرتا رہا ہے کہ اس زمانے میں بھی بھوکا سوتا ہے جب اس موضوع پر شاعر نظمیں کہنا اور افسانہ نگار کہانیاں لکھنا ترک کر چکے ہیں۔ تیری زندگی میں کتنے ملک آزاد ہوئے کتنی نئی قومیں اور ملک معرض وجود میں آئے۔ کیا کیا ایجادات ہوئیں۔ کتنے علمی اور سائنسی انکشافات ہوئے۔ ٹیکنالوجی نے انقلاب برپا کیا۔ کلرک وزیر سفیر اور سپاہی جرنیل کرنیل بن گئے۔ دینو میراثی کا لڑکا پٹواری بن گیا۔ رحمو نائی کا بیٹا کلاس ون افسر لگ گیا۔ وسیم خان راج گیری کرتا تھا اب اے کیٹیگری گورنمنٹ کنٹریکٹر ہے۔ جمیل صاحب پروف ریڈنگ کرتے تھے اب پرنٹنگ پریس کے مالک ہیں۔ بشیرا ریڑھی لگاتا تھا اب ہول سیل فروٹ مرچنٹ ہے۔

 بدبخت بوڑھے صرف تو رہ گیا۔ اتنی تبدیلیاں آئیں اور تجھے خبر ہی نہ ہوئی۔ ٹھیکے، پرمٹ، لائسنس، نیلام، لاٹریاں،الاٹمنٹیں، وظیفے۔ پتہ نہیں تو کس کھوہ میں چھپا رہ گیا۔ تو نے اپنے پہاڑوں سے اتر کر کبھی دیکھا ہی نہیں۔ تو نے دھوپ میں بال سفید کئے۔ ساری دنیا آگے نکل گئی صرف تم پیچھے رہ گئے۔ میرا سکون غارت کرنے کے لئے۔ لیکن تم اگر بھوک سے مرتے ہو تو مرو۔ میری بلا سے۔ میری کیا ذمہ داری ہے اور کیا مجھ اکیلے کی ذمہ داری ہے۔

 میں نے اسے اگلے روز اور اس سے اگلے روز بھی تلاش کیا۔ یقیناً وہ اپنے گھر واپس چلا گیا ہو گا۔ یہ سوچ کر میں دل کو تسلی دینا چاہتا لیکن ایک بوجھ سا تھا جو میں ہر وقت دل پر لیے پھرتا تھا۔ ایک بے کلی سی تھی۔ ایک خلش تھی جو مجھے بے چین کرتی رہتی تھی۔

 پھر ایک روز میں نے اخبار میں ایک خبر پڑھی۔ ایک نامعلوم بوڑھا بس کے نیچے آ کر کچلا گیا تھا اور حالانکہ خبر میں ٹوکریوں کا ذکر نہیں تھا۔ لیکن میں نے یہ یقین کر لینے میں عافیت سمجھی کہ وہ وہی بوڑھا تھا۔ مجھے دکھ ضرور ہوا۔ لیکن اس رات میں چین اور سکون کی نیند سویا جیسے آخری بھوکا آدمی دنیا سے اٹھ گیا ہو۔

٭٭٭