کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دو جمع دو

منشا یاد


تیز گام رکتی ہے۔

          پلیٹ فارم پر منتظر اور بے قرار ہجوم میں افراتفری پھیل جاتی ہے۔ دوسرے ہی لمحے سارا ہجوم اے سی سی (ائیر کنڈیشنڈ کوچ) فرسٹ سیکنڈ اور تھرڈ چار حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔

          میں سامنے والے ڈبے کی طرف دیکھتا ہوں، گرمی سے میرا جسم جھلس رہا ہے۔ لیکن ایئر کنڈیشنڈ ڈبے پر نظر پڑتے ہی میں بدک جاتا ہوں اور ایک قدم پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔ پھر فرسٹ اور سیکنڈ کے ڈبوں پر حسرت بھری نگاہ ڈال کر میں تھرڈ کلاس کے ڈبے میں گھس جاتا ہو گی لیکن میری روح اب تک ائیر کنڈیشنڈ ڈبے میں اٹکی ہوئی ہے۔ جسے دیکھ کر میں بدک گیا تھا۔

          مجھے اے سی سی، فرسٹ اور سیکنڈ کے ڈبوں میں سوار ہونے والوں پر خواہ مخواہ غصہ آنے لگتا ہے جیسے انہوں نے اپنی اپنی جیب سے نہیں کاٹ کر ٹکٹ خریدے ہوں اور اپنے اپنے ڈبوں کی کھڑکیوں سے سر باہر نکال کر میر منہ چڑا رہے ہوں۔

          تیز گام روانہ ہوتی ہے۔

          پلیٹ فارم پیچھے رہ جاتا ہے ریلوے کوارٹر ساتھ ساتھ بھاگ رہے ہیں۔ بڑے چھوٹے اور چھوٹے چھوٹے کوارٹر۔۔۔۔ ایک بڑے کوارٹر میں کئی چھوٹے کواٹر سما سکتے ہیں۔

          چھوٹے کوارٹروں میں چھوٹے ملازمین رہتے ہیں خواہ ان کے قد چھوٹے نہ ہوں اور ان کی تعداد بڑے کوارٹر والوں سے زیادہ ہو اور خواہ بڑے کوارٹر والوں کو ایک دوسرے کو تلاش کرتے وقت کتنے ہی ویران اور خالی کمروں سے گزرنا پڑتا ہو۔ بڑے کوارٹروں میں کمرے خالی پڑے رہتے ہیں۔ اور چھوٹے کوارٹر والوں کی چارپائیاں گلیوں میں بچھانا پڑتی ہیں۔

          ائیر کنڈیشنڈ اور فرسٹ کلاس کے ڈبوں میں سیٹیں خالی پڑی رہتی ہیں اور تھرڈ کلاس میں سانس لینا دو بھر ہو جاتا ہے۔ ہم سب مشرق، مغرب، شمال اور جنوب میں گھرے ہوئے ہیں۔ اس لئے ہم نے سرکاری ملازمتوں کو بھی چار بڑے بڑے  درجوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ اول، دوئم، سوئم اور چہارم۔

          یہ تقسیم بڑی پرانی ہے۔

          وہ جو سر سے پیدا ہوئے ایک کندھوں اور ہاتھوں سے پیدا ہوئے دو رانوں سے پیدا ہوئے تین اور وہ جو پاؤں سے پیدا ہوئے چار۔

          مگر یہ تو ان دنوں کی بات ہے جب ایک لمبی تاریک رات ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔درخت اور انسان زمین سے چمٹے ہوئے تھے اگر زہریلی سرد ہوائیں چلتی تھیں۔ ستاروں کی پھیکی پھیکی روشنی میں ہر چیز پر اسرار معلوم ہوتی تھی۔ سانپ، سنپولئے، اور ناگنیں درختوں کی شاخیں اور ٹہنیاں تھیں۔ کئی کئی ہاتھوں اور سروں والے دیوتا آلتی پالتی مارے جگہ جگہ نظر آتے تھے۔ مردوں کی زبانوں پر قفل اور پاؤں میں زنجیریں تھیں۔ چتاؤں کے بھسم کر دینے والے شعلوں کے خوف سے عورتوں کی زبانیں گنگ اور بدن حرارت سے محروم تھے۔

          آدم خور حکمرانوں، خونخوار سرداروں، کئی کئی ہاتھوں اور گردنوں والے دیوتاؤں اور خود ساختہ مذہبی روایات کے آڑھیتوں اور اجارہ داروں کے خلاف بات کرنے یا سوچنے پر زبانوں میں سوراخ کر دیے جاتے۔ ان کر برابر بیٹھنے پر چوتڑ کاٹ دئیے جاتے تھے اور منہ میں لوہے کی گرم سلاخیں ٹھونکی جاتی تھیں۔

          جگہ جگہ انسانی لاشوں کے ڈھیر آتے تھے۔ ان لاشوں کو بیتالیں اپنے لمبے لمبے ناخنوں سے کھدیڑ کھدیڑ کر ان کا ماس کھاتی اور وحشیانہ رقص کرتی تھیں لیکن تفریق و تقسیم کا یہ عمل تو ختم ہو جانا چاہئے تھا۔

          یہ اس دور کی بات ہے جب ایک کبھی نہ غروب ہونے والا سورج طلوع ہوا تھا۔ اور گھپ اندھیری رات یکایک تمام ہو گئی تھی۔

          چتاؤں کے سامنے کھڑی بد حواس عورتوں کی جان میں جان آئی تھی۔

          خود کشی پر مجبور انسان۔۔۔ امید کی کرنیں دیکھ کر مقدس دریاؤں کے کنارے سے پلٹ آئے تھے اور زبانوں پر لگے قفل ٹوٹنے لگے تھے۔

          جسم آزاد ہوئے او ان میں روحیں پھڑ پھڑانے لگیں تھیں۔ لاشوں کے درمیان ناچتی چڑیلوں اور بد روحوں کو زمین کھا گئی تھی۔

          انہوں نے روشنی کا خیر مقدم کیا اور اپنے آپ کو پہچانا۔

          لیکن وہ ایک دوسرے کی پہچان سے پھر بھی عاری رہے۔

          ابراہیم علیہ السلام نے کافروں سے کہا کہ جب تم ان بتوں کو پکارتے ہو تو یہ تمہاری پکار کو سنتے ہیں یا تم کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو نہیں لیکن ہم نے اپنے باپ داد کو ایسا ہی کرتے دیکھا ہے‘‘۔ (الشعراء۵)

           اور اس کے بعد۔۔۔!

          وہ سورج جس نے انہیں اندھیروں سے نجات دلائی تھی۔ اب بھی چمکتا تھا۔ لیکن انہوں نے دوسرے سورج خود بنا لئے تھے اور ان کی پرستش شروع کر دی تھی یہ سورج مادہ نخشب کی ترقی یافتہ صورت تھے۔ ان کی غیر فطری اور مصنوعی روشنی سے ان کی آنکھیں خیرہ  ہو گئیں اور وہ بصارت سے محروم ہو گئے۔

          بصارت سے محروم ہو کر انہوں نے پھر سانپوں، اژدہوں، بد روحوں، سونے کے آلتی پالتی مارے بیٹھے ہوئے دیو تاؤں اور عورتوں سونے کے آلتی پالتی مارے بیٹھے ہوئے دیوتاؤں اور عورتوں کے ننگے کی پرستش شروع کر دی اور اپنے اپنے سورجوں کے حوالے سے مزید گروہوں اور ٹکڑیوں میں بٹ گئے۔ انہوں نے روشنی کا پیغام لے کر آنے والے روشن بدنوں کو لٹیرے اور حملہ آور قرار دیا اور وہ بھول گئے کہ خود انہوں نے کبھی یہاں آ کر زمینیں، عورتیں، اور بستیاں لوٹی تھیں۔ اگر انسانوں کو غلامی کی بیڑیاں پہنائی تھیں۔

          وہ بہت کچھ بول گئے اور نہیں جانتے تھے کہ مصنوعی سورجوں کی غیر فطری تپش آنے والی کل کو ان کی فصلوں کے خوشوں کو سیاہ کر سکتی ہے اور ان کے کنوؤں کو خشک، زمینوں کو بنجر اور دریاؤں کو زندہ مچھلیوں سے محروم کر سکتی ہے۔

          تیز گام فراٹے جا رہی ہے۔

          کل اور آج دو ڈبوں کی طرح ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیں۔ اگر اگلا ڈبہ اچانک رک جائے تو پچھلا ڈبہ اس کے اوپر چڑھ سکتا ہے۔

          کون جانے اگلا دبہ کب ٹکرا جائے اور اچانک رک جائے۔

          کوارٹر بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ مگر شہر ساتھ ساتھ ہے۔ چھوٹے بڑے مکان ایک ایک کر کے گزرتے جا رہے ہیں۔

          یہ ہوٹل ہے۔ یہ لاریوں کا اڈہ ہے، اور یہ سینما ہے۔

          ’’پتر پنج دریا واں دے‘‘ فلم لگی ہے۔

          کھڑکی توڑ ہفتے کا افتتاح ہو رہا ہے۔ ٹکٹ بلیک ہو رہے ہوں گے جیبیں کٹ رہی ہوں گی۔ تھرڈ کلاس کی کھڑکی کے سامنے بے حد رش ہے۔ وہ سب باہم دست و گریباں ہیں۔ یہ تھرڈ کلاس والے شائد اسی لئے تھرڈ کلاس والے ہوتے ہیں۔ تیز گام شہر سے باہر آ گئی ہے۔ اور کھلے میدانوں میں بھاگتی جا رہی ہے۔

          کسان کھیتوں میں ہل چلا رہے ہیں۔ فصلیں بیجنے کے لئے بیج، کھاد اور بیلوں کی خریداری ہوتی ہے اور فصلیں بوئے جانے سے پہلے نیلام ہو جاتی ہیں۔

          کھاد مٹی میں مل جاتی ہے۔ بیلوں کو رسہ گیر ہانک کر لے جاتے ہیں۔ رہن رکھے ہوئے بیج اگ کر پودے بن جاتے ہیں۔ پودوں سے پھر بیج حاصل ہوتے ہیں۔

          مجھے اپنا باپ یاد آنے لگا ہے۔ شائد میرے باپ کا سی طرح یاد آتا ہو لیکن شائد اپنے باپ کا باپ اور اپنے بیٹے کا بیٹا میں خود ہوں۔

          مجھے یاد آتا ہے جب وہ اس وادی میں آئے۔ یہاں فصلیں لہلہاتی اور بھینسیں ڈا کرتی تھیں۔ عورتیں دودھ بلوتی اور بچے گیلی مٹی سے گھوڑے بناتے اور چولہے کی آگ میں پکاتے تھے۔

          انہوں نے عورتوں، گھروں اور کھیتوں پر قبضہ کر لیا۔ لیکن وہ ہل چلانا نہیں جانتے تھے۔ اس لئے انہوں نے ہل چلانے والوں کو ملازم رکھا اور اپنے گھروں کو اناج سے بھر لیا۔

          گودام اناج سے بھرتے رہے۔

          کیڑے مکوڑے اور چوہے اناج کھا کھا کر اژدہے اور راکھش بن گئے اور ہر طرف اژدہوں کی پھنکاریں سنائی دینے لگیں جو اناج کے ڈھیر پر کنڈلی مار کر بیٹھ گئے تھے۔

          ترمذی سے روایت ہے۔ ’’ہماری امت میں مہدی آئے گا جو ایسے زمانے میں آئے گا جب دنیا مصائب و مشکلات کا شکا ہو گی۔ وہ امن قائم کرے گا۔ انصاف پھیلائے گا اور دولت کو لوگوں میں برابر تقسیم کرے گا۔‘‘

          تیز گام کا عوام ایکسپریس سے سامنا ہوتا ہے۔

٭٭٭