کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

دوپہر اور جگنو

منشا یاد


اس کی بیوی اسے جگاتی ہے تو وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔

          ’’کیا ہوا؟۔۔۔۔ خیر تو ہے؟‘‘

          ’’چھ بج رہے ہیں اب اٹھ جائیے۔‘‘

          ’’اوہ میں سمجھا۔۔۔۔ پھر کوئی بری خبر!‘‘

          ’’وہ دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔ پھر کہتا ہے‘‘

          ’’روز کہتا ہوں نیک بخت۔۔۔۔ مجھے اس طرح نہ جگایا کرو‘‘

          ’’آپ تو یوں ہی بدک جاتے ہیں ‘‘ اس کی بیوی باورچی خانے کی طرف جاتے ہوئے کہتی ہے‘‘

          ’’پتہ نہیں ہر وقت کیا ڈراؤ نے خواب دیکھتے رہتے ہیں۔‘‘

          ’’خواب؟ وہ خود سے سوال کرتا ہے۔ تو کیا یہ سب خواب تھا۔۔۔ مگر کیسا بھیانک طویل اور مکروہ خواب۔‘‘

          ہاں ! ہاں، یہ خواب ہی تو تھا۔۔۔۔ ابھی ابھی جب اخبار آئے گا۔ اس پر دسمبر ۱۹۷۰ء کی کوئی تاریخ درج ہو گی۔

          رضائی میں لیٹے لیٹے وہ دیوار پر لگی گھڑی کی طرف دیکھنے لگتا ہے۔ اس کی بیوی نے بتایا ہے کہ چھ بج گئے ہیں مگر ابھی چھ بجنے میں دو منٹ باقی ہیں سوئی چھ کے ہند سے کو چھو رہی ہے مگر ابھی چھ نہیں بجے۔۔۔۔ یہ چھ اس وقت تک نہیں بج سکتے جب تک بڑی سوئی بارہ کے نقطے کو نہ چھولے۔ مگر یہ بڑی۔۔۔ صرف نام کی بڑی ہے اسے بڑی پر ترس آنے لگتا ہے جو دائرے کا پورا چکر کاٹ کر آتی ہے۔ چھوٹی نے اس کے مقابلے میں بارہواں حصہ سفر طے کیا ہے لیکن ابھی ابھی جب گھنٹے بجیں گے تو اس کا سہرا چھوٹی کے سر ہو گا۔

          چھ بجتے ہیں !

          وہ ساتھ ساتھ گنتا جاتا ہے‘‘

          اسے معلوم ہے کہ جب چھوٹی چھ پر اور بڑی بارہ پر ہے تو چھ ہی بجیں گے۔ لیکن پھر بھی اسے شک ہے کیا خبر گھڑی میں کوئی خرابی ہو گئی ہو اور آج وہ پانچ یا سات بجا دے۔ چھ تک گنتی پوری ہونے پر وہ اطمینان کا سانس لینا چاہتا ہے کہ اس کی نظر روشندان پر لگے ہوئے خاکی رنگ کے کاغذوں پر پڑتی ہے ان کھرچے ہوئے کاغذوں کو دیکھ کر اسے بلیک آؤٹ یاد آتا ہے۔ پھر اس کے کان میں سائرن کی آواز گونجتی ہے۔

          خندق۔۔۔۔ دھما کہ۔۔۔۔ خون۔۔۔۔۔ لاشیں۔۔۔۔ دھواں اور گھپ اندھیرا۔۔۔۔‘‘

          ’’بنگلہ دیش‘‘۔۔۔۔ مکتی باہنی!!‘‘

          عجیب واہیات خواب تھا۔

          لیکن یہ مکتی باہنی کیا ہوتی ہے یہ کس زبان کا لفظ ہے اور اس کے ذہن سے کیوں چیک گیا ہے۔ کہیں یہ خواب کی بجائے کوئی حقیقت نہ ہو کہ ہم جنگ ہار گئے ہیں۔۔۔۔ اس کا دل ڈوبنے لگتا ہے خدا کرے یہ خواب ہی ہو۔۔۔۔ خواب کی کرچیاں اس کے دل کو لہولہان کرنے لگتی ہیں۔

          اس کے ذہن میں توپ دغنے لگتی ہے ’’شکست۔۔۔۔ شکست۔۔۔۔ شکست‘‘ دھماکوں کا دھواں کم ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں لفظ ابھرتے ہیں۔

          ’’پاسپورٹ۔۔۔۔ بائیس خاندان۔۔۔۔ زر مبادلہ۔۔۔۔ بنگلہ بندھو۔۔۔۔ قومی ملکیت۔۔۔۔ عوامی حکومت!‘‘

          عوامی حکومت کا خیال آتے ہی اسے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ سب کچھ خواب تھا وہ بیوی کو بلا کر شک دور کرنا چاہتا ہے کہ گلی میں ہاکر آواز گونجتی ہے۔ ’’اخبار اے‘‘ اس کے دھیان خواب کی باتوں سے ہٹ کر ہاکر نیوز ایجنٹ اور اخبار کے مالک کی طرف چلا جاتا ہے۔ اس لمحے اس کا بڑا بچہ اخبار لا کر سامنے رکھ دیتا ہے۔ وہ اخبار اٹھا کر دیکھنا چاہتا ہے لیکن کسی انجانے خوف سے اس کا ہاتھ لرز کر رہ جاتا ہے۔ پتہ نہیں آج کس ملک نے کس بڑی طاقت کے اشارے پر کس ملک پر حملہ کر دیا ہو؟

          پتہ نہیں آج کسی ملک کی فوج نے وہاں کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ہو اور کیا خبر وہ حکومت الٹے ہوئے تختہ کو پھر سیدھا کر کے اس پر بیٹھ گئی۔ یا ابھی تک تختے پر پڑی ہو۔

          نہ جانے آج کہیں ہوائی جہاز گاڑی یا بس کا حادثہ ہو گیا ہو یا کہیں طوفان اور زلزلے کی وجہ سے ہزاروں انسان موت کی نیند سو گئے ہوں کسی کارخانے میں آگ لگ گئی ہو یا کسی دکان کو لوٹ لیا گیا ہو۔ کسی کی بہو بیٹی گھر سے بھاگ گئی ہو یا اغوا کر لی گئی ہو۔

          نہ جانے آج کس وجہ سے بھائی نے بھائی کا خون کر دیا ہو۔ باپ نے بیٹے کو عاق کر دیا ہو۔ اور کیا پتہ جب وہ اخبار اٹھا کر دیکھے اس میں جنوری ۱۹۷۲ء کے بجائے کوئی اور تاریخ چھپ گئی ہو۔

          مگر نہیں۔۔۔ وہ تو خواب تھا۔۔۔ طویل بھیانک اور مکروہ خواب!

          اسے شک دور کرنے کے لئے اخبار دیکھنا چاہئے۔

          وہ اخبار دیکھتا ہے

          اخبار میں سانپ لپٹا ہوا ہے۔ وہ چیخنا چاہتا ہے لیکن سانپ اس کے گلے کے گرد کنڈلی مار لیتا ہے اور اپنی دو شاخی زبان سے اس کا دماغ چاٹنے لگتا ہے۔ پھر اتر کر سیمنٹ کنکریٹ کے پکے فرش میں گھس جاتا ہے۔

          وہ اخبار کو اچھی طرح الٹ پلٹ کر دیکھتا ہے۔ اخبار کورے کاغذوں کا پلندہ ہے اس پر کوئی سرخی، کوئی لفظ نہیں ہے۔ وہ گھبرا کر آنکھیں ملتا ہے کہیں وہ اچانک بصارت سے محروم نہ ہو گیا ہو۔

          وہ اخبار سے منہ ڈھانپ لیتا ہے۔

          اس کے کانوں میں لاکھوں سسکیوں، آہوں، چیخوں اور دھماکوں کی آوازیں گونجنے لگتی ہیں۔ وہ دیر تک بے حس و حرکت پڑا رہتا ہے۔ پھر پورے زور سے چیخ کر کہتا ہے۔

          ’’ہاں ہم ہار گئے، ہار گئے!‘‘

          اس کے ساتھ اس کی آنکھ سے کوئی آنسو نہیں گرتا۔

          مگر اخبار کے اوراق پر آہستہ آہستہ الفاظ ابھرنے لگتے ہیں، سرخیاں شہ سرخیاں، تصویریں، خبریں، کالم، کارٹون، نظمیں اداریہ اور جنگی قیدیوں کی فہرست!

          وہ خبروں کی سرخیاں یوں جلدی دیکھتا ہے جیسے بہت سے زخمیوں اور مرنے والوں میں اپنی لاش تلاش کر رہا ہو۔ دوسرے کمرے کا دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز آتی ہے وہ اچھل پڑتا ہے۔

          پھر چیخ کر کہتا ہے۔

          ’’ہزار بار کہا ہے دروازہ آہستہ بند کیا کرو۔‘‘

          کچھ عرصہ سے اچانک شور یا آہٹ سے کا دل بری طرح دھڑکنے لگتا ہے۔ اس کے قریب سوکھا پتہ گرے تو اس کا دل دھک دھک کرنے لگتا ہے۔ ڈاکٹر نے سے یقین دلایا ہے کہ اس کا دل ٹھیک ہے۔ البتہ اسے اپنے دماغ کو صاف رکھنا چاہئے۔

          دروازے پر کسی گداگر کی صدا گونجتی ہے ’’اللہ کے نام پر روٹی کا سوال ہے‘‘۔

          اس کی چھ سال بچی منہ ہاتھ دھو کر جلدی جلدی آتی ہے اور باورچی خانے سے روٹی لے کر دروازے کی طرف جاتی ہے وہ تڑپ کر بستر سے نکلتا ہے اور بھاگ کر دروازے کی طرف آتا ہے۔ اس کے کندھے پر لمبے لمبے تھیلے لٹک رہے ہیں اور جیسے وہ ابھی ابھی بچی کو کلور و فام سنگھا کر اور اپنے تھیلے میں ڈال کر غائب ہو جائے گا۔ وہ لپک کر بچی کو بازو سے پکڑ کر اندر گھسیٹ لاتا ہے۔ پھر بیوی سے الجھ پڑتا ہے۔

          تمہیں یعقوب علی کی بچی کے اغوا کا قصہ بھول گیا ہے کیوں بچی کو خیرات دینے کے لئے بھتیجی ہو۔‘‘

          نہا دھو کر جب وہ ناشتہ کرنے بیٹھتا ہے پھر اخبار اٹھا کر دیکھنے لگتا ہے۔

          ’’بیوی نے شوہر کو کھانے میں زہر دے دیا۔‘‘

          ڈبل روٹی کا ٹکڑا اس کے منہ میں ہے لیکن وہ چبا نہیں سکتا۔ اسی لمحے اس کی بیوی اندر آتی ہے۔ ’’آپ کھاتے کیوں نہیں ؟‘‘

          اس کا شک یقین میں بدل جاتا ہے۔ وہ ناشتے کی چیزیں بیوی کے منہ پر دے مارنا چاہتا ہے لیکن پھر اسے ہنسی آ جاتی ہے۔

          اس کے دفتر جانے سے پہلے بچے سکول چلے جاتے ہیں لیکن وہ اس کا ذہن بھی ساتھ لے جاتے ہیں۔ سکول کا راستہ خطرناک ہے۔ سڑکوں پر تانگوں، بسوں، اور کاروں کا دریا بہتا ہے۔ اس نے کئی بار سوچا ہے کہ بچوں کو موٹر سائیکل پر خود سکول پہنچایا کرے۔ لیکن اسے خوف آتا ہے کسی بچے کی ٹانگ پہئے کی تاروں میں نہ پھنس جائے۔ موٹر سائیکل کسی بس یا ٹرک پر بکھرنے کا تصور کر کے وہ کانپ جاتا ہے اور اب تو ڈاکٹر نے اسے موٹر سائیکل چلانے سے منع کر دیا ہے۔ وہ خود بھی کئی دنوں سے بس یا رکشہ سے دفتر جاتا ہے۔

          دفتر جانے سے پہلے اسے قریبی دکان سے گوشت یا سبزی لانا ہوتی ہے۔ وہ لپک کر گوشت کی دکان پر پہنچتا ہے۔ اس نے ایک بار اخبار میں کتوں کا گوشت فروخت ہونے کی خبر پڑھی تھی دبنے تو آسانی سے پہچانے جا سکتے ہیں مگر کتوں اور بکروں میں تمیز کرنے کے لئے اسے کافی محنت کرنا پڑتی ہے۔

          گھر سے نکلنے سے پہلے اس کی بیوی شاپنگ کیلئے اجازت مانگی ہے وہ مڑ کر حسرت بھری نگاہ اپنے مکان پر ڈالتا ہے۔ شائد وہ آخری بار اپنے گھر سے جا رہا ہے۔۔۔۔ کیا معلوم وہ جس بس میں سوار ہو وہ حادثے کا شکار ہو جائے۔ جب اس کی لاش گھر لائی جائے اس کی ٹانگیں کٹ چکی ہوں۔ کھوپڑی کے دو حصے ہو گئے ہوں اور سڑک سے گھر تک کا سارا راستہ اس کے خون سے سر ہو گیا ہو۔ پھر اسے اپنے بچوں اور اپنی بیوہ اپنے رشتہ داروں اور اپنی انشورنس پالیسی کا خیال آتا ہے۔ انشورنس پالیسی کا خیال آتے ہی پریمیم تنخواہ اور گھر کے اخراجات کا حساب کرنے لگتا ہے۔

          آفس ٹیبل پر بیٹھتے ہی اس کی نظر اپنے نام ایک خفیہ پر پڑتی ہے اور جیسے کسی نے ملازمت کا دروازہ زور سے بند کر دیا ہو۔ اس کا دل دھک دھک کرنے لگتا ہے۔

          کل وہ دو گھنٹے کی چھٹی لے کر ہسپتال گیا تھا وہاں رش ہونے کی وجہ سے دفتری اوقات میں واپس نہیں آ سکا تھا۔

          پچھلے ہفتے اس کی میز سے ایک فائل چوری ہو گیا تھا۔

          جنگ سے پہلے بڑے صاحب کا لڑکا ولایت سے لوٹا تھا تو وہ بیوی کی علالت کی وجہ سے بر وقت مبارک باد دینے نہیں جا سکا تھا۔

          پچھلے برس آڈٹ والوں نے اس کے حساب کتاب میں غلطیوں کی نشان دہی کی تھی۔ وہ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ خفیہ خط (CONFIDENTIAL LETTER) کھولتا ہے یہ اس کی ترقی کے لئے دی ہوئی درخواست کا جواب ہے۔

          ’’فی الحال یہ ممکن نہیں ‘‘

          اس کی جان میں جان آتی ہے۔ اسے یہ سوچ کر بے حد اطمینان ہوتا ہے کہ وہ خط اس کی جواب طلبی یا برطرفی کا نہیں ہے۔

          بارہ بجے کے قریب اسے اپنا گھر بیوی اور بچے یاد آتے ہیں۔

          کسی بچے کا سکول سے لوٹتے ہوئے ایکسیڈنٹ نہ ہو گیا ہو۔

          اس کی عدم موجودگی میں کوئی ناپسندیدہ رشتہ دار مرد، مہمان بن کر گھر نہ آ گیا ہو۔

          بیوی شاپنگ کر کے لوٹنے کی بجائے کسی کے ساتھ نہ چلی گئی ہو۔

          اس کا جی چاہتا ہے دفتر سے چھٹی لیکر فوراً ہسپتال پہنچے جہاں اس کے حادثے میں زخمی ہونے والا بچہ آخری سانسیں لے رہا ہے لیکن فوراً ہی اسے خیال آتا ہے کہ اتنی دیر میں اس کی بیوی بھاگ جانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ اسے سب سے پہلے سٹیشن یا بس کے اڈے پر پہنچنا چاہئے۔ ڈاکٹر کی ہدایات یا د آتے ہی وہ اپنی خود ساختہ پریشانیوں کو ذہن سے جھٹکنا چاہتا ہے کہ کنپٹی پر درد کی شدید ٹیس محسوس ہوتی ہے۔ کئی دن سے درد کی یہ لہر سر کے پچھلے حصے سے اٹھ کر کنپٹی اور بائیں آنکھ پر آ کر رک جاتی ہے۔ رضا صاحب کو بھی پہلے پہلے ایسی ہی شکایت تھی۔ لیکن دماغ کی رگ پھٹ جانے کے خوف سے وہ جلدی جلدی ہسپتال پہنچنا چاہتا ہے۔

          ہسپتال سے سکون اور نیند کی گولیاں لیکر وہ سیدھا بازار چلا جاتا ہے۔ بچوں کے ریڈی میڈ خوبصورت کپڑوں کی دکان دیکھ کر اسے اپنی بچی یاد آتی ہے۔ وہ بچی کے لئے ایک خوبصورت فراک پسند کرتا ہے۔ لیکن پیسے دینے سے پہلے اسے خیال آتا ہے کیوں نہ وہ گھر جا کر پہلے بچی کی خیریت معلوم کر لے۔ وہ فراک چھوڑ کر سیدھا گھر پہنچتا ہے۔

          بیوی کھانا لاتی ہے۔ بچے سکول، کھیل، کتابوں اور امتحانوں کی باتیں کرتے ہیں اور اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اب کبھی درد کی لہر اس کی کنپٹی تک نہ آتے گی۔

          لیکن رات کو جب وہ سونے کے لئے بستر پر لیٹتا ہے نظر نہ آنے والے ان گنت زہریلے چیونٹے اس کے جسم سے چمٹ جاتے ہیں پھر اس کے جسم اور کھوپڑی میں سوراخ کر کے اندر گھس جاتے ہیں۔ وہ دیر تک کروٹیں بدلتا رہتا ہے۔ پھر خواب آور گولیاں کھا لیتا ہے۔

          اب اسے نیند آنے لگتی ہے لیکن وہ اس نیند سے بے حد خوف زدہ ہے۔ یہ موت ایسی نیند زبردستی اس پر مسلط ہوئی جاتی ہے۔ وہ اٹھ کر بھاگنا اور گلاپھاڑ پھاڑ کر چیخنا ہے چاہتا ہے۔ ’’مجھے اس نیند سے بچاؤ‘‘ مگر وہ حرکت نہیں کر سکتا چیخ اس کے گلے میں اٹک کر رہ جاتی ہے۔ ایک دم گھونٹنے والا دھواں اس کے چاروں طرف پھیل جاتا ہے۔

          اس کے دماغ میں توپ دغنے لگتی ہے۔ ’’شکست۔۔۔ شکست۔۔۔ شکست‘‘ دھواں گہرا ہو جاتا ہے۔ کلوروفام کی سی بو سے اس کا دم گھٹنے لگتا ہے۔

          وہ دیکھتا ہے۔ اس کے دماغ کا آپریشن ہو رہا ہے۔

          اس کے جسم کے سارے اعضاء الگ الگ کر دئے گئے ہیں۔ دونوں ٹانگیں مرجھائی مرجھائی کونے میں پڑی ہیں۔ دونوں بازو میز پر رکھے ہیں۔ اس کی کھوپڑی چیر کر اس میں سے موٹی موٹی گردنوں والے چیونٹے نکالا جا رہے ہیں وہ میز سے اپنا ایک ہاتھ اٹھا لیتا ہے۔ ٹرے میں اس کا دل پڑا دھڑک رہا ہے۔ قریب ایک  بوتل میں اس کی روح کلبلا رہی ہے۔ وہ بوتل کا ڈھکنا کھول دینا چاہتا ہے لیکن نرس بوتل چھین کر الماری میں بند کر دیتی ہے۔

          اسی لمحے ڈاکٹر خوش ہو کر کہتا ہے۔

          ’’یہ رہا درد۔‘‘

          ’’ڈاکٹر درد کو چمٹی سے پکڑ کر اسے دکھاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا نوکیلا سا پتھر ہے۔ سیاہ۔۔۔ بھورا۔۔ یا شائد گہرے سبز رنگ کا۔

          ڈاکٹر کہتا ہے۔

          ’’یہ درد ہے۔۔۔ یہ تمہاری کھوپڑی سے نکلا ہے۔ آج کل جو ہوا چلتی ہے۔ اس میں ایسے بہت سے باریک باریک ذرات ہوتے ہیں جو آہستہ آہستہ کھوپڑی میں جمتے رہتے ہیں اور پھر درد کا نو کیلا پتھر بن جاتے ہیں۔ تمہیں آئندہ احتیاطاً سانس نہیں لینی چاہئے۔‘‘

          اس کی بیوی اسے جگاتی ہے تو وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہے۔

          ’’کیا ہوا۔۔۔۔ خیر تو ہے؟‘‘

          ’’چھ بج رہے ہیں اب اٹھ جائیے‘‘

          ’’اوہ۔۔۔۔ میں سمجھا شائد پھر کوئی بری خبر۔۔۔؟‘‘

          وہ دھڑکتے ہوئے دل پر ہاتھ رکھ لیتا ہے۔

٭٭٭