کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

الہام

منشا یاد


دوپہر کے کھانے میں جب اتنا کم وقت رہ گیا کہ گاؤں سے کوئی سندیسہ شہر نہ پہنچ سکے تو چودھری رمضان نے اپنے گھر کے کشادہ صحن میں کھڑے ہو کر منادی کرنے کے سے انداز میں اطلاع دی۔

’’فوجی آ رہے ہیں ‘‘

’’کب؟‘‘

’’آج‘‘

’’آج؟‘‘

’’ہاں دوپہر کو۔۔۔ کھانے کی تیاری کرو‘‘

راجاں سمجھ تو گئی کہ چودھری نے پہلے کیوں نہیں بتایا مگر ایسے خاص مہمانوں کا کھانا پکانے کے لئے اب وقت ہی کتنا رہ گیا تھا۔ بولی

’’اطلاع کب آئی؟‘‘

’’کل شام کو‘‘

’’مجھے تو بتا دیتے‘‘ راجاں نے شکایت آمیز لہجے میں کہا،’’کیامجھ پر بھی اعتبار نہیں رہا ‘‘

  ’’میں نے سوچا‘‘ چودھری بولا ’’اس بار شک و شبے کی گنجائش نہ رہے‘‘

’’کتنے لوگ ہیں۔۔۔ کیا کچھ پکانا ہو گا؟‘‘

’’پانچ وہ، دو تین ڈرائیور۔۔۔ وہی سب کچھ پکا لو۔۔۔جو پکایا کرتی ہو‘‘

’’میں نے مشینیں نہیں لگا رکھیں ‘‘

’’وہ بھی لگ جائیں گی بھاگوان‘‘ چودھری مسکرایا ’’فکر کیوں کر تی ہو۔ یہ کمی کاری کس لئے ہیں ‘‘

’’آج دن کیا ہے؟‘‘ راجاں کو سعد اور نحس دنوں اور گھڑیوں کا بہت خیال رہتا تھا۔

’’بدھ‘‘ چودھری نے داد طلب انداز میں جواب دیا ’’کم سدھ‘‘

’’انشاء اللہ ‘‘راجاں نے زیرِ لب کہا

’’یوں تو فکر کی کوئی بات نہیں چودھری بولا۔ لیکن پھر بھی اس پر نظر رکھنا۔ کیا کرتی ہے‘‘

’’اس بے چاری نے کیا کرنا ہوتا ہے ‘‘ راجاں بولی ’’اسی اونترے کو الہام ہو جاتا ہے اور عین موقعے پر پہنچ کر رنگ میں بھنگ ڈال دیتا ہے‘‘

’’دیکھتے ہیں ‘‘ چودھری کسی انجانی خوشی کا لطف لیتے ہوئے بولا ’’اس بار اسے کیسے الہام ہوتا ہے‘‘

’’مجھے تو یقین ہے وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اچانک آ ٹپکے گا اور مہمان بد دل ہو کر چلے جائیں گے‘‘

’’یہ فوجی لوگ ہیں ‘‘ چودھری نے تسلی دی ’’ایک بار آ جائیں تو اتنی آسانی سے نہیں جاتے‘‘

’’کبھی کبھی میں سوچتی ہوں۔ کیا حرج ہے۔ جب وہ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں تو ہم یہ کڑوا گھونٹ پی کیوں نہیں لیتے‘‘

  چودھری نے غصے سے راجاں کی طرف دیکھا اور بولا۔

’’تم چاہتی ہو۔۔۔سب کچھ اسے دان کر دیں۔ اپنی بیٹی، خاندان کا نام اور زمین جائیداد؟‘‘

’’کیا حرج ہے۔ہم نے اسے بیٹا بنایا ہے‘‘

’’ہم نے اسے لا وارث سمجھ کر پناہ دی، پالا پوسا اور پاؤں پر کھڑا کر دیا۔ کیا یہ کم ہے‘‘

’’دل تو میرا بھی نہیں مانتا پتہ نہیں کیسے ماں باپ کی اولاد ہے اور دنیا کیا کہے گی مگر‘‘

  ’’اگر مگر چھوڑو۔۔۔ وقت کم ہے۔ کھانے کی تیاری کرو‘‘

تھوڑی دیر بعد حویلی کے صحن سے دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے۔ چولھوں پر کڑھائیاں اور دیگچے چڑھ گئے۔ مرغ روسٹ ہونے لگے، کباب تلے جانے لگے اور ہر طرف زردے، بریانی اور قورمے کی خوشبوئیں اٹھنے لگیں اور سورج ڈھلتے ڈھلتے کمی کاریوں کے شور، برتنوں کے کھڑکنے اور نگرانی کرتی راجاں کے بول بلا رے میں کاروں جیپوں کی گھوکر شامل ہو گئی۔ چودھری رمضان ٹھنڈی بوتلوں کے ساتھ نلکیاں بھجوانے کی تاکید کر کے ڈیرے کی طرف دوڑا۔ اس کے پہنچتے پہنچتے چھاؤنی آ لگی تھی۔

لڑکے کا والد راجہ جہان خان روایتی لباس میں اور چچا میجر سلطان خان وردی میں تھے۔ خود لفٹین صاحب بھی وردی میں تھے اور نظر نہ ٹھہرتی تھی۔ اسے پتہ تھا چچا بھتیجے کو ڈیوٹی پر پہنچنا ہے۔ ایک تو بڑے زمیندار پھر فوجی۔ اوپر سے مارشل لاء کا زمانہ۔ چودھری فخر سے پھولے نہ سماتا تھا۔ باری باری سب سے گلے ملا۔ پھر اس کی نظر کار کی پچھلی سیٹوں پر بیٹھی دو ادھیڑ عمر کی گوری چٹی خواتین پر پڑی۔ فوراً پہچان گیا۔ ان میں ایک لڑکے کی والدہ اور دوسری پھوپھی تھی۔ ملازمین کو مہمانوں کی خاطر تواضع کا اشارہ کر کے چودھری کار کے قریب آیا اور سلام دعا کے بعد مہمان خواتین کو گھر پہنچانے اور تعارف کرانے کے لئے ڈرائیور کے ساتھ اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا۔

گھر سے واپس ڈیرے پر آنے سے پہلے اس نے راجاں کو ایک طرف لے جا کر پوچھا ’’نازو کہاں ہے؟‘‘

’’ادھر ہی ہے گھر میں۔ اوپر اپنے کمرے میں گئی ہے۔ ابھی بلاتی ہوں ‘‘

’’اسے نہیں بلاؤ۔ خود جا کر دیکھو۔ کیا کر رہی ہے‘‘

’’کپڑے بدل رہی ہو گی اور کیا کرے گی؟‘‘

کوئی عمل ؟کوئی ٹونا؟‘‘

’’عمل ٹونا تو خیر کیا کرے گی۔مگر مجھے لگتا ہے ساری خرابی اس پڑھائی لکھائی کی وجہ سے ہے‘‘

’’مہمانوں کے سوا اسے کسی سے ملنے نہ دینا‘‘

’’اچھا‘‘

ظہر کے وقت جب سب لوگ کھانے کے کمر ے میں بڑی میز کے گرد جمع ہو گئے تو راجہ صاحب نے ادھر ادھر نظر یں دوڑاتے ہوئے چودھری رمضان سے پوچھا

’’بھئی بیٹی کہاں ہے؟‘‘

’’جی وہ اوپر والے کمرے میں ہے وہیں کھا لے گی‘‘ راجاں نے کہا

’’بھابی ہم صرف کھانا کھانے نہیں آئے۔ بیٹی سے ملنے آئے ہیں۔ بلاؤ اسے‘‘

راجاں نے پریشان ہو کر چودھری کی طرف دیکھا۔ وہ کان کھجانے میں مصروف تھا۔ بولی

’’بہت شرماتی ہے‘‘

’’آپ بسم اللہ کریں راجہ صاحب‘‘ چودھری بولا ’’میں آپ سے ملا دوں گا‘‘

’’ اور میجر صاحب اور عثمان خان؟‘‘

’’میجر صاحب سے بھی ملا دیں گے‘‘

’’لیکن چودھری صاحب۔۔۔ اصل معاملہ تو لڑکی لڑکے کی ملاقات کا ہے‘‘ راجہ صاحب نے لفظ ملاقات پر زور دے کر کہا

’’میں معافی چاہتا ہوں راجہ صاحب‘‘ چودھری بولا ’’ہمارے ہاں اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا‘‘

’’عجیب رواج ہے‘‘ راجہ صاحب سٹپٹا گئے ’’یعنی لڑکی لڑکا جنہوں نے ایک ساتھ زندگی گزارنی ہے سب سے مل سکتے ہیں مگر ایک دوسرے کو دیکھ اور مل نہیں سکتے‘‘

’’زمانہ بدل گیا ہے بھائی صاحب‘‘ بیگم راجہ بولیں ’’اب وہ پرانے رسم و رواج نہیں رہے‘‘

’’بھابی یہاں گاؤں میں زمانہ نہیں بدلا‘‘ چودھری بولا ’’لوگ سنیں گے تو باتیں بنائیں گے‘‘

’’زمانہ تو یہاں بھی بدل گیا ہے‘‘ میجر صاحب بولے ’’مگر سمجھنے کی ضرورت ہے‘‘

’’یہ میز کرسیاں، پلیٹیں، بجلی، پنکھا اور فریج‘‘ عثمان خاں کی پھوپھی بولیں ’’یہ سب پہلے کہاں تھے گاؤں میں ‘‘

’’یہ روشنی کا زمانہ ہے‘‘ کرنل صاحب نے کہا۔ نئی نئی چیزیں ایجاد ہو گئی ہیں۔ جن سے فاصلے سمٹ گئے اور رسم و رواج بدل گئے ہیں۔ اب شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کا ایک دوسرے کو دیکھنا اور پسند کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے‘‘

’’ہاں ذہنوں میں بیداری پیدا ہو گئی ہے۔  اب شادی بیاہ کے معاملے میں زبردستی ممکن نہیں ‘‘ میجر صاحب نے لقمہ دیا۔’’ چند برسوں میں بڑی تبدیلی آ گئی ہے‘‘

راجاں اور چودھری نے بے بسی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ پھر چودھری مری ہوئی آواز میں راجاں سے مخاطب ہوا

’’جاؤ۔۔۔ اسے لے آؤ‘‘

راجاں چلی گئی تو چودھری نے کہا

’’آپ کھانا شروع کریں راجہ صاحب۔ ٹھنڈا ہو رہا ہے۔ نازو ابھی آ جائے گی‘‘

’’ہم تو اپنی بیٹی کے ساتھ کھائیں گے‘‘ راجہ صاحب نے اپنائیت سے کہا۔

تھوڑی دیر بعد جب گلابی سوٹ میں ملبوس جھینپی جھینپی سی نازو ماں کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی اور سلام کیا تو تینوں مہمان مردوں نے کھڑے ہو کر اس کا استقبال کیا۔ خواتین سے وہ کچھ دیر پہلے مل چکی تھی انہوں نے دعا دی اور اپنے پاس بٹھا لیا۔وہ مہمان عورتوں کے درمیان سہم سکڑ کر بیٹھ گئی تو راجہ صاحب راجاں کی طرف دیکھ کر بولے۔

’’بھابی آپ کو غلطی تو نہیں لگ گئی‘‘

 ’’کیا بھائی صاحب‘‘ راجاں پریشان ہو گئی۔راجہ صاحب نے خوشدلی سے کہا

’’بیٹی کی بجائے گلاب کا پھول لے آئیں ‘‘

سب ہنسنے لگے۔ چودھری اور راجاں کی خوشی سے باچھیں کھل گئیں۔

کچھ دیر ایسی ہی خوشگوار باتوں کے بعد کھانا شروع ہوا۔کھانا اتنا اچھا اور لذید تھا۔سب نے باری باری اس کی تعریف کی۔مگر لیفٹین صاحب کو کھانے کا کہاں ہوش تھا۔وہ نازو کے بے پناہ حسن میں گم ہو گئے تھے۔ اچانک پانچ ہارس پاور کی موٹر سائیکل کی آواز نے چودھری اور راجاں کو یوں دہلا دیا۔۔۔ جیسے خان کھیوے کے گھر کے پچھواڑے مرزا جٹ کی بکی آ ہنہنائی ہو۔(سم بکی دے کھڑکدے،جیوں آہرن پین ودان )

مہمان یوں چونکے جیسے محاذ جنگ سے دشمن کے حملے کی اطلاع آئی ہو۔ مگر ہونے والی سسرال کی عورتوں کے درمیان سکڑی سمٹی، گن گن کر نوالے لیتی اور لفٹیننٹ عثمان خان کی تحسین آمیز اور بیباک نظروں سے سہمی ہوئی نازو اس پھٹپھٹاہٹ سے جیسے سوتے سے جاگ اٹھی۔ نہیں مرتے سے زندہ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب طرح کی چمک اور چہرے پر اعتماد کی روشنی پھیل گئی۔ اس تبدیلی کو محسوس کر کے فوجی لوگ چونکے جیسے خطرے کا بگل بجنے لگا ہو اور اس سے پہلے کہ چودھری یا چودھرانی کمرے سے باہر جا کر خطرے کو وہیں روک دیتے، وہ موٹر سائیکل ہی کی رفتار سے اندر داخل ہو گیا۔

چودھری اور راجاں نے پریشان ہو کر پہلے ایک دوسرے کی، پھر اس کی طرف دیکھا۔

اس کے بال ضرور بکھرے ہوئے تھے مگر اس کے لباس اور چہرے سے اندازہ نہ ہوتا تھا کہ وہ سو ڈیڑھ سو کلو میٹر کا سفر طے کر کے آ رہا ہے۔ 

( سے کوہاں دا فاصلہ،بکی دتی دھوڑ دھما)

’’اسلام علیکم‘‘

’’وعلیکم سلام‘‘ مہمان آوازیں منمنائیں

’’امی۔۔۔ میں زیادہ لیٹ تو نہیں ؟‘‘ وہ بے تکلفی سے ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

’’نہیں۔۔۔۔‘‘ راجاں نے ڈوبی ڈوبی آواز میں جواب دیا۔

’’یہ غلام رسول ہے‘‘ چودھری نے ندامت اور معذرت کے ملے جلے لہجے میں کہا ’’ہمارا بیٹا‘‘

’’آپ کا بیٹا؟‘‘ راجہ صاحب نے حیرت سے پوچھا ’’آپ نے تو بتایا تھا آپ کی ایک ہی اولاد ہے‘‘

’’منہ بولا‘‘ راجاں چودھری کی کمک کو آئی ’’بیٹوں کی طرح پالا ہے‘‘

’’جی ہاں انکل‘‘ غلام رسول نے پلیٹ میں بریانی لیتے ہوئے کہا ’’انہوں نے مجھ یتیم اور لا وارث کو پالا پوسا اور پڑھایا لکھایا اور میں بھی انہیں سگے ماں باپ ہی سمجھتا ہوں ‘‘

’’کیا کرتے ہو؟‘‘ میجر صاحب نے انٹرویو لینے کے انداز میں پوچھا

’’الیکٹرانکس میں ڈپلوما کیا ہوا ہے۔ ایک موبائل فون کمپنی میں کام کرتا اور کرائے کے مکان میں رہتا ہوں۔ چھٹی والے دن ملنے آ جاتا ہوں۔ آج آپ لوگوں کی وجہ سے آنا پڑا‘‘

’’لیکن چودھری صاحب نے تمہارے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا‘‘ کرنل صاحب کے لہجے میں شکایت تھی۔

’’بتایا تو مجھے بھی نہیں ‘‘ غلام رسول ہنسنے لگا ’’ابا کو بھولنے کی عادت ہے‘‘

’’تو پھر تمہیں کیسے پتہ چل گیا،؟، میجر صاحب نے کرید کی۔

’’گھر میں میری جب بھی ضرورت ہو مجھے اطلاع مل جاتی ہے‘‘ غلام رسول نوالہ حلق سے اتارتے ہوئے بولا ’’امی کہتی ہیں مجھے کشف یا الہام ہو جاتا ہے۔۔۔۔ ہے نا امی‘‘ وہ ہنسنے لگا

مہمانوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے کو خطرے سے آگاہ کیا اور محفل کا رنگ تبدیل ہو گیا

’’شادی ہو گئی تمہاری؟‘‘ بیگم راجہ نے تنکے کا سہارا تلاش کرنا چاہا۔

’’شادی کے لئے نہیں مانتا‘‘ راجاں نے آخری پتہ پھینکا ’’کہتا ہے پہلے بہن کی رخصتی ہو جائے‘‘

راجاں نے یہ کہہ کر داد طلب نظروں سے چودھری کی طرف دیکھا مگر وہ شاید پیشانیوں کے بل گننے میں مصروف تھا۔

’’آپ کی اتنی زمین ہے‘‘ میجر صاحب چودھری سے مخاطب ہوئے ’’ اور آپ کا منہ بولا بیٹا آپ کا ہاتھ بٹانے کی بجائے شہر میں معمولی ملازمت کرتا ہے‘‘

’’ہم نے تو بہت کہا‘‘ چودھری بولا ’’مگر اسے گاؤں کی بجائے شہر میں رہنا بسنا پسند ہے‘‘

کھانے کا ذائقہ تو غلام رسول کی آمد سے ہی تبدیل ہو گیا تھا۔ اب مہمانوں کی بے چینی میں بھی ہر لمحے اضافہ ہونے لگا۔ نازو اور غلام رسول کی نظروں کے باہمی سگنلز کسی سے پوشیدہ نہیں تھے۔۔۔۔ نہ ہی انہیں پوشیدہ رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

کھانے کا فطری دورانیہ مختصر ہو گیا۔ مگر اس سے پہلے کہ مہمان کھانے کی میز سے اٹھ کر سیدھے کاروں جیپوں میں بیٹھ جانے کا بہانہ سوچتے۔ وائرلیس پر راجہ صاحب کے لئے پیغام آ گیا اور ان کا اٹھنا اور جانا آسان ہو گیا۔

رخصت ہوتے وقت راجہ صاحب نے چودھری رمضان کو اپنے قریب بلایا اور موبائل فون دکھاتے ہوئے آہستہ سے بولے۔

’’یہ کشف یا الہام نہیں چودھری،نئی نئی چیزیں ایجاد ہو گئی ہیں۔ زمانہ بدل گیا ہے چودھری۔۔ہمیں بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہو جانا چاہئے۔ خدا حافظ‘‘

٭٭٭