کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر

منشا یاد


اگرچہ ڈبے کے اندر۔۔۔ باہر کی نسبت زیادہ اندھیرا ہے مگر اندر داخل ہو کر وہ اطمینان کا سانس لیتا ہے۔ اب اس کا پیچھا۔۔۔ اس سے چھوٹ جائے گا جو اسے ہر کہیں نظر آتا اور پریشان کرتا رہتا ہے۔ وہ اندھیرے میں ٹٹول کر ایک خالی سیٹ تلاش کرتا اور اس پر دراز ہو جاتا ہے۔ دور سے انجن کی سوں سوں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ پھر شاید گارڈ وِسل دیتا ہے یا روشنی دکھاتا ہے وہ سن یا دیکھ نہیں سکا مگر گاڑی کو کھینچنے کے لئے انجن کی جو چیخیں سی نکل رہی ہیں وہ صاف سنائی دیتی ہیں۔ گاڑی کے حرکت میں آتے ہی ڈبہ روشن ہو جاتا ہے اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ پورا ڈبہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا ہے اور اس سیٹ کے سوا جس پر وہ لیٹا ہے کہیں تل دھرنے کی جگہ نہیں۔ کچھ لوگ سیٹ نہ ملنے کی وجہ سے سامان اٹھائے سیٹوں کے درمیان کھڑے ہیں۔ایک نوجوان جوڑا جن کی نئی نئی شادی ہوئی لگتی ہے اس کے قریب ہی کھڑا حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھ رہا ہے۔ نوجوان کچھ کہنا چاہتا ہے مگر شاید اس کے قیمتی لباس اور پر وقار شخصیت سے مرعوب ہو کر اسے ہمت نہیں ہو رہی۔ وہ دل ہی دل میں نوجوان کی بز دلی پر ہنستا اور لطف اندوز ہوتا ہے پھر اٹھ کر بیٹھ جاتا اور اُن کے لئے جگہ بناتا ہے۔ لڑکی تشکر کی اُچٹتی ہوئی ایک میٹھی نظر اس پر ڈالتی اور نوجوان کے ساتھ سمٹ کر بیٹھ جاتی ہے۔ اور ابھی وہ لڑکی کی تشکر آمیز میٹھی نظر کو جو لوگوں کی بھیڑ میں کھو گئی ہے تلا ش کر رہا ہوتا ہے کہ وہ۔۔۔ ہاتھوں کے بل چلتا اور گھسٹتا ہوا ڈبے میں داخل ہوتا ہے۔

          ’’اللہ کے نیک بندو۔۔۔ میں غریب محتاج۔۔۔ دونوں ٹانگوں سے معذور۔آنے دو آنے کا سوال ہے۔‘‘

          وہ غصے اور نفرت سے منہ پھیر لیتا ہے وہ سنتا نہیں چاہتا۔۔۔ وہ یہ الفاظ سن سن کر تھک گیا ہے اسے اس کی صدا کے یہ الفاظ نہ صرف ازبر ہو گئے ہیں بلکہ اس کی زبان پر چڑھ گئے ہیں اور اکثر بے خیالی میں ادا ہو جاتے ہیں۔ کل چوک میں سے گزرتے ہوئے زپٓ بو نے اس سے پوچھا کہاں جا رہے ہو؟‘‘ تو اس کے منہ سے نکل گیا ’’آنے دو آنے کا سوال ہے۔‘‘

          اسے غصہ آ جاتا ہے اس کا جی چاہتا ہے کہ اُسے اٹھا کر چلتی گاڑی سے نیچے پھینک دے۔ مگر وہ رینگتا ہوا ہاتھ کے پنجوں کے بل چلتا دوسرے ڈبے میں چلا جاتا ہے اور وہ اطمینان کا سانس لیتا ہے۔

          ’’کھانا گرم۔۔۔ چائے گرم‘‘ بیرے کی آواز سنائی دیتی ہے

          اسے یاد آتا ہے اس نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔ بیرے کی آواز سن کر اس کے اندر اونگھتی ہوئی بھوک اُٹھ کر بیٹھ جاتی اور ضد کرنے لگتی ہے۔ وہ بیرے کو کھانا لانے کا آرڈر دیتا ہے۔ بیرا فوراً کھانا لے آتا ہے اور وہ  بریانی میں مرغ کا شوربہ ملا کر کھانے لگتا ہے مگر ابھی اس نے ایک ہی چمچہ منہ میں ڈالا ہے کہ اس کی آواز پھر سنائی دیتی ہے۔

          ’’اللہ کے نیک بندو۔۔۔ میں غریب محتاج۔۔۔ دونوں ٹانگوں سے معذور‘‘

          وہ چمچہ ٹرے میں رکھ کر ہاتھ سے اپنی ٹانگوں کو ٹٹول کر دیکھتا ہے پھر مطمئن ہو کر بریانی کھانے لگتا ہے۔

          کھانے کھانے کے بعد وہ ہاتھ نہ صاف کرنے چلا جاتا ہے مگر واپس آ کر کیا دیکھتا ہے کہ اس سیٹ پر کئی ہوئی ٹانگوں والا وہ۔۔۔ بیٹھا اپنے غلیظ ہاتھوں سے جلدی جلدی بچا کھچا کھانا کھا رہا ہوتا ہے۔

          ’’غلیظ۔۔۔ ندیدہ۔۔۔ کمینہ‘‘ وہ غصے سے کہتا ہے مگر وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ دانت نکال کر اس کی طرف دیکھتا ہے پھر زبان سے پلیٹ چاٹنے لگتا ہے۔

          اُس کی سمجھ میں نہیں آتا وہ اس مکروہ شخص سے کیسے پیچھا چھڑائے۔ لمحہ کے لئے سوچتا ہے پھر ایک کر اگلے ڈبے میں چلا جاتا ہے۔ اگلے ڈبے کے لوگ اس کی وضع قطع اور اس کے لباس کو دیکھ کر اس کے لئے جگہ بناتے ہیں ایک بزرگ اسے اپنے پاس بٹھا لیتے ہیں اور نہایت اپنائیت سے پوچھتے ہیں ’’آپ کو کہاں جانا ہے؟‘‘

          ’’میں۔۔۔ مجھے‘‘ وہ یار کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اسے کہاں جانا ہے لیکن ابھی تک اُس کم بخت کی وجہ سے اُس کا ذہن کام نہیں کر رہا، اُسے فوراً یاد نہیں آتا کہ اُسے کہاں جانا ہے مگر پوچھنے والے کو مطمئن کرنے کے لئے کہتا ہے

          ’’جہاں تک گاڑی جائے گی‘‘

          ’’اچھا اچھا۔۔ پھر تو آپ کا سفر خاصا طویل ہے‘‘

          ’’ہاں بہت طویل ہے‘‘ وہ کہتا ہے

          ’’آپ نے برتھ کی ریزرویشن کر بھی سفر کر سکتے ہیں ‘‘

          ’’میں کپڑے کا کاروبار کرتا ہوں۔۔۔ ایک بیٹا ڈاکٹری پڑھ رہا ہے دوسرا دوبئی میں انجینئر ہے۔

          ’’آپ کیا کرتے ہیں ؟‘‘

          اس کی سمجھ میں نہیں آتا، کیا جواب دے۔ اُسے خود یاد نہیں آ رہا کہ وہ کیا کرتا ہے اور شاید ذہن پر زور دینے سے اسے یاد آ جاتا مگر وہ اپنی کٹی ہوئی ٹانگیں گھسیٹتا اس کے پیچھے پیچھے اس ڈبے میں بھی آ جاتا ہے اور اس کی ذہن کو اپاہج کر دیتا ہے۔

          ’’اُلّو کا پٹھّا‘‘ وہ دل ہی دل میں گالی دیتا ہے

          ’’اللہ کے نیک بندو۔‘‘

          ’’میں غریب محتاج‘‘ وہ اُس کی نقل اُتارتا ہے

          ’’صاحب بھک منگے بہت سو گئے ہیں ‘‘

          ’’جی ہاں۔۔۔ انہوں نے تو شریف لوگوں کا جینا حرام کر دیا ہے‘‘

          ’’سنا ہے بڑے مالدار ہوتے ہیں یہ مانگنے والے‘‘

          ’’خیر مالدار کیا ہوں گے صاحب۔۔۔ بس ہڈ حرامی ہے‘‘

          ’’نہیں صاحب۔۔۔ محض ہڈ حرامی نہیں بڑی کمائی کرتے ہیں یہ لوگ۔ اب اس لولے کو لیجئے آپ کے خیال میں اس کی روزانہ آمدنی کیا ہو گی؟‘‘

          ’’پانچ سات نہیں صاحب۔۔۔ پچاس ساٹھ کہئے‘‘

          ’’آپ ٹھیک کہتے ہیں۔۔۔ یہ لوگ فلمیں دیکتے، اچھے ہوٹلوں میں کھانا کھاتے اور چرس افیون کا نشہ کرتے ہیں۔ بعض شہروں میں تو ان کے نہایت منظم گروہ ہیں۔ وہ ٹیلی ویژن پر آپ نے ڈرامہ نہیں دیکھا؟‘‘

          اس سے رہا نہیں جاتا۔۔۔ کہتا ہے

          ’’دوسروں کے بارے میں تو کچھ کہہ نہیں سکتا مگر اس کا تو مشکل سے گزارہ ہوتا ہے۔‘‘

          ’’آپ اسے جانتے ہیں ؟‘‘

          ’’ہاں ‘‘ وہ انکار نہیں کر سکتا ’’یہ کی برسوں سے گاڑیوں میں بھیک مانگتا پھرتا ہے اور مشکل سے اپنا اور بیوی بچوں کا پیٹ پالتا ہے‘‘

          ’’بیوی بچے؟‘‘

          ’’ہاں۔۔۔ پہلے اس کی ٹانگیں سلامت تھیں ‘‘

          ’’پھر؟‘‘

          ’’پھر وہ مشین میں آ کر کٹ گئیں۔ اس کے بعد اُس نے گاؤں جانا چھوڑ دیا۔ ان کھیتوں کو دیکھ کر جن کے کنارے وہ اپنے ہم عمروں کے ساتھ چاندنی راتوں میں آنکھ مچولی کھیلا کرتا تھا اور ان تالابوں کو دیکھ کر جن میں وہ تیرا اور نہایا کرتا تھا اُسے اپنے اپاہج ہونے کا احساس شدید ہو سکتا تھا۔ شروع میں اس کی بیوی تھوڑے تھوڑے عرصے بعد بچوں کو ملانے کے لئے اس کے اس کے پاس لے آتی تھی مگر اب یہ وقفے طویل ہوتے جا رہے ہیں اور وہ انہیں دیکھنے کے لئے تڑپتا رہتا ہے۔ لیکن اس کی بیوی شاید ٹھیک ہی کہتی ہے۔ بچے اب بڑے ہو گئے ہیں اور باپ کو اس حال میں دیکھ کر ان پر بُرا اثر پڑ سکتا ہے۔‘‘

          ’’صاحب معاف کیجئے گا۔۔۔ آ پ کو اتنی بہت سی باتوں کا کیسے پتہ چلا؟‘‘

          ’’میں ‘‘ وہ کوئی جواب سوچنا چاہتا ہے مگر یہ دیکھ کر گھبرا جاتا ہے کہ سب لوگ اُسے شک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک آدمی دوسرے کے کان میں کچھ کہتا ہے۔وہ سن تو نہیں سکا مگر سمجھ جاتا ہے۔کالے چشمے والا آدمی جو کسی سرکاری دفتر میں بڑے عہدے پر جائز معلوم ہوتا ہے چشمہ اُتار کر اس کی طرف گھورتا چلا جاتا ہے۔ پھر کہتا ہے ’’صاحب۔۔۔ معاف کیجئے آپ دونوں کی شکل بہت ملتی ہے!‘‘

          ’’وہ اور گھبرا جاتا ہے۔ اُسے اسی بات کا خدشہ تھا۔نفرت سے اس کی طرف دیکھتا ہے

          ’’شکل اس قدر ملتی ہے کہ لگتا ہے جیسے جڑُواں بھائی ہوں ‘‘

          ’’اس کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ وہ کچھ کہنا چاہتا ہے مگر آواز اس کے گلے میں پھنس جاتی ہے۔

          ’’اچانک قریب سے دوسری گاڑی گزرتی اور وِسل سنائی دیتا ہے۔

          اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔کیا دیکھتا ہے کہ دن نکل آتا ہے۔وہ حسب معمول یارڈ میں کھڑے پرانے ڈبے سے نکل کر پنجوں کے بل چلتا پلیٹ فارم کی طرف چل پڑتا ہے۔

٭٭٭