کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

گھر سے باہر ایک دن

منشا یاد


اندر سخت تاریکی، گھٹن اور اس کی اپنی ہی سوچوں کا تعفن پھیلا ہوا تھا۔

          اگر اس اندھیرے میں گھڑی کے ڈائل کی طرح چمکتا اس کی بیوی کا وجود نہ ہوتا تو وہ کب کا گھٹ کر مر گیا ہوتا۔ اس کی بیوی اپنے معطر بدن کے علاوہ جہیز میں اپنے ساتھ سلائی مشین بھی لائی تھی اور اب سلائی کرتے کرتے اس کی ہڈیوں پو لیٹا ہوا دھاگہ پتہ ہو چلا تھا۔ اور اس کی آنکھوں کی خوبصورت کشتیوں میں چھوٹے چھوٹے سوراخ  ہو گئے تھے۔ وہ ایک عرصے سے گھر کر ایک کونے میں دبکا ہوا تھا۔ وہ جب بھی باہر نکلنا چاہتا دیواروں سے لپٹا ہوا خوف اتر کر اسے اپنے بازوؤں میں جکڑ لیتا لیکن پھر ایک روز اس کے پڑوس علی احمد نے اسے اپنے گھر بلا کر ہدایت کی کہ وہ پر منٹ کے لئے درخواست دے۔ اسے شک گزرا۔ کہیں علی احمد نے اس کی بیوی کی ڈبڈبائی آنکھیں نہ دیکھ لی ہوں۔ پھر بھی گھر کی تاریکی دور کرنے اور بیوی کو مشین بن جانے سے بچانے کے لئے اس نے شک کا گلا گھونٹ دیا اور درخواست دے دی۔ علی احمد کسی بڑے دفتر میں تھا اس نے اسے چند روز بعد دفتر میں آنے کی ہدایت کی اور وہ ایک صبح دیواروں سے اتر کر بازوؤں میں جکڑ لینے والے خوف سے لڑ جھگڑ کر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔

          گھرکی دہلیز سے آگے خلاء تھا۔ وہ دور تک مکڑی کی طرح اپنے ہی تاگے سے لٹکتا جلا گیا۔ پتہ نہیں زمین کہاں تھی۔۔۔ تھی بھی یا نہیں۔ یا اس کے اندر تاکہ ختم ہو گیا تھا۔ بڑی دیر بعد اس کے پاؤں کسی سخت چیز سے ٹکرائے۔ شاید یہ زمین ہی تھی اس نے خدا کا شکر ادا کیا۔

          اس نے علی احمد سے ٹیلیفون پر وقت ے لیتا مناسب سمجھا۔ ٹیلی فون کرنے کے لئے دس دس پیسے کے سکوں کی ضرورت تھی۔ اس نے جیب سے ایک روپے کا نوٹ نکالا اور ریز گاری تلاش کرنے لگا۔ وہ بازار کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہر دکاندار کے سامنے گڑ گڑایا مر اسے ریز گاری نہیں ملی۔ آخر ایک بھکاری سے د پیسوں کے عوض اسے ریز گاری مل گئی۔ وہ دل ہی دل میں خوش ہوا کہ بھکاری نے بیس یا تیس پیسے نہیں کاٹ لئے۔

          ٹیلی فون بوتھ کی رف جاتے جاتے اس نے ایک راہ گیر سے وقت پوچھ لیا۔ راہ گیر رک گیا پھر اپنے گھڑی والے ہاتھ کو غرور  سے اور اسے حقارت سے دیکھ کر بولا۔

          ’’معاف کیجئے۔ یہ گھڑی میں نے اپنے لئے فارن سے منگائی ہے‘‘

          اسے ہنسی آ گئی۔ راہ گیر نے اس کا گریباں پکڑ لیا اور بولا۔

          ’’تم نے ضرور وقت دیکھ لیا ہو گا‘‘

          اس کا جی چاہا وہ رو پڑے اور اسے بتائے کہ اسے وقت کا کچھ پتہ نہیں اور وقت کی چکنی دم زندگی بھر اس کے ہاتھ نہیں آئی مگر اس نے بھاگنے میں عافیت سمجھی۔ وہ گریباں راہ گیر کے ہاتھ میں چھوڑ کر بازار کے ہجوم میں گم ہو گیا۔ وہ ہانپ رہا تھا مگر اس کا دل اس خیال سے مسرور تھا کہ اب بار بار گریبان میں جھانکنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اسی لمحے اس کی نظر آدمیوں کی ایک قطار پر پڑی۔ اس نے دیکھا قطار ہر لمحہ لمبی ہوتی جا رہی تھی اور اس سے پہلے کہ قطار اور لمبی ہو جاتی وہ بھاگ کر قطار میں شامل ہو گیا۔ پھر دیکھتے ہ دیکھتے اس کے آگے اور پیچھے اس کے آگے اور پیچھے ایک جیسی قطار لگ گئی۔ وہ بے حد خوش تھا کہ اس نے قطار میں شامل ہونے کا سنہری موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا اور ایک اچھا فیصلہ کی وجہ سے زندگی کی قطار میں کبھی ٹھیک جگہ پر کھڑا نہیں ہوا تھا اور تو اور شادی کے فوراً بعد وہ بیوی کو فلم دکھانے لے گیا تھا۔ مگر جب وہ کھڑکی تک پہنچا ٹکٹ ختم ہو گئے تھے۔ اگر اس کی بیوی جلدی سے مستورات والی کھڑکی سے ٹکٹ نہ خرید لیتی تو وہ پہلی اور آخری فلم کبھی نہ دیکھو سکتا۔

          قطار آگے کھسک رہی تھی۔ ہر پانچ منٹ بعد ایک آدھ قدم کا فاصلہ طے کر کے اسے لگ رہا تھا کہ وہ چاند اور ستاروں کو چھو لینے کے لئے بلند ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہی تھی کہ وہ آسمان سے ستارے توڑ لائے اور اپنی بیوی کا دامن بھر دے۔ اس کی سمجھ میں یہ رات کبھی نہ آئی تھی کہ وہ ان ستاروں کا کیا کرے گی۔اس نے گھوم کر دیکھا۔ اس کے پیچھے قطار دور تک چلی گئی تھی۔ اس نے قطار کے اگلے سرے کا جائزہ لیا تو اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ زندگی میں پہلی بار وہ قطار میں صحیح مقام پر تھا لیکن اسی لمحے جیسے کسی ریلوے انجن نے پیچھے سے ٹکر ماری ہو بڑے زور کا دھکا لگا۔ اس نے بے حد منت سماجت کی مگر اسے دوبارہ قطار میں گھسنے نہیں دیا گیا کافی دیر تک وہ قطار کے باہر کھڑا رہا پھر بادل نخواستہ وہاں سے چل دیا۔ ایک بار اسے خیال آیا وہ پتہ تو کرے کہ قطار کس سلسلے میں لگی ہوئی تھی لیکن پھر اس نے سوچا کہ جب وہ قطار میں شامل ہی نہیں رہا تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ وہاں مٹی کا تل ملتا ہے۔شکر ملتی ہے، آٹا ملتا ہے یا بس کے ٹکٹ ملتے ہیں۔ بس کے ٹکٹوں کا خیال آتے ہی اس نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس نے سوچا کہ یہ بہت ہی اچھا ہوا کہ وہ قطار سے باہر آ گیا ورنہ اگر وہ بس کے ٹکٹ خرید لیتا تو پتہ نہیں۔ بس اسے کس شہر میں اور کہاں لے جاتی!

          ٹیلیفون بوتھ پر بھی قطار لگی تھی مگر وہ اتنی لمبی نہیں تھی۔ بوتھ کے اندر والا شخص ٹیلیفون پر کسی کو الجبرے کے سوال حل کرا رہا تھا۔ قطار میں شامل لوگ بھی اپنی اپنی نوٹ بکوں پر سوال حل کر رہے تھے اس کے پاس قلم تھا نہ نوٹ بک۔ نا چار اسے اپنی یاد داشت پر بھروسہ کرنا پڑا۔  پھر جب اندر والے نے سوال کا جواب لا مساوی صفر نکالا تو باہر کھڑے لوگوں میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ کسی کا جواب دوسرے سے نہیں ملتا تھا۔ اس کے پیچھے والے کا جواب لا مساوی سات تھا شاید اس لئے کہ وہ ساتویں نمبر پر کھڑا تھا۔ اس کے آگے والے کا اصرار تھا کہ لا مساوی پانچ درست جواب ہے۔ اس اختلاف نے جلد ہی جھگڑے کی صورت اختیار کر ل اور شاید صورت حال بے حد ناک ہو جاتی اگر کہیں سے ہوائی حملے کے خطرے کا سائرن نہ بجنے لگتا۔ اس اتنے معمول جھگڑے پر ہوائی حملے کا سائرن سن کر اسے حیرت ضرور ہوئی مگر حیران ہونے سے پناہ لیتا زیادہ بہتر تھا۔ اسے نہیں پتہ اندر والا اور باہر والے کدھر گئے اور کن پناہ گاہوں میں چھپے، وہ ٹیلیفون بوتھ کے عقب میں زمین پر چت لیٹا ہوا تھا اور اسے اپنی بیوی اور وہ بچے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے یاد آ رہے تھے اور اس کا دل خوف اور صدمے سے کانپ رہا تھا۔ اسی لمحے کوئی قریب سے گزرا اور ہنس کر بولا۔

          ’’گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ سائرن ٹیسٹ کئے جا رہے ہیں ‘‘

          اس کی جان میں جان آئی۔ وہ بھاگ کر ٹیلیفون بوتھ میں گھس گیا ور سکے ڈال کر نمبر ڈائل کرنے لگا جواب میں کسی خاتون نے اسے گندی گالی دی اور فون بند کر دیا۔ اس نے دوبارہ کوشش کی۔ کسی بہرے شخص نے ٹیلیفون پر پانچ سات مرتبہ ہیلو ہیلو کہا اور فون بند کر دیا۔ تیسری بار اس نے وقت بتانے والی انکوائری کا نمبر ملایا اور خوبصورت نسوانی آواز کا لطف اٹھانے لگا۔کافی دیر بعد جب باہر لمبی قطار لگ گئی اور طرح طرح کی آوازیں آنے لگیں تو وہ گھبرا کر باہر آ گیا۔ باہر آ کر اسے یاد آیا اس نے وقت تو نوٹ ہی نہیں کیا۔

          گھر سے نکلے اسے کافی دیر ہو گئی تھی اور اب بھوک ستا رہی تھی وہ کسی سستے سے ہوٹل میں بیٹھ کر کھانا کھانا چاہتا تھا لیکن پھر اسے یاد آیا کہ سستے ہوٹلوں پر مردہ گدھوں، گھوڑوں اور کتوں کا گوشت اور ناقص غذا فروخت رہتی تھی۔ اس لئے حکومت نے تمام سستے ہوٹلوں کو قانوناً بند کر دیا تھا اور اب شہر میں صرف مہنگے اور اعلیٰ درجے کے ہوٹل تھے جہاں عام آدمی ہفتے میں ایک وقت کا کھانا کھاتا اور باقی دن اس کی جگائی کر کے گزارتا تھا۔ یا پھر دودھ دہی اور مٹھائی کی دکانیں تھیں۔ جہاں گاہک کی آنکھوں کے سامنے دودھ میں پانی ملایا اور منہ مانگی  قیمت وصول کی جاتی تھی۔ اعتراض کرنے پر پہلوان کڑچھا مار کر سر توڑ دیتے تھے۔ کھانے پینے کا خیال تک کر کے وہ علی احمد کے دفتر کی جانب چلنے لگا۔

          دفتر کے صدر دروازے پر چوکیداروں کا پہرہ تھا۔ اس نے انا شناختی کارڈ دکھایا۔ شناختی کارڈ پر اس کی دو سال پہلے کی تصویر لگی ہوئی تھی۔ دو سالوں میں اس کی صورت اس قدر مسخ ہو چکی تھی، اس کا اسے اس وقت پتہ چلا جب اسے مشکوک سمجھ کر گرفتار کیا جانے لگا۔ لیکن اسی لمحے دو میں سے ایک چوکیدار کی نظر اس کے  شناختی کارڈ پر درج لفظ ’’مور‘‘ پر پڑ گئی۔ اس نے درشت لہجے میں کہا۔

          ’’مور کو حاضر کیا جائے‘‘

          مور جیسا قیمتی اور نایاب پرندہ وہ زندگی بھر حاضر نہیں کر سکتا تھا وہ پریشان ہو گیا لیکن پھر فوراً ہی اسے یاد آ گیا۔ اس نے آستین اوپر چڑھائی اور بازو پر کھدا ہوا مور دکھایا اور یہ جان کر کہ چوکیدار مطمئن ہو گیا ہے اور اس نے زندہ مور حاضر کرنے پر اصرار نہیں کیا، اسے اطمینان ہوا لیکن اسی لمحے دوسرے چوکیدار نے کہا۔

          ’’ابے یہ تو مورنی ہے‘‘

          ’’مورنی کے اتنے بڑے پر نہیں ہوتے‘‘ پہلے نے جواب دیا۔

          ’’ہوتے ہیں یہ مورنی ہے‘‘

          ’’مور ہے‘‘

          ’’مورنی ہے‘‘

          ’’مور تمہارا چاچا لگتا ہے‘‘

          ’’مورنی تمہاری بے بے لگتی ہے‘‘

          دونوں نے ایک دوسرے پر مکے تان لئے۔ اس نے موقع کو غنیمت جانا اور بھاگ کر اندر چلا گیا۔

          کاریڈوروں میں چپڑاسی، فراش اور دفتری بیٹھے تاش کھیل رہے تھے ساتھ ساتھ دفتر کی چٹھیوں اور فائلوں پر تبصرے کر رہے تھے ا نے انہیں سلام کیا اور علی احمد کا پتہ پوچھا مگر کسی نے اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا وہ خود ہی ایک ایک کمرے میں علی احمد کو تلاش کرنے لگا۔ اس نے دیکھا کچھ لوگ حاملہ فائلوں کے بوجھ تلے پڑے کراہ رہے تھے کچھ موٹی موٹی لغاتوں میں کسی اجنبی زبان کے لفظوں کے ہجے اور معنی تلاش کر رہے تھے کسی کسی کوئی خاتون بھی نظر آ جاتی تھی جو بانجھ فائلوں کے انبار پر نیم دراز افسروں کے سروں کی مالش کرنے یا پاؤں میں گدگدیاں کرنے میں مصروف ہوتی۔

          آخر اس چپڑاسی نے جس کی محلے میں اسٹیشزی کی دوکان بھی تھی اسے پہچان لیا اور علی احمد کے کمرے تک پہنچا دیا۔

          علی احمد نے گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا۔ پھر اس کی فائل منگائی اور بتایا کہ ضابطہ نمبر۱۵کی شق نمبر آٹھ کے جزو نمبر پانچ الف الف بے کی رو سے اس کی درخواست نامکمل ہے۔ ضابطے کی ترمیم نمبر۱۱کی رو سے اسے بیان حلفی اور ترمیم نمبر چھ جیم کی و سے کیریکٹر سرٹیفکیٹ درخواست کے ساتھ منسلک کرنا ہو گا۔ نیز وضاحت نمبر۹اور نظر ثانی شدہ ترمیم نمبر چار کے تحت سرکاری خزانے میں سو روپے فیس جمع کرانی ہو گی جو میں ہیڈ سات سو چھیاسی اور سب ہیڈ پینتالیس الف الف دال کے تحت جمع ہو گی۔

          سو  روپے کا نام سن کر وہ پریشان ہو گیا۔ علی احمد نے اس کی پریشانی بھانپ لی اور بولا! ’’کوئی بات نہیں میں خود جمع کرا دوں گا، اب تمہارے دن پھر جائیں گے مگر تمہیں معاہدہ کرنا ہو گا‘‘

          ’’کیسا معاہدہ؟‘‘

          ’’تمہاری ہر چیز میں میرا حصہ پچاس فیصد ہو گا‘‘

          ایک ناگوار سی سوچ، مکھی کی طرح اس کے چاروں طرف بھنبھنانے لگی اس نے پوچھا۔

          ’’ہر چیز میں ؟‘‘

          ’’ہاں ہر چیز میں ‘‘

          اس نے فائل سے درخواست نکال کر پھاڑ دی اور بوجھل قدموں سے باہر نکل آیا۔

          ابھی وہ زیادہ دور نہیں گیا تھا کہ پیچھے سے آنے والی ایک کار نے اسے ٹکر مار دی اور اٹھا کر ایک طرف پھینک دیا۔ اس کی پسلیاں چٹخنے لگیں اور گھٹنے کے نیچے ٹانگ ٹوٹ گئی۔ کار والا کار روک کر قریب آیا اور بولا ’’حرام زادے اگر ڈانٹ پڑ جاتا تو؟‘‘

          اسے خون کی قے ہو گئی۔ کار والا ناک پر رومال رکھ کر اور نفرت سے منہ پھیر کر چلا گیا۔ پھر ایک ٹیکسی قریب آ کر رکی۔ ٹیکسی ڈرائیور نے اس کی حالت دیکھ کر کہا ’’ہسپتال لے چلوں ؟‘‘

          ’’ہاں آپ بڑی مہربانی‘‘

          ’’مہربانی نہیں۔۔۔ پچاس روپے لگیں گے‘‘

          ’’ڈیڑھ دو میل سفر کے لئے یہ تو بہت زیادہ ہیں ‘‘

          ’’اس مہنگائی کے دور میں ایسے موقعوں پر ہی تو ہمیں بھی چار پیسے بچتے ہیں ‘‘

          ’’میرے پاس کل بیس روپے دس پیسے ہیں جو میری بیوی نے‘‘

          ’’چلو تم بیس روپے دس پیسے ہی دے دو۔ لیکن پیشگی۔ کیا پتہ تم راستے میں مر جاؤ اور جیبوں کی تلاشی لینے پر کچھ بھی نہ ملے‘‘

          ’’ہسپتال کے بستر پر لیٹ لیٹے اس نے ڈاکٹر کی آواز سنی۔

          سسٹر اس کی صرف ایک ٹانگ ٹوٹی ہے۔ ہوشیار رہنا کہیں آٹھ نمبر کی طرح یہ بھی بستر کی چادر اور تکیہ لے کر غائب نہ ہو جائے‘‘

          پھر اس نے پانچ نمبر کی چیخ سنی ’’ہائے میرا گروہ‘‘

          ’’تمہارے گردے کو کیا ہوا ہے؟‘‘

          ’’پیٹ کے آپریشن کے دوران انہوں نے میرا گروہ چوری کر کے کسی اور کو لگا دیا ہے۔ ان کی ماں کی‘‘

          اس نے ہاتھ بڑھا کر اپنی ٹانگوں، کانوں، آنکھوں اور بازوؤں کو چھوا اور پھر یہ جان کر کہ اس کے تمام اعضاء موجود ہیں، اس نے دل ہی دل میں خدا کا شکر ادا کیا۔شام کو ہسپتال میں اور بہت سے سیریس کیس آ گئے تو انہوں  نے اسے اچانک فارغ کر دیا۔  تاہم ایمبولینس کے ذریعے اسے اس کے گھر پہنچا دیا گیا۔

          وہ گھر پہنچا۔

          اس کی بیوی جس کی ہڈیوں پر لپٹا ہوا دھاگہ ختم ہو چلا تھا مگر س کی ڈبڈبائی آنکھیں اندھیرے میں گھڑی کے ڈائل کی طرح چمکتی تھیں اسے اس حالت میں دیکھ کر رو پڑی۔ اس نے کہا ’’بھاگوان یہ رونے کا نہیں خوش ہونے کا موقع ہے۔ میں حادثے میں مر بھی تو سکتا تھا لیکن میں زندہ ہوں۔ اٹھو اور شکرانے کے نفل ادا کرو۔‘‘

٭٭٭