کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

غروب ہوتی صبح

منشا یاد


 عجیب دروغ بھری صبح طلوع ہوئی ہے کہ پتہ ہی نہیں چل رہا وہ جاگ گیا ہے یا ابھی تک سو رہا ہے۔ اگر وہ سو رہا ہے تو سامنے والی خالی کھڑکی اسے کیسے نظر آ رہی ہے اور اگر وہ جاگ رہا ہے تو اسے اپنے خراٹوں کی آواز کیسے سنائی دے رہی ہے۔ ان خراٹوں کے ساتھ ساتھ اسے ان شارکوں کا شور بھی سنائی دے رہا ہے جو اسے نظر تو نہیں آ رہیں مگر خالی کھڑکی کے چھجے پر بیٹھی عجیب و غریب آوازیں نکال کر آپس میں اظہار محبت کر رہی ہیں یا شاید لڑ جھگڑ رہی ہیں۔ اچانک اس کا پاؤں پھسل جاتا ہے اور وہ گہرے پانی میں غوطے کھانے لگتا ہے عجیب کیفیت ہے، وہ سوچتا ہے کہ وہ ڈوب بھی رہا ہے اور خود کو ڈوبتے ہوئے دیکھ بھی رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ ڈوب گیا تب بھی کچھ نہ کچھ بچ جائے گا۔ اسی لمحے آپس میں لڑتی جھگڑتی یا شاید چہلیں کرتی شارکوں میں سے ایک ایسی عجیب و غریب آواز نکالتی ہے جیسے ہنس رہی ہو۔ دوسری آہستہ سے کچھ کہتی ہے۔ پھر پہلی زور سے چلاتی ہے۔

 ’’جھوٹ، جھوٹ، جھوٹ۔‘‘

 اس کے بعد دونوں میں سے کوئی جیسی بھی آواز نکالتی اور کچھ بھی کہتی ہے، دوسری زور زور سے چلانے لگتی ہے۔ ’’جھوٹ، جھوٹ، جھوٹ۔‘‘

پڑوس سے خوشی کے گیتوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جواب میں شارکیں کورس میں جواب دیتی ہیں

’’مکر مکر مکر،دھوکا دھوکا دھوکا‘‘

 شاید اب اس کا ذہن کچھ بیدار ہو گیا ہے کہ خراٹوں کی آواز سنائی نہیں دے رہی اسے یاد آتا ہے رات وہ دیرتک اپنے پسندیدہ گیتوں کا کیسٹ لگا کر سنتا رہا تھا،وہ ہاتھ بڑھا کر ٹیپ ریکارڈر کا بٹن دباتا ہے

’’الفت کی نئی منزل کو چلا‘‘

 مگر جونہی گیت ختم ہوتا ہے ایک شارک کی آواز سنائی دیتی ہے۔’’جھوٹ، جھوٹ، جھوٹ۔‘‘

دوسری کہتی ہے ’’دھوکا دھوکا دھوکا‘‘

 اس کے بعد وہ جو بھی گیت سنتا ہے۔ دونوں شارکیں یا ان میں سے کوئی ایک جھوٹ جھوٹ اور دھوکا دھوکا کی گردان کرنے لگتی ہے۔

وہ ٹیپ ریکارڈ بند کر دیتا ہے اور ریڈیو سے خبریں سنتا ہے۔ شارکیں اب بھی باز نہیں آتیں۔ وہ لیٹے لیٹے پاؤں کی ٹھوکر سے کھڑکی کا پٹ بند کر دیتا ہے۔ پٹ کے زور سے بند ہونے کی آواز سن کر شارکیں اڑ جاتی ہیں۔ اب ہنسنے کی اس کی باری ہے۔

 تکئے کے نیچے ہاتھ ڈال کر سگریٹ کا پیکٹ نکالتا ہے۔ سگریٹ منہ میں لے کر سلگانے لگتا ہے مگر پھر اسے یاد آتا ہے کہ آج چھٹی کا دن ہے اور باؤ جی ابھی تک گھر پر ہوں گے۔ سگریٹ کی خوشبو سے انہیں فوراً پتہ چل جائے گا کہ اس نے پھر سے سموکنگ  شروع کر دی ہے۔ کیا مصیبت ہے وہ جھنجھلا کر سوچتا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے سگریٹ بھی نہیں پی سکتا۔ گردن کے پیچھے دونوں ہاتھ باندھ کر لیٹ جاتا ہے اور دن بھر میں پیش آنے والے متوقع واقعات اور اپنی مصروفیت کا جائزہ لیتا ہے۔ ابھی جب وہ نیچے جائے گا۔ اسے بیکری سے انڈے اور ڈبل روٹی لانے کو کہا جائے گا پھر اسے سبزی یا گوشت کی دکان پر بھیج دیا جائے گا۔ مگر شاید آج نہیں کہ سب کا دوپہر کا کھانا پڑوس والوں کے ہاں ہے۔ البتہ جب وہ ناشتہ کر رہا ہو گا تو ہر ایک کو اپنے اپنے کام یاد آنے لگیں گے۔ فلاں کے ہاں سے سلے ہوئے کپڑے لا دو، فلاں کے گھر یہ پیغام دے آؤ۔ فلاں کو چھوڑ آؤ، فلاں کو لے آؤ۔ وہ موٹروں، تانگوں، بسوں، رکشاؤں اور ٹریفک کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتے سائیکل سواروں سے بچتا بچاتا، بڑی مشکل سے ایک مہم سے واپس آئے گا تو اسے کسی دوسری مہم پر روانہ کر دیا جائے گا۔ اسے آج پہلی بارا حساس ہو رہا ہے کہ وہ یہ مہمیں سر کرتے کرتے اکتا چکا ہے اسے لگتا ہے جیسے وہ ان سب کا بیٹا، بھائی، دیور اور چچا نہیں زر خرید غلام ہے، باؤ جی تو پھر باپ ہیں انہوں نے اسے پیدا کیا ہے۔ اگرچہ کچھ احسان نہیں کیا۔ مگر حد یہ ہے کہ ان کے دوستوں کے دوست بھی اس پر حق رکھتے ہیں اور جب اور جہاں چاہتے ہیں اسے بیگار میں پکڑ کر بھیج دیتے ہیں، وہ جیب خرچ سے بچا کر چند لیٹر پٹرول موٹر سائیکل میں ڈلواتا ہے کہ کہیں گھوم آئے مگر اسے بھابی کا سندیسہ لے کر ان کے میکے جانا پڑ جاتا ہے اور جب وہ ان کے میکے جاتا ہے تو بھابی کی بھابی اسے اپنی بھابی کے ہاں کسی کام سے روانہ کر دیتی ہے اور تو اور منی اور پپو بھی اس پر حکم چلا لیتے ہیں۔ چچا ہمیں سیر کرا دو۔ ہمیں چڑیا گھر لے چلو، ہمیں آئس کریم کھلا دو۔

 اس کی زندگی بھی کیا زندگی ہے۔ وہ دکھ سے سوچتا ہے۔ گھر ہو یا دفتر ہر جگہ اس کے بہت سے آقا موجود ہیں جو اسے اپنا غلام سمجھ کر احکامات جاری کرتے رہتے ہیں۔ اور جیسے اس کی اپنی کوئی پسند یا مرضی نہ ہو۔اس کی اپنی کوئی شخصیت نہ ہو۔ہر کوئی اس پر اپنی پسند اور مرضی ٹھونسنا چاہتا ہے۔ گھر میں جو پکا ہے وہ کھانا پڑتا ہے جو دوسرے چاہیں وہ کرنا پڑتا ہے۔ دفتر کے جیسے بھی ضابطے ہوں یا ان میں کیسی بھی ترامیم ہوتی رہتی ہوں اسے موسٹ اوبیڈینٹ سرونٹ بن کر ان کی تعمیل کرنا پڑتی ہے۔ تو کیا وہ اوروں کے احکامات بجا لانے اور ان کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے پیدا ہوا ہے؟ خود اس کا اپنے اوپر کوئی حق نہیں ! اسے کسی بات کا اختیار نہیں ! افسوس اس نے آج سے پہلے کبھی اس پر غور نہیں کیا کہ کسی کو اس کے جذبات و محسوسات جاننے کی پروا ہ نہیں۔ لیکن وہ ایسا نہیں ہونے دے گا۔ وہ انہیں بتائے گا کہ اس کی اپنی آزاد اور خودمختار شخصیت ہے اور کسی کو اس کی آزادی سلب کرنے کا کوئی حق نہیں۔ وہ چونکتا ہے منی اخبار لے کر اندر آتی ہے اور تپائی پر رکھ کر چلی جاتی ہے وہ اخبار اٹھا کر شہ سرخی پڑھتا ہے۔ شاید شارکیں کہیں پڑوس کے کسی چھجے پر جا بیٹھی ہیں دور سے ان کی آواز سنائی دیتی ہے۔

 ’’جھوٹ، جھوٹ، جھوٹ۔‘‘

 وہ اخبار اٹھا کر ایک طرف رکھ دیتا ہے اور سگریٹ سلگا کر پینے لگتا ہے سگریٹ کا کش لیتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہونے لگتا ہے جیسے اس نے اپنی آزادی اور خود مختاری کا اعلان کر دیا ہو اپنے بہت سے آقاؤں کے خلاف بغاوت کا علم بلند کر دیا ہو اسی لمحے سامنے کے مکان کے چھجے پر ایک موٹا تازہ کوا آ بیٹھتا ہے اور بلند آواز سے کہتا ہے ’’دروغ‘‘

 وہ اٹھ کر کھڑکی کا دوسرا پٹ بھی بند کر دیتا ہے۔ پٹ بند ہونے کی آواز سے کوا اڑ جاتا ہے لیکن اسے لگتا ہے جیسے وہ چھجے سے اڑ کر اس کے اندر کی کسی منڈیر پر آ بیٹھا ہو اور اس کی ہر بات اور سوچ پر دروغ دروغ کی رٹ لگا کر پانی پھیرنے لگا ہو۔

 تب بھابی اندر آتی ہیں اور ایک نظر اسے دیکھ کر کمرے میں بکھری چیزوں کو ٹھیک کرنے لگتی ہیں، وہ اخبار میں پناہ لیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں۔ ’’اچھا ہوا تم جلدی اٹھ گئے، ناشتہ کر کے مجھے آپا کے ہاں سے کپڑے لا دو انہوں نے ٹانک دئیے ہوں گے؟‘‘

 اس کا جی چاہتا ہے وہ ان سے پوچھے کہ کپڑے کس کے ہیں ؟ لیکن پھر اسے خیال آتا ہے کہ جب اسے لا کر دینے ہی نہیں ہیں تو اسے اس سے کیا غرض کہ کپڑے بھابی کے اپنے ہیں یا انہوں نے پڑوس والوں کے لئے بنائے ہیں۔

 ’’بھابی آپ کسی اور سے منگوا لیجئے مجھے ایک ضروری کام سے کہیں جانا ہے۔‘‘

 ’’ایسا کون سا ضروری کام آ پڑا ہے تجھے آج کے دن؟‘‘

 ’’کیوں آج کیا کوئی انوکھا دن ہے؟‘‘

وہ اس کی طرف غور سے دیکھتی ہیں تو اسے شک گزرتا ہے کہیں اس کی آواز بھرّا تو نہیں گئی تھی!؟

 ’’آج۔۔ تمہیں پتہ تو ہے بھیا۔ آج کیا ہے۔ پڑوس میں تمہاری ضرورت ہو گی۔‘‘

 ’’میری کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔‘‘

 ’’پڑوسیوں کے بڑے حقوق ہوتے ہیں۔ محلے داری ہے آخر‘‘

 ’’مجھے نہیں معلوم۔‘‘ وہ رکھائی سے کہتا ہے۔ ’’آج مجھے فراغت نہیں ‘‘

 بھابھی کچھ دیر خاموش رہتی ہیں پھر کہتی ہیں :

 ’’تم مرد لوگ بہت بے حوصلہ ہوتے ہو اور خود غرض بھی۔‘‘

 ’’کیا مطلب؟‘‘

 ’’ذرا سی تکلیف برداشت نہیں کر سکتے۔ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہو اور بے چاری عورت۔‘‘

 ’’پتہ نہیں آپ کیا کہہ رہی ہیں ؟‘‘

 ’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ رات تمہارے بھائی جان کے سر میں درد تھا۔ ساری رات خود سوئے نہ مجھے سونے دیا۔ حالانکہ جب کبھی رات کو مجھے پتے کا شدید درد بھی ہوتا ہے میں محض اس لئے ہائے وائے نہیں کرتی کہ ان کی نیند خراب نہ ہو۔‘‘

 ’’آپ بھائی جان کا غصہ مجھ پر اتار رہی ہیں ! کیسے ہیں وہ؟‘‘

 ’’اب مزے سے سو رہے ہیں مجھے سر درد میں مبتلا کر کے۔‘‘

 ’’اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا جواب دے۔ لیکن اس خیال سے کہ بات بڑھ نہ جائے وہ نرم لہجے میں کہتا ہے۔‘‘

’’میں جلد واپس آ جاؤں گا۔‘‘

’’اچھا چلو نہا دھو کر ناشتہ کر لو۔‘‘

’’میں ناشتہ بھی وہیں کروں گا۔ مجھے جلدی ہے۔‘‘

’’اچھا جیسے تمہاری مرضی۔۔ مگر موٹر سائیکل نہ لے جانا۔ تمہارے بھائی جان کو ضرورت ہو گی۔‘‘

’’جی اچھا۔‘‘

وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے آتا ہے منہ ہاتھ دھو کر کپڑے بدلتا اور باہر جانے لگتا ہے اس کی والدہ کہتی ہیں :

’’جلدی آ جانا بیٹے۔ بہت سے کام ہیں۔‘‘

 ’’کام کام کام‘‘ وہ زیر لب بڑبڑاتا ہے اور تیز تیز قدم اٹھاتا باہر نکل جاتا ہے گلی میں ابھی سے بہت شور اور بھاگ دوڑ شروع ہو گئی ہے۔ شامیانے لگ رہے ہیں۔ قناتیں تانی جا رہی ہیں۔ پیاز چھیلے جا رہے ہیں اور اینٹیں جوڑ کر بڑے بڑے چولہے بنائے جا رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی کوئی اسے آواز دے کر بلا لے گا۔ وہ جلد از جلد ان آشنا لوگوں اور آوازوں سے دور چلا جانا چاہتا ہے۔

 تھوڑی دور جا کر گلی دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے وہ پہلے دائیں جانب کو قدم بڑھاتا ہے پھر کچھ سوچ کر بائیں جانب کو مڑ جاتا ہے۔ ابھی دکانیں نہیں کھلیں۔ ویسے بھی آج چھٹی کا دن ہے صرف دودھ دہی، بیکری، قصاب اور حجاموں کی دکانیں کھلی ہیں۔ دینو حلوائی کی دکان پر نہاری اور حلوہ پوری خریدنے والوں کا ہجوم ہے۔ اس کا جی نہاری کھانے کو چاہتا ہے مگر وہ جلد از جلد اپنی آزادی میں مخل ہونے والے جان پہچان کے لوگوں سے دور نکل جانا چاہتا ہے۔

 سڑک پر پہنچ کر اپنی طرف والے بس اسٹاپ پر کھڑا ہو جاتا ہے مگر پھر یہ دیکھ کر کہ دوسری جانب والی بس پہلے آ گئی ہے۔ وہ سڑک پار کر کے جلدی سے بس پر سوار ہو جاتا ہے۔ بس کنڈیکٹر ٹکٹ کے لئے کہتا ہے تو فوری طور پر اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس جگہ کا ٹکٹ خریدے لیکن ساتھ والا مسافر ریلوے سٹیشن تک کا ٹکٹ مانگ کر اس کی مشکل آسان کر دیتا ہے۔

 ریلوے اسٹیشن کے سامنے فٹ پاتھ پر چلتے ایک میلا کچیلا لڑکا جس کے جسم پر صرف ایک قمیص ہے۔ اس کے سامنے ہاتھ پھیلاتا ہے۔

’’کیوں مانگتے ہو؟‘‘

’’بھوکا ہوں۔‘‘

’’کیوں بھوکے ہو؟‘‘

’’میرے ماں باپ نہیں ہیں۔‘‘

’’اچھا ہے نہیں ہیں۔‘‘ وہ کہتا ہے۔ ’’اگر ہوتے تو تم اپنی مرضی سے بھیک بھی نہیں مانگ سکتے تھے‘‘

 وہ لڑکے کو کچھ پیسے دیتا ہے اور آگے بڑھ جاتا ہے۔

 ریلوے اسٹیشن پر بہت رونق ہے۔ لوگ آ رہے ہیں جا رہے ہیں۔ انکوائری سے معلومات حاصل کر رہے ہیں۔ قلیوں کو پیسے دے رہے ہیں۔ عزیز و اقارب سے گلے مل رہے ہیں۔ وہ مختلف گاڑیوں کے اوقات اور کرائے نامے پڑھنے لگتا ہے اس کا جی چاہتا ہے کسی اپ ٹرین میں بیٹھ کر چچا کے ہاں چلا جائے۔ لیکن پھر اس خوف سے کہ اس کے پاس اپنی چچا زاد کے سوالوں کا کوئی جواب نہیں، وہ ارادہ بدل لیتا ہے۔ پھر اسے خیال آتا ہے کہ کسی ڈاؤن ٹرین کے ذریعے ماموں کے ہاں چلا جائے۔ مگر پھر اسے ممانی کی تیوری کے بل یاد آ جاتے ہیں اور وہ کچھ بھی فیصلہ نہیں کر پاتا۔ پلیٹ فارم ٹکٹ خرید کر پلیٹ فارم پر آ جاتا ہے اور ایک پورا چکر لگاتا ہے پھر چائے کے اسٹال پر کھڑے ہو کر ناشتہ کرتا ہے۔ ناشتے سے فارغ ہو کر ایک بنچ پر آ بیٹھتا ہے اور گاڑی کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی آ جاتی ہے۔ وہ ہجوم سے ہٹ کر کھڑا ہو جاتا ہے اور چڑھنے اور اترنے والوں کو خالی نظروں سے دیکھتا رہتا ہے پھر جب گاڑی چلی جاتی اور پلیٹ فارم خالی ہو جاتا ہے تو وہ دوبارہ اسی بنچ پر آ بیٹھتا ہے اور دوسری گاڑی کا انتظار کرنے لگتا ہے۔ اچانک اس کے ذہن میں سوچ کا ایک چیونٹا کلبلاتا ہے کہ جب اسے معلوم ہی نہیں کہ اسے کہاں جانا ہے تو وہ ایک گاڑی کے چلے جانے کے بعد دوسری اور پھر تیسری گاڑی کا انتظار کیوں کر رہا ہے۔ وہ اٹھ کر ریلوے اسٹیشن سے باہر آتا ہے۔ چوک پر پہنچ کر کچھ دیر سوچتا ہے۔ پھر بڑے بازار کی طرف چل دیتا ہے۔

 تھوڑی دور جا کر اسے اپنا ایک دوست مل جاتا ہے علیک سلیک کے بعد وہ اس سے ضروری کام کا بہانہ کر کے جلد جلد رخصت ہوتا ہے۔ اور کھلی اور بند دکانوں کے آگے سے گزرتا بڑے چوک پر آ جاتا ہے۔ یہاں پرانی کتابوں کے اسٹال ہیں وہ ایک اسٹال پر رک کر کتابوں کی ورق گردانی کرتا ہے۔ پھر دو رویہ سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر چلنے لگتا ہے۔

 چڑیا گھر کا بورڈ دیکھ کر رک جاتا ہے پھر ٹکٹ خرید کر چڑیا گھر میں داخل ہو جاتا ہے۔ چڑیا گھر میں جانوروں اور پرندوں کو کٹہروں اور پنجروں میں بند دیکھ کر اس کا دم سا گھٹنے لگتا ہے وہ جلد از جلد اس ماحول سے نکل جانا چاہتا ہے کہ شیر کے دھاڑنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔ شیر کی آواز سن کر چاروں طرف سے تماشائی اس کے کٹہرے کے سامنے جمع ہونے لگتے ہیں۔ کیا دیکھتا ہے کہ شیر فرش پر بیٹھا تماشائیوں کے ہجوم اور قید کی ایک جیسی زندگی سے اکتا کر زور زور سے دھاڑ رہا ہے وہ تماشائیوں سے جس قدر بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ اتنے ہی زیادہ تماشائی جمع ہو جاتے ہیں پھر ایک عجیب واقعہ پیش آتا ہے۔ شیرنی اپنی جگہ سے اٹھتی ہے اور اس کے قریب آ کر اپنا سر اس کے سر سے رگڑتی ہے جیسے دلاسہ دے رہی ہو اور شیر کی آواز رفتہ رفتہ تھم جاتی ہے۔ اسے بھابی کی بات یاد آتی ہے کہ تم مرد لوگ بہت بے حوصلہ ہوتے ہو۔ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہو اس کا جی چاہتا ہے تمام پنجروں کے پٹ کھول کر چڑیا گھروں کے سبھی جانوروں اور پرندوں کو آزاد کر دے مگر پھر اسے کمزور جانوروں کا خیال آتا ہے جو کٹہروں سے نکلتے ہی طاقتور درندوں پرندوں کا لقمہ بن جائیں گے۔ وہ آگے بڑھتا اور ہرنیوں کو ریلنگوں اور خاردار تاروں سے گھرے جنگلے میں بے فکری سے ٹہلتے دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ جنگل کی نسبت یہاں کس قدر محفوظ ہیں۔ کسی چیتے کی گھات کا ڈر نہ کسی شکاری کی بندوق کا خوف، تو کیا کمزوروں کی بقا صرف قید اور غلامی میں ہے۔ وہ آزادی کا ایک دن بھی چین اور اطمینان سے نہیں گزار سکتے؟ وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا اور جھنجھلا کر باہر نکل آتا ہے۔

 دوپہر ڈھلنے لگی ہے اور اسے بھوک ستا رہی ہے۔ وہ ایک چھوٹے سے ہوٹل میں داخل ہو کر کھانا کھاتا ہے۔ پھر سگریٹ کے کش لگاتا ہوا باہر آتا اور سڑک کے کنارے ایک اونچی دیوار پر چڑھ کر بیٹھ جاتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرا سگریٹ سلگاتا اور گزرنے والی گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں پڑھنے لگتا ہے۔

 اچانک اسے خیال آتا ہے کہ وہ حساب لگا کر دیکھے ایک گھنٹے میں مختلف اقسام اور ماڈلوں کی کتنی گاڑیاں وہاں سے گزرتی ہیں۔ اس سے چوبیس گھنٹوں میں وہاں سے گزرنے والی گاڑیوں کا اوسط نکالنے میں آسانی رہے گی۔ پھر وہ ایک ماہ اور پھر ایک سال کا اوسط نکالتا ہے۔ لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اب ان اعداد و شمار کا کیا کرے؟

 دیوار پر چڑھ کر بیٹھے بیٹھے اور گاڑیوں کی تعداد گنتے گنتے سہ پہر ہو جاتی ہے، درختوں کے سائے لمبے ہو جاتے اور گرمی کی شدت میں کمی آ جاتی ہے۔ وہ ایک طرف کو سایہ دار درختوں کے نیچے چلتا رہتا ہے اور شہر کی سب سے بڑی سیر گاہ میں داخل ہوتا ہے۔ سیر گاہ میں خوش لباس لوگ اور خوبصورت بچے ہر طرف دکھائی دیتے ہیں۔ اسے بچے اچھے لگتے ہیں۔ وہ انہیں دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ مصنوعی آبشاروں سے گرتا پانی اور چاروں طرف کھلے ہوئے رنگ برنگ خوشنما پھول دیکھ کر اس کے اندر کی گھٹن کم ہونے لگتی ہے۔ اسی لمحے ایک خوبصورت عورت اس کے قریب سے گزرتی ہے اور اسے میٹھی نظروں سے دیکھتی ہے۔ اس کا دل دھک دھک کرنے لگتا ہے۔ یقیناً وہ بھی اس کی طرح تنہا اور ویران ہو گی اور اس نے بھی انہی دنوں اپنی آزادی اور خود مختاری کا اعلان کیا ہو گا۔ مگر پھر اسے مصنوعی جھیل کی طرف پرواز کرتے پرندوں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔

’’مکر مکر مکر‘‘

’’جھوٹ، جھوٹ، جھوٹ۔‘‘

’’ریا۔ ریا۔ ریا‘‘

’’دروغ۔ دروغ۔ دروغ۔‘‘

اس کے اندر درد کی ٹیسیں جاگتی ہیں۔ وہ پھولوں اور بچوں کی طرف توجہ دینا چاہتا ہے۔ مگر درد کی ٹیسیں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔ وہ تھکے ہوئے پاؤں اٹھاتا مین گیٹ کی طرف چل دیتا ہے۔

 اس کی جیب میں کرایہ موجود ہے لیکن وہ پیدل چلتا ہے۔ سڑکوں بازاروں اور گلیوں میں گھومتا مکانوں پر لگی نیم پلیٹوں اور دکانوں کے سائن بورڈ پڑھتا چلتا رہتا ہے۔ پھر اسے پتہ ہی نہیں چلتا کہ کب اور کیسے وہ دروغ بھرے دن کے غروب ہونے پر اپنے گھر کی گلی میں داخل ہو گیا۔ لمحہ بھر کے لیے ٹھٹکتا ہے پھر آہستہ آہستہ قدم اٹھا کر چلنے لگتا ہے۔ گلی میں آوارہ کتے جگہ جگہ ہڈیاں چچوڑ رہے ہیں۔ شامیانے اور قناتیں ہٹائی جاچکی ہیں اور اس کے گھر کے سامنے والے چھجے پر کوئی پرندہ موجود نہیں ہے۔ وہ تھکا ہارا نڈھال سا گھر میں داخل ہوتا ہے تو سب لوگ اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔

’’کہاں تھے تم؟‘‘ والدہ پوچھتی ہیں۔

’’سارا دن کہاں غائب رہے؟‘‘ بہن کہتی ہے۔

’’ایسا کون سا ضروری کام آ پڑا تھا؟‘‘ بھائی گرجتا ہے۔

باؤ جی غصے میں کمرے سے باہر آتے ہیں اور کہتے ہیں۔

’’صبح کے گئے ہوئے تم پورا دن ضائع کر کے اب آر ہے ہو تمہیں شرم آنی چاہیے۔‘‘

’’شرم کس بات کی باؤ جی۔‘‘ وہ غصے سے کہتا ہے۔ ’’کیا مجھے اپنی زندگی کا ایک دن بھی اپنی مرضی سے گزارنے یا ضائع کرنے کا اختیار نہیں ‘‘

 بھابی قریب آتی ہیں اور چڑیا گھر کی شیرنی کی طرح اس کے سر کے ساتھ اپنا سر جوڑ کر کہتی ہیں۔ ’’تم تو مرد ہو دل بڑا کرو بھیا۔۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

’’اب کیا رہ گیا ہے جو ٹھیک ہو جائے گا۔‘‘

وہ ضبط کرنے کی بہت کوشش کرتا ہے مگر کئی دنوں کا روکا ہوا رونا ضبط کے سارے بندھن توڑ دیتا ہے۔ گھر کے  لوگ سہم جاتے ہیں اور ایک دوسرے کی آنکھوں میں ان پوچھے سوالوں کا جواب تلاش کرنے لگتے ہیں۔

٭٭٭