کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

جیکو پچھے

منشا یاد


ایک روز وہ پڑھائی اور کام کاج سے فارغ ہو کر گھر جانے لگی تو انہوں نے کچھ پرانے کپڑے دئیے۔ ان کپڑوں میں زہر مہرہ رنگ کا ایک مردانہ کرتہ بھی تھا۔ اس کرتے کو دھوتے ہوئے کئی بار اس کے جسم میں بجلی سی دوڑ گئی تھی۔

’’بی بی جی۔۔ یہ بھی؟‘‘

’’ہاں لے جاؤ، تمہارا بھائی پہن لے گا۔‘‘

وہ سلام کر کے جلدی جلدی گھر آئی اسے یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی قیمتی خزانہ اس کے ہاتھ لگ گیا ہو۔

’’جے کو پُچھے ایہہ خزانہ کتھوں لبھا۔ توں آکھ جی، بی بی جی نے دتا۔‘‘

مارے خوشی کے وہ ہنستی چلی گئی اس کی ماں نے حیران ہو کر پوچھا۔

’’کیا بات ہے بیٹی۔۔ اتنی خوش کیوں ہو؟‘‘

جواب میں اس نے بہت سے کپڑے ماں کے سامنے ڈھیر کر دئیے وہ دعائیں دینے لگی۔

’’اللہ انہیں بیٹے کی خوشیاں دکھائے۔ دودھوں نہائیں پوتوں پھلیں۔‘‘

اس کی ماں نے ایک ایک کپڑے کو کھول اور الٹ پلٹ کر دیکھا۔پھر خوش اور مطمئن ہو کر بولی

 ’’تو ان کی خدمت کرتی رہا کر، تیرے دین اور دنیا دونوں سنور جائیں گے۔‘‘

’’ماں ‘‘ اس نے لجاجت سے کہا۔

’’کہو۔‘‘

 اور جیسے کوئی شہزادی اپنی ملکہ مال سے نیا باغ لگوا دینے یا بارہ دری تعمیر کرا دینے کی فرمائش کر رہی ہو۔ اس نے کہا۔

’’یہ کرتہ مجھے دے دو۔‘‘

’’یہ؟‘‘ اس کی ماں نے کہا۔ ’’یہ تو مردانہ ہے اور بڑے ناپ کا؟‘‘

’’میں سی لوں گی۔۔ تم دے دو نا۔‘‘

’’اچھا۔‘‘

وہ خوشی سے کھل اٹھی اور کرتہ لے کر بھاگتی ہوئی اندر چلی گئی جیسے اسے ڈر ہو کہ ماں اپنا ارادہ نہ بدل لے۔

یوں تو بی بی جی سب سے محبت کرتی تھیں مگر اس پر بہت مہربان تھیں اور اس کا خاص خیال رکھتی تھیں۔اسے  اکثر بچا کھچا سالن، دودھ یا لسی اور کھانے پینے کی دوسری چیزیں گھر لے جانے کے لئے دیتی رہتی تھیں اور اپنی اور بیٹے کی اترن تو وہ ہمیشہ اسی کے گھر بھجواتی تھیں۔ وہ بھی ان کی خدمت سب سے زیادہ کرتی۔سب سے پہلے آتی، گھر کی صفائی کرتی، برتن دھوتی، مرغیوں کو دانہ ڈالتی، گھڑوں میں تازہ پانی بھرتی، پھر جب دوسری لڑکیاں آ جاتیں تو ان کے ساتھ ننگے پاؤں زمین پر بیٹھ کر سبق یاد کرتی۔

’’جے کو پُچھے توں بندہ کس دا ہیں توں آکھ جی، اللہ تعالیٰ دا۔‘‘

سبق پڑھنے اور یاد کرنے کے بعد سب لڑکیاں چلی جاتیں مگر وہ اپنے لئے کوئی نہ کوئی کام نکال لیتی۔ یوں تو بی بی جی کے سارے کام کرنے میں خوشی محسوس ہوتی تھی مگر کپڑے دھونا اسے بہت اچھا لگتا تھا خاص طور پر جب ان کا بیٹا شہر سے آیا ہوتا۔۔ بی بی جی اس کی دھلائی کی بہت تعریف کرتی تھیں اور لانی اور کھار سے اپنے گھر والوں کے موٹے، پھٹے پرانے اور کھردرے کپڑے دھونے کے مقابلے میں اسے صابن سے یہ رنگ برنگے ریشمی کپڑے دھونا بہت اچھا لگتا تھا۔ ان سے ایسی مہک آتی جو اس کے لئے بہت انوکھی تھی۔ نمبرداروں کے باغ میں کھلنے والے گلاب اور چمبے، ہاتھوں میں رچی مہندی، بور پر آئے آم کے پیڑوں اور بارش کے بعد زمین سے اٹھنے والی مٹی کی سوندھی سوندھی سی خوشبو سے مختلف اور اس قدر مدھم اور ملائم کہ ایک بار جی بھر کے سونگھ لینے سے ختم ہو جائے مگر پھر کئی کئی دنوں تک سونگھنے والے کے اندر سے اٹھتی رہے۔ وہ ان کپڑوں کو چھوتی تو اس کے جسم میں چیونٹیاں سی رینگنے لگتیں۔ وہ ان پر صابن رگڑتی تو اسے لگتا وہ خود بھی کھرنے لگی ہے۔ لذت کی جھاگ سے اس کے ہاتھ لتھڑ جاتے۔ کپڑوں کو دھو اور نچوڑ کر رسی پر لٹکاتی تو اسے لگتا اس کی اپنی روح کا میل بھی اتر گیا ہے اور وہ دھل کر نکھر گئی ہے۔ سب کچھ اجلا اجلا اچھا اچھا لگنے لگتا۔

جس رات اس نے کرتہ مکمل کیا اس رات اسے مارے خوشی کے دیر تک نیند نہ آئی۔اسے لگتا تھا جیسے وہ کرتہ پہن کر ہوا میں اڑنے لگے گی۔اس کا جی چاہا وہ اسی وقت ہوا میں اڑنے لگے۔گاؤں کے لوگ اسے حیرت سے تکتے رہیں اور وہ رخت ہلاتی،ہوا میں اڑتی، چاندنی میں تحلیل ہو جائے۔ اس رات اس نے عجیب و غریب خواب دیکھے، جڑاؤ تخت، مورچھل، کنیزیں !!

صبح اس کی آنکھ کھلی تو وہ تھکی تھکی سی تھی۔ ماں آٹا گوندھ رہی تھی اور بھائی لکڑیاں چیر رہا تھا۔ اچانک اسے کرتے کا خوشگوار خیال آیا اور اسے لگا جیسے اس کے اندر زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہو۔ وہ جلدی سے اٹھی اور ہاتھ منہ دھو کر اندر چلی آئی مگر جونہی کرتہ اس کے جسم سے مس ہوا سارے بدن میں سنسنی سی دوڑ گئی۔ اس نے گھبرا کر اسے وہیں چھوڑا اور باہر آ گئی۔

اس روز جب وہ بی بی جی کے ہاں پہنچی تو اس نے خوشی کی ایک اور خبر سنی۔ ان کا بیٹا امتحان سے فارغ ہو کر گاؤں واپس آ رہا تھا مگر اس خوشی کی خبر کا تعلق تو بی بی جی سے تھا جو اپنے بھائی کی بیٹی سے اس کا بیاہ کرنا اور اس کے سر پر سہرا دیکھنا چاہتی تھی۔ یا پھر اللہ وسایا سے تھا جس کے سالم تانگے میں بیٹھ کر وہ آئے گا یا پھر گلیوں کے آر پار کچی پکی دیواروں سے تھا جن کے درمیان سے گزر کر وہ گھر تک پہنچے گا پھر وہ کیوں خوش ہو رہی تھی؟

’’آج میرے ساتھ کون کام کرائے گی؟‘‘

’’میں۔‘‘

’’میں۔‘‘

’’میں۔‘‘

مگر وہ چپ رہی اس کے دل پر چوٹ سی لگی تھی بی بی جی اس کے ہوتے ہوئے دوسریوں سے کیوں پوچھ رہی تھیں۔

’’عنائتی۔۔ تم دکان سے زردہ رنگ لے آؤ۔‘‘

’’آمنہ۔۔ تم مرغی ذبح کرا لاؤ۔‘‘

’’اختری۔۔ تم چاول صاف کرو۔‘‘

’’ اور میں کیا کروں ؟‘‘ اس نے تلملا کر دل میں کہا۔ ’’اپنا سر؟‘‘

’’ اور تم‘‘ بی بی جی کو اس کا خیال بھی آ ہی گیا۔ انہوں نے اسے لمحہ بھر کے لئے ایسی نظروں سے دیکھا جو اس کے آر پار ہو گئیں اسے لگا جیسے انہوں نے اس کے اندر کا سارا حال پڑھ لینا چاہا ہو مگر اس کے اندر کیا تھا؟ کچھ بھی تو نہیں تھا بس زیادہ سے زیادہ وقت ان کے پاس رہنے اور ان کے کام کرنے کی خواہش تھی یا پھر وہ ان کے بیٹے کے بیاہ کی بات سوچ کر خوش ہوتی تھی۔ خوش ہونا تو کوئی جرم نہیں تھا؟

’’تم گھر جاؤ۔‘‘ بی بی جی نے کہا۔

اس کا دل دھک سے رہ گیا۔ مگر بی بی جی نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا۔

’’تھوڑی دیر بعد، جب یہ سب چلی جائیں گی ماں سے پوچھ کر آ جانا۔‘‘

اس کا مرجھایا ہوا چہرہ کھل اٹھا جی چاہا ان کے پاؤں چھو لے مگر بی بی جی برا مان جاتیں۔

’’جے کو ُپچھے توں اینی خوش کیوں ایں توں آکھ جی۔۔ خورے کیوں ؟‘‘

 اور حالانکہ بی بی جی جانتی تھیں کہ وہ شام کو پہنچے گا مگر انہوں نے ابھی اس سے اس کا انتظار شروع کر دیا تھا اور مختلف بہانوں سے چھت پر آنے جانے لگی تھیں۔اس کا اپنا جی چاہ رہا تھا۔ وہ چھت پر جائے اور کابک کی طرح وہیں گڑی رہ جائے۔

سہ پہر تک سارے کام ختم ہو گئے۔ اس نے دوپہر کا کھانا بھی وہیں کھایا۔اس کا جی چاہتا تھا وہیں رہ جائے مگر بی بی جی نے اسے گھر بھیج دیا۔ کاش وہ اس کی موجودگی میں آتا اور وہ دیکھ سکتی کہ بی بی جی کس محبت سے اس کی پیشانی چومتی ہیں۔ پیشانی چومنے کے خیال سے اس کی کوکھ میں ٹیس سی اٹھی اور اس کا سارا اندر مامتا کے جذبات سے بھر گیا۔

ماں نے اسے تنور گرم کرنے کو کہا، وہ چھت پر ایندھن لینے کے لئے گئی تو اس نے دیکھا گاؤں کی اونچی منڈیریں، درخت اور مسجد کے میناروں پر بیٹھے ہوئے کبوتر سبھی شہر سے آنے والی سڑک کی طرف منتظر نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور وہ خود؟۔۔ اس کے من میں کیا ہے؟ اس نے خود سے پوچھا۔

’’جے کو ُپچھے تیرے اندر کیہ اے توں اکھ جی تنور‘‘

تنور میں روٹیاں لگاتے ہوئے اسے بار بار احساس ہوتا رہا اس کے اندر بھی روٹیاں لگی ہیں جو پک پک کر جھلسنے لگی ہیں مگر کوئی اتارتا نہیں ہے۔ وہ اپنے گھر میں تھی مگر اس کا دل اور دماغ بی بی جی کے ہاں رہ گئے تھے۔ اسے بی بی جی کے ہاں دوبارہ جانے کا کوئی بہانہ نہیں مل رہا تھا۔ مگر پتہ نہیں کیوں اسے بے پناہ حجاب آ رہا تھا حالانکہ چند ماہ پہلے وہ چھٹی گزار کر گیا تھا تو وہ بی بی جی کے ساتھ اسے سیم نالے کے پل تک چھوڑنے گئی تھی اور اسے کچھ بھی جھجک محسوس نہیں ہوئی تھی پتہ نہیں پچھلے چند دنوں میں ایسا کیوں ہو گیا تھا کہ اس کے ذکر اور تصور سے اس کے گال دہکنے اور کانوں کی لویں جلنے لگتیں۔

رات کو چھت پر جا کر سونے سے پہلے اس نے اندر جا کر ریشمی کرتہ پہنا اور اسے یہ جان کر بہت اطمینان ہوا کہ اس کے جسم میں سنسنی کی لہر نہیں دوڑی بلکہ یوں لگا جیسے کسی تپے ہوئے برتن کے گرد ٹھنڈا بھیگا ہوا غلاف چڑھا دیا جائے۔

گاؤں کے سارے لوگ چھتوں پر سو رہے تھے اس کے قریب ہی اس کی ماں اور بھائی کی چارپائیاں تھیں مگر اسے ڈر لگ رہا تھا جیسے سوتے میں کوئی دیو اسے اٹھا کر لے جائے گا یا کوئی جن بھوت نتھنوں کی راہ اس کے اندر حلول کر جائے گا۔

وہ بار بار سونے کی کوشش کرتی رہی مگر اس کا دھیان بی بی جی کے گھر کی طرف چلا جاتا۔۔ اب وہ اسے کھانا کھلا رہی ہوں گی،اب اس کا بستر بچھا رہی ہوں گی۔ اب اس کے قریب بیٹھ کر اس سے باتیں کر رہی ہوں گی۔ اچانک وہ چونک پڑی۔

اسے لگا کوئی آہستہ آہستہ دبے پاؤں سیڑھیاں چڑھ رہا ہے۔خوف سے اس کا جسم لرزنے لگا۔چور، ڈاکو، جن بھوت۔۔ کئی طرح کے وسوسوں نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس نے چاہا ماں کو آواز دے، بھائی کو پکارے مگر خوف سے اس کی گھگھی بندھ گئی اور آواز اس کے حلق میں اٹک گئی۔ اس نے دل کڑا کر کے، آنکھیں پھاڑ کر اندھیرے میں دیکھا اور یہ دیکھ کر اس کی لباس چیخ نکل گئی کہ وہ اس کی پائنتی کی طرف کھڑا تھا۔

’’کیا ہوا؟‘‘ اس کی ماں اٹھ کر اس کے قریب آئی۔

’’ابھی ابھی کوئی یہاں کھڑا تھا۔‘‘ اس نے لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔ اس کا بھائی جاگ گیا تھا۔ اس نے چاروں طرف گھوم پھر کر اور نیچے صحن میں جھانک کر دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا۔

’’تو نے خواب دیکھا۔‘‘ ماں نے کہا۔ ’’آیت الکرسی پڑھ کر سو جا۔‘‘

اس نے آیت الکرسی اور بہت سی دعائیں جو اسے یاد تھیں، پڑھیں اور چادر میں گھس کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔ مگر اسے نیند نہ آئی۔ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔اس نے پشیمانی سے سوچا مگر اسے بھی تو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ بی بی جی اتنی نیک اور اچھی ہیں سارا گاؤں ان کی عزت کرتا ہے۔ مگر وہ ان کی عزت کو خاک میں ملانا چاہتا ہے۔ اگر اس کا بھائی دیکھ لیتا تو کیا ہوتا؟۔یہ سوچ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے مگر وہ ایسا تو نہیں تھا ہاں اسے شہر کی ہوا لگ گئی ہے۔ پتہ نہیں کیسی بری بری باتیں سیکھ گیا ہو۔ وہ دیر تک سوچتی رہی۔

سیڑھیوں پر پھر قدموں کی چاپ سنائی دی۔

اس کا دل دھک دھک کرنے لگا۔ اس نے منہ سے چادر ہٹائی۔ شک دور کرنے کے لئے کان لگا کر سنا۔ دھیمے قدموں سے کوئی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ چاپ قریب آتی گئی پھر ایک ہاتھ بلند ہوا، پھر سر دکھائی دیا پھر چہرہ، کندھے اور پھر پورا جسم۔۔ اس نے دیکھا وہ بالکل وہی تھا، بی بی جی کا بیٹا۔ پھر وہ آخری سیڑھی پر بیٹھ گیا اور اسے اشاروں سے اپنی طرف بلانے لگا۔وہ تھر تھر کانپنے لگی۔اس نے چاہا چیخ پڑے مگر آواز اس کے گلے میں پھنس گئی۔ اس نے چادر سے اپنا سارا وجود اچھی طرح سے ڈھانپ لیا۔وہ خشک پتے کی طرح لرز رہی تھی اور اس کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

پھر وہ دیر تک چادر کے کونے پکڑ کر کھینچتا اور اسے ستاتا رہا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کے بھائی کو خبر ہو۔وہ چپ چاپ لیٹی رہی پھر تنگ آ کر اٹھی اور بھاگ کر ماں کے پاس چلی گئی اور ننھی بچی کی طرح اس سے لپٹ کر سو گئی۔

صبح اٹھ کر اس نے رات کے واقعہ کو یاد کیا تو اس کے دل کا غبارہ رنج و غم کی ہوا سے بھر گیا۔ اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ بی بی جی سے ضرور شکایت کرے گی اور اس کے بعد بھی وہ ان حرکتوں سے باز نہ آیا تو اپنے بھائی کو بھی سب کچھ بتا دے گی۔

نیچے آ کر اس نے سب سے پہلے ریشمی کرتہ اتار کر پھینک دیا اور اپنے معمولی اور پرانے کپڑے پہن لئے۔پھر منہ ہاتھ دھو کر بی بی جی کے ہاں چل دی۔اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ جاتے ہی سب کچھ کہہ ڈالے گی اور سبق پڑھے اور کام کاج کئے بغیر الٹے قدموں واپس آ جائے گی۔

بی بی جی صحن میں بچھی اپنی اور اپنے بیٹے کی چارپائیوں سے بستر لپیٹ رہی تھیں وہ شاید حسب معمول کھیتوں کی طرف ہوا خوری کے لئے نکل گیا تھا۔ اس نے موقع کو غنیمت جانا اور چھوٹتے ہی بولی۔

’’بی بی جی۔۔ آپ کا بیٹا۔۔!‘‘

بی بی جی نے اداس نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور اس کی بات کاٹ کر بولیں۔

’’خدا کرے خیریت سے ہو۔۔ پتہ نہیں کیوں نہیں آیا؟‘‘

وہ حیرت سے ان کا منہ تکنے لگی۔

٭٭٭