کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

جھڑ بیری

منشا یاد


 عورت کا دل رازوں کا ایسا سمندر ہوتا ہے۔جس کی ا تھاہ کا دیکھنے والوں کو اندازہ نہیں ہو سکتا۔

           جوانی ڈھلنے تک وہ اتنے حادثات سے دو چار ہو چکی ہوتی ہے کہ اب چھوٹی موٹی چوٹ اور صدمے سے اس کی روح پر کوئی نئی خراش نہیں پڑتی۔راہ چلتوں نے کیسے کیسے خفی اور جلی اشارے کئے۔موقع ملتے ہی اپنوں اور بیگانوں،دیوانوں اور فرزانوں،رشتے کے بھائیوں اور باپ دادا معلوم ہونے والوں نے کیا کیا حرکتیں کیں۔گھورا گھاری۔چٹکیاں اور دست درازیاں۔ ایسی باتیں کہ ان کا صرف اسے ہی علم ہوتا ہے۔ اور جن کا ذکر وہ قریب ترین رشتے دار یا راز دار سہیلی سے بھی کرنا پسند نہ کرے۔ایسے ایسے ناقابل یقین واقعات کہ کبھی شکایت کرنا چاہے تو الٹا کوئی اور بہتان لگ جانے،تہمت گلے پڑ جانے کا خدشہ ہو۔شوہر کے ساتھ موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی خاتون کو قریب سے گزرنے والی کار کا ڈرائیور،یا کار سے جھانکتی عورت کو کوئی موٹر سائیکل سوار فحش اشارہ کر کے گزر جائے تو وہ سوائے صبر کے اور کیا کر سکتی ہے۔ہر عورت کے دل میں ایسے ایسے راز کہ انہیں ڈی کوڈ کرنے کا کوئی الیکٹرک آلہ دریافت ہو جائے تو بہت سے گھر اور دل ٹوٹ جائیں یا ان میں دراڑیں پڑ جائیں۔ہر سو نا اعتباری کی ہوائیں چلنے لگیں اور آدمی آدمی سے بدکنے لگے۔لیکن کبھی کبھی قدرت ناشکرے انسانوں کی سرزنش اور عبرت کے لئے رافعہ جیسی عورتیں بھی پیدا کر دیتی ہے۔

          اس روز وہ سکول سے لوٹ رہی تھی،سہ پہر کا وقت تھا۔یہ محلے کی ایک پر رونق گلی تھی،جہاں ٹریفک کا دریا بہتا تھا۔اچانک وہ رک گئی۔ اور بلند آواز میں چیخنے چلانے لگی۔دکان داروں،راہ چلتوں اور تھڑوں پر بیٹھے ہوؤں نے دیکھا۔ایک جوان لڑکی ادھیڑ عمر کے ایک آدمی کا راستہ روکے اس  پر برس رہی تھی۔ اور محلے کے معزز اور متمول ترین بزرگ شیخ عبدالواحد آڑھت والے، دو بیویوں کے شوہر،صوبائی اسمبلی کے امیدوار، حواس باختہ،خشک ہوتے لبوں پر بار بار زبان پھیرتے آنکھوں میں التجا اور پیلے پڑتے چہرے پر ندامت کا پسینہ لئے مجرموں کی طرح کھڑے بیٹی بیٹی کہہ کر وضاحتیں کر رہے تھے کہ انہوں نے خیال نہیں اس کا حال پوچھا تھا۔

           ٹریفک کا دریا پل بھر کو رکا تو جیسے طغیانی سی آ گئی۔ہر طرف آدمی ہی آدمی۔آنکھیں ہی آنکھیں۔دکانوں،تھڑوں پر لین دین موقوف،کھانا پینا ختم  اور مول تول ملتوی،دونوں اطراف کے چوباروں اور کئی کئی منزلہ مکانوں کی کھڑکیوں کو کھلنے کا بہانہ مل گیا۔چھتوں پر پتنگیں اڑاتے اور لوٹنے کی آس میں بانس اور ڈنڈے لئے مارے مارے پھرتے لڑکے پردہ دیواروں پر اوندھے ہو کر لٹکنے جھانکنے لگے۔مانو بازار میں ٹریفک روک کر بندر کا تماشا ہو رہا ہو۔

          کیا ہوا؟۔۔۔۔بندہ کون ہے؟۔۔۔۔زنانی کس گھر کی ہے۔۔۔۔؟ٹھیک کیا ہے۔۔۔۔بہتان ہے۔۔۔۔کلجگ ہے۔۔۔۔الیکشن سٹنٹ ہے

           طرح طرح کی بھنبھناہٹیں،ٹھٹھا بازی اور بغل بغل گدگداتی فحش ہنسی۔فرار کا کوئی راستہ تھا نہ زمین پھٹ رہی تھی کہ عبدالواحد اس میں سما جاتے۔تماشائیوں میں ان کی جان پہچان والے یا جن کا کوئی مفاد ان سے وابستہ تھا،ان کے طرفدار بن گئے مگر ایسے موقعوں پر، زور آوروں سے بار بار پٹی ہوئی خلق خدا کی اکثریت عام طور پر کمزور فریق کے ساتھ ہوتی ہے۔اگرچہ یہاں کمزور فریق اتنا کمزور بھی نہیں تھا۔

           اور اس سے پہلے کہ پولیس یا اخبار والے آ جاتے اور شیخ عبدالواحد کی رہی سہی عزت بھی نیلام ہو جاتی،پھجو فالودے والاریٹائرڈ بابو کرم علی کو ان کے گھر سے بلا لایا۔ وہ پہلے تو یہی سمجھے حادثہ ہو گیا اور وہ سکول سے واپسی پر کسی گاڑی تلے آ کر زخمی ہو گئی یا کچلی گئی۔مگر صورت حال جان کر زیادہ افسوس ہوا کاش ایسا ہو جاتا۔لگا،وہ خود کسی تیز رفتار بس ٹرک کے نیچے آ گئے ہیں۔ہجوم کو چیر کر آگے بڑھے اور اس ناہنجار کو بازو سے پکڑ کر کھینچتے ہوئے یوں لے چلے جیسے بھیڑیا بھیڑ کا کان منہ میں دابے اسے  اپنے ساتھ گھسیٹ لے جاتا ہے۔

          شیخ عبدالواحد اور ان کے کنبے پر کیا گزری یا ان کے انتخابی حریفوں نے کیا کیا جشن منائے اور کرم علی نے رافعہ کے ساتھ کیا سلوک کیا  ان اب باتوں کا تصور آسانی سے کیا جا سکتا ہے۔مگر اس واقعے کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ جس طرح کسی غنڈے کی سر عام چاقو زنی اور مار دھاڑ کے مظاہرے سے علاقے میں دھاک بیٹھ جاتی ہے،بابو کرم علی کی استانی بیٹی کی بھی محلے میں خوب دھاک بیٹھ گئی۔گلی بازار کے لوگ  اس سے یوں بدکتے جیسے علاقے کے ایس ایچ او کو دیکھ کر کنی کتراتے تھے۔مگر اس واقعے سے ناصرہ پھپھو کے مردہ تن میں جان سی پڑ گئی۔ اور وہ قبر ایسی جھلنگا چارپائی میں اٹھ کر بیٹھ گئیں۔دیر تک اس کے زخموں نیلوں کو انگلیوں سے چومتی اور روتی رہیں۔ اس قدر ضعف نہ ہوتا تو وہ اسے کبھی پٹنے نہ دیتیں۔مگر ان کے آنسو محض دکھ کے نہیں تھے ان کی آنکھوں میں ایک عجیب فاتحانہ چمک بھی تھی جیسے اس نے ساری دنیا کے مردوں سے اپنا ہی نہیں ان کا بدلہ بھی لے لیا ہو

          ناصرہ پھپھو کو بیاہ کے صرف ایک ماہ بعد طلاق ہو گئی تھی۔ اور حالانکہ وہ پڑھی لکھی،کماؤ، اور قبول صورت تھیں مگر نو دولتیے شوہر نے صاف صاف نا پسندیدگی کی مہر لگا کر اس بیرنگ خط کی طرح لوٹا دیا جس پر  ڈاکئے کے ریمارکس درج ہوں ’’مکتوب الیہ لینے سے انکاری ہے واپس کیا جائے‘‘

          تھوڑی سی غصیلی،زود رنج اور سرکش وہ پہلے ہی تھیں اس ہتک آمیز سلوک نے انہیں سر تا پا آگ بنا ڈالا۔جدھر سے گزرتیں ہر چیز کو بھسم کرتی چلی جاتیں۔اڑوس پڑوس،بہن بھائی،ماں باپ اور بھابی سبھی ان کی بد زبانیوں سے پناہ مانگنے لگے۔شروع شروع میں ماں باپ اور بھائی نے چند ایک بار ان کے عقد ثانی کی بات چھیڑی مگر وہ شادی کے نام پراس قدر بھڑک اٹھتیں کہ جان چھڑانا مشکل ہو جاتا۔ان کا بس چلتا تو وہ ساری دنیا کی بیویوں کو بیوہ بنا ڈالتیں یا طلاقیں دلوا دیتیں۔اپنی شادی تو دور کی بات تھی وہ بیاہ شادی کی کسی تقریب میں شامل ہونا بھی پسند نہ کرتیں۔وقت کے ساتھ ساتھ ان کے اندر زیادہ زہر بھرتا گیا اور آہستہ آہستہ وہ عورت مرد کے تعلق ہی سے متنفر ہو گئیں۔یوں تو گھر میں آئے روز لڑائی جھگڑا ہوتا ہی رہتا مگر جس روز بھابی،رافعہ کی امی صبح اٹھ کر غسل کرتیں،اس روز تو کسی بہانے گھر میں خوب ہی ہنگامہ ہوتا۔بوڑھے والدین بیٹی کا گھر اجڑنے کے صدمے اور اس کی بد زبانیوں اور بدسلوکیوں کی تاب نہ لا کر جلد ہی رخصت ہو گئے اور کرم علی اور رافعہ کی امی کو ایک نہ ختم ہونے والے عذاب میں مبتلا کر گئے۔دن میں کئی کئی بار لڑائی جھگڑا ہونے لگا۔مکان میں ان کا بھی حصہ تھا،یوں بھی وہ کہیں اور جا کر اکیلی کیسے رہ سکتی تھیں اور کیوں جا کر رہتیں۔تاہم مالی طور پر وہ کسی پر بوجھ نہ تھیں۔ایک سرکاری ہسپتال میں سٹاف نرس تھیں اور معقول تنخواہ ملتی تھی۔

        ہر انسان کی طرح وہ بھی اگر بعضوں کے لئے بری تھیں تو بعضوں کیلئے اچھی بھی تھیں۔رافعہ سے انہیں شروع ہی سے پیار تھا بلکہ اسے ایک طرح سے انہوں نے ہی پالا تھا۔وہ زیادہ تر انہی کے پاس رہتی۔وہی اسے صبح سکول کے لئے تیار کرتیں۔رات کو ہوم ورک کرواتیں۔اس کے لئے اچھے اچھے کپڑے اور کھلونے خرید کر لاتیں۔وہ ان کی ساری محبت اور مامتا کا مرکز تھی۔وہ بھی ان سے بہت پیار کرتی۔اکثر انہی کے پاس سوتی اور کہانیاں سنتی اور امی اور پھپھو کی لڑائی میں ان کا ساتھ دیتی۔شروع شروع میں اس کی امی کو برا لگتا مگر جب اور بچے ہو گئے اور اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا تو ان کی مامتا کو غنیمت معلوم ہوتا کہ رافعہ کو اس کی پھپھو کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتی۔

          ظاہر ہے رافعہ کی تربیت اس کی پھپھو نے اپنے ڈھنگ پر کی تھی چھوٹی سی عمر میں اسے بڑی بڑی باتوں کا علم ہو گیا تھا۔سر کے عقب میں اور کنپٹیوں پر ایک ایک فالتو آنکھ اگ آئی تھی۔سارے حواس شدید ہو گئے تھے۔سونگھ کر بتا سکتی تیسرے گھر میں کیا پک رہا ہے۔محلے کے انکل نما دکاندار کم سن لڑکیوں پر جھونگے انوسٹ کرتے اور بطور سند انہی کے بدنوں کے بہی کھاتے پر چٹکیاں رقم کر دیتے۔لیکن دوسریوں کے بھلاوے میں جب پہلی بار چٹکی اس کے ہاتھ آئی تو اس نے تلی پر رکھ لی اور ہر آتے جاتے کو اس وقت تک دکھاتی پھری جب تک کہ پھپھو نے بس میری جان اتنا کافی ہے کہہ کر منع نہ کر دیا۔

          ایسا نہیں تھا کہ اسے اپنی جسمانی ضرورتوں کا احساس نہ ہویا اس کے اندر کبھی کوئی لطیف جذبہ پیدا ہی نہ ہوا ہو۔  محبت سے کوئی دل خالی نہیں ہوتا مگر پھپھو جو کہتی تھیں سچ ثابت ہوا۔انہی کی طرح اس کی محبت کے گلابوں کو بھی ایک سؤر نے ابتدا ہی میں ایسا تہس نہس کر ڈالا کہ پھر کبھی کوئی کونپل نہ کھل سکی اور اس کے اندر کانٹے ہی کانٹے اگنے لگے۔یہاں تک کہ اب وہ ایک کٹھ بیری کے جھاڑ کی صورت اختیار کر گئی تھی جو قریب سے گزرنے والوں کا دامن تار تار کر دیتا ہے۔مگر کوئی نہ جانتا تھا رات کی تنہائیوں میں کبھی کبھی اس جھاڑ سے کسی زخمی پرندے کے کراہنے کی آواز سنائی دیتی رہتی تھی۔

          یہ بہت دن پہلے کی بات ہے۔

           اس کے بال و پر نکلے۔اڑنے چگنے کا موسم آیا تو پھپھو نے نصیحت کی

          ’’میں صدقے ذرا دیکھ بھال کر،ہر طرف ہمرنگ زمین جال بچھے ہوتے ہیں کہیں پاؤں نہ پھنسا لینا۔جال سے نکلنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ایک بار پاؤں الجھ گیا تو الجھ گیا۔پھر واپسی مشکل ہو جاتی ہے‘‘

          کبھی کبھی وہ ٹوک دیتی ’’پھپھو سارے مرد تو ایک جیسے نہیں ہوتے۔ میرے ابا بھی تو ہیں ‘‘

        وہ ہنس پڑتیں ’’رافی میری جان،مت پوچھ،وہ بھی ویسے ہی ہیں۔مرد سبھی ایک جیسے ہوتے ہیں۔پرائی عورتوں کے شیدائی،گھر کی پوری چھوڑ کر باہر کی آدھی کے پیچھے دوڑنے والے۔گھر کی رانی اچھراں پر باہر کی لوناں چماری کو ترجیح دینے والے،عورت کو پاؤں کی جوتی سمجھنے والے،جو کبھی پوری آ گئی کبھی نہیں۔ان سے وفا کی امید عبث۔‘‘

          جوانی اس پر ٹوٹ کر آئی جیسے ساون میں گھنگھور گھٹا امنڈتی ہے اور جل تھل ایک کر دیتی ہے۔یہی وہ دن تھے جب وہ بھاگتے وقت کو روک کر اس سے کچھ بھی مانگ سکتی تھی۔مگر اس نے پھپھو کی محبت کے سوا کچھ نہ مانگا۔پھپھو کی باچھیں کھل کھل جاتیں۔لیکن وہ میٹرک کے امتحان میں دوسری بار فیل ہو گئی۔پھپھو نے دلاسا دیا۔

’’روتی کیوں ہو میری جان۔اب کے میں ٹیوشن کا انتظام کئے دیتی ہوں۔ساری کمی پوری ہو جائے گی‘‘

          اس کا نام آصف تھا، کسی اچھے خاندان کا چشم و چراغ تھا۔ضرورتاً نہیں،شوقیہ گھروں میں ٹیوشنیں پڑھاتا تھا۔ایم کام کر چکا تھا۔شہرت اچھی تھی۔خوبرو،متشرع اور پابند صوم و صلواۃ۔ہر روز دو گھنٹوں کے لئے آنے لگا۔

        وہ آتا، بلند آواز میں وضو کے لئے پانی مانگتا۔امی یا پھپھو جائے نماز بچھا دیتیں۔وہ وضو کر کے نماز ادا کرتا،دعا مانگتا اور مصلیٰ لپیٹ کر کپڑے کی ٹوپی پہنے اس کے کمرے میں آ جاتا۔کچھ دیر زیر لب کچھ پڑھتا اور اردگرد پھونکیں مارتا رہتا۔سارا کمرہ اور گھر ایک تقدس کی لپیٹ میں آ جاتا۔پھر اچانک گذشتہ سے پیوستہ لیکچر شروع ہو جاتا۔وہ پورا وقت نہایت سنجیدگی اور متانت سے بولتا رہتا۔وہ سنتی،لفظوں کے پھول چن چن کر نوٹ بک بھرتی اور موقع پا کر اسے دیکھتی رہتی۔زندگی میں پہلی بار کسی نوجوان مرد کی شخصیت نے اسے مسحور اور قابلیت نے مرعوب کیا تھا۔کچھ ہی روز میں اسے لگا،زینہ زینہ اس کا ہاتھ اس کے دل کے آہلنے تک پہنچنے لگا ہے۔وہ چلا جاتا مگر وہ اسے اپنے پاس محسوس کرتی۔ہر جوان لڑکی کی طرح وہ بھی اپنی تنہائیوں میں اپنی پسند کے آدمی سے باتیں کرنے لگی۔وہ گھاگ شکاری، اپنے فن میں ماہر،نوخیز لڑکیوں کی نفسیات سے واقف۔ اس کی چرب زبانی،حیثیت یا وجاہت انہیں جلد ہی مرعوب کر دیتی۔ اپنی سابقہ فتوحات کے تکبر میں یا شائد چاہت کے پھل کی بدلی ہوئی رنگت سے اندازہ لگا کر اس نے زیادہ دن انتظار نہ کیا۔ ایک روز کہنے لگا:

       ’’تم مجھے بہت اچھی لگتی ہو‘‘

        اسے حیرت ہوئی اسے برا کیوں نہیں لگا۔ اس نے مصنوعی اور بے اثر سی خفگی کا اظہار کیا

        ’’سر آپ یہاں ٹیوشن پڑھانے آئے ہیں ‘‘

        ’’میں نے تو ٹیوشنیں بھی تمہاری خاطر شروع کیں ‘‘

         ’’میری خاطر؟‘‘

        ’’ٹیوشن کیا۔تمہارے لئے تو جوگ بھی لیا جا سکتا ہے‘‘

           اس نے چاہا یقین نہ کرے،ہم رنگِ زمین جال سے بچ نکلے مگر پرندوں میں پوری دانائی آ جائے تو شکاری بھوکے مر جائیں۔اس نے چاہا اسے کھری کھری سنائے مگر پتہ نہیں اس کی آنکھوں میں کیسا جادو تھا کہ وہ کچھ بھی نہ کہہ سکی۔کسی عام سی لڑکی کی طرح شرما لجا کر رہ گئی۔ایک روز جزر معلوم کرنے کا طریقہ سمجھاتے ہوئے کہنے لگا

      ’’میں نے تم سے شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا  ہے‘‘

         اس نے آخری بار چاہا یقین نہ کرے مگر وہ اس کے جادوئی حصار کو نہ توڑ سکی اور زندگی میں پہلی بار پھپھو سے بھی اپنی باتیں چھپا گئی۔

           اور جس طرح امتحانوں میں پہلے تھیوری اور آخر میں پریکٹیکلز ہوتے اور اس کے بعد امتحان ختم ہو جاتا ہے،اس کا امتحان بھی ختم ہو گیا۔مگر ممتحن پرچے لے کر غائب اور ریزلٹ ہمیشہ کے لئے لیٹر آن۔

          وہ چلا گیا۔مگر اپنا کچھ نہ کچھ چھوڑ گیا۔جس کی صحیح نوعیت وہ کبھی نہ جان سکی۔

           اسے طرح طرح کے خیالات گھیرے رکھتے۔ اسے غلطی کیسے لگ گئی؟ اس نے اپنی محبت کے قاتل کو اتنی آسانی سے فرار کیوں ہونے دیا۔اس کا دور تک پیچھا کیوں نہ کیا۔اس سے اپنی توہین کا بدلہ کیوں نہ لیا؟۔وہ بھی ان عام سی لڑکیوں جیسی نکلی جو اپنی بیوقوفی کی وجہ سے دھوکا کھاتی اور بدنامی کے خوف سے خاموش رہتی ہیں۔بھولنے اور معاف کرنے میں اسے کئی سال لگ گئے۔

          ملک میں عام انتخابات ہونے والے تھے۔سیاسی جوڑ توڑ اور جلسے جلوس زوروں پر تھے۔جگہ جگہ قومی اور صوبائی امیدواروں کے پوسٹر لگے تھے۔اخبارات بیانات،دعوؤں اور ڈینگوں سے بھرے ہوتے۔محلے کے دونوں امیدوار ایک ایک ووٹر کے پاس خود چل کر جاتے۔ان کے ہاں بھی آئے۔وہ بھی ساتھ تھا۔

          چائے کی ٹرے اس کے ہاتھ سے گرتے گرتے بچی۔وہ اسے یوں دیکھ رہا تھاجیسے ولایت کے لوگ تیسری دنیا میں آ کر اپنی سابقہ رعایا کو دیکھتے ہیں۔

          ’’یہ بھی میری شاگرد ہیں،سوری میں نام بھول گیا‘‘

          ’’نام بھول گیا‘‘ اس کے اندر کوئی چیز چھن سے ٹوٹی۔لگا جیسے کسی نے گالی دی،سینے میں چھری گھونپ دی۔اس پر گئے دنوں کے ملال کا پورا چھکڑا الٹ گیا

          ’’رافعہ،میری بیٹی،سکول ٹیچر ہے‘‘ کرم علی نے بتایا

          ’’ہاں رافعہ،مجھے یاد آیا‘‘ وہ بے درد ی سے بولا

          ’’پھر تو یہ اپنا ہی گھر ہوا‘‘ شیخ صاحب نے اطمینان سے ڈاڑھی کھجاتے ہوئے کہا

          ’’جی ہاں گھر بھی آپ کا اور ووٹ بھی‘‘

          ’’نام بھول گیا،نام بھول گیا‘‘ اس کے اندر ابھی تک کھلبلی مچی ہوئی تھی۔جی چاہ رہا تھا بلند آواز میں چیخے یا قہقہہ لگائے۔سارے محلے کو چیخ چیخ کر بتائے لوگو وہ میرا نام بھول گیا۔مگر وہ چیخ سکی نہ قہقہہ لگا سکی۔ اور چپ چاپ اندر چلی گئی۔

          اس وقت تو وہ چپ چاپ اندر چلی گئی مگر اس کے کچھ ہی دنوں بعد اس کے اندر رکی ہوئی بہت سی چیخیں عین بازار کے وسط میں، پنجرے میں بند شارکوں کی طرح یک بارگی نکلیں اور آسمان ان کی چچلاہٹوں کے شور سے بھر گیا اور شیخ عبدالواحد کے الیکشن کی ساری پرچیاں ان کی پھڑ پھڑاہٹوں میں اڑ گئیں۔مگر ان کو ہی نہیں ان کے خاندان اور گلی محلے کے لوگوں کو بھی ہمیشہ کے لئے اس کا نام ازبر ہو گیا۔ بات کرتا ہے سالا، نام بھول گیا۔

          ایسا بھی نہیں تھا کہ اسے اپنی اور ان کی حیثیت کا فرق معلوم نہ ہو۔  یا جانتی نہ ہو کہ درجنوں سکول،ہسپتال اور رفاہی ادارے ان کی نگرانی میں یا اعانت سے چلتے تھے۔وہ محلے کے ہی نہیں شہر کے با اثر اور متمول ترین لوگ اور وہ غریب ترین گھر کی فرد۔یہ بالکل ایسا ہی تھا جیسے کوئی چھوٹا اور غریب ملک کسی سپر پ اور کو چیلنج کر دے۔ بابو کرم علی کی پنشن نہ ہونے کے برابر۔ ناصرہ پھپھو کی کمائی ان کی بیماری کھا گئی۔ایک اسی کی معمولی سی تنخواہ سے گھر چلتا تھا،مہینہ دو مہینہ میں سکول سے معطلی کا پروانہ مل گیا۔

         وہ ملازمت کے لئے جہاں بھی جاتی اس کی شہرت اس سے پہلے پہنچ جاتی۔کچھ روز دور بیاہی بہنیں اور بہنوئی مدد کرتے اور پڑوسی قرض ورض دیتے رہے پھر آہستہ آہستہ ان کے رویے میں سرد مہری آتی چلی گئی۔ اور فاقوں کی نوبت آ گئی۔تاہم وہ یا کرم علی محلے کی کسی بھی دکان پر چلے جاتے تو پچھلے پیسوں کا تقاضہ کئے بغیر ادھار مل جاتا۔یہ صورت حال تکلیف دہ اور خود داری کو مجروح کرنے والی ضرور تھی لیکن اسی سے جسم و جان کا سلسلہ قائم رکھنا ممکن ہو رہا تھا۔ اور خود کشی کے بارے میں سوچنے کے باوجود ابھی اس کی نوبت نہیں آئی تھی۔

          انتخابات کی گرد بیٹھ گئی تو ایک نیا کھیل شروع ہوا۔آدمی ریس کے گھوڑوں میں تبدیل ہونے لگے اور ملک الموت کو جاں بخشی کے عوض بریف کیس پیش کئے جانے کے لطیفے مشہور ہوئے۔عہدوں اور بریف کیسوں کی تقسیم کے اس موسم میں ایک روز ہجوم میں راستہ بناتی ایک لمبی چمکیلی کار گھر کے سامنے آ رکی۔شوفر نے دروازہ کھولا۔زرق برق کپڑوں میں ملبوس اور بھاری قیمتی زیورات سے لدی پھندی ایک بیگم ٹائپ خاتون برآمد ہوئیں،اسے اندر ہی اندر اس غیبی امداد کا انتظار رہتا تھا۔سمجھی شائد شیخ عبدالواحد کے حریفوں کو آخر اس کی یاد آ ہی گئی۔

          ’’بابو کرم علی کا گھر یہی ہے؟‘‘

          ’’ہاں مگر آپ کون؟‘‘

          ’’ تم مجھے نہیں جانتی ہو!میں مسز نسرین آصف، آڑھت والے شیخ عبدالواحد کی چھوٹی بہو۔‘‘

          ’’اوہ آپ اور یہاں ؟‘‘ وہ چونک پڑی۔گزرے دنوں کی یادوں کی کڑواہٹ منہ میں بھر گئی۔بولی

          ’’بیگم صاحبہ آپ کو شائد غلطی لگ گئی‘‘

          ’’اچھا دروازہ تو کھولو،بیٹھ کر کرنے والی کچھ باتیں ہیں ‘‘

          شکر ہے ابا گھر پر نہیں تھے اور اماں کو کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔شائد انتقام لینے کا صحیح موقع اب ہاتھ آیا اس نے دل میں سوچا اور دروازہ کھول دیا۔

           دروازہ کھلا،گھر میں ایک اجنبی خوشبو پھیلی تو پھپھو کی آواز سنائی د ی۔’’کون آیا ہے رافی؟‘‘

          ’’ایک بیگم صاحبہ ہیں پھپھو۔کسی کا پتہ پوچھنے آئی ہیں ‘‘

          ’’یہ پنکھا لے جا۔بڑی گرمی ہے آج‘‘

          نسرین بیگم نے چھت سے لٹکتے پنکھے کے بے حس و حرکت پروں کی طرف دیکھا اور کچھ سمجھ کر دستی پنکھا لے لیا اور زور زور سے ہلانے لگی۔

          ’’مجھے غلطی لگی ہے نہ کسی اور کا پتہ پوچھنا ہے میں تمہیں ملنے آئی ہوں ‘‘

          ’’میں کس قابل۔ایک نوکری تھی وہ بھی آپ لوگوں نے چھین لی۔اب اور کیا چاہتے ہیں ؟‘‘

          ’’مجھے نہیں معلوم تمہاری نوکری کس نے چھینی مگر بحال ہو سکتی ہے‘‘

          ’’یہ مہربانی کیوں ؟‘‘

          ’’شائد تمہیں معلوم نہیں۔شیخ صاحب،میرے انکل بہت بیمار ہیں۔ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے۔مگر جان اٹکی ہوئی ہے۔ان کا کہنا ہے۔اللہ تو سب جانتا ہے۔مگر میں اپنے کنبے اور دنیا کے سامنے سرخروئی سے مرنا چاہتا ہوں ‘‘

          ’’اللہ ان پرکرم کرے‘‘ پھپھو کی آواز سنائی دی۔دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔وہ چوکھٹ کا سہارا لئے کھڑی ہانپ رہی تھیں۔

          وہ انہیں سہارا دے کر واپس ان کے کمرے میں چھوڑنے آئی۔’’آپ کو بستر سے نہیں اٹھنا چاہیے پھپھو‘‘

          ’’میری بات سن رافی، تجھے غلطی بھی تو لگ سکتی ہے۔اگر تجھے ذرا سا شک بھی ہو تو اس کا فائدہ ان کو ملنا چاہئے‘‘

          ’’ شک نہیں مجھے معلوم ہے پھپھو،وہ نیک اور شریف آدمی ہیں ‘‘

          ’’ پھر تو نے ایسا کیوں کیا،کرے کوئی بھرے کوئی،بری بات ہے‘‘

          ’’اسے میرا نام بھول گیا تھا پھپھو‘‘ اس نے گلو گیر آواز میں کہا

          ’’اس سے بھی بھول ہو گئی اسے بھی معاف کر دو میری جان،جاؤ ہسپتال جا کر سب کے سامنے کہہ دو‘‘

          ’’نہیں پھپھو‘‘ اس نے رندھی ہوئی آواز میں کہا

          پھپھو نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر چوما تو جیسے اس کے اندر غم و غصے کا سارا کرنٹ ارتھ ہو گیا اور اچانک سوئی ہوئی خیر کی کوئی خدائی یا نسوانی صفت بیدار ہو گئی۔ اس کے اندر کے جھاڑ میں پھڑ پھڑاہٹ سی ہوئی اور سرگوشیاں سنائی دینے لگیں۔

          ’’ رفو اس خوبصورت اور معصوم سی عورت کو جس کے چہرے پر خوشی اور امید کے پھول سے کھلے ہیں اور جو اپنے شوہر پر اندھے اعتماد کی سرخوشی میں لت پت ہے رنجیدہ مت کرو۔ یہ عورت اتنی غیر بھی نہیں۔اس کاتم سے کوئی رشتہ تو ہے۔محبت کا وہ دریا جس سے مردہ مچھلیوں کے سوا تمہارے ہاتھ کچھ نہ آیا،دن رات اس کے آنگن میں بہتا ہے۔ اور رفو ایک یاد کے سوا تمہارے پاس ہے ہی کیا۔اسے مزید میلا نہ کرو‘‘

 وہ بے بس سی ہو کر رونے لگی۔

٭٭٭