کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ

منشا یاد


ٍ       تعارف و حالات شہید ابو معاویہ محمد امین رحمۃ اللہ علیہ

           جیسا کہ شہید ابو معاویہ محمد امین کے چچا سے روایت ہے آپ 1982ء کے ماہِ صیام میں بروز جمعتہ المبارک منڈی جیم الف ضلع شیخوپورہ کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے،آٹھویں جماعت تک تعلیم بڑے گاؤں کے سکول سے حاصل کی۔ دنیاوی تعلیم میں شروع ہی سے جی نہ لگتا اور گھر والوں کے اصرار اور سکول ٹیچروں کی مار سے پریشانی کا شکار رہتے۔اس لیے اکثر ناغہ کرنا پڑ  جاتا اور آپ یہ فارغ وقت اللہ کی یاد میں گزارتے۔ اس کے لیے بعض اوقات آپ کسی کھیت میں گھس کر یا گھنے درخت پر چڑھ کر بیٹھ جاتے تاکہ گاؤں کا کوئی آتا جاتا گنوار مخل نہ ہو۔پھر سکول جانا چھوڑ دیا  تو چند ماہ اپنے والدین اور بھائیوں کے ساتھ گھر کے کام کاج اور کھیتی باڑی میں ہاتھ بٹاتے رہے مگر اس کام میں بھی جی نہ لگا کہ آپ ایسے معمولی کاموں کے لیے پیدا نہیں ہوئے تھے۔ درحقیقت ان کا دل دنیاوی معاملات سے اُچاٹ ہو چکا تھا۔

          مذہبی گھرانے سے تعلق کی بنیاد پر ابو معاویہ دین اسلام سے بے حد لگاؤ رکھتے تھے۔ پانچ وقت نماز کے تو وہ بچپن ہی سے پابند تھے۔ اکثر جہادی رسائل کا مطالعہ نہ صرف باقاعدگی سے بلکہ بے حد شوق سے کرتے تھے۔ ایک بار رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں تھے جب حاملینِ  کتاب و سنت کے دعوتی پروگرام سے شناسائی ہوئی اور آپ کے اندر جذبہ جہاد فی سبیل اللہ نے گھر کر لیا  اور آپ جہادی راہوں پر عازمِ  سفر ہوئے۔

          چند ماہ بعد اپنے دوسرے چچا محمد یحٰی کے ساتھ عسکری تربیت کے لیے ایک جہادی معسکر پہنچے۔عسکری تربیت کے تمام مراحل بڑی کامیابی کے ساتھ طے کیے۔ دورہ خاصہ کی تکمیل کے ساتھ ہی جذبہ شہادت دل میں موجزن ہوا۔دنیا سے بالکل ہی دل اُچاٹ ہو گیا۔ گم صم رہنے لگے۔اُداسی کی وجہ پوچھی گئی تو کہنے لگے ’’ادھر کشمیر میں ہماری مسلمان مائیں بہنیں،ہندوؤں کے رحم و کرم پر ہیں اور ہمارے مظلوم کشمیری بھائی اسلام کے ناتے سے ہمیں مدد کے لیے پکار رہے ہیں،میں یہاں چین سے کیسے بیٹھ جاؤں ‘‘

          ابو معاویہ کشمیر میں اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کے لیے وہاں پہنچنے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے۔ والدین سے اجازت طلب کی۔ نیک اور صالح والدین نے پہلے تو روکا مگر جب اندازہ ہوا کہ وہ رکنے والے نہیں تو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے اپنے شیر دل مجاہد بیٹے کے عظیم جذبے کی قدر کرتے ہوئے اجازت دے دی اور ساتھ ہی یہ خواہش بھی کی کہ بیٹے مزید چند دن رک جاؤ اور پھر چلے جانا۔ اس پر ابو معاویہ نے جواب دیا ’’مجھے تو پہلے ہی دیر ہو گئی ہے،جس قافلے کے ساتھ میں نے روانہ ہونا ہے وہ قافلہ چلا جائے گا  اور میں پیچھے رہ جاؤں گا‘‘

           پانچ سال پہلے، پندرہ اگست کو گاؤں سے سیدھے اسلام آباد اپنے چچا کے ہاں پہنچے جو ایک سرکاری دفتر میں قاصد ہیں۔ پورے خاندان بھر میں اُن کی چچیرے بھائی محمود سے زیادہ دوستی تھی اور انھوں نے اُس سے ملنا ضروری سمجھا۔جانے لگے تو محمود کے اصرار پر ایک دن رکنے پر رضا مند ہو گئے۔

          کتاب و سنت کا یہ داعی،اسلام کا سپاہی سولہ اگست کو اپنی مطلوبہ منزل کی طرف روانہ ہو گیا اور اپنے قافلے کے ساتھ مل کر بتوں کے پجاریوں کو واصلِ جہنم کرتا رہا اور بالآخر اُسی سال سولہ نومبر رات قریباً دس بجے دشمن فوج کے ساتھ شروع ہونے والی اور رات بھر جاری رہنے والی جھڑپ کے دوران مجاہدین کے قافلے کو الوداع کہتے ہوئے شہیدوں کے قافلے سے جا ملے۔اناللہِ و انا الیہ راجعون۔ان کے امیر کی طرف سے ان کا جو وصیت نامہ ملا وہ اگرچہ ان کے اپنے دستِ  مبارک کا لکھا ہوا نہیں تھا بلکہ سائکلو سٹائل تھا مگر  خیالات اور جذبات یقیناً انھی کے ہوں گے کیوں کہ اس کے نیچے دستخط آپ ہی کے تھے۔ یہ وصیت نامہ بلا تبصرہ جوں کاتوں ملاحظہ کیجئے۔آپ نے لکھا تھا:

          میرے پیارے والدین،عزیز بھائیو اور علاقہ کے لوگو!

           جب آپ کے پاس کاغذ کا یہ ٹکڑا پہنچے گا  انشاء اللہ میں اللہ تعالیٰ کی بلند درجات والی جنت میں پہنچ چکا ہوں گا۔میری شہادت کی خبر سن کر پریشان نہیں ہونا بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا  اور شکرانے کے دو نوافل ادا کرنا۔ قرآن مجید سے ثابت ہے کہ شہید زندہ ہوتا ہے اور شہید کو مردہ کہنے سے منع فرما یا ہے۔

          میرے پیارے والدین اگر میں ساری زندگی آپ کے پاؤں دھو دھو کر پیتا رہتا،کندھوں پراٹھا کر خانہ کعبہ کا طواف کرواتا رہتا پھر بھی آپ کا حق ادانہ کر سکتا لیکن شہادت سے اُمید ہے قیامت کے دن آپ کے احسانات کا کچھ بدلہ چکانے کے قابل ہو سکوں گا اور جنت کے دروازے پر آپ کا  انتظار کروں گا۔ کیوں کہ مجھے ستر رشتہ داروں کی سفارش کرنے کا اعزاز ملے گا بشرطیکہ وہ شرک نہ کرتے ہوں۔ پیارے والدین اگر میری زندگی تیرہ سو سال بھی ہو جاتی تو پھر بھی موت آنی تھی لیکن ایسی موت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔میری پیاری ماں مجھ کو تیری دعا چاہیے۔اگر مجھ کو کشمیر میں موت آئے تو اورکیا چاہیے

          اگر میرا کوئی پوچھے تو اس کو میر اسلام کہنا۔آپ لوگ اپنی زندگیوں کو نبی کریمﷺ کی زندگی کی طرح ڈھال لو۔عزیز بھائیو فرض نماز کو ہر گز نہ چھوڑنا۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے یعنی کہ جس آدمی نے نہ جہاد کیا اور نہ ہی ارادہ کیا وہ ایک منافق کے شعبہ پر مرا۔

          ’’اے مسلمانو تم پر قتال یعنی لڑائی کرنا فرض کر دیا گیا ہے۔‘‘

          پیارے والدین قرآن مجید میں ایک دفعہ ہی نہیں بلکہ تقریباً 750 آیات میں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کی شان بیان کی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے قرآن مجید میں فرمایا ہے

’’کہ ہلکے ہویا بوجھل اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو،اپنی جانوں کولے کر اپنے مالوں کولے کر۔،

          ایک اور مقام پر فرماتے ہیں ’’ اگر تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نہ نکلے تو اللہ تعالیٰ تم کو درد ناک عذاب دے گا اور تمھاری جگہ اور قوم کولے آئے گا اور تم اللہ کا کوئی نقصان نہیں کر سکتے۔‘‘

          آج دنیا کی تمام کافر طاقتیں اسلام کو مٹانے کے لیے اپنی پوری کوشش کر رہی ہیں۔ آج مسلمان مغلوب ہے۔آج کشمیر کی طرف دیکھ لیں۔ فلسطین،عراق اور افغانستان کی طرف دیکھ لیں۔ مسلمان بہنوں اور ماؤں کی عزتوں کو پامال کیا جا رہا ہے۔مسلمان بوڑھوں اور بچوں کو بے گناہ شہید کیا جا رہا ہے۔وجہ کیا ہے۔یہی کہ وہ بھی لا  الہ الا  اللہ پڑھتے ہیں۔ یاد رکھیں اگر آج ہم نہ نکلے توکل وہ ہمارے گھروں پر بھی چھانے والے ہیں۔ابا جان اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں آنے کا مقصد بھی بیان کیا ہے۔ ’’کہ میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے‘‘

          عزیز بھائیو ہر چیز سے بہتر اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔میں اپنی بہنوں سے پردے کی تاکید کرتا ہوں۔کہ وہ اسلام کے مطابق اپنے پردے اپنائے رکھیں۔باقی بھائی بہنوں کی شادی انشاء اللہ اسلام کے مطابق کرنی ہو گی۔میں نے جس کسی کا قرض دینا ہے وہ بھی ادا کر دیں۔

          ہمیں اس دنیا سے کیا لینا مشن شہادت اپنا۔۔۔۔پہاڑوں پہ دفن ہوں گے کفن ہو گا برف اپنا

          جب یہ کاغذ کا ٹکڑا آپ کے ہاتھ میں آئے گا آنسو نکلیں گے کہ یہ ایک فطری بات ہے لیکن میرے والدین صبر کے دامن کو نہ چھوڑنا۔امی جان تہجد کے وقت ضرور دعائیں کرنا کہ اللہ تعالیٰ میری شہادت کو قبول فرمائے۔ آتے وقت جس عزیز سے میری ملاقات نہیں ہو سکی۔ ا س سے معافی کا خواستگار ہوں۔باقی جو گاؤں والے اور عزیر و اقارب مجھ سے محبت کرتے ہیں انشاء اللہ میری شہادت کا ضرور ان ظالموں سے بدلہ لیں گے انشاء اللہ۔

          آئے تھے ہم دنیا میں سیر کرنے سیر گلشن کر چلے۔۔مالی یہ باغ سنبھال اپنا ہم مسافر گھر چلے

          میرے عزیز بھائیو داڑھیوں کو اللہ کے لیے معاف کر دینا۔شلواروں کو ہمیشہ ٹخنوں سے اوپر رکھنا۔ قرآن مجید کی تلاوت کو صبح و شام کیا کروکیوں کہ ہر چیز سے بہتر اللہ کا ذکر ہے۔اگر کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اللہ کے لیے معاف کر دینا میرے لیے زیادہ سے زیادہ دعا کریں۔ اللہ مجھ کو دشمن کی قید سے محفوظ کرے اور اللہ مجھ سے راضی ہو جائے اور شہادت کی موت نصیب فرمائے۔

آپ کا پیارا بیٹا محمد امین ابو معاویہ ثانی 

میری یادوں کو سینے سے لگائے رکھنا۔اگر آنسو آئیں تو آنسوؤں کو دبائے رکھنا

اگر شہیدوں سے جاملوں تو لبوں پہ دعا رکھنا۔میری شہادت پہ صف ماتم نہ بچھانا

واپسی کا  ایڈریس جنت الفردوس انشاء اللہ۔ابو معاویہ محمد امین شہید رحمۃ اللہ علیہ

٭٭٭