کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کیلنڈر

منشا یاد


          اس کے اندر اتنے زور کا بادل گرجتا ہے کہ وہ بڑ بڑا کر اٹھ بیٹھتا ہی۔ کیا دیکھتا ہے کہ موسلا دھا بارش ہو رہی ہے اور بار بار بجلی کوندتی ہے۔ تپائی سے گھڑے اٹھا کر اس کی اندھیرے میں چمکتی ہوئی سوئیاں دیکھتا ہے۔ نصف رات بیت چکی ہے۔ مگر نئے دن کا سورج طلوع ہونے میں ابھی بہت دیر ہے۔ کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے۔ہر سو گھپ اندھیرا ہے۔ جب بجلی کوندتی ہے تو لحظہ بھر کے لئے درخت، بجلی کے کھمبے اور صحن کی دیواریں روشن ہو جاتی ہیں مگر پھر پلک جھپکتے ہی تاریکی میں ڈوب جاتی ہیں۔ کھڑکی سے ٹھنڈی اور بھیگی ہَوا کے جھونکے آتے ہیں۔ وہ دوبارہ سو جاتا چاہتا ہے مگر کسی انجانے دکھ کا احساس اسے پریشان اور بد مزہ کر دیتا ہے۔ وہ ذہن پر زور دیتا ہے کہ اس دکھ کی نوعیت یاد آ جائے جس نے آنکھ کھلتے ہی اسے دبوچ لیا ہے مگر اسے بالکل یاد نہیں آتا۔

          کچھ عرصہ سے بھول جانے کا مرض کافی بڑھ گیا ہے اس نے کی بار سوچا ہے کہ کسی ماہر معالج سے رجوع کے مگر ہر بار وہ بھول جاتا ہے۔ اسے خیال آتا ہے کہ اب اسے معالج سے مشورہ کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہئے بلکہ کل ہی مشورہ کرنا چاہئے وہ آنے والا دن اور تاریخ یاد کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر اسے کچھ یاد نہیں آتا۔ گھڑی سے دن اور تاریخ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے مگر اندھیرے کی وجہ سے نہیں پڑھ سکتا کیلنڈر کی طرف دیکھتا ہے اندھیرے کی وجہ سے کیلنڈر بھی صاف پڑھا نہیں جاتا۔ اُٹھ کی بتی جلاتا ہے مگر بتی نہیں جلتی۔ اسے یاد آتا ہے کہ جب بھی تیز بارش ہوتی ہے بجلی چلی جاتی ہے وہ ماچس جلا کر کیلنڈر پڑھتا ہے اسے تاریخ یاد آ جاتی ہے مگر وہ یہ دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہے کہ اس تاریخ کے گرد پہلے سے دائرہ بنا ہوا ہے۔ ذہن پر زور دیتا ہے کہ اس نے کب اور کیوں یہ دائرہ لگایا مگر اسے بالکل یاد آتا۔ کچھ پتہ نہیں چلتا کہ اس تاریخ کی کیا اہمیت ہے پتہ نہیں اگلے روز سوئی گیس، بجلی یا ٹیلیفون کا بل جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے یا کسی لائسنس کی تجدید کرانے کی۔ اسے کسی سفر پر روانہ ہونا ہے یا کسی مقدمے کی پیروی کرنی ہی۔ کیا پتہ کسی مہمان کے آنے کا دن ہو، یا  شہر میں کوئی اہم تقریب ہو رہی ہو؟ مگر اس سے پہلے اس نے کبھی کسی تاریخ کے گرد دائرہ نہیں لگاتا تھا یقیناً یہ کوئی نہایت ہی اہم بات تھی مگر کیا؟ اسے کچھ یاد نہیں آتا۔

          وہ اُٹھ کر سگریٹ سلگاتا ہے اور لمبے لمبے کش لے کر کھانسنے اور سوچنے لگتا ہے۔

          یہ اس کا برتھ ڈے بھی نہیں ہے۔ کسی بچے کی تاریخ پیدائش ہے نہ کسی شتہ داری کی برسی۔ اسے یاد آتا ہے کہ رات جب وہ سونے لگا تھا تو اس کی نگاہ ہر روز کی طرح کیلنڈر پر پڑی تھی اور کیلنڈر ر یہ دائرہ بالکل موجود نہیں تھا۔ اس کی ساری توجہ اسی ایک نکتے پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ یہ دائرہ کب، کیوں اور کس نے گایا؟  اگر یہ دائرہ اس نے خود لگایا ہوتا تو آتے جاتے وہ کام جو اُسے اس تاریخ کو سر انجام دینا تھا ضرور یاد آتا رہتا۔ لیکن اگر یہ دائرہ رات سونے سے پہلے کیلنڈر پر موود نہیں تھا تو پھر کہاں سے آ گیا؟ گھر کے سب لوگ پہاڑ پر گئے ہوئے تھے اور گھر میں اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔ پھر دروازہ بند تھا اور اگر دروازہ بند نہ بھی ہوتا تو کیا کوئی اس کے سوا کوئی نہیں تھا۔ پھر دروازہ بند تھا اور اگر دروازہ بند نہ بھی ہوتا تو کیا کوئی اس کے کمرے میں محض تاریخ کے گرد دائرہ لگانے کے لئے گھُس آتا؟ اور کیوں ؟

          اچانک اسے خیال آتا ہے کہ کہیں اس نے سوتے میں اُٹھ کر خود ہی یہ حرکت نہ کی ہو مگر اس سے پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا اور نہ ہی اسے نیند میں چلنے کی عادت ہے پھر یہ دائرہ؟ اُسے خیال آتا ہے کہ کیا پتہ اس نے کوئی خواب دیکھا ہو۔ اس خواب کا تعلق اس تاریخ سے ہو۔ اسے خواب بہت آتے تھے مگر اکثر بھول جاتے تھے۔ دن کو چلتے پھرتے دفتر یا گھر کا کام کرتے ہوئے خواب سے مماثل کوئی صورتِ حال یا خواب میں دیکھا ہوا کوئی شخص مل جاتا تو لمحہ بھر کے لئے اسے خواب کا متعلقہ حصہ یاد آ جاتا پھر فوراً ہی ذہن سے اُتر جاتا۔ وہ خواب یاد کرنے گتا ہے مگر اسے کچھ یاد نہیں آتا۔ بچپن سے لے کر اب تک اپنے ماضی کے سارے اہم واقعات اور حادثات کو ذہن میں لا کر تجزیہ کرتا ہے شاید اسے کسی ایسی بات کا سراغ مل جائے جس کا تعلق اس تاریخ سے ہو مگر اسے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ اسے یقین ہو جاتا ہے کہ اسے نیند میں چلنے کی بیماری لگ گئی ہے اور اس نے خود ہی نیند میں اُٹھ کر کیلنڈر پر دائرہ لگایا ہے۔ وہ اپنے شک کی تصدیق کے لئے دوبارہ دِیا سلائی جلا کر کیلنڈر کے قریب آتا ہے اور یہ جان کر شُشدر رہ جاتا ہے کہ جس رنگ کی سیاہی سے وہ دائرہ لگا ہوا ہے اس رنگ کی سیاہی اس کے قلم میں نہیں ہے۔ پھر یہ دائرہ کب، کیوں اور کس نے لگایا اس کی حیرت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

          سر  کو ہاتھوں سے تھام کر بستر پر دراز ہو جاتا اور سوچنے لگتا ہے۔

          وہ حیرت سے کمرے کا جائزہ لیتا ہے۔

          یہ وہ کمرہ نہیں ہے جہاں وہ رات کو سویا تھا اور جہاں ابھی تھوڑی دیر پہلے تک موجود تھا لیکن کمرہ جانا پہچانا ہے اسے اس سے مانوسیت کی ایسی خوشبو آتی ہے جیسے اپنے جسم پسینے سے آیا کرتی ہے۔ اچانک وہ چونک پڑتا ہے یہ تو وہی کمرہ ہے جہاں برسوں پہلے وہ اسے چھوڑ کر چپکے سے چلا آیا تھا۔ وہ حیرت سے چیزوں کو دیکھتا ہے سب کچھ ویسا ہی ہے۔ کھڑکیوں کے پردے۔۔ فرنیچر۔۔۔ گدیوں کے غلاف۔۔۔ میز پوش۔۔۔ ٹیبل لیمپ۔۔۔ ریڈیو۔۔۔ گلدان میں وہی پھول سجے ہیں جو دونوں سے اس شام فلم دیکھ کر لوٹتے ہوئے خریدے تھے۔ وہ ادھ کھلے دروازے کی طرف دیکھتا ہے گیلے جوتوں کے نشانات بتاتے ہیں کہ وہ ابھی ابھی بارش میں بھیگتا اس کمرے میں داخل ہوا ہے۔ وہ کیلنڈر کو غور سے دیکھتا اور دنگ رہ جاتا ہے بوسیدگی سے ناآشنا وہ تیس برس پہلے کا کیلنڈر ہے مگر اسی تاریخ کے گرد اسی رنگ کی سیاہی سے دائرہ بنا ہوا ہے جیسا اس نے اپنے کمرے کے کیلنڈر پر دیکھا ہے۔ اسے خیال آتا ہے کہ کیا پتہ وہ اپنے سسی کمرے میں جہاں وہ برسوں سے زندگی گذار رہا ہے سویا پڑا ہو اور یہ سب کچھ خواب کی حالت میں دیکھ اور محسوس کر رہا ہو۔ کیا پتہ تیس برس بعد اس کے اندر یادوں کا بادل اتنے زور سے گرجا ہو کہ اس کی آنکھ برسوں پہلے کے زمانے میں جا کھلی ہو۔ مگر وہ کہاں ہے؟ اسکے دل میں اسے دیکھنے کی خواہش نشِتر چبھونے لگتی ہے۔ اسی لمحے غسل خانے کا دروازہ کھلتا ہے اور وہ بالکل وہی برسوں پہلے کا لباس پہنے اور وہی تولیہ سر پر لپیٹے باہر آتی ہے اور اس کی طرح دیکھے بغیر سنگھار میز کے سامنے بیٹھ جاتی اور کنگھی کرنے لگتی ہے وہ حیران رہ جاتا ہے اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا وہ بالکل ویسی ہی ہے ترو تازہ اور جواب۔ لگتا ہے اس کی عمر میں ایک دن کا بھی اضافہ نہیں ہوا۔ اس کے قدموں کی چاپ سن کر وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہے۔

          ’’کون؟‘‘

          ’’اس کی آواز میں وہی نو خیزی اور ترنم ہے

          ’’میں ہوں ‘‘ وہ جواب دیتا ہے ’’تم نے مجھے پہچانا نہیں ؟‘‘

          ’’وہ اُٹھ کر کھڑی ہو جاتی ہے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھتی ہے

          ’’کون ہیں آپ؟‘‘

          ’’میں۔۔۔ میں ہوں ‘‘ وہ پریشان ہو جاتا ہے۔

           اور جس طرح ہَوا تھم جائے تو پانی کی سطح پر تیرتی موجیں چت لیٹ جاتی ہیں اس کی پیشانی پر پڑے ہوئے بَل ہموار ہو جاتے ہیں اور وہ حیرت اور خوشی سے چیخ پڑنے کے انداز میں پوچھتی ہے۔

          ’’ارے آپ؟‘‘

          ’’ہاں میں ‘‘ وہ کہتا ہے ’’میں شرمندہ ہوں۔ یقین جانو۔ میں زندگی بھر پیشمان رہا‘‘ وہ اُداس ہو جاتی ہے لگتا ہے جذبات پر قابو پانے کے لئے تگ و دو کر رہی ہے اسے اس کے اندر ٹپ ٹپ آنسو گرنے کی آواز سنائی دیتی ہے مگر اس سے پہلے کہ ضبط کی برسوں لمبی سسکی کا گولہ اُدھڑنا شروع ہو جائے وہ اپنے مخصوص دلربا تبسم کی چادر پھر سے اوڑھ لیتی ہے اور کہتی ہے۔

          ’’یہ آپ نے بڑھاپے کا سوانگ کیوں بھرا ہے؟‘‘

          ’’یہ سوانگ نہیں حقیقت ہے‘‘

          ’’شاید تیس برس بعد آپ ایسے ہی نظر آئیں گے،

          ’’نظر آؤں گا نہیں ‘‘ وہ کہتا ہے ’’تیس برس بعد ایسا نظر آ رہا ہوں ‘‘

          ’’بھئی کیا مذاق ہے۔۔۔ ہٹائیے۔۔۔ میرا دل خرب ہوتا ہے‘‘

          ’’یہ مذاق نہیں ہے۔ میں تیس برس کی ازدواجی زندگی گزار کر آ رہا ہوں ‘‘

          ’’وہ کیسے؟‘‘ وہ حیرت سے پوچھتی ہے ’’کس کے ساتھ؟‘‘

          ’’بھئی تم جانتی تو ہو۔۔۔ وہی تمہاری کو لیگ۔ چودھری علی محمد کی بیٹی ے میری شادی ہو گئی تھی۔۔۔ اس سے میرے بہت سے مسائل حل ہو گئے تھے۔ صرف ایک مسئلہ‘‘

          ’’آپ پھر مذاق کرنے لگے‘‘ وہ اس کی بات کاٹ کر کہتی ہے

          ’’ایسا نہیں ہو سکتا‘‘

          ’’ایسا ہوا۔۔۔ اس سے میرے بہت سے بچے ہیں اور تمہاری شادی بھی تو ہو گئی تھی؟‘‘

          ’’میری شادی ؟‘‘

          ’’ہاں۔۔۔ میں نے سنا ہے کہ تمہارے بچے بہت ہونہار ہیں اور تمہاری بیٹی کی شکل تم سے بیحد ملتی ہے۔‘‘

          ’’وہ کھلکھلا کر ہنستی ہے، ہنسے چلی جاتی ہے اس کی ہنسی کی آواز ویسی ہی خوبصورت اور دلکش ہے جیسی ہوا کرتی تھی۔ ہنسی کا دورہ تھمتا ہے تو وہ سنجیدہ وہ کر کہتی ہے ’’مجھے سب معلوم ہے‘‘

          ’’کیا معلوم ہے؟‘‘

          ’’یہی کہ آپ مجھے ملوث کرنا چاہتے ہیں ‘‘

          ’’کیا مطلب؟‘‘

          ’’مطلب یہ کہ آپ کے کیلنڈر سے ایک تاریخ چوری ہو گئی ہے اور آپ یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرا اس تاریخ سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ اس کی گمشدگی میں مجھے ملوث کرنا چاہتے ہیں ‘‘

          ’’یہ تم کیا کہہ رہی ہو۔۔۔ تاریخ کیسے چوری ہو سکتی ہے؟‘‘

          ’’آپ سب جانتے ہیں مگر آپ تلخ حقائق کا سامنا کرنے سے ہمیشہ گری کرتے ہیں آپ نے میرے ساتھ بھی یہی کچھ کیا تھا اور اب تاریخ کے سلسلے میں بھی اپ جان بوجھ کر سائیڈ ٹریک کر رہے ہیں ‘‘

          ’’کیا تم مجھ سے بہت ناراض ہو؟‘‘

           اور اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتی۔ وہ اچانک ہر بڑا کر اُٹھ بیٹھتا ہے کھڑکی سے بارش کی بوچھاڑ اندر آ رہی ہے۔ وہ اُٹھ کر کھڑکی بند کرتا اور بتی جلا کر پہلے گھڑی دیکھتا اور پھر کیلنڈر پڑھتا ہے اور یہ جان کر کہ وہ تاریخ جس کے گرد کیلنڈر پر دائرہ لگا ہوا تھا، آئے بغیر گزر چکی ہے۔ وہ سر پکڑ کر رہ جاتا ہے۔

٭٭٭