کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کالک

منشا یاد


کچھ عرصہ ہوا میں نیک ہیں پڑھا کہ جس طرح ہنسنا اور مسکرانا صحت کے لئے مفید ہوتا ہے اسی طرح کبھی کبھی رو لینا بھی دل دل و دماغ اور روح کی صحت کے لئے ضروری ہے خواہ اپنے کسی جسمانی، روحانی یا ذاتی دکھ پر رویا جائے یا کوئی ناول پڑھتے، فلم دیکھتے یا کوئی جگ بیتی سنتے ہوئے بہر حال دل ہی دل میں کڑھتے اور سلگتے رہنے کی بجائے دل کی کیتلی کا ڈھکنا اٹھا دینا کہیں بہتر ہے۔ یہ بات مجھے پسند آئی اور میں نے پہلی بار غور کیا کہ میری بہت سے پریشانیاں اور ان میں آئے دن کا اضافہ محض اس لئے ہے کہ میری روح پر تال پڑا ہوا ہے۔ میں نے حساب لگایا تو معلوم ہوا کہ مجھے روئے ہوئے زیادہ نہیں تو بارہ تیرہ برس برس ضرور ہو گئے ہوں گے۔ آخری بار میں کب رویا تھا مجھے اچھی طرح یاد نہ،ن مگر میرا خیال ہے کہ اس وقت میں ابھی شہر میں نہیں آیا تھا۔ گاؤں کی کسی لڑکی کا بیاہ تھا ہاں مجھے یاد آ گیا فتح دین تیلی کی بیٹی کی ڈولی نکلی تھی اور بینڈ باجے والوں نے بابل سے بچھڑنے سے متعلق کسی گیت کی دھن بجائی تھی اور مجھے ایسا لگا تھا جیسے وہ فتح دین تیلی کی بیٹی نہیں میری سگی بہن ہے اس کے بعد میں شہر چلا آیا یہاں ایسے گیتوں کا سیلاب آتا تھا اس قسم کے کتنے ہی گیت میں پاؤں تلے روندنے لگا کبھی کسی گیت کو سن کر میرا جی نہ بھر آیا اور بھرتا کیسے قدم قدم پر طرح طرح کے گیت سنائی دیتے تھے جگہ جگہ ریڈیو چیختے تھے۔ اب اگر آدمی ہر گیت پر رونے لگے تو آٹھوں پہر روتا چیختا ہی رہے مگر ایک بات ضرور ہے رونے سے دل ہلکا ہو جاتا تھا۔ ہڈیاں بھی نہیں کھرتی تھیں مگر افسوس مجھے آہستہ آہستہ رونے کا ڈھنگ بالکل بھول گیا۔

          پچھلے بارہ تیرہ برسوں میں میں نے کتنے ہی نشیب و فراز دیکھے ہیں کتنے ہی دل چیرنے اور تڑپانے والے مناظر آنکھوں کے سامنے آئے ہیں جنہیں دیکھ کر دل کو کچھ ہوتا بھی رہا ہے۔ مگر آنکھ سے آنسو کبھی نہیں ٹپکا۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ میری سگی خالہ فوت ہو گئیں مجھے معلوم تھا کہ خاندان کے لوگ مجھ سے رونے کی توقع رکھتے ہوں گے اسی لئے میں نے کوشش بھی کی مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ میں نے دوسروں کو خالہ کی میت پر بین کرتے اور پچھاڑیں کھاتے دیکھ کر عبرت حاصل کرنے اور خالہ کو اپنی سگی ماں فرض کر کے کود پر رقت طاری کرنے کی بہت کوشش کی مگر ایک بھی آنسو میری آنکھ سے نہ ٹپکا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرے اندر لطیف جذبات کا بے حد صدمہ تھا اور میرے اندر آگ سی بھی سلگ رہی تھی مگر اس کا دھواں آنکھ کے راستے باہر جانے کی بجائے میری روح سے چمٹ گیا تھا۔

          اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پچھلے بارہ تیرہ برسوں میں مجھے مصائب و آلام کے مراحل کبھی پیش نہیں آئے یا کسی جذباتی جسمانی دکھ سے دو چار نہیں ہوا۔ میں ایک عام آدمی ہوں جسے مشکلات، بیماریاں، پریشانیاں، حق تلفیاں، معاشی بد حالیاں اور دل اور خون کے رشتوں کی جذباتی بے قراریاں قدم قدم پر ٹھوکروں کی طرح ملتی ہیں، میں آہوں، آنسوؤں، سسکیوں، چیخوں، دکھوں اور موت کی ہولناکیوں سے بھر پور فلمیں دیکھتا رہا ہوں اور ٹریجک کہانیاں بھی پڑھتا رہا ہوں مگر شائد زندگی کے ٹیڑھے میڑھے راستوں میں ٹھوکروں کی اس قدر ارزانی ہے کہ آدمی ان کا عادی ہو جاتا ہے بلکہ ہر قدم پرنئی ٹھوکر کے لئے ذہنی طور پر تیار رہتا ہے۔

          ویسے میں سمجھتا ہوں جب میں رو لیتا تھا اور میری ہڈیاں نہیں کھرتی تھیں۔ا س وقت میرا دل ایک بہتا ہوا دریا تھا گندا جوہڑ نہیں تھا۔ جذبات و محسوسات کی مچھلیوں کا دم نہیں گھٹتا تھا۔ اور وہ بدبو نہیں پھیلاتی تھیں، تڑپتی مچلتی اور تیرتی ہوئی سیدھی نکل جاتی تھیں۔ مگر اب میرے اندر کے جوہڑ میں نہ جانے کیا کیا کچھ گل سڑ چکا ہے کہ بعض اوقات مجھے خوشبو اور خوشبو اور بدبو  میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

          جب میں رو لیتا تھا میری سوچیں سیدھی سادی نرمل اور پاک صاف تھیں دوسروں کے بارے میں اچھی اچھی اور میٹھی میٹھی باتیں سوچتا تھا۔ ہر بات دل سے اٹھتی تھی۔ اور سچ ہوتی تھی، شائد اسی لئے سیدھی دل میں اتر جاتی تھی۔ میں نے جس لڑکی سے پہلے پہل اظہار محبت کیا تھا مجھے اس سے سچ مچ محبت تھی میں اسے جو کچھ کہتا تھا سب سچ ہوتا تھا مجھے اس کی آنکھیں اچھی لگتی تھیں۔ اور میں صرف اس کی آنکھوں کی تعریف کرتا اور انہی کر بارے میں سوچتا تھا۔ مگر اب کسی شاعر لڑکی کا جسم اچھا لگے تو اس کی غزل کے مجموعی تاثر کی تعریف کرتا ہوں اور افسانہ نگار خاتون اچھی لگیں تو بات افسانے کے عنوان کی تعریف سے شروع ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہ سب کچھ محض اس لئے ہے کہ مجھے روئے ہوئے بارہ تیرہ برس ہو گئے ہیں اور میرے اندر معصومیت اور سادگی کا قحط پڑ گیا ہے۔ ورنہ میں پہلے کبھی ایسا نہ تھا میرا اندر بے حد اجلا اور سفید تھا مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میرے اندر کی دیواریں کالک سے نا آشنا تھیں، میں ایک ایسے لڑکے کے لئے دھاڑیں مار مار کر رویا تھا جس نے بس کے نیچے آ کر کچلے جانے سے دو ایک روز پہلے مجھے ربڑ کی ایک گیند کی وجہ سے تختی  سے پیٹا تھا مگر پھر بھی میں اس کے مرنے پر بہت رویا تھا اور مجھے یوں لگتا تھا جیسے وہ میری بد دعا سے مر گیا ہو میں اس کی قبر پر نئی گیند خرید کر لے گیا تھا اور ہچکیاں لے لے کر کہا تھا۔ ’’گلو یار تم تو سچ مچ روٹھ گئے یہ لو نئی گیند اور واپس آ جاؤ خدا کی قسم اب کبھی تمہیں بد دعا نہیں دونگا۔‘‘

          ویسے ہی تو اب کبھی کسی دوست یا دشمن کی موت مجھے اداس کر دیتی ہے (ہاں ابھی کر دیتی ہے) میں آہیں بھی بھرتا ہوں ہمدردی بھی محسوس کرتا ہوں اور مرنے والے کے لواحقین پر ترس بھی آتا ہے۔ لیکن آنکھ میں آنسو نہیں آتا۔ اور اس نہ رو سکنے کی وجہ سے آہستہ آہستہ میرے اندر کے جوہڑ میں مری ہوئی مچھلیوں کی بو اور زیادہ پھیلتی جا رہی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ میر ی کوکھ میں کوئی مکروہ سی چیز لے رہی ہے اس لئے میں رونا چاہتا ہوں تاکہ اس مکروہ چیز کا پیدا ہوتے ہی گلا دبا دوں۔

          اپنی کوکھ میں کسی مکروہ چیز کے بارے میں مجھے اس وقت پتہ چلا جب پڑوسی کا مسروقہ ریڈیو چھ ماہ بعد اچانک مل گیا پولیس نے یہ ریڈیو کسی عادی چور سے برآمد کیا تھا مجھے اپنے پڑوسی کا ریڈیو مل جانے کی خوشی مجھے نہ جانے کیوں پھیکی پھیکی اور بد مزہ سی معلوم ہوئی میں نے اپنے پڑوسی کو مبارک باد بھی دی اور وہ میرے گہرے خلوص و ہمدردی کے جذبات سے متاثر بھی ہوا مگر کوئی انجانی بیزاری میرے وجود کے چاروں طرف مکھی کی طرح بھنبھناتی رہی جب میں نے اس بیزاری اور بدمزگی کا تجزیہ کیا تو مجھے یقین نہ آیا کہ میں اس قدر کمینہ بھی ہو سکتا ہوں اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ ریڈیو گم ہو جانے کے بعد پڑوسی نے ریڈیو کا ایریل مجھے دے دیا تھا۔

          اس سے بڑھ کر کمینگی کا ثبوت میں نے اس وقت دیا جب نور علی کا جنازہ پڑھا جا رہا تھا۔ نور علی کے چھوٹے چھوٹے بچے تھے جو ان بیوی اور بوڑھے والدین تھے۔ وہ میرا ساتھی اور دوست بھی تھا میرے ساتھ اس کے تعلقات اور مراسم بھی اچھے تھے ہم اکٹھے شطرنج کھیلتے اور سیر کو جاتے تھے۔ دفتر میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے تھے اس کی موت دماغ کی رگ پھٹ جانے سے اچانک ہو گئی تھی۔ میں اس کا قریبی دوست تھا اس لئے سب سے پہلے مجھے اطلاع دی گئی مجھے اس کی موت کا بے حد صدمہ ہوا۔ اس کے بچوں کی چیخیں میرا دل چیر گئیں۔ اس کی بیوہ کے بین میرا کلیجہ چھلنی کر گیا اور اس کے بوڑھے والدین کی دھاڑیں سن کر میرا جسم لرزنے لگا مگر مجھے رونا نہ آیا۔ رونے کی فرصت بھی نہیں تھی۔ میں بھاگ دوڑ کر رہا تھا۔ دفتر کے دوسرے لوگوں کو اطلاع دی، قبر کھودنے، نہلانے اور جنازہ پڑھنے کا انتظام کیا، اس کے رشتہ داروں کو ٹیلی فون کئے، تار دئیے، اس کے بال بچوں کو تشفی دی آنے جانے والوں کے لئے اٹھنے بیٹھنے کا انتظام کیا۔ جب جنازہ گھر سے روانہ ہوا۔ بڑا تڑپانے اور رلانے والا منظر تھا۔ مجھے رونے کی فرصت بھی تھی۔ اس سے بہت اور موقع کیا ہو سکتا تھا کاش میری آنکھوں میں ایک آدھ آنسو ہی آ جاتا مگر کیسے آتا میری روح پر تو تالا پڑا تھا۔ میرے اندر کی دیواروں کی سفید کالک سے سیاہ ہو چکی تھی گندے جوہڑ میں مردہ مچھلیوں کا ڈھیر لگ چکا تھا اور چاروں طرف بدبو پھیل چکی تھی۔

          جب نور علی کا جنازہ پڑھا جا رہا تھا تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھاتے ہوئے اچانک خوشبو کی لہر کی طرح ایک خوشگوار خیال میرے اور نور علی کی میت کے درمیان آ کر کھڑا ہو گیا کہ نور علی کے مرنے سے اب سنیارٹی لسٹ میں میرا چوتھے سے تیسرا نمبر ہو جائے گا۔ اور اس طرح شائد اب مجھے تین سالوں کی بجائے دو سالوں میں ترقی مل جائے۔

          حیرت کی بات یہ ہے کہ میں اس سے پہلے دیانت داری کے سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ امتحان پاس کر چکا ہوں۔ ایک مرتبہ دکاندار سے پانچ روپے کا سودا سلف خرید کر میں نے اسے دس روپے کا نوٹ دیا تو اس نے پچانوے روپے واپس کئے لیکن میں نے صاف دلی سے نوے روپے لوٹا دئیے۔

          ایک بار مجھے بغیر کسی خطرے اور اندیشے کے راتوں رات امیر ہو جانے کا موقع ملا لیکن نہ جانے کہاں سے میرے پیٹ میں قوم کا درد اٹھنے لگا اور یوں میں آزمائش پل صراط سے صحیح سالم گزر گیا۔

          میرا خیال ہے میں برا آدمی نہیں ہوں۔ صرف نہ رونے کی وجہ سے میرا دل روز بروز مٹھی کی طرح بھنچتا جا رہا ہے یا پھر باہر اس قدر سردی ہے کہ دن بدن میں اپنی کھال کے اندر سکڑتا جا رہا ہوں۔ ورنہ مجھے اپنے اکلوتے انعامی بانڈ پر انعام نہ نکلنے کی خوشی نہ ہوتی۔ جو خوشی مجھے صرف اس لئے ہوئی کہ میرے ماموں زاد بھائی کے انعام بھی نہیں نکلا تھا جس کے پاس ان گنت بانڈز تھے۔

          یوں لگتا ہے جیسے میرے ہر زخم پر لہو کی پہلی بوند کھرنڈ بن جاتی ہے۔ غلیظ خون بہہ نہ سکے تو بدبو پیدا ہو جاتی ہے مگر نہیں۔۔۔!

          خون بہتا رہے خواہ وہ گندا اور غلیظ ہی کیوں نہ ہو تو جسم کی ساری تپش اور حرارت ختم ہو جاتی ہے۔ جیسے ماں کے مرنے کے بعد غلام محمد کا جسم سن ہو گیا ہے، روح یخ بستہ ہو گئی ہے۔ اور وہ برف کے تودے کی طرح کھلکھلاتا نظر آتا ہے۔

          اس کی ماں بوڑھی اور ضعیف تھی۔ اکیلی دوسرے شہر میں رہتی تھی وہ اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتا تھا۔ کیونکہ اس کی بیوی اور اس کی ماں میں ساس بہو کا رشتہ تھا ساس اور بہو کا بیر ہماری قدیم روایت ہے۔

          روایتوں کے کپڑے خواہ وہ تار تار ہو جائیں یا ساری دنیا انہیں پہن کر اتار چکی ہو ہم ان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ غلام محمد کی ماں اس کے پاس آ کر اور زیادہ بیمار ہو جاتی تھی۔ اس لئے وہ بیماری اور ضعیفی کے باوجود علیحدہ رہنے کو بہتر سمجھتی تھی۔ غلام محمد اس کی بیمار پرسی اور خبر گیری کے لئے اکثر جانا پڑتا تھا۔ بار بار دفتر سے چھٹی لینی پڑتی تھی۔ دوائیوں اور کرایوں پر تنخواہ کا ایک بڑا حصہ اٹھ جاتا تھا پھر بھی وہ ایک فرمانبردار اور ہونہار بیٹے کی طرح ماں کی خدمت کر رہا تھا۔ مگر پھر ماں اس دنیا سے (جہاں ڈاکٹروں کی فیسیں بھاری ہیں جہاں ہسپتالوں میں سفارش سے داخلہ ملتا ہے اور جہان دوائیوں کے اخراجات سے مر جانا کہیں زیادہ سہل اور سستا ہوتا ہے) ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئی۔ غلام محمد دھاڑیں مار مار کر رویا۔ اس قدر رویا کہ اس کا اندر خالی ہو گیا، لہو نچڑ گیا اور جسم سرد ہو گیا۔ جب وہ ماں کو کفنانے اور دفنانے کے بعد لوٹا تو میں۔۔۔ جو کھرنڈ کھرچ کھرچ کر عاجز آ گیا تھا۔ اس کے پاس اظہار افسوس کے لئے گیا اور مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ غلام محمد کا دل رو رو کر بالکل بنجر ہو گیا ہے اور اس کی کوکھ بھی خالی ہے، یا شائد اپنے اندر کی کالک کی وجہ سے مجھے ہر چیز سیاہ اور مٹیالی نظر آتی ہے۔ غلام محمد ماں کے ہمیشہ کے لئے بچھڑ جانے کی اندوہناک باتیں لہک لہک کر کر رہا تھا۔ اس کے الفاظ پر زور تھے مگر لہجے میں برف کی سی ٹھنڈک تھی یا شائد مردہ مچھلیوں کی بو کی وجہ سے میں خوشبو اور بدبو میں تمیز نہیں کر سکتا کیوں کہ مجھے روئے ہوئے کم از کم بارہ تیرہ برس ہو گئے ہیں۔

٭٭٭