کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

کاشی

منشا یاد


اس کا نام کاشی ہے اور وہ میرا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔

یوں تو ہر باپ اپنی اولاد سے محبت کرتا ہے مگر میں کاشی سے بہت محبت کرتا ہوں۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ایک تو یہی کہ ڈھلتی عمر کی اولاد ویسے ہی زیادہ عزیز ہوتی ہے شاید آدمی اس کے مستقبل کی متوقع خوشیاں نہ دیکھ سکنے کے خوف میں مبتلا ہوتا ہے۔ دوسری یہ کہ عمر کے اس دور میں پہنچنے تک آدمی ریاکاریوں، منافقتوں اور مکاریوں کے اتنے خار زار عبور کر چکا ہوتا ہے کہ چلتے چلتے پاؤں کے نیچے جب کبھی معصومیت کی نرم نرم اور ہری بھری گھاس آ جاتی ہے تو اسے عجیب میٹھی میٹھی گدگدی کا احساس ہوتا ہے۔

مجھے یاد ہے اوائل عمری میں جب دل میں خود رو پودے اگتے اور ان میں جذبوں کے شگوفے پھوٹتے تھے تو میں کسی کے بارے میں کوئی اندوہناک خبر سن کر اس قدر ملول ہو جاتا تھا کہ بھوک مر جاتی اور نیند اڑ جاتی تھی مگر پھر جب اندر اگنے والے خوشنما اور نازک پودے بڑھ کر تن اور درخت بن گئے تو آہستہ آہستہ میرا سارا اندر کاٹھ کا ہو گیا۔ لطیف جذبوں کے پرندے بہت کم ادھر کا رخ کرتے اور اگر کبھی کرتے تو تھوڑی دیر کے لئے کسی ڈال پر بیٹھ کر چہچہاتے مگر پھر کرخت سوچوں کا کلہاڑا چلنے کی آواز سن کر فوراً ہی اڑ جاتے۔ اب مجھے اپنی عمر کے ہر آدمی کی طرح ہر بات میں مکاری، عیاری اور جھوٹ کی ملاوٹ نظر آنے لگی ہے شاید اس لئے کہ میں نے ہر جگہ یہی کچھ دیکھا اور برتا۔ اگر کہیں کسی بات میں مکاری نہ بھی ہو تو میرا ذہن اپنے پاس سے اس کی آمیزش کر لیتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ افسانہ یا ناول پڑھتے اور ڈرامہ یا فلم دیکھتے ہوئے میں ہیرو یا ہیروئن کی ٹریجڈی پر بے اختیار رو پڑتا تھا مگر اب ہیروئن زہر پھانکتی یا ہیرو پھانسی چڑھتا ہے تو مزے سے آئس کریم کھاتا اور کوک پیتا رہتا ہوں۔ ایسا لگتا ہے جیسے میرے اندر جذبوں اور احساسات کے دریاؤں کی ساری مچھلیاں خود غرضی کے اود بلاؤں نے مار کر کھا لی ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ ناول یا فلم میں کسی بچے کی ماں مر جاتی تھی تو اپنی ماں کی موت پر روکا ہوا بے شمار رونا میرے دامن ضبط کو تار تار کر دیتا تھا مگر اب ہیرو کی ماں مر جاتی ہے تو میری خبیث آنکھ اس ٹوہ میں ہوتی ہے کہ مرنے کی اداکاری کرنے والی اداکارہ کی بھنووں یا ہونٹوں میں کسی قسم کی جنبش تو نہیں ہو رہی ؟ لطیفوں اور ایسی باتوں پر جن کو سن کر کبھی ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑ جاتے تھے، اب میں ناک بھوں چڑھاتا ہوں۔ مجھے ان سے عمومیت،بازاری پن اور اوور ایکٹنگ کی بو آتی ہے۔ اخبارات میں آئے دن اندوہناک وارداتوں، مظالم اور انسانی بربریت کے واقعات پڑھتا رہتا ہوں اور لمحہ بھر کے لئے ناگواری کا احساس مجھے بدمزہ بھی کر دیتا ہے مگر پھر سب کچھ اندر کے سؤر کے پیچھے بھونکتے کتوں کے شور میں دب جاتا ہے۔

پتہ نہیں کیوں جیسے جیسے ہماری عمریں کم ہوتی جاتی ہیں ہم زیادہ خود غرض اور بے رحم ہو جاتے ہیں ہم ایسی چیزوں، لوگوں، حتیٰ کہ قریبی عزیزوں سے بھی کوئی سروکار نہیں رکھنا چاہتے جن سے ہمیں جلد یا بدیر کسی مالی منفعت کی توقع یا نقصان کا احتمال نہ ہو۔ پچھلے برس ہمارے پڑوس میں ایک ایسا ہی خاندان آ کر آباد ہوا۔ محلے میں کوئی مرے یا جئے ان کی بلا سے ۔۔ دوسرے لوگوں کی طرح ہم نے بھی انہیں شادی غمی کی ہر تقریب میں بلایا مگر انہوں نے معذرت کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی۔ کاشی کبھی کھیلتا ہوا ان کے گھر چلا جاتا تو وہ اس ڈر سے کہ ان کی چیزیں الٹ پلٹ نہ دے نہایت رکھائی سے اسے باہر نکال کر دروازہ بند کر لیتے۔۔ مگر جب سے ہمارے ہاں ٹیلیفون لگا ہے اور ان لوگوں کی لوکل اور ٹرنک کالیں آنے جانے لگی ہیں ان لوگوں کا رویہ ہمارے ساتھ بالکل اپنوں جیسا ہو گیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ٹیلیفون کے تار ان کے دلوں کے گرڈ سے ہوتے ہوئے ہم تک پہنچتے ہیں۔ اب ہمارے ہاں ذرا سا کوئی بیمار پڑ جائے تو ان کے دلوں میں محبت اور بھائی چارے کی گھنٹیاں بجنے لگتی ہیں۔ کاشی کے لئے اکثر کھلونوں، مٹھائیوں اور پھلوں کے تحفے آتے رہتے ہیں اور اگر وہ کسی روز ان کے گھر کھیلنے نہ جائے تو اس کی آنٹی کو اپنا گھر اور آنگن سونا لگنے لگتا ہے۔

کاشی سے میرے بے پناہ محبت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے فنا کا خوف جو میرے ذہن اور روح سے ہر لمحے چمٹا رہتا تھا وہ بہت حد تک دور ہو گیا ہے اب مجھے احساس ہو تا ہے کہ میں اپنے بعد کاشی اور کاشی کے کاشی کی صورت میں زندہ رہوں گا۔ دئیے سے دیا جلتا رہتا ہے۔جلتا چلا جاتا ہے۔انسان اتنا فانی بھی نہیں ہے۔

کاشی میرا مستقبل بھی ہے جو ہمیشہ خوش آئندہ ہوتا ہے اور ماضی بھی۔ اس کی شکل و صورت اور بہت سی عادتیں مجھ سے ملتی جلتی ہیں اور میں اس کی شکل و صورت میں اپنے بچپن کو بالغ نظروں سے دیکھتا اور خوش ہوتا ہوں۔ میں اسے وہ سارے کھیل کھیلتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہوں جو میرے کھیلنے سے رہ گئے تھے۔ میں اسے وہ ساری محبتیں دینا چاہتا ہوں جن سے میں بچپن اور زندگی میں محروم رہا اور میں اسے وہ ساری چیزیں کھلانا چاہتا ہوں جن کے لئے میں ترستا رہا۔ میرا جی چاہتا ہے اسے ہر وقت وہ آم چوستے ہوئے دیکھتا رہوں جو بچپن میں ایک بار سوتیلی ماں نے میرے ہاتھ سے چھین کر خود کھا لیا تھا۔

کاشی نے جب سے بولنا اور چلنا پھرنا سیکھا ہے میں فارغ اوقات میں اسے اکثر اپنے ساتھ رکھتا ہوں دوستوں کی بے وفائیوں اور رشتہ داروں کے حاسدانہ رویوں سے اکتا کر میں نے اس کی محبت میں پناہ ڈھونڈھ لی ہے۔ ہم دونوں اکثر ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے اور بازاروں، باغوں اور پارکوں میں اکٹھے گھومتے ہیں میں اس کے ساتھ ہم عمر دوست کا سا سلوک کرتا ہوں اور اس کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں اور کھیلوں میں پوری دلچسپی لیتا ہوں۔ اگر وہ تتلی پکڑنے میں ناکام ہو جاتا ہے تو میں تتلی پکڑ کر اس پر اپنے بڑے ہونے کا رعب نہیں جماتا، تتلی نہ پکڑ سکنے کی اداکاری کر کے اس کی انا کو تسکین پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں۔ لیکن اب وہ پہلے کی نسبت کافی سمجھدار ہو گیا ہے ورنہ پچھلے سال جب وہ میرے ساتھ بازار جاتا تھا۔ تو میری آنکھ بچا کر مٹھائی یا ٹافیوں کی کسی دکان میں گھس جاتا اور دکاندار سے کہتا۔

’’یہ دے دو۔‘‘

مگر اب اسے پتہ چل گیا ہے کہ یہ چیزیں ایسے نہیں مل جاتیں ان کے لئے پیسے دینا پڑتے ہیں۔ آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں پیسے اور سکے کی اہمیت واضح ہوتی جا رہی ہے مگر ابھی اسے حساب کتاب کا شعور نہیں ہے نہ اسے یہ معلوم ہے کہ پیسے کہاں سے اور کیسے آتے ہیں۔ اس کا خیال ہے کہ ہر چیز کی قیمت ایک چونی ہوتی ہے۔ ایک روز جوتوں کی دکان کے سامنے سے گزرتے ہوئے کہنے لگا۔

’’مجھے نئے جوتے لے دیں۔‘‘

میں نے کہا۔ ’’پھر کبھی لے دوں گا۔‘‘

اس نے اصرار کیا اور کہا۔ ’’ابھی لے دیں نا۔‘‘

اس پر میں نے کہا۔ ’’بیٹے میرے پاس اس وقت پیسے نہیں ہیں۔‘‘

اس نے اپنی پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور چونی نکال کر کہنے لگا۔

’’میرے پاس ہیں۔‘‘

میں اس کی ایسی معصومانہ باتوں سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہوں لیکن یہ خیال مجھے فوراً ہی افسردہ کر دیتا ہے کہ اب وہ دن دور نہیں جب اسے گنتی یاد ہو جائے گی۔ چیزوں کی قیمتوں اور اپنی قوت خرید کا شعور حاصل ہو جائے گا اور ہندسوں اور اعداد کے چکر میں پڑ کر اس کے سارے سہانے خواب چور ہو جائیں گے۔

ہم سیر کے لئے نکلتے ہیں تو میں اس خیال سے کہ اس میں زندگی کی دشواریوں کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا ہو اس کے لئے نسبتاً مشکل راستوں کا انتخاب کرتا ہوں۔ اس میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیتا ہوں مگر وہ اس کا برا نہیں مانتا۔کیوں کہ اسے آسان اور مشکل راستوں کا فرق معلوم نہیں ہے۔ اس لئے اگر کبھی سیڑھیاں اونچی ہوں اور اس سے عبور نہ ہو سکتی ہوں تو وہ بیٹھ کر اور گھسٹ کر انہیں عبور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ٹوٹے ہوئے فٹ پاتھ سے بچ بچا کر گزر جاتا ہے۔ مگر بنانے والوں کی نیت اور کارکردگی پر شک کا اظہار نہیں کرتا۔ مین ہول کے ڈھکنے چوری کرنے والوں کو گالیاں نہیں دیتا اور کارپوریشن کے عملے کی نا اہلی کا شکوہ نہیں کرتا۔ میں سوچتا ہوں کاشی کتنے مزے میں ہے۔سارا آشوب تو آگہی کاہے۔حقیقت سے آگاہ ہو کر آدمی کتنا غیر مطمئن ہو پریشان ہو جاتا ہے۔ ذہنی طور پر نابالغ لوگ کتنی سادگی اور معصومیت سے استحصالی قوتوں اور صورت حال کا شکار رہتے ہیں مگر کتنے مطمئن اور قانع نظر آتے ہیں۔

کاشی کو ہر بچے کی طرح پرندے، جانور اور ان کی کہانیاں اچھی لگتی ہیں میں اسے تمام کہانیاں جو مجھے یاد تھیں سنا چکا ہوں لیکن اس کا تقاضا ہوتا ہے کہ میں ہر بار نئی کہانی سناؤں۔چنانچہ میں جانوروں اور پرندوں کی کہانیاں اپنے پاس سے گھڑ گھڑ کر سناتا رہتا ہوں۔ اس طرح میرا اپنا بھی کیتھارسس ہوتا رہتا ہے مثلاً میں نے پچھلے دنوں اسے طوطوں والی ایک کہانی سنائی اس کہانی میں ایک باغ کا ذکر تھا جس میں طرح طرح کے خوبصورت اور پھلدار درخت تھے مگر جب بھی بور آتا اور پھل لگتا، قریبی جنگل سے ہریل طوطوں کی ایک ڈار آ جاتی اور کچے اور ادھ پکے پھلوں کو کتر کتر کر نیچے پھینکنے لگتی۔ یوں ہر بار پھلوں کے پکنے سے پہلے سارے پیڑ ویران اور بے ثمر ہو جاتے۔

کاشی ابھی کم سن ہے اس لئے اسے کہانی سنانے میں بڑی آسانی رہتی ہے۔وہ سوال جواب نہیں کرتا اور ہر بات چپکے سے تسلیم کر لیتا ہے مثلاً طوطوں والی اس کہانی کو سن کر وہ یہ نہیں پوچھتا کہ باغ کے رکھوالے کہاں ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ اور اپنی غلیلوں سے ان کو مار یا بھگا کیوں نہیں دیتے۔

میں چونکہ کاشی سے محبت کرتا ہوں اس لئے اس کے بارے میں ہر وقت فکرمند رہتا ہوں۔ مجھے خوف لگا رہتا ہے کہ وہ ٹرائی سائیکل سے گر کر زخمی نہ ہو جائے، چاقو یا بلیڈ سے انگلی نہ کاٹ بیٹھے،چولہے کے قریب جانے پر اس کا ہاتھ یا پاؤں نہ جل جائے۔ کوئی سکہ نہ نگل لے یا کوئی دوسرا بچہ پتھر مار کر اس کی آنکھ نہ پھوڑ دے۔ رات کو وہ زکام کی وجہ سے زور زور سے خراٹے لیتا ہے تو میرا دل بیٹھنے لگتا ہے خدانخواستہ اسے خناق یا نمونیہ تو نہیں ہو گیا ؟بیمار پڑ جائے تو ڈاکٹر کے پاس لے جانے سے ہچکچاتا ہوں کہیں وہ کوئی مہلک یا خطرناک بیماری دریافت نہ کر لے۔

اس نے جب سے چلنا پھرنا سیکھا ہے۔ مجھے گلیوں اور محلوں میں سائیکلیں دوڑانے اور سکوٹر اور کاریں بھگانے والے کھٹکنے لگے ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر ہول آتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد جب وہ اسکول جانے لگا تو اسے سڑکیں پار کرتے ہوئے کتنی ہی موٹر سائیکلوں اور تیز رفتار گاڑیوں سے بچنا ہو گا اور اس کی سلامتی کیسے کیسے غفلت شعار اور رفتار کے نشے میں چور ڈرائیوروں کے رحم و کرم پر ہو گی۔

گلی محلے میں کوئی اجنبی شخص نظر آ جائے تو مجھے اس پر بردہ فروش ہونے کا گمان گزرتا ہے۔ ہم نے کاشی کو سخت تاکید کی ہوئی ہے کہ وہ گھر سے باہر کسی آدمی پر اعتبار نہ کرے اور کھلونا یا کھانے پینے کی چیز ہرگز قبول نہ کرے اور اس اندیشے کے پیش نظر کہ وہ گم ہو جائے یا کھو جائے تو اسے والدین کے نام اور گھر کا پتہ یاد ہو ہم نے باتوں باتوں میں یہ معلومات ذہن نشین کرا دی ہیں۔ ایک روز وہ گلی میں کھیل رہا تھا اس کی امی باورچی خانے سے نکل کر تھوڑی تھوڑی دیر بعد اسے ایک نظر دیکھ لیتی تھی کہ اچانک وہ بھاگتا ہوا اندر آیا۔ وہ بے حد گھبرایا ہوا تھا اور اس کا رنگ زرد ہو رہا تھا۔ اس کی امی نے پوچھا۔

’’کیا ہوا بیٹے؟‘‘

کہنے لگا۔ ’’امی ۔۔آدمی۔‘‘

اس کی امی نے بھاگ کر دروازہ بند کر لیا کیونکہ وہ آدمی اس کے پیچھے پیچھے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا مگر اسی لمحے باہر سے آواز سنائی دی۔

’’بیٹی میں اختر علی ہوں ۔۔ ادھر سے گزر رہا تھا کہ کاشی کو دیکھ کر رک گیا۔میں اسے پیار کرنا چاہتا تھا مگر وہ ڈر کر اندر بھاگ آیا۔آپ لوگوں نے آدمیوں سے اسے اس قدر خوفزدہ کیوں کر رکھا ہے؟‘‘

پچھلے دنوں سابقہ تلخ تجربوں کی بنیاد پر بیوی نے مجھے مشورہ دیا کہ کاشی کے نرسری کلاس میں داخلہ کی بروقت رجسٹریشن کروا لینی چاہیے تاکہ بعد میں دشواری نہ ہو۔ میں نظریاتی طور پر انگلش میڈیم تعلیم کے خلاف ہوں۔ اپنی قومی زبان سے محبت کرتا اور انگریزی زبان کی بالا دستی کے خلاف تقریریں کرتا رہتا ہوں۔ لیکن کاشی کے لئے میں نے انگلش میڈیم سکول میں داخلے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ مجھے اس سے محبت ہے اور میں اسے اپنی طرح ناکامیوں اور احساس کمتری کا شکار ہوتے نہیں دیکھنا چاہتا۔ میں نے نرسری کلاس میں اس کے داخلہ کے بارے میں جو معلومات حاصل کیں ان سے پتہ چلا کہ اس کے لئے اسے جنوری اور جون کے درمیان کسی وقت پیدا ہونا چاہیے تھا جب کہ وہ چودہ اگست کو پیدا ہو گیا تھا۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ ایک جھوٹا برتھ سرٹیفیکیٹ بنوایا جائے اور اس کی تعلیم و تربیت کا آغاز اور بنیاد ہی جھوٹ پر استوار ہو۔ میں ہر تعلیم یافتہ شخص کی طرح جھوٹ کو ناپسند کرتا ہوں مگر کیا کیا جائے مجھے کاشی کا مستقبل بہت عزیز ہے۔ویسے بھی جہاں تک سرٹیفیکیٹ کا تعلق ہے میں اسے معمول کا ایک حصہ خیال کرتا ہوں۔دفتری امور میں ہر بات پر سرٹیفیکیٹ اور بیان حلفی مانگا جاتا ہے اگر ہم سچ اور جھوٹ کے چکر میں پڑے رہیں تو دفتری امور تو ایک طرف تنخواہ، اوور ٹائم، اور ٹی اے ڈی اے کچھ بھی وصول نہ ہو مثلاً مجھے تین سو روپے ماہوار سواری الاؤنس یہ سرٹیفیکیٹ دینے پر ملتا ہے کہ میں نے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لئے کم از کم تین سو میل سفر کیا ہے اگر میں نے یہ سفر دو سو ننانوے میل کیا ہو اور سچ بولتے ہوئے اس کا اندراج بھی اسی طرح کر دوں تو مجھے ایک پیسہ تک نہیں مل سکتا۔ اب کون اتنا احمق ہو گا جو اتنا بے ضرر سا جھوٹ نہ بول کر مہنگائی کے اس زمانے میں پورے تین سو روپے کا نقصان کر بیٹھے۔ سچی بات یہ ہے کہ غیر فطری قوانین اور ضابطے بنا کر بد دیانتوں اور مجرموں کی ایک پوری نسل پیدا کی جا سکتی ہے۔ آپ بے شک مستطیل یا مربع کے اضلاع پر سڑکیں اور فٹ پاتھ بنوا دیں مگر جیومیٹری اور ریاضی سے نابلد شخص بھی وتر کے مقام پر شارٹ کٹ خود تلاش کر لیتا ہے۔

میں نے کاشی کے کیرئیر کے بارے میں بھی سوچا ہے اگرچہ میرا جی یہی چاہتا ہے کہ اسے ایسی تعلیم دلاؤں اور اس کے لئے ایسے مضامین کا انتخاب کروں جو اسے بہتر انسان بننے میں مدد دیں مگر میں نے اپنے مشاہدات کی روشنی میں فیصلہ کیا ہے کہ میں اسے ایسی تعلیم دلاؤں گا کہ وہ کچھ اور بنے یا نہ بنے معاشی اور اقتصادی طور پر بہرحال آسودہ حال انسان ہو۔

کاشی کی وجہ سے گھر کا ماحول ہی نہیں بدلا، میرا مزاج اور بہت سی عادتیں بھی تبدیل ہو گئی ہیں میں رات کو اکثر دیر سے گھر آنے کا عادی تھا مگر اب زیادہ تر وقت گھر پر گزارتا ہوں گھر کے دوسرے افراد کی طرح میری یہی کوشش ہوتی ہے کہ کاشی کو خوش رکھا جائے اور اس کے سامنے چیخ یا چلا کر بات نہ کی جائے۔ گالی نہ بکی جائے۔ الزام تراشیاں نہ کی جائیں، جھوٹ نہ بولا جائے۔ بات بے بات سرزنش کر کے اس کی انا اور تشخص کو مجروح نہ کیا جائے اور اس پر بلاوجہ پابندیاں لگا کر اس کے دل میں نفرت کا بیج نہ بویا جائے۔۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کاشی نے میری ہمت اور حوصلے کو پست کر دیا ہے۔ اس سے پہلے اگر میرا نا اہل اور بدمزاج باس بلاوجہ مجھ پر بگڑتا یا میرے ساتھ نا انصافی کرتا تھا تو میں اس کے منہ پر فائل مار دینے کا حوصلہ رکھتا تھا مگر اب بہت کچھ سن اور سہہ لیتا ہوں۔ پہلے اگر میں جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے کو جہاد سمجھتا تھا تو اب خاموش رہنے کو جہاد سمجھتا ہوں۔ میں نے مصالحت اور مصلحت پسندی کو اپنا شعار بنا لیا ہے اور اپنے بہت سے نظریات میں لچک پید کر لی ہے اور یہ سب کچھ میں نے کاشی کی وجہ سے کیا ہے۔ میرا خیال ہے میں اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دے سکتا ہوں۔ اگر اس کے گلے پر چھری رکھ کر مجھے کسی ناکردہ گناہ کا اعتراف کرنے پر مجبور کیا جائے تو میں اس کے گلے پر چھری نہیں چلنے دوں گا۔

کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ وہ لوگ کتنے عظیم اور غیر معمولی انسان تھے جو اپنے بیٹوں کو حق کی راہ میں قربان کر دینے کا جذبہ اور حوصلہ رکھتے تھے۔ میں نے خود سے کئی بار سوال کیا ہے کہ کیا میں ایسا کر سکتا ہوں مگر مجھے بڑے سے بڑے آدرش کے لئے بھی اپنی طرف سے خاموشی کے سوا کوئی جواب نہیں ملا۔ ایسا لگتا ہے جیسے کاشی سے بڑھ کر میرا کوئی آدرش نہیں ہے۔مجھے اپنی اس خود غرضی اور بزدلی پر ندامت ہے۔مجھے اپنے جرم کا احساس ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ میں اکیلا نہیں، اپنے اپنے کاشی سے محبت کرنے والے بہت سے اور لوگ بھی اسی جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اسی کی سزا پا رہے ہیں۔

٭٭٭