کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خلا اندر خلا

منشا یاد


اس کے سمانے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے چھوٹے پرزوں پر بڑی باتیں لکھی پڑی ہیں۔ جونہی شیشے کی دیوار کے اس پار بیٹھا ہوا شخص اشارہ کرتا ہے وہ بولنا شروع کر دیتا ہے۔مگر آج سے اپنی آواز بدلی بدلی معلوم ہوتی ہے۔ شاید بھی اس کا وہم ہو۔ مگر اگلے ہی لمحے اس کی آواز تبدیل ہو جاتی ہے۔ جیسے اس کے اندر کوئی اور بول رہا ہو۔ وہ چپ ہو جانا چاہتا ہے مگر سمانے بیٹھا ہوا شخص اسے بات جاری رکھنے کا اشارہ کرتا ہے۔ بولتے بولتے اسے لگتا ہے کہ جیسے اس کی آواز مدھم ہونے گی ہے اور آہستہ آہستہ سرگوشی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ وہ  معذرت کر کے گلا صاف کرتا اور اپنے اندر سے آواز کا سوت کھینچ نکالنے کے لئے زور لگاتا ہے مگر شاید اس کے اندر آواز کے سوت کا سارا گچھا ختم ہو گیا ہے۔ اس کی آواز مسلسل ڈوبتی چلی جاتی ہے۔ پھر اچانک اسے لگتا ہے کہ جیسے وہ چپ ہو گیا ہو۔ حالانکہ اس نے ایسی کوئی کوشش نہیں اور نہ کر سکتا ہے۔ اگر کر سکتا تو وہ گھر سے سیدھا یہاں نہ آتا۔ کسی اور طرف کو نکل جاتا۔ کسی بِل رہے ہیں۔ وہ پریشان ہو کر شیشے کی دیوار کے اس پار بیٹھے ہوئے شخص کو معذرت طلب نظروں سے دیکھتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ اس شخص کے ماتھے پر شکنیں اُبھر آئی ہوں۔ گی وہ سٹپٹا کر کھڑا ہو جائے گا اور ابھی ابھی چند لمحوں میں ہر طرف اُودھم مچ جائے گا۔ مگر یہ دیکھ کر اے بے حد مسرت ہوتی ہے کہ سامنے والا شخص نہایت پر سکون اور مطمئن ہے۔ بالکل اس کی بیوی کی طرح جو صبح ہی صبح اسے شرمندہ کر کے باورچی خانے میں جا کر روٹیاں پکانے لگی تھی۔ پتہ نہیں آج کیسی صبح طلوع ہوئی تھی کہ ہر چیز کا رنگ بدلا ہوا تھا۔ رنگ بدلا ہوا نہ ہوتا تو صبح ہی صبح اُسے خفت نہ اٹھانا پڑتی۔ اس نے منڈیر پر بیٹھے ہوئے کبوتر کو دیکھ کر یوں ہی کہہ دیا تھا۔

          ’’واہ کیا صحت مند کبوتر ہے۔‘‘

          ’’وہ اچھا تو اب آپ کو کوے بھی کبوتر نظر آنے لگے ہیں۔‘‘

          ’’کوا۔۔۔ ارے بھئی وہ تو کالا ہوتا ہے‘‘

          ’’یہ کوا ہی ہے‘‘ اس نے زہر خند سے جواب دیا۔

          ’’ اور کالا بھی ہے آپ اب عینک لگوا لیجئے۔‘‘

          اس نے اس کوے کو جو اسے سفید کبوتر نظر آتا تھا بار بار غور سے دیکھا۔ اس کی شکل و صورت واقعی کوے جیسی تھی۔ مگر اس کا رنگ اسے بالکل سفید نظر آتا تھا۔ کچھ دیر بیوی سے اُلجھ کر اس ے سوچا آخر سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کوا سفید ہے یا سیاہ۔ کیا یہی غنیمت نہیں ہے کہ وہ اور اس کی بیوی کم از کم اس بات پر تو متفق ہیں کہ وہ کوا ہے اور سامنے منڈیر پر موجود ہے۔ وہ غسلخانے کی طرف جا رہا تھا کہ بلیوں کے لڑنے اور غرانے کی خوفناک آوازیں سنائی دیں۔ اس نے بڑی لڑکی سے پوچھا

          ’’یہ بلیاں کہاں لڑ رہی ہیں ؟‘‘

          ’’لڑکی کی بجائے پھر اس کی بیوی نے جواب دیا‘‘

          ’’ثمینہ بیٹی بند کر دے۔حد ہو گئی ہے۔‘‘

          اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔مگر بلیوں کے لڑنے اور غرانے کی آوازیں بند ہو گئیں۔ وہ غسل خانے میں آ کر شیو بنانے لگا۔ شیو بناتے بناتے اس نے آئینے میں اپنے بالوں کی دیکھ اور دم بخود رہ گیا۔ ایک ہی رات میں اس کے سر کے بال سفید ہو گئے تھے مگر کیس؟ کیا رات اتنی طویل تھی یا عجیب طرح کی صبح طلوع ہوئی تھی۔ جس میں چیزوں کے رنگ اور ذائقے بدل گئے تھے اس نے چاہا بیوی کو آواز دے مگر اسے کوے والی تکرار یاد آ گئی پھر اسے یاد آیا کہ ایک بار وہ اسے ایک خوبصورت باغ میں لے گیا تھا اور جب اس نے پولوں اور مخملی سبزے کی طرف اشارہ کر کے اس کی تعریف کی تھی تو وہ پریشان ہو کر کہنے لگی تھی۔

          ’’اس لق و دق صحرا اور ویرانے کو تم باغ کہتے ہو، یہ خاردار جھاڑیاں اور جگہ بلوں سے جھانکتے ہوئے سانڈے اونہہ۔‘‘

          پھر ایک دفعہ وہ اس کے ہمراہ راستہ بھول کر ویرانے میں پھنس گیا تو اس کی تشفی کے لئے اس نے کہا۔ ہم جلد ہی یہ صحرا عبور کر  لیں گے تو وہ تنک کر بولی۔

          ’’تم اس سبزہ زار کو صحرا کہتے ہو؟‘‘

          بیوی سے ایسی ہی باتوں کی وجہ سے اس کی تکرار ہوتی رہتی تھی مگر وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے اور ایک دوسرے کے  لئے قربانیاں دیتے آئے تھے۔ اس نے سوچا رنگوں کے چکر میں پڑ کر گھر کی فضا کو مکدر نہیں کرنا چاہئے۔

          ناشتہ کر کے وہ جلدی جلدی گھر سے باہر آیا۔ گھر سے باہر ساری چیزیں اجنبی اور غیر مانوس لگ رہی تھی۔ اسے سارے رنگ پھیکے دکھائی دے رہے تھے۔سفیدی ہر چیز پر غالب تھی۔ اسے خیال آیا مسلسل اور شدید بارشوں کی وجہ سے چیزوں کے رنگ اُڑ گئے ہوں گے۔

          گلی میں گھٹنوں گھٹنوں پانی کھڑآ تھا۔ کئی روز سے قیامت خیز بارش ہوتی رہی تھی اور آج کئی دنوں کے بعد مطلع ذرا صاف ہوا تھا۔اس نے دیکھا گھر کے باہر ہر طرف کوڑا کرکٹ جمع تھا اور نالیاں غلاظت اور کیچڑ سے بھری ہوئی تھیں۔ گٹروں سے گندا اور بدبو دار پانی اُبل رہا تھا۔ اس نے بدبو سے بچنے کیلئے ناک پر رومال رکھ لیا اور پتلون کے پائنچے اُوپر کر کے گلی کی دلدل عبور کرنے لگا۔

          آہستہ آہستہ اس کے ذہن صاف ہونے لگا۔ اسے بھولی ہوئی باتیں اور چیزیں یاد آنے لگیں۔ اُسے یاد آیا کہ کس طرح بستی کے لوگ بارش کی دعائیں مانگتے تھے۔وہ سخت گرمی اور لُو سے پریشان تھے۔ اس بات نہایت سخت گرمی پڑی تھی۔ لگتا تھا سورج سوا نیزے پر آ یا ہے۔ دن بھر آگ برستی۔ دھوپ کے شعلے سڑکوں، گلیوں، بازاروں، کھیتوں اور گھروں کی چھتوں پر ناچتے۔ رات دیر تک گرم ہَوا چلتی رہتی۔ پہاڑوں اور جنگلوں میں چشموں کے ابلنے اور ہریالی کے لہرانے کی بجائے آگ دہکتی۔ ائیرکنڈیشنڈ کمروں اور سوئمنگ پولوں کے علاوہ ساری زندگی جھلس کر رہ گئی تھی اور لوگ گرمی، لُو اور خشک سالی کے خوف سے گھبرا کر بانگیں دینے لگے تھے۔

          اُسے یاد آیا کہ ایک شکر دوپہر کی سیاہ بادل گھر آئے اور قبل از وقت سام کا اندھیرا ہر طرف پھیل گیا اور اس قدر بارش ہوئی کہ جل تھل ایک ہو گیا۔ گلیاں اور سڑکیں ندی نالے بن گئیں۔ ندی نالے چنگھاڑنے اور دریا بپھرنے لگے۔ بستیوں اور ویرانوں پر بجلی کڑکتی، چمکتی اور کوندتی رہی۔ کچے مکان ڈھے گئے۔ پکے مکان ٹپکنے لگے۔ مویشی اور انسان پانی کے تندریلوں میں بہہ گئے۔ کھیت اور فصلیں برباد ہو گئیں۔ زمین کے اندر بلوں اور سوراخوں میں چھپی ہوئی آفات باہر نکل آئیں اور زمین کے سینے پر رینگنے لگیں۔بہت سی جگہوں پر بند ٹوٹ گئے۔ بستیاں مٹ گئیں، لوگ بے گھر ہو گئے۔ طرح طرح کی وبائیں پھوٹ نکلیں اور بہت سا اناج پانی میں بہہ گیا۔ پھر جیسے صدیوں بعد مطلع صاف ہوا اور صبح طلوع ہوئی مگر یہ کیسی عجیب صبح تھی کہ چیزوں کے رنگ بدل گئے تھے یا کم از کم اسے ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا۔

          اسے یاد آیا۔ آتی بار بس سٹاپ ر ناآشنا چہروں کے ہجوم نے اسے آج بھی حسبِ معمول عقیدت اور محبت کی نظروں سے دیکھا تھا۔ وہ ان نظروں اور چہروں پر لکھے ہوئے خوشگوار جذبات سے آشنا تھا۔ مگر آج وہ ان نظروں سے چھپ جانا چاہتا تھا۔اسے لگ رہا تھا۔ جیسے وہ۔ وہ نہ ہو۔ اس نے اپنا روپ دھار رکھا ہو۔۔۔!

          اس نے چاہا جانے کا  ارادہ ترک کر دے۔ کسی اور طرف کو نکل جائے۔ مگر پھر اسے بیوی بچے اور گھر یاد آیا اور چیزوں کی وہ فہرست بھی جو باغ کو ویرانہ، صحرا کو سبزہ زار اور کبوتر کو کوا سمجھنے والی بیوی نے اس کی جیب میں اڑس دی تھی۔

          بس روانہ ہوئی تو بہت سے لوگوں اس کے ٹکٹ کے پیسے ادا کرنا چاہے۔ مگر اس نے منع کر دیا۔ بس میں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ مگر اس کے لئے سیٹ کالی کر دی گئی۔ یہ کوئی انوکھی اور خلافِ معمول بات نہیں تھی مگر آج اسے لوگوں کی محبت اور عقیدت اے خوف لگ رہا تھا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ اسے نہ پہچانیں۔ اسے عام آدمیوں کی بھیڑ میں گم ہو جانے دیں وہ جہاں جانا چاہے جائے۔یہاں بیٹھنا چاہے بیٹھے۔ کوئی اس کی طرف توجہ نہ دے اس کا نوٹس نہ لے۔ کاش اس کی پاس سلیمانی ٹوپی ہوتی تو وہ سب کی نظروں سے بچ کر نکل جاتا۔مگر سلیمانی ٹوپی ہوتی تو وہ وہاں کیوں جاتا۔ وہ قہقہے لگاتا ہوا ان کے پاس سے گزر جاتا جو اسکے منتظر تھے۔

          سڑک کے دونوں جانب چھوٹی بڑی دکانیں تھیں۔ بازار کے عقب میں پھر بازار تھے۔بازاروں اور منڈیوں میں خرید و فروخت ہو رہی تھی۔ اچھی بری ہر قسم کی جییں بیچی اور خریدیں جا رہی تھیں۔ ہر شخص اپنا مال بیچنے کی فکر میں تھا۔ اس نے اپنی ڈھارس بن دھائی زندہ رہنے کے لئے ہر کسی کو کچھ نہ کچھ بیچنا، ہی پڑتا ہے۔ جو چیزیں اپنے پاس نہ ہوں انہیں حاصل کرنے کے لئے جو کچھ میسر ہو بیچنا ضروری ہوتا ہے لیکن اس کی ڈھارس نہ بندھ سکی۔ رہ رہ کر اس کا جی چاہتا وہ کہیں چھپ جائے۔ کسی اور طرف کو نکل جائے۔ مگر وہ اس طرف کو جدھر اس کا جانے کو جی نہیں چاہتا تھا مسلسل کھنچا چلا جا رہا تھا۔ جیسے دوسرے سرے پر کوئی اس کی میلوں لمبی انتڑی کا سِرا پکڑے اپنی طرف کھینچ رہا ہو۔ وہ جوں جوں آگے بڑھتا۔انتڑی کی تکلیف میں کمی ہوتی جاتی۔

          بس سے اُتر کر وہ پیدل چلنے لگا۔اب فاصلہ اور کم ہو گیا تھا۔وہ یہ فاصلہ ایک ہی جست میں طے کر لیتا تھا مگر آج جب اُس نے اس فاصلہ کو ایک ہی سانس میں طے کرنے کر لئے خود کو ایڑ لگائی تو اس کے اندر کوئی چیز اپنی پچھلی ٹانگوں پر کھڑی ہو گئی اور زور زور سے ہنہنائے لگی اور ابھی وہ اسے چمکارنے اور تھپتھپانے سے فارغ نہیں ہوا تھا کہ سفید رنگ کے کوّے اور گدھ اسکے سرپر منڈ لانے لگے۔ اور اسے پناہ لینے کے لئے اس عمارت میں داخل ہونا پڑا جس میں وہ داخل نہیں ہونا چاہتا تھا۔

          مگر یہاں آ کر وہ ایک نئی مصیبت میں گرفتار ہو گیا بولتے بولتے اسے اپنی آواز بدلی ہوئی محسوس ہوئی پھر ہلکی ہوتی گئی اور آخر کار بالکل ختم ہو گئی اور اب وہ شیشے کی دیوار کے اس پار بیٹھے ہوئے شخص کے اشارے پر محض ہونٹ ہلا رہا ہے۔مگر وہ حیران ہے کہ جب اس کے حلق سے آواز ہی نہیں نکل رہی تو سامنے بیٹھا ہوا شخص اسے قدر خاموش اور پر سکون کیسے ہے؟ اس کی سمجھ نہیں آ رہا کہ اب تک وہ دروازہ کھول کر اندر کیوں نہیں آ گئے ہیں اور ہر طرف شور کیوں نہیں مچ گیا ہے۔

          اچانک اسے خیال آتا ہے کہ کیا پتہ اس کی اواز اس کے اپنے سوا سب کو سنائی دے رہی ہو لیکن کیا ایسا ممکن ہے؟ جہاں تک اسے معلوم ہے جب تک آواز اور کانوں کے درمیان ہَوا کا واسطہ موجود رہتا ہے آواز کی لہریں کانوں تک پہنچتی رہتی ہیں تو کیا اس کی آواز اور کانوں کے درمیان خلاء پیدا ہو گیا ہے؟ کیا وہ اپنی ہی آواز سننے سے محروم ہو گیا ہے؟ کیا وہ اپنی ہی آواز سننے سے محروم ہو گیا ہے؟ کیا وہ اب کبھی آوازیں اور آہٹیں نہیں سن سکے گا؟ سوالات چلتی ہوئی مشینوں کی طرح اس کے اندر گھرر گھرر کرنے لگتے ہیں اور ابھی وہ کچھ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اُسے یاد آتا ہے کہ انسنی کان وہی آواز سن سکتے ہیں جس کی فریکوئنسی بیس سے بیس ہزار تک ہو تو کیا اس کی آواز کی موجوں کا تعدد بیس سے بھی کم ہے یا اس کی آواز ULTRASAONICہے؟ کیا چمگادڑ کی طرح اس کے منہ سے بھی اس قدر تیز چیخ کی آواز نکل رہی ہے جسے انسانی کان سننے سے قاصر ہیں مگر کاش ایسا ہوتا۔ اگر ایسا ہوتا تو سامنے  بیٹھا ہوا شخص اس قدر پر سکون دکھائی نہ دیتا۔ یقیناً اس کی آواز میں نہیں، سماعت میں کوئی خرابی پیدا ہو گئی ہے۔

          وہ اسی شش و پنج میں ہے کہ اس کے سامنے رکھے ہوئے کاغذ کے چھوٹے چھوٹے پرزوں پر لکھی ساری عبارت ختم ہو جاتی ہے اور شیشے کی دیوار کے اس پار بیٹھا ہوا شخص اسے باہر آنے کا اشارہ کرتا ہے۔ وہ دروازہ کھول کر باہر آتا ہے

          سب کچھ معمول کے مطابق ہے

          لوگوں کے ہنسنے بولنے، دروازوں کے کھلنے اور بند ہونے اور پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں اسے صاف سنائی دیتی ہیں۔

٭٭٭