کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

خواب در خواب

منشا یاد


’’ اور تم تین قسم کے ہو جاؤ گے۔‘‘

سوجو داہنے والے کیسے اچھے ہیں اور جو بائیں والے ہیں کیسے برے ہیں۔ اور جو اعلیٰ درجے کے ہیں وہ تو اعلیٰ درجے کے ہیں۔

 اور قرب رکھنے والے ہیں باغوں میں نعمت کے

ان کا ایک بڑا گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہو گا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے۔

بیٹھے ہیں جڑاؤ تختوں پر تکیہ لگائے ان پر ایک دوسرے کے سامنے لئے پھرتے ہیں، ان کے پاس لڑکے۔ سدا لڑکے ہی رہنے والے آب خورے اور کوزے

 اور پیالہ نتھری شراب کا

جس سے نہ سر دکھے اور نہ عقل میں فتور آئے

 اور میوہ جونسا پسند کر لیں۔

اور گوشت اڑتے ہوئے جانوروں کا جس قسم کا جی چاہے اور عورتیں گوری

بڑی آنکھوں والیاں۔ جیسے موتی کے دانے اپنے غلاف کے اندر بدلہ ان کاموں کا جو کرتے تھے۔

نہیں سنیں گے وہاں بکواس اور نہ گناہ کی بات

مگر ایک بولنا سلام سلام

 اور داہنے والے کیا کہنے داہنے والوں کے

رہتے ہیں ان باغوں میں جہاں بے خار بیریاں ہوں گی اور کیلے تہ بہ تہ

 اور سایہ لمبا اور پانی بہتا ہوا

 اور میوے بہت ختم نہ ہوں گے اور نہ ان کی روک ٹوک ہو گی

 اور بچھونے اونچے اونچے۔

ہم نے اٹھایا ان عورتوں کو ایک اچھے اٹھان پر

پھر کیا ان کو کنواریاں

پیار دلانے والیاں

ہم عمر

واسطے داہنے والوں کے‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (الواقعہ)

وہ توے کی طرح تپی ہوئی زمین پر جلدی جلدی پاؤں رکھتا اور آگے بڑھتا ہے۔

سب سے پہلے اسے شیدو مہترانی دکھائی دیتی ہے۔ اس کے سر پر غلاظت ہے سے بھرا ہوا ٹوکرا ہے۔ وہ ناک پر رومال رکھ لیتا ہے اور حیرت سے شیدو کو دیکھتا ہے۔ وہ بدبو سے بے نیاز غلاظت کو ٹوکرا اٹھائے یوں گزر جاتی ہے جیسے بتاشے بانٹنے جا رہی ہو۔

پھر اسے پیرو ملتا ہے۔

پیرو کا باپ اس علاقے کا مشہور بھانڈ ہے۔ پہلے شادی بیاہ کے موقعوں پر اسی کے توسط سے طوائفیں بلائی اور نچائی جاتی تھیں مگر اب پیرو ہی اس کا واحد سہارا ہے۔ لیکن پیرو ناچنا اور گانا نہیں چاہتا۔ گھنگھرو باندھ کر ناچتے گاتے اور بیاہ شادیوں اور عقیقوں اور بدھائیاں دیتے، ویلیں وصول کرتے، وہ جوان ہو گیا ہے اور اسے اپنی ہم عمر لڑکیوں کے سامنے ناچتے ہوئے شرم محسوس ہوتی ہے۔ رات کو جب وہ زنانہ کپڑے پہن کر سرخ رنگ کا دوپٹہ اوڑھ کر اپنے باپ کی سارنگی کی تال اور بھائی کے طبلے کی تھاپ پر ناچتا گاتا اور طوائفوں کی طرح بھاؤ بتاتا ہے تو گاؤں کے لڑکے اسے ’’نی پیرو‘‘ کہہ کر چھیڑتے ہیں اور وہ شرم سے پانی پانی ہو جاتا ہے۔

وہ آگے بڑھتا ہے۔

اسے صادو ترکھان نظر تو نہیں آتا لیکن اس کی مخصوص کھانسی سنائی دیتی ہے۔لکڑیوں چیر چیر کر اور برادہ پھانک پھانک کر اسے کتا کھانسی ہو گئی ہے۔ اسے جب بھی دورہ پڑتا ہے وہ تھوڑا سا گڑ چاٹ لیتا ہے۔

 اور یہ بڑے ملک صاحب کا ڈیرہ ہے۔

مولوی فلک شیر کان پر ہاتھ رکھ کر بڑی خوش الحانی سے قصہ سنا رہا ہے۔ نوجوان مولوی فلک شیر حال ہی میں درسگاہ سے فارغ التحصیل ہو کر آیا ہے اس کا ارادہ بھٹکے ہوئے لوگوں کو صراط مستقیم پر لانا تھا لیکن بڑے ملک صاحب نے اس کی ڈیوٹی سوہنا و زینی کا قصہ سنانے پر لگا دی ہے۔

گاؤں سے باہر اسے بہت سے لوگ ملتے ہیں۔ اپنے وزن سے دگنا بوجھ اٹھاتے ہوئے دھوپ اور گرمی میں کام کرتے، پتھر توڑتے اور چارہ کاٹتے ہوئے۔ وہ ان سب کو محبت بھری الوداعی نظروں سے دیکھتا آگے بڑھتا ہے اور اسے اپنے گاؤں کا آخری آدمی باقی مسلی دکھائی دیتا ہے جو شکر دوپہر میں بڑے میدان اور تالاب کے کنارے مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیاں تلاش کرتا پھرتا ہے۔

وہ توے کی طرح تپی ہوئی زمین پر اور تیزی سے پاؤں رکھتا اور اٹھاتا گیٹ کی طرف بڑھتا ہے اور تقریباً بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوتا ہے۔ شکاری کتوں کی طرح اس کا پیچھا کرنے والے ل وکے تھپیڑے گیٹ پر آ کر رک جاتے ہیں۔ اندر دور تک لمبی لمبی چمکیلی کاریں کھڑی ہیں۔ لان میں ڈرائیور ٹولیوں میں بٹے ہوئے ایک دوسرے کے زخموں کو کرید رہے ہیں۔وہ پانی سے بھرے ہوئے حوض کو ایک نظر دیکھتا ہے اور اس کا جی چاہتا ہے وہ اس میں تحلیل ہو جائے۔ وہ دوسری گیٹ میں قدم رکھتا ہے۔

چاروں طرف خوبصورت پھولوں کے تختے ہیں۔ ہری بھری مخملی گھاس ہے اور زرق برق لباسوں میں خوبصورت عورتیں مرد آ جا رہے ہیں۔ وہ اندرونی دروازے پر پہنچتا ہے تو با وردی ملازم ادب سے دروازہ کھولتا اور جھک کر اسے سلام کرتا ہے۔ اندر داخل ہوتے ہیں اسے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی دائیں یا بائیں کسی آنکھ کی پتلی ساکت ہو گئی ہے یا اپنی جگہ سے ہل گئی ہے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے اسے شیدو مہترانی سے لے کر باقی مسلی تک سارے لوگ اور غلاظت کے ٹوکرے سے لے کر مرے ہوئے جانوروں کی ہڈیوں تک ساری چیزیں صاف اور ٹھیک دکھائی دے رہی تھیں مگر اب چیزیں فوکس نہیں ہو رہی ہیں اور اسے ایک کے دو اور دو کے چار نظر آنے لگے ہیں۔

میزبان خاتون بیگم شداد کے ساتھ ویسی ہی مشکل و صورت کی ایک اور خاتون کھڑی نظر آتی ہے۔ دونوں کے بازو ایک جیسے چکنے اور ملائم ہیں۔ ہونٹ ایک جیسے رسیلے اور دونوں کی گردنوں میں ایک ہی طرح کے دمکتے ہوئے لاکٹوں نے اپنی طلائی باہیں حمائل کر رکھی ہیں اور وہ دونوں بار بار آپس میں اوور لیپ و جاتی ہیں۔

چیزوں کو آپس میں اوور لیپ ہونے سے بچانے اور انہیں اصلی حالت میں دیکھنے کے لئے اب اس کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنی ایک آنکھ بند کر لے اور جب دوسری تھک جائے تو پہلی آنکھ کھول لے۔

وہ اپنی ایک آنکھ بند کر لیتا ہے اور دوسری سے بہت سی چیزوں کو دیکھتا ہے۔ پردے خوشنما ڈیزائنوں کے۔

قالین نرم اور پھولوں والے جن پر چلتے ہوئے فخر و مسرت کا احساس ہوتا ہے۔

روشنیاں خوبصورت فانوسوں کی گود میں مسکراتی ہوئی اور ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے، سیلنگ پینلوں سے آنکھ مچولیکھیلتے ہوئے ساگوان کے دروازے اور فرنیچر پالش سے چمکتے ہوئے صوفے فوم والے آرام دہ۔ لڑکے خوبصورت وردیاں پہنے ہاتھوں میں ٹرے اٹھائے جن میں مشروبات سے لبالب گلاس ہیں، اور بلوریں جام۔

مسکراہٹیں، خوش گپیاں، ہیلو ہیلو بولتے مسکراتے ہونٹ، کوکتی کوئلیں، چہکتی مینائیں،گھگھو گھوں الاپتی فاختائیں اور غڑغوں غڑغوں کرتے کبوتر۔

رنگا رنگ ملبوسات، سوٹ، ٹائیاں، بیل باٹم، ساڑیاں اور میکسیاں جن میں خوشنما بروچ جگمگاتے ہیں۔

آنکھوں میں جلتی قندیلیں، پینگیں جھولتی بالیاں، معطر زلفیں، دمکتے نگینے، لشکارے مارتے لونگ، سگریٹوں کا خوشبودار دھواں اور دھوئیں کے مرغولے۔

بلاؤزوں، کڑتیوں اور کھلے گلے کی قمیضوں سے جھانکتی مرمریں گولائیاں۔ پکوان اور میوے طرح طرح کے اور بہت

 اور مرغ سیخوں میں پروئے ہوئے

’’سو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ  گے‘‘

اس کی دیکھنے والی آنکھ تھک جاتی ہے تو وہ اسے بند کر لیتا ہے اور دوسری آنکھ سے بہت سی چیزوں کو دیکھنا چاہتا ہے لیکن اسے کچھ نظر نہیں آتا۔

٭٭٭