کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج

عمر احمد بنگش


"او بھڑوے ، ایک پتی والا پان لگائیو۔۔۔" محمد شوکت عرف شوکی اداس نے سڑک کے بیچ سے ہی منہ پھاڑ کر آواز لگائی مگر کھوکھے والا بدستور منہ پر کھڑے گاہکوں کو سگرٹ پان اور ٹھنڈی بوتلیں برتانے میں مصروف رہا۔

"تیرے کان میں بھی حرام اگ آیا ہے کیا؟ جلدی سے پان لگا۔۔۔" شوکی جو اب فٹ پاتھ پر تھا، یوں مخاطب کیا تو شنوائی ہوئی مگر منہ پھاڑ کر گالی واپس کی گئی۔ پھر مزید کچھ کہے کھوکھے والے نے کاغذ کی پُڑیا میں لپٹا پان اس کی جانب اچھال دیا۔ شوکی تیز پتی والا پان منہ میں اڑس، ہلکے دانتوں سے چباتا تھیٹر کی جانب بڑھ گیا۔

تھیٹر کے داخلی راستے میں سامنے کی دیوار پر اشتہار آویزاں ہے ۔ آٹھ فٹ چوڑی اور پانچ فٹ عرض کی پینا فلیکس پلاسٹک کے اشتہار پر تین مقامی اداکاراؤں کے میک اپ زدہ چہروں کی خاصی مضحکہ خیز تصویریں چھپی ہیں۔ ان تصویروں کے ارد گرد کی خالی جگہ پر لگ بھگ آدھے درجن اداکاروں کی تصویریں چھوٹے گول دائروں میں اشتہار کے سرمئی پس منظر میں یوں بکھری ہیں کہ مٹی میں رُلتی بلوروں کا گماں ہو۔ نیچے کے ایک کونے میں معاون اداکاروں کے نام درج ہیں جن میں ایک نام شوکی اداس کا بھی ہے ۔ سرراہ ٹنگے اتنے بڑے اشتہار پر اپنا نام دیکھ کر اس کا سینہ چوڑا سا ہو گیا۔

اشتہار میں اپنے نام کے سرور سے سرشار، منہ میں پان دبائے ، جبکہ ہاتھ میں پان کی کتھے سے رنگی ہوئی پڑیا کا کاغذ مسل کر روڑی بناتا ہوا داخلی راستے سے گزر رہا، توروڑی ایک جانب کو اچھال کر کتھے سے لال ہوتا ہاتھ  دیوار پر رگڑ کر پونچھا اور پھر تیل پلائے لانبے بالوں پر پھیرتے ہوئے بائیں ہاتھ پر ٹکٹ کی کھڑکی کی جانب مڑ گیا۔ کھڑکی کے سامنے ٹکٹ خریدنے والوں کا اچھا خاصہ مجمع ہے کہ آج رات شہر کی مشہور رقاصہ جلوے دکھانے کو سٹیج پر اترنے والی تھی۔ یہاں رک کر اس نے داہنے ہاتھ سے کان میں ڈلی بالی کو ادب سے چھوا گویا کسی مزار کی جالی پر ٹنگی منت ہو۔ پھر ماتھے پر ہاتھ ٹکا کر با آواز بلند اجتماعی سلام گزار کیا۔ چند ایک نے مڑ کر دیکھا مگر جواب دینے کی زحمت نہیں کی۔ رش میں سے راستہ بناتا ٹکٹ کی کھڑکی کے ساتھ ملحق پروڈیوسر صاحب کے دفتر میں حاضری دینے کی غرض سے آگے بڑھ کے دروازہ کھول، اندر داخل ہو گیا۔

دفتردس ضرب بارہ فٹ کا معمولی کمرہ ہے جس کا فرش کھدڑا ہوا ہے ۔ میلی دیواروں پر فلمی پوسٹر چسپاں ہیں، جن میں سے اکثر کی روشنائی اب عرصہ گزر جانے پر مدھم پڑ گئی ہے ۔ اسی سبب دیواریں خاصی بھدی محسوس ہو رہی ہیں۔ کمرے کے وسط میں ایک چوکور میز پر الا بلا دھر رکھا ہے ، جس کے گرد ایک دفتری اور سامنے تین مہمانوں کی کرسیاں ترتیب سے بچھی ہوئی ہیں۔ دروازے سے داخل ہوں تو دائیں طرف کی دیوار کے ساتھ جوڑ کر ایک پرانے فیشن کا صوفہ بچھا ہوا ہے جو اس کمرے کے حساب سے خاصہ بے ڈھنگ محسوس ہوتا ہے ۔ دفتر میں اس وقت پروڈیوسر صاحب کے ساتھ سٹیج ڈراموں کی اداکارہ شبانہ اپنی ماں کے ہمراہ موجود سنبھل کر بیٹھی ہے ۔

شبانہ کو سٹیج کی دنیا میں اصل نام سے کم ہی لوگ جانتے تھے ، فلمی نام شب چوہدری ہر خاص و عام میں یکساں مقبول ہے ۔ یہ پانی چڑھے سونے سے لدی پھندی، خاصے چست ریشمی لباس میں اپنے تئیں کھلتی مسکراہٹ سجائے ، ایک ادا سے کبھی بالوں کی لٹ سنبھالتی اور پھر سنہری چوڑیوں سے کھیلتی ہوئی پروڈیوسر صاحب کی طرف متوجہ ہو کر یوں پینترے بدلتی بیٹھی ہے کہ اس کے طور کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔ ایک لمحے کو اگر خاصی بے باک نظر آتی ہے تو دوجے لمحے  یوں سنبھل جائے کہ جیسے گھٹڑی ہو۔  پروڈیوسر صاحب پچاس کے پیٹے میں درمیانے قد کے آدمی ہوں گے ، شبانہ کے پہلو میں اس پر یوں جھک کر کھڑے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمر میں یہ خم ازلی ہے ۔ اس پر یوں جھک کر وہ خدا جانے شبانہ کو کیا سمجھا رہے تھے ۔ پروڈیوسر صاحب کی سرگوشیاں سی گو اس کو سنائی نہ دی پر شبانہ ایسے دکھتی ہے جیسے کوئی پُتلی ہو جس کی ڈور پروڈیوسر صاحب نے تھام رکھی ہے ۔ پروڈیوسر صاحب کی ہر بات اور اشارے پر اثبات میں اک ناز سے جی ہاں، جی ضرور کی رٹ الاپتے تھک نہیں رہی تھی اور سامنے کرسی پر بیٹھی اس کی ماں اس پر اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے کھینچ کر مٹھیاں بنا کر سر تک واپس کھینچ کر بلائیں لیتی جاتی۔ باوجود اس عورت کی خوشامد یوں تو خاصی بے تکی محسوس ہوتی ہے مگر پھر بھی یہ ایسی ہوشیار ہے گویا کسی تیار باغ کا مالی ہو۔ شوکی کو یوں اس طرح بے دھڑک دفتر میں گھستے دیکھ کر پروڈیوسر صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔ اسے وہیں کھڑے کھڑے جھڑک دیا،

"بے تو یہاں کاہے کو گھسا چلا آ رہا ہے ؟ سیٹھ کی اولاد کو دیکھو۔۔۔ شو شروع ہونے میں پندرہ منٹ باقی ہیں اور یہ لاٹ صاحب ابھی تشریف لا رہے ہیں۔۔۔ سین کی تیاری تیرا باپ کرے گا؟"

شوکی کھسیانا سا الٹے قدموں باہر نکل آیا۔ ہال کے ہنگامی راستے سے گزرتے ہوئے بڑبڑایا،

"حرامی کا بڑھاپا دیکھو اور کیسے سلیش کی طرح چپک رہا تھا۔"

یہاں سے سیدھا چلتے ہوئے یہ ہال کے بالکل پچھواڑے پہنچ گیا جہاں سے نیغ سیدھا ڈریسنگ روم کی پشت کا دروازہ کھلتا ہے ۔ ڈریسنگ روم میں خاصہ شور مچ رہا ہے ۔ اسے اپنے سین کے لیے تیاری برتنے میں بمشکل پانچ منٹ لگے اور یہ وہاں سے باہر گیلری میں نکل آیا۔

آج رات ڈرامے کے تین شو تھے ۔ دو گھنٹے کے ناٹک میں شوکی کا کردار ایک محافظ کا ہے جو ملیشیا لباس پہنے ، ہاتھ میں بندوق اٹھائے بس چند منٹ کے لیے مرکزی اداکارہ کے ساتھ سٹیج پر نمودار ہوتا ہے ۔ پھر دو ڈائیلاگ ہکلاتے ہوئے یوں ادا کرنے کہ معنی فحش ہو جائیں اور آخر میں دوسرے کرداروں کے ہاتھوں چند فقرے لپیٹ کر اور جھوٹ موٹ کی مار کھا کر ہٹ رہتا۔ اس مختصر سین کے بعد فوراً بعد رقص شروع ہو رہتا اور یوں اس کی گلو خلاصی ہو جاتی، اللہ اللہ خیر صلا۔ مگر پروڈیوسر صاحب نے اس کو یوں جھڑکا تھا گویا یہ ڈرامے کا مرکزی کردار ہے جس کو تقریباً وقت سٹیج پر گزارنا ہو۔ ڈرامے کو شروع ہوئے اب تھوڑی دیر ہو گئی تھی۔ اسے ابھی بھی خاصہ وقت میسر ہے ۔ یہ گیلری میں دیوار سے کرسی ٹکا کر بیٹھ گیا اور سگرٹ سلگا لی۔ ڈریسنگ روم اور سٹیج کے بیچ اس مختصر گیلری میں تھیٹر عملے اور فنکاروں نے  اودھم مچا رکھا ہے ۔ ایک کونے پر ڈریسنگ روم جبکہ دوسرے پر سٹیج تھا، دونوں ہی سرے اس وقت بقعہ نور بنے ہیں۔ بیچ کی گیلری  میں صرف ایک زرد بلب روشن ہے جس کی میلی روشنی نے لمبوترے راستے میں افسردگی بھر رکھی بھر دی ہے ۔

سگرٹ کا اثر تھا یا گیلری میں بے وجہ اداسی، ماضی کی یاد شوکی کو غڑاپ سے نگل گئی۔ اس گیلری سے اس کی بے شمار یادیں وابستہ ہیں۔ گو شوکی کو سٹیج پر ڈرامے  کرتے چھ برس سے زائد ہو چلے تھے مگر اس مقام سے نسبت اس سے بھی پہلے کی ہے ۔ شوکی کا باپ بائیس سال تک اسی تھیٹر میں باہر جنگلے پر ٹکٹ چیک کرنے اور مفت بروں پر نظر رکھنے کا بیگار کرتا رہا جبکہ ماں کی ساری جوانی اسی سٹیج پر رقص کرتے گزر گئی۔ تب سٹیج کا رنگ کچھ جدا ہوا کرتا تھا۔ فنکار کی تب عزت تھی، جیسے ہی شو ختم ہوتا، یہی گیلری مداحوں سے یوں بھر جایا کرتی تھی کہ فرداً فرداً سب پر داد کے ڈونگرے برستے اگلے شو کا وقت ہو جاتا اور پھر سب پر بھاگم بھاگ طاری ہو جاتی۔ ہر رات دوسرا شو چڑھتا تو سب چھوٹے بڑے فنکار تعریفوں کی گرمائش سے جیسے میدے کا کلچہ پھول جائے ، کُپا ہوئے سٹیج پر نمودار ہوتے ۔

ہال میں پٹتی تالیوں، بڑھتے شور سے خیال ٹوٹ گیا۔ اس نے سگرٹ کی راکھ جھاڑ کر ایک معمولی کش لیا۔ ماجھو چاچے کی لڑکی نگینہ ایک واہیات گانے پر بے ہنگم رقص کر کے لوٹ رہی ہے ۔ تیز بینگنی رنگ کی پسینے میں نچڑتی کرتی پہنے یہ بلا کی چست نظر آتی ہے ۔ نیچے لاچہ ہے جو خاصہ گھیر دار ہے مگر پھر بھی جب قدم آگے رکھتی تو ٹانگیں مناسب حد تک عریاں ہو جاتیں۔ پھر اگلے ہی قدم پر گو گھیر سے عریانی ڈھک جاتی مگر اس چھپن چھپائی سے دیکھنے والے کی آنکھ میں تشنگی سی رہ جاتی۔  شوکی ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گیا۔

نگینہ کے جاتے ہی اس نے بوجوہ سگرٹ دیوار سے رگڑ کر بجھایا اور ادھ پیا ٹوٹا جیب میں ٹھونس دیا۔ اب گیلری میں سیٹھ واجد آتا ہوا دکھائی دیا۔ سیٹھ صاحب کا شہر کی لوہا مارکیٹ میں اچھا خاصہ گودام تھا اور کچھ ہفتے قبل سیٹھ صاحب کا چھوٹا لڑکا بلدیاتی ووٹوں میں ناظمی کا الیکشن جیت کر آیا تھا۔ یہ ادب سے کھڑا ہوا اور جھک کر سیٹھ صاحب کو سلام کیا۔ سیٹھ صاحب سے ایک قدم پیچھے چلتے منشی نے شوکی سے شب چوہدری کے بارے استفسار کیا تو شوکی نے بے دلی سے پروڈیوسر صاحب کے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا۔ یہ دونوں وہیں سے الٹے قدموں لوٹ گئے ۔

یہ پھر سے وہیں بیٹھ رہا۔ گیلری سے ابھی ابھی گزری نگینہ سے ہوتی سیٹھ واجد اور پروڈیوسر صاحب کا کمرہ، سوچیں پھر سے در آئیں۔ اب تھیٹر میں مداحوں کی بجائے گاہک آنے لگے ہیں، شوکی نے سوچا۔ فقرے بازی فحش ہو گئی۔ رقص بس واہیاتی رہ گیا۔ نگینہ کو ہی دیکھ لو، لاکھ دلوں پر راج کرتی ہو مگر بے حیا، کیسے مٹک مٹک کر چلتی ہے ۔ جسم کی نمائش یوں کرتی ہے جیسے سربازار ننگا گوشت بکنے کو ٹنگا ہو۔ پھر باہر سٹیج کے ٹکٹ کاؤنٹر کا منشی الگ دلال بنا سودے کرواتا ہے ۔ اللہ کی پناہ، اب تو آئے روز چھاپے پڑتے تھے ۔ تھیٹر میں جہاں کبھی سُچا تماشہ ہوا کرتا تھا، خود تماشہ بن کر رہ گیا ہے ۔ خود اسے انھی واہیاتیوں میں ناحق دو ایک بار حوالات کا مزہ چکھنا پڑا تھا۔

خیالات جھٹک، اس نے سگرٹ دوبارہ سلگایا ہی تھا کہ پروڈیوسر صاحب شبانہ کی ماں کو ساتھ لیے آتے دکھائی دیے ، بوجوہ سگرٹ پھر رگڑ دیا۔ سارے ایکسٹرا، عملہ آگے بڑھ کر پروڈیوسر صاحب کو سلام کرتے اور ان کے لیے ہٹ کر راستہ چھوڑ دیتے ۔ شبانہ ان کے ساتھ نہیں تھی، جس سے شوکی کو الجھن سی ہونے لگی۔ کچھ ہی دیر میں اس کا سین جاری ہونا تھا اور یہ نہ جانے کہاں رہ گئی ہے ۔ یہ دونوں ڈریسنگ روم کی جانب نکل گئے ۔ اس کی جانب دونوں میں سے کسی  ایک نے بھی توجہ نہیں دی۔

شوکی کا سین شروع ہوا تو سٹیج پر داخلہ سکرپٹ کی عین ضرورت کے مطابق نہ ہو پایا۔ شبانہ خاصی دیر تک سیٹھ صاحب کے ساتھ باہر دفتر میں بیٹھی رہی تھی۔ جب ڈریسنگ روم کی جانب آئی تو بال الجھے اور میک اپ جیسے بہہ رہا تھا۔ اس کو سلجھاتے دیر ہو گئی اور یوں سٹیج پر جاری سین میں فقرے بازی کو خواہ مخواہ طول دینا پڑ گیا۔ سٹیج کے پیچھے اسی سبب کچھ بدمزگی پیدا ہو گئی۔ سب شوکی پر برس رہے تھے اور یہ سب پر بھنایا ہوا کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا۔

اسی کشمکش میں جب سٹیج پر اترا تو ڈائیلاگ ایسے الجھے اور پھیکے انداز میں ادا کیے کہ سکرپٹ کے کرداروں سے پہلے بھرے ہال نے اس کے کھڑے کھڑے لتے لے لیے ۔ سین کا تو ویسے بھی ستیاناس ہو چکا تھا، اداکاروں نے بھی اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا۔  اگلے دس منٹ تک فقرے بازی میں اس کی وہ خبر لی کہ پٹتی تالیوں،  قہقہوں اور سیٹیوں سے کان بہرے ہو رہے ہیں۔ چونکہ یہ سٹیج پر آئے روز کا معاملہ تھا تو یہ اس کھینچ تان کے جواباً بس سٹیج پر یہاں وہاں چکر لگاتا یا بھرم رکھنے کو ہر فقرے پر خباثت سے ہنس رہتا مگر بٹتی داد کے جوش میں ڈرامے کے ہیرو نے شوکی کی ماں بارے ایک فقرہ کس دیا۔ بھلے یہ معمولی سی بات تھی مگر فقرہ گویا پتھر پر بھاری ہتھوڑے کی طرح گرا۔ اچھا خاصا شوکی اداس، بچوں کی طرح پھوٹ کر یوں رو دیا جیسے پہاڑ کی پتھریلی چٹان پر آخری ضرب پڑنے سے پانی کا فوارہ ابل پڑتا ہے ۔ مجمع کو تو جیسے لقوہ مار گیا ہو، مگر جلد ہی دھیان پس منظر سے موسیقی کی لے بلند ہونے پر بٹ گیا۔ شوکی دھیرے سے  قمیص کی آستین  آنکھوں پر ملتا، چھوٹے بوجھل قدموں سٹیج سے یوں اترا جیسے کوئی ناکام چلتا ہو۔

سٹیج پر اب شہر کی مشہور رقاصہ شب چوہدری جلوے دکھا رہی ہے ، اسے اپنے بھائی شوکی کے برعکس سویر تک آنسو بہانے کی فرصت ملنے والی نہیں تھی۔

٭٭٭