کابلی والا درد کادارو تصویر بلی کا بچہ بھولا بولو پان شاپ پہاڑی کوّا تک شک تُلا دَان جہلم اور تارو چشمِ بَد دُور آخری آدمی آپا آنندی اپنے دُکھ مجھے دے دو بلاؤز عید گاہ گڈریا گنڈاسا آنر کلنگ ائیر فریشنر تھرڈ ورلڈ گَرل تھرڈ ڈائمنشن ریورس گیئر انصاف راجہ کا محل آب حیات آنر کلنگ امداد زلزلہ واپسی کریڈٹ کارڈ خوابوں کا تاجر دائمی جہیز نوکری چوراہے والا بھکاری احساس آخری خواہش غلطی اپنے دکھ مجھے دے دو موت کا پیغام بھاری چیز کیا !!! نن۔۔۔ نہیں چاہے کچھ ہو جائے عمارت کا مجرم کیسی آگ جال روپ خبر ہونے تک آئینے میں وی آئی پی کارڈ شو پیس عورت اور ماں آن زبان اور جان آتشی مخلوق جنگی قبرستان اب بس کرو ماں گیارہواں کمّی کنگن ماکھے ابابیلیں ادھوری کہانی بھانبھڑ مورکھا انتظار ایک صدی کے بعد بلوندر کی بلی تبدیلی مکرم درزی شہزادی کرشنا پنشن صدر محترم ہیں خواب میں ہنوز زیرو آور کھڑکی سے باہر سورج دستخط اجنبی دہشت گرد غلام سگرٹ کی بو آئینے میں قید لڑکی ستاروں سے آگے پرواز کے بعد عزت فریادی ۔۔۔۔۔اور اندھیرا پردیسی فریاد میں ایک طوائف وہ ریت کا گھر گڑیا رانی کی خاموشی بہادر فوجی خالی الذہن آدمی ایک عاشق کی ڈائری دوسری مرغی آگ زندگی ہذیان جیسے کو تیسا پتھر کی دنیا میں سفید پوش بےبس لوگ کہانی سننے والا کثبان سرگوشی تماشہ شر ایک گمنام راستہ بھگوان دیکھتا ہے ایک کہانی تباہی کی رات کی دلہن کہانی ایک شہزادی کی اُکتایا ہوا آدمی ودائی کورا کاغذ شعور حقیقت جب میری تمہیں تلاش ہو قیامت کہانی کار انگلیاں یقین اور تجربہ فقیر بیس سال بعد کمزور انسان ایک دنیا میرے اندر جاگتی ہے اللہ کے بندے ماضی باطنی دنیا بےخوابی نشانی بے حس مرد مسافر The Break down اکیلا گھر ایک چھوٹے سے گاؤں کی کہانی دو لمحوں کے خواب اندھیروں کی کہانی بے حقیقت اللہ مسبب الاسباب ہے آشنا لمحوں کے بیچ اجنبی مسافر میلا کپڑا ایک تصویر تکون ایک محبت کی کہانی گاڑی چلانے والا کتا اور جارج کی بیوی الاؤ کھویا ہوا آدمی نیند سے پہلے کا ایک گھنٹہ چلو اور سمندر مقدس قبروں کے مجاور شیشے بیچنے والا عفریت ایک مچھیرا جو بہت زیادہ جانتا تھا پرائے راستے اور اپنے ہم سفر وصیت سبز رات ناک حلال نشہ اصلی شہد موت کا تختہ وقت ختم ایر کارگو دولتمند دوستی کی خاطر پارس پتھر حور کا بچہ ایمر جینسی لائٹ ریشم کی ڈوری نوری پروانے کی موت میاں فضلو کی نوکری چاند تارہ ریا کاری کا انعام انتظار۔۔ تیرا آج بھی ہے تار یک را ہوں کے مسا فر گمشدہ منزل کرب مسلسل رانگ نمبر شہ اور مات بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے وقت کی کروٹ اور ہم غبار دیکھتے رہے پیاسی شبنم فیصلے کی رات مکافات عمل نا مراد شام غم کی قسم قا تل مسیحا پشیمان آرزو صدیوں نے سزا پائی طوفان کے بعد کشمکش زندگی کے رنگ سمٹ گئے فاصلے اندھیرے اجالے کاغذ کی کشتی ہر شب کی سحر ہو جاتی ہے جہاں اور بھی ہیں سَراب پھولوں کی چبھن بلا عنوان آب گزیدے آگ بیٹا ایک کہانی سنو بلیک آوٹ چارہ گری دو بیل گھنی چھاؤں کب صبح ہو گی مشکوک مہربانی مودی جیت گیا روگ شہر بدر زیست خاور چودھری کرپٹ ونڈوز بوڑھا درخت میں دقیانوسیت سانسوں کی مالا ہیروں کا سوداگر عکس در عکس IMPOSTOR گُم راہ پرانا منظر روبوٹ کشکول جھوٹی کہانی چیخوں میں دبی آواز زہر آزادی ایک ادنیٰ سا حادثہ ایک دن وہ بھی! ایک جہاں بے چارے لوگ ڈھلتے سائے حمدا آئی وَری ٹاور کوئی اُمّید کوئی تمنّا معمولی سی بات مَدفون زندہ مٹّی دَاغ داغ اُجالے پربت گھاٹی پھرفضامُسکرانے لگی سانتا کلاز چشمِ بَد دُور2 چشم بد دور ٣ ہزاروں سال پہلے سنگھار کمرے میں! پشیمان ایک خط لکھنا ہے ! الف لیلہ کی ایک رات کرفیو آرڈر بیوہ کا راز مردہ عورت پہاڑی کھیت میں! ماں کی مامتا سپیرا ماں کا دل آرزو سیب کا درخت پاسپورٹ نپولین کی محبوبہ شہنائی مولسری کے پھول جدائی سرودِعشق نیچے سروں کا احتجاج لجا فیس بک کی اپسرا نامرد موت کی تمنا صلاۃ الحاجت ہمدرد ہمزاد جیت کا غم خواہش کی تتلیاں مٹی اسٹینڈ کا فنڈا رہینِ ستم ہائے روزگار چیونٹیوں کی بستی ایک پتہ…تنہا تنہا شک شک پچھتاوے خوش دامن تیرے شہر کی رونق ہائے کیا کہیے!!! د نیا ایک گورکھ دھندہ ہے گہرے پانیوں والی آنکھیں ! چھمن کا فسانہ! میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو پانی کی گڑیا خوشیاں فروخت کرتی ہے وہ بے جرم مجرم خون آلود ہاتھ گھاؤ وہ بڈھا گرہن مقدس جھوٹ ایک باپ بکاؤ ہے جوگیا سلیا ہڈیوں کے الفاظ پھُلوا سُومنگلی مزدوری ٹوبہ ٹیک سنگھ سورگ میں سور برف کا گھونسلا بَرشَور کیس ہسٹری سے باہر قتل نئی الیکٹرا رُکی ہوئی زندگی چَٹاکا شاخِ اِشتہا کا لوتھ آدمی کا بکھراؤ بدلے ہوئے پیمانے! دور بین فاقہ مست حریت ! سفید حویلی کتھا کنج کا راج پاٹ لوک پرلوک بندیا دوستی دشمنی، دشمنی دوستی جیون ساتھی کبوتر خانہ ایک کہانی سچی سی حصار دھوپ چھاؤں انتخاب و آزادی سنگریزہ Peaceful Co-existence عیب دار نفس جمودی تغیر شیشے میں تصویر کھڑکی پر چڑھتی انگور کی بیل سیڑھیوں پہ روتا ہوا گھڑیال اور چوک میں ایستادہ لڑکا انگور کی بیلوں میں چھپی لڑکی جونک اور تتلیاں ایک المیے کا المیہ وہ میرا بڑا اچھا بیٹا ہے بوڑھا اور تنہائی کارنس پر رکھے گلدان میں ٹھہرا ہوا پانی انگور کی بیل میں لپٹا ہوا شہر خود کلامی ایک پتنگے نے مجھے تنہا دیکھا Causalities of Love تین محراب ایک لڑکی جو سورج مکھی نہیں تھی دو محبتوں کی کہانی سچ کے avalancheپر بھاگتے ہوئے گھوڑے سانپ اور آدمی اے ننھی تتلی تو بہت دیر سے آئی ہے نیند چھوٹے گاؤں کی بڑی کہانی جب خدا میرے کمرے میں اتر آیا بھاگتا ہوا خرگوش دلیل کی بارش میں بھیگتا مولوی تم خود غرض ہو گئی ہو گھاس کھانے والے شیر ایک شاعر تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بڑھاپا اور فرنیچر ایک گھنٹہ پہاڑوں سے اترتا ہوا پانی Being Asad Ali کالا کپڑا پہلا پیار میوٹیشن خدا کا بُت فرشتے کے آنسو PLEDGE OF ALLEGIANCE یہ کیسی بے وفائی ہے پردے جو نفرتوں کے تھے بے زمینی نسل کشی ہے انتظار شکوہ تمغۂ جُرأت بُو آوارہ خیال خود کشی! سوئے فردوس زمیں ایک سے چار وی آر گریٹ۔۔۔؟‘‘ خواب بانٹنے والی کھانے کی میز پر ایک مکالمہ مہاتما یہ کہانی نہیں ہے میٹھا پان خواہشوں کا سفر خواب کا دیا بھائی جی محرم یار پیارا منڈی دلدل بدھا کے ساتھ چائے کا ایک کپ شیطان اونٹ اور بدو خواب آور پتھر پاگل ایک ڈاکٹر کے ادھورے نوٹ چپہ بھر روٹی کا ٹکڑا وہ اک نگہ کہ بظاہر نگاہ سے کم ہے عشق مجنوں و لیلیٰ افیونی مکالمے کا قتل کوہِ ندا ایک زہریلی کہانی ایک زہریلی کہانی شال جونک گیندے کے پھول تنہائی اور تنہائی نسخہ کھلاڑی تماشہ لہو کے چراغ مہمان ریت اور چشمہ وہ آدمی کمرہ نمبر ۲۸ اجنبی تعاقب کنوارا آدمی، زمین اور آسیب کوئی آواز پھانس کِنّی کا راجکمار کینوس پر چہرے اور میں بھگت رام ایرانی پلاؤ ‫کچرا بابا خمیازہ مہا لکشمی کا پل پیاسا چھلاوے اندھا کنواں دعا استری گریباں گیر دو گز زمین کنواں، آدمی اور سمندر تمنا کیا تم نے سوچا تھا سرد ہواؤں کے موسم ہیپی مدرز ڈے دفتر میں ایک دن طیراً ابابیل فعل متعدی بستی کی آخری بدصورتی بجنگ آمد خلفشار طالبان بھوک واپسی ملال خدا کے چنیدہ بندے سنہری ٹوپیوں والے تین اجنبی روز پدر موچی بیل آئی ایس او نو ہزار پیٹر ٹھہرو! کہانی کی تلاش میں شاید…! شکستِ آبرو! ملبے میں دبے خواب پھاہا سجدہ کبوتروں والا سائیں الو کا پٹھا تلون؟ وہ خط جو پوسٹ نہ کئے گئے مصری کی ڈلی ماتمی جلسہ قبض ایکٹریس کی آنکھ نا مکمل تحریر مٹی کا سفر خود کفیل بابا بھابھی ماں آخری منی آرڈر ابا کی خاطر کم ظرف ماں کا سچ خون تمنا اپنی کلہاڑی اپنے پاؤں تیر واپس کمان میں پٹڑی سے اترتے ہوئے مجبور میں ہی نہیں کرسی پہ بیٹھی تنہائی سفید آنچل نارسائی کی مٹھیوں میں لمحہ جو صدیاں ہوا سمندر مجھے بلاتا ہے شبِ مراقبہ کے اعترافات کی کہانیاں موڑ کے دوسری طرف دیدۂ بے ربطیِ عنواں دائرہ شیشۂ دیدہ سے دور خلشِ غمزۂ خوں ریز فتادگی میں ڈولتے قدم مجال خواب دائرے سے باہر برزخ ہنوز خواب میں رات ایک اداس سی کہانی انخلاء وراثت مسیحائی اذان تریاق ۳۰ بچوں کی ماں دہشت کا ایک دِن قاتلوں کے درمیان یودھا بے جسم میزان تاریکی بے اماں سمینٹ میں دفن آدمی قربتیں ........ فاصلے دھرنا نئی صدی کا عذاب گلی گٹار سجدہ گھلتا ملتا لہو وارث آدم بو (ا+ب)۲ آسیب باگھ بگھیلی رات بند مٹھی میں جگنو بانجھ ہوا میں سانس بڑا سوال بارھیں برسیں بچھڑے ہوئے ہاتھ بھُول بوکا چاہ در چاہ چھتیں اور ستون دیمک کا گھروندہ دیوارِ گریہ دھُوپ، دھُوپ، دھُوپ دل کا بوجھ دنیا کا آخری بھوکا آدمی دو جمع دو دوپہر اور جگنو الہام انجن کے بغیر گاڑی کا مسافر گھر سے باہر ایک دن غروب ہوتی صبح ہاری ہوئی جیت جیکو پچھے جھڑ بیری ایک سائیکلو سٹائل وصیت نامہ جہاد ڈھیری کیلنڈر کالک کاشی خلا اندر خلا خواب در خواب حلال رزق تارکول ڈلی پکی سرکاری سڑک صحرا کا سینہ چیرتی نیغ سیدھی تک سیاہ لکیر کھنچی ہوئی ہے ۔ گاڑی بھاگتی جائے تو بیسیوں میل گزر رہتے ہیں پر کہیں موڑ مڑنے میں نہیں آتا، یہاں تک کہ صحرا پار ہو جاتا ہے ۔ قدرے فاصلے پر سڑک کے دائیں بائیں بے ترتیب کچے راستے نکلتے ہیں ج پہلی صف بوئے حرم چادر اور چاردیواری چوکیدار کاکا تئیس میل ریل تال کنہار کا کنارہ کنواں کود لوں؟ قندیل فیصلہ نسل جوگی مردے زندگی اس کی ماں کی ماں ساعتِ نزول گرگٹ خوف ایک عرصے بعد فردا کا فردا ہونا! اعتراف! نشے میں دھت برف پر چلتا آدمی! تنہائی کا کرب رشتوں کے بندھن دُعا فیصلہ! قسط در قسط زندگی 
رات والا اجنبی سمجھوتہ فیرنی جلا وطن غنڈہ خاک دل چوتھا آدمی دیو داسی تثلیث کفاّرہ مُردہ گاڑی چاہت کے پنکھ اُداس نسل کا آخری آدمی لمحوں کی صلیب دلِ خانہ خراب تماشا ڈھلوان رکی ہوئی آوازیں دیدۂ یعقوب خونِ صد ہزار انجم گنبدِ بے در نانی اماں پہلی تنخواہ بیدل صاحب نیکی کا بھوت کوئلہ جل بھئی راکھ کھلونے کا غم ریت کے محل دوسری موت کتبہ گلاب اور صلیب تیسرا ٹکٹ سائے کا سفر کھانا تیار ہے ختم زہر ہر کام وقت پہ ڈائری برکتوں کا مہینہ بے وفا کارخانہ آدھی آبادی یوبیانا شہید ایک شریف آدمی گلاب کی جڑ ہلمٹ زخمی کمبل ایک تھی دردانہ وشال ارجانی کی محبوبہ پورے چاند کی رات دانی تائی ایسری شہزادہ مامتا ایک طوائف کا خط امرتسر آزادی سے پہلے Smith Smith Smith Smith

پہلی صف

عمر احمد بنگش


 اکبر خان جتوئی جدی پشتی زمیندار تھا۔ اس کی حویلی ایک بیگھے رقبے پر اس کے دادے نے بڑی باڑھ کے بعد دوبارہ تعمیر کی تھی۔ ساتھ ہی اس کے کئی باڑے اور ایک ڈیرہ جس پر ہر وقت مزارعوں اور باڑے کے ماجھیوں کا تانتا لگا رہتا تھا۔ اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ تین بیویاں، دو جوان جہاں بیٹے جو زیادہ تر شہر میں رہتے ، کئی گھیر زمین کی جاگیر، جس میں کئی ایکڑ آموں کے باغوں کے علاوہ سال میں ایک اناج اور دوسری صاف منافعے کی فصل بوئی جاتی تھی۔ سب کچھ تھا مگر جیسے کمی ہوا کرتی ہے ، اکبر خان کی بھی دو کمزوریاں تھیں۔ اول، ضرورت سے زیادہ زمین ہونے کے باوجود وہ مزید سمیٹنے سے خود کو باز  نہیں رکھ سکتا تھا اور دوم حویلی کی زنان خانے میں تین بیویوں کے باوجود بھی وہ ڈیرے پر عورتیں لائے بغیر گزارہ نہیں کر سکتا تھا۔ ہر سال کچھ نہ کچھ زمین یا تو کسی مجبور سے خرید لیتا، نہیں تو ہتھیانے تک کے لیے اس کے کاردار موجود تھے جن میں اکثر چھٹے ہوئے مفرور تھے جو اس کے ڈیرے پر پناہ لیے ہوئے تھے ۔ پھر جبلی ہوس کے لیے  اکثر تو ناچنے والی کنجریاں بلا لاتا ورنہ مزارعوں کی عورتیں تو کھونٹی پر بندھی گائیوں کی طرح ہر وقت ہی اس کی خدمت واسطے موجود تھیں، یہاں بھی جو مرضی سے آ جاتی تو ستے خیراں نہیں تو اس کے کاردار پگڑی لے کر جاتے اور رات کے نکاح میں باندھ کر لے آتے ۔

جو بھی تھا، ان دو قباحتوں کے علاوہ اکبر خان بھلا آدمی تھا۔ پانچ وقتی جماعت کا نمازی، مسجد کا خادم۔ سارا خرچہ خود تن تنہا اٹھاتا، مولوی کا ماہانہ وظیفہ یاد سے اس کی کوٹھڑی میں بھجوا دیتا، اسی طرح مسجد میں خدا کے مسافروں کے لیے دو وقت کھانا بھی اکبر خان کی حویلی سے ہی پک کر آیا کرتا تھا۔ عرس میلے ، زیارت پر کئی ہزار روپوں مالیت کا گھی مکھن اور نذرانہ علیحدہ سے پہنچاتا  کہ اس کی فصل، حویلی اور ڈیرے میں مرشدوں کی برکت اور خدا کا سایہ قائم رہے ۔  ھاں، مسجد میں بس اسے ایک خبط تھا کہ ہمیشہ پہلی صف میں عین ملا کے پیچھے نماز  پڑھتا، مجال ہے کہ اس کی جاء نماز پر کوئی دوسرا نمازی قدم ڈالنے کی بھی جرات کر سکتا ہو۔ لوگ اس کے منہ پر گاؤں میں تو کچھ نہ کہتے تھے مگر اکثر نائی موچی بازار میں اکٹھے ہوتے تو دبے دبے اکبر خان  کی اس عادت کو برا جانتے ۔ جیسے ، نورا حجام ایک دن  ریتی پر استرا تیز کرتے ہوئے  سامنے بیٹھے شوکے موچی  سے کہنے لگا کہ،

 'پہلے تو بس صف میں جگہ تھی، اب اکبر خان نے مصلیٰ تک اپنے لیے علیحدہ سے لگوا لیا ہے ۔ آگے مولوی کا مصلیٰ ہے تو ایک سجدہ چھوڑ کر اس کا مصلیٰ بچھا ہوا ہے ۔ کاردار نے بتایا کہ خان نے یہ مصلیٰ خصوصاً مدینے سے منگوایا ہے "۔

 شوکا موچی جو بے دھیانی سے اس کی بات سنتے ہوئے گھسے جوتوں میں سوئے تار رہا تھا، مدینے کا زکر سن کر ایک دم مودب ہو گیا۔ دونوں انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے اور کہنے لگا، "مولا برکت ڈالے ۔ خدا جانتا ہے بستی میں اس کی وجہ سے مسجد میں سب کو سہولت ہوتی ہے ۔ پانی سارے پہر ٹونٹیوں تک میں آتا ہے ، پھر مسافروں کے لیے اس نے جو بندوبست کر رکھا ہے ، مولا کی اس کو دین ہے ۔"

اس پر نورے نے برا سا منہ بنا کر مسافروں کی آل اولاد میں حرام نطفہ گھسیڑا اور بولا،

 " شوکے ، حرام پنا نہ کر۔ خان کی خود کی حالت یہ ہے کہ رات عورتوں کی گود اور فجر مولوی کے پیچھے گزرتی ہے ۔ اللہ مجھے معاف کرے ، میں نے تو فجر سے توبہ کر لی۔ سویر وہ نام تو خدا کا پڑھ رہا ہوتا ہے مگر منہ کپی کی باس مارتا رہتا ہے ۔ جماعت حرام  ہو توایسی مکروہ  نماز کا فائدہ؟" اس پر شوکے نے بھی استغفار پڑھی، پھر گویا ہوا کہ،

"باقی تو سب ٹھیک ہے ، بس اس کی یہ عورتوں والی بد عادت چلی جائے تو بندہ ہیرا  ہے ، ہیرا۔" اب کے شفیے درزی نے شلوار کے نیفے کا عرض سلائی مشین میں فٹ کیا اور ہتھ دستی سے کھٹ کھٹ مشین چلاتے لقمہ دیا،

 "بات یہ ہے بھائیو کہ اکبر خان مسجد میں نماز پڑھ کر خدا کو راضی رکھتا ہے ، مگر پہلی صف میں کھڑے ہونے کی عادت اس کے دادے والی ہے ۔ میرا ابا کہا کرتا تھا کہ جتوئیوں کو خدا کی زمین تو عطا ہوئی ہی ہے مگر وہ مسیت کے بھی ذمہ دار ہیں۔ کہو تووہ مسیت میں بھی خدا کے شریکے ہیں"۔  ان لوگوں کی یہ  بحث  ہمیشہ کی طرح تبھی بس ہوئی جب اکبر خان کا منشی طیفا وہاں آ کر بیٹھ گیا۔ محفل جما، حقہ سلگا کر تاشوں کی بازیاں چلنے لگیں۔ شوکے ، نورے اور شفیے نے اپنا دھندہ ویسا چھوڑ  کر دن بھر کی کمائی تھڑے پر جوئے میں جھونک دی۔

شام میں اکبر خان باہر ہوا خوری کو نکلا کرتا تھا۔ اس روز بھی  جب وہ بازار میں نکلا تو منشی بازی آدھی چھوڑ کر اس کے پیچھے دوڑا تو شوکے نے منہ نیچے کر کے پاس بیٹھے شفیے کی ران دبا کر کہا کہ، "لے بھئی شفیے ،طیفا دلال اپنے خان کے لیے رات کا  انتظام پوچھنے گیا ہے ۔" شوکا جو ان دونوں کو سن رہا تھا طیفے کو واپس آتا دیکھ کر بولا، "رب جانے کس مزارعے کی فصل  میں یہ حرامی کھوٹ نکالے گا۔" طیفے نے جیسے بات سن لی ہو، ھنستے ہوئے رقم سمیٹ کر بولا،

 "آج کی بازی تو سجنو میں لے  ہی گیا، اب دیکھو کس دن خان کا باز تم حرامزادوں کی چڑیوں پر نظر ڈالتا ہے ۔" یہ کہتے ہوئے طیفے کے انداز نے گویا ان کمی کمینوں کے گھروں کی عزت کے کونے کھدروں تک کو کھنگال لیا ہو۔

اس کی موجودگی میں تو کسی کو ہمت نہ ہوئی، اس کے جانے کے بعد سب نے خان اور اس کے دلال کی  زبانی کلامی خبر لی۔

منشی  طیفے کا کام دلال جیسا ہی تھا۔ وہ اکبر خان کے لیے مزارعوں کی عورتیں ڈھویا کرتا تھا۔ اس کے پاس سب کا حساب تھا۔ جس مزارعے کی کوئی عورت تارنے والی ہوتی تو اس کے حساب میں رد و بدل بھی ہو جاتا تھا۔ اکثر تو اس کی ضرورت بھی پیش نہ آتی تھی۔ اس روز بھی، جب وہ گجو کی بیٹی کو ساتھ لیے ڈیرے پر پہنچا تو شام پڑنے والی تھی۔ اکبر خان کچھ افسردہ سا باہر  کھلے میں چارپائی پر لیٹا تھا۔ گجو کی بیٹی کو وہ اندر چھوڑ کر خان کے پاس آیا تو اکبر خان نے اسے منع کر دیا۔ طیفے کو سمجھ نہ آئے کہ ماجرا کیا ہے ۔ اکبر خان نے اٹھ کر حقے کا پائپ چارپائی کی پائنتی میں پھنسایا اور بولا،

"جگو سپیرا سنا، بستی میں واپس آ گیا ہے ؟" اس پر طیفے نے بتایا کہ وہ دو تین دن ہوئے اپنے کڈے کے ساتھ واپس آ گیا ہے ۔ اس بار کہتا ہے کہ اچھے خاصے رنگ برنگے چھوٹے بڑے کئی سانپ پکڑ لایا ہے ۔ اسی وجہ سے بستی میں اچھی خاصی رونق لگی ہوئی ہے ۔ اکبر خان نے ان سنی کر کے پوچھا،

"نوری بھی آئی ہے ؟"

 گو طیفا معاملہ تو پہلے ہی سمجھ گیا تھا بس اکبر خان کے منہ سے سننا چاہتا تھا۔

نوری جگو سپیرے کی سب سے بڑی لڑکی تھی۔  بس پچھلے دو برسوں میں اس کی جوانی دم خم سے نکلی تھی۔ سانولی اور بھرے گالوں والی۔ لانبی زلفیں گُت بنا کر یہاں وہاں گھماتے پھرتی۔ نکلتا قد اور ابھرا سینہ خم کھاتی کمر میں، کیسا بھلا نظر آتا۔ باپ کے ساتھ سانپوں کا تماشہ کرنے نکلتی تو لوگوں کی نظریں اس کو ٹٹولتیں، سنپولیوں جیسی ہر جسمانی خم دار ادا  مسحور کن سی سب کو محو کر دیتی، یہاں تک کہ جگو سپیرے کو لاٹھی زمین پر مار مار لوگوں کو سانپوں کی طرف متوجہ  کرنا پڑتا۔ الغرض، جس کو دیکھو سانپوں کے بہانے نوری کو دیکھنے نکلا کرتا اور جب تماشہ تمام ہوتا تو کئی سو روپے بے سود پھکیوں پر خرچ کر کے اٹھتا اور  کہو تو سمجھتا،منافعے میں رہا۔ اکبر خان نے جب سے نوری کا  یہ نظارہ کیا تھا،باؤلے کتے جیسے ہر وقت اس کی مشک مارتا رہتا تھا۔ اس رات بھی گجو کی بیٹی جب اس کے بستر میں گھسی تو خان کا دھیان دور بستی میں نوری کی طرف بٹا ہوا تھا، سویر واپس جاتے ہوئے گجو کی بیٹی شرمندہ سی روانہ ہوئی۔اگلے روز تو جیسے آپے سے باہر ہو گیا۔ تین نمازیں وہ مسجد نہ جا سکا، دبدبہ ایسا تھا کہ پہلی صف میں اس کی جگہ پر کسی دوسرے کو کھڑے ہونے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس کا مصلیٰ ویسا ہی خالی چھوڑ کر نمازیں ادا کرنی پڑیں۔ بات بازار میں یوں نکلی کہ اس روز نورے حجام کا گلہ یہ تھا کہ تین نمازیں صف میں خالی مصلے ٰ کی وجہ سے مکروہ ہو گئیں۔ خان بدبخت، مسیت جائے یا نہیں، نمازیں سب کی کھوٹی ہو جاتی ہیں۔

طیفے منشی کو آج تیسرا دن تھا کہ نوری کے پیچھے پیچھے کتے کی طرح سونگھ لے رہا تھا مگر یہ اور اس کا باپ تھے کہ کہ اس کے ہاتھ نہ آتے ۔ جگو جیسے بھانپ گیا ہو تو ایک پل کو جھگی سے نکلے تو دوسرے میں پھر گھس گئے ۔ پچھلی شام سانپوں کا تماشہ بھی نہیں ہوا تھا تو طیفے کی مشکل اور بھی بڑھ گئی۔ تبھی اس کو جب اکبر خان نے خوب لعن طعن کیا تو اس نے نوری کے باپ جگو سپیرے کو اس کی جھگی میں جا لیا۔ نوری کے لیے خان کا پیغام پہنچایا جس پر جگو کی جیسے باچھیں کھلی اور کندھے ڈھلک کر رہ گئے ۔ پہلے تو پس و پیش سے کام لیا مگر پھر جب طیفے نے ہلکے سے اسے خمیازے کی بابت اندازہ کروایا تو منت ترلے پر آ گیا۔ منمنا کر ہاتھ جوڑے ، مجبوری سے عرض کی اور آخر میں جیسے باور کرا رہا ہو،

"مائی باپ، ہم سپیرے آزاد ہوتے ہیں۔ عورت ذات تو ویسے بھی اپنے من کی غلام ہے ، اس کو کوئی قابو کر پایا ہو؟ نوری میرا مال ہے مگر اس کا فیصلہ تو وہی دیوے گی۔"

طیفے کو سمجھ آ گئی کہ یہ کم ذات اس کو ٹال رہا ہے ورنہ عورت ذات کی ایسی کہاں جرات جو فیصلہ کرے اور یوں انکار کر پاتی۔ وہ تو  کلے سے لگی گائے ہے جسے سبزے کی لالچ دو اور اسے چاہیے کہ ساتھ ہنکائی چلی جائے ۔ مزارعوں کی طرح گو جگو سپیرا خان کا محتاج تو نہیں تھا مگر پھر بھی خان بہرحال خان تھا۔ اس چپے زمین کا مائی باپ  جہاں سے جگو سپیرا نہ صرف سانپ پکڑا کر لاتا ہے اور یہاں گاوَں گاوَں ان سانپوں کے بل بوتے پر اپنے کڈے کا پیٹ بھرتا ہے ۔ بالواسطہ، جگو سپیرا اکبر خان کا دیا نمک ہی کھا رہا ہے ۔ یہ سب سوچ کر طیفے نے اس کو کچھ مہلت دی اور بازار میں تھڑے پر جا پہنچا۔  تینوں کمی اکبر خان کی نوری واسطے رسے تڑوانے کی بحث لیے ہی بیٹھے تھے ۔ ان کو یہ تو معلوم تھا کہ نوری آج نہیں تو کل خان کی کھونٹی سے بندھ ہی جائے گی، دیکھنا یہ تھا کہ یہ ناگن کس منتر سے کیل جائے گی۔

چوتھے دن اکبر خان کا پیمانہ لبریز ہو گیا جب نوری نے اس بابت ٹکا انکار کر دیا۔ بیٹی کی زبان میں نوری کا باپ بھی منت ترلے کرتا اڑا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ اس پر خان کی بس ہو گئی۔ کاردار کو کہلوا کر  نوری کو جھگی سے اٹھوا لایا۔ پہلے تو اسے سمجھایا، پھر نان نفقے کا یقین دلایا مگر یہ تھی کہ جیسے ناگن پھنکارتی اس کو قریب نہ لگنے دے رہی تھی۔ خان نے جب حتمی طور خود اس سے بات کی تو تھوک کر بولی،

 "مر جاؤں گی مگر حرام سے خود کو پلید نہیں ہونے دوں  گی۔۔۔ کاٹ ڈالوں گی"۔

 اکبر خان نے مولوی کو بلا کر نکاح پڑھوانا چاہا تو اس پر نوری سوا بدک گئی۔ جب کسی طور نہ مان رہی تو اکبر خان مرد تھا، طیش کھا گیا۔ پہلے مولوی کو رخصت کیا اور پھر  نوری کے پاس ڈیرے میں جا گھسا۔ دو جانپھڑ رسید کر کے زبردستی بھینچ لیا۔ نوری چلائی، ہنگامہ کرنے لگی۔ اسی کھینچ تانی میں نوری پر لپٹی کالی چادر کھینچی تو اس میں سے ایک میلی کچیلی پوٹلی تھپ سے زمین پر جا گری۔

یہ گودڑی کے رنگ برنگے کپڑے کے ٹوٹوں کو جوڑ کر سلی، پیوند لگی پوٹلی تھی جس کا منہ وا تھا۔ اکبر خان جو ہوس میں ایسا دھت تھا کہ پوٹلی کی طرف بالکل دھیان نہ دے پایا۔ گودڑ پوٹلی میں حرکت ہوئی اورسنہرے رنگ کا پھنکارتا ناجی، مشکی ناگ برآمد ہوا۔ پھرتیلا ایسا کہ گودڑی کی حبس سے باہر روشنی میں نکلتے ہی پھن پھیلا دیا اور اس کی صرف سنسناتی پھنکار سے ہی اکبر خان کی ساری مردانگی ہوا ہو گئی۔ بوکھلاہٹ میں وہ نوری کو دھکیلتے ، مشکی سے دور ہٹنے کو ایک جانب مڑا ہی تھا کہ یکایک ناگ کے دانت اکبر خان کی ٹانگ میں گڑ گئے ۔ اب کے ڈیرے میں اکبر خان کی وحشت ناک چیخ بلند ہوئی اور چند لمحوں میں یہ دھیرے دھیرے ناگ کے سامنے بے حال ہو کر گرتا چلا گیا۔ طیفا اور کاردار دوڑے ہوئے اندر آئے مگر تب تک زہر اکبر خان کے جسم میں سرایت کر چکا تھا۔ اس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔ دو نالی کے ایک فائر سے کاردار نے مشکی کا کام تمام کیا تو یہاں اکبر خان نے آخری ہچکی لی۔ یہ دونوں اکبر خان کے گرد ہی رہے اور نوری موقعہ کا فائدہ اٹھا، نیم عریاں ہی دوڑتی ہوئی باہر نکل گئی۔ سویر پھوٹنے سے پہلے پہلے سپیروں کا کڈا گاؤں چھوڑ گیا۔

صبح تک اکبر خان کے دونوں بیٹے بھی پہنچ گئے اور قبر کھود لی گئی۔ اکبر خان کا جنازہ اٹھایا گیا تو منہ کالا سیاہ ہو رہا تھا۔ جنازہ گاہ میں مولوی نے پہلے اکبر خان کی بڑائی بیان کی، پھر خدا کے گھر اور سینکڑوں مزارعوں کے گھروں واسطے اس کی خدمات پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ اس کے بعد لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے موت کی اٹل حقیقت کی جانب توجہ مبذول کروائی اور پہلی تکبیر بلند کرنے سے قبل، نماز جنازہ کے لیے اہم ہدایات کچھ یوں گوش گزار کیں، 

"اے لوگو، صفیں درست رکھو، ٹخنے سے ٹخنہ اور کندھے سے کندھا ملا لو۔اگر زمین پاک ہے تو جوتے اتار لو ورنہ پہن رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔" یہاں مولوی نے توقف کیا اور ہاتھ میں تھامی ٹیک والی سوٹی سے پہلی صف کی جانب اشارہ کر کے کہا،

"صفوں کے بیچ خالی جگہیں نہ چھوڑو کہ شیطان ایسی جگہیں پر کر لیا کرتا ہے ۔"

اتنا سننا تھا کہ سب کی نگاہیں پہلی صف کی طرف گھوم گئیں جہاں مولوی کے پیچھے ایک شخص کی جگہ خالی تھی۔ یہاں کبھی خود اکبر خان کو کھڑے ہونے کا خبط رہا کرتا تھا۔

٭٭٭